• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امام زہری مدلس تھے؟

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,574
پوائنٹ
384
کیا امام زہری مدلس تھے؟

امام ابن شہاب الزہری کی تدلیس ثابت کرنے کے لئے صرف تین حوالے پیش کئے جاتے ہیں۔
پہلا:
امام ابو حاتم الرازی ایک حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "الزهري لم يسمع من عروة هذا الحديث، فلعله دلسه" زہری نے یہ حدیث عروہ سے نہیں سنی، شاید زہری نے تدلیس کی ہے۔ (علل الحدیث لابن ابی حاتم 3/407 رقم 968)۔
شاید تدلیس کی ہے سے تدلیس ثابت نہیں ہوتی۔ امام زہری جیسے بڑے اور جلیل القدر امام کی اتنی تو حیثیت ہے کہ ان پر اتنا بڑا الزام صرف ایک شاید کی بناء پر نہ لگایا جائے۔ جو لوگ تحقیق کی باتیں کرتے ہیں ان کو تو کم از کم یہ حرکت نہیں کرنی چاہیے۔
دوسرا:
امام ترمذی ایک حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "هذا حديث لا يصح لأن الزهري لم يسمع هذا الحديث من أبي سلمة" (سنن ترمذی: 1524)۔
محترم ابو عمر کاشف بھائی اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: "یعنی یہ حدیث صحیح نہیں کیونکہ امام زہری نے ابو سلمہ سے سماع بیان نہیں کیا"۔ اور پھر ساتھ ہی لکھتے ہیں: "امام ترمذی نے امام زہری کے 'عن' کی وجہ سے اس روایت پر کلام کیا ہے، اور یہاں سے ان کی تدلیس بھی ثابت ہوتی ہے"
اب اگر ہم بھی اس ترجمہ اور اس ترجمہ کے بعد ان کے تصرف کو "جہالت" کا نام دے دیں تو غلط نہ ہو گا، کیونکہ یہ کہنے کہ "زہری نے یہ حدیث ابو سلمہ سے نہیں سنی" اور "زہری نے ابو سلمہ سے سماع بیان نہیں کیا" کہنے میں زمین آسمان کا فرق ہے! پہلے قول کا مطلب یہ ہو گا کہ زہری نے یہ حدیث ابو سلمہ سے نہیں سنی جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلا یہ روایت زہری سے اس طریق سے ثابت ہی نہیں، یا اس طریق کو بیان کرنے میں باقیوں نے مخالفت کی ہے وغیرہ، الغرض تدلیس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کی بناء پر کہا گیا کہ زہری نے یہ حدیث ابو سلمہ سے نہیں سنی جیسا کہ آگے آئے گا۔ جبکہ یہ کہنا کہ "زہری نے ابو سلمہ سے سماع بیان نہیں کیا" امام ترمذی پر بھی ایک بہت بڑا بہتان ہے! کیونکہ اس میں آپ بتانا چاہ رہے ہیں کہ محض سماع کہ نہ بیان کرنے پر ہی یہ روایت منقطع ہو گئی جس سے پڑھنے والے کو یہ دھوکا ہوتا ہے کہ امام ترمذی کے نزدیک واقعی زہری مدلس تھے۔
اب آتے ہیں اس طرف کہ کیا امام ترمذی نے زہری کی تدلیس کی بناء پر ہی یہ کہا ہے یا کچھ اور وجہ بھی ہو سکتی ہے؟ امام ترمذی کے اس قول میں کہیں صراحت نہیں ہے کہ انہوں نے زہری کو مدلس کہا ہو۔ اور نہ ہی ابو عمر بھائی سے پہلے کسی عالم نے اس قول کو زہری کی تدلیس کے ثبوت کے لیے پیش کیا ہے۔ اور پھر ظلم تو یہ ہے کہ انہوں نے ترمذی کی اس عبارت کو ہی خلط ملط کر کے اپنے مطابق بنانے کی کوشش کی ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے۔ امام ترمذی کہ یہ کہنے کہ "زہری نے یہ حدیث ابو سلمہ سے نہیں سنی" سے حتی الامکان یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ زہری سے یہ روایت بیان کرنے والے نے اس میں شذوز کیا ہے جبکہ یہ روایت اصلا ابو سلمہ سے نہیں بلکہ کسی اور سے مروی ہے۔ چنانچہ، اسی طرف امام ترمذی نے بھی اشارہ کیا ہے۔ امام ترمذی کا مکمل قول ملاحظہ فرمائیں:
هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ، لِأَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الحَدِيثَ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ: مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
"یہ حدیث صحیح نہیں کیونکہ الزہری نے یہ حدیث ابو سلمہ سے نہیں سنی۔ میں نے محمد (بن اسماعیل البخاری) کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک سے زائد رواۃ، جن میں موسی بن عقبہ اور ابن ابی عتیق بھی شامل ہیں، نے اس روایت کو زہری سے سلیمان بن ارقم عن یحیی بن ابی کثیر عن ابی سلمہ عن عائشہ عن النبی ﷺ سے روایت کیا ہے۔" (سنن الترمذی: 1524)۔
اس سیاق کے بعد یہ کہنا بعید نہ ہو گا کہ امام ترمذی کے یہ کہنے کہ "زہری نے یہ روایت ابو سلمہ سے نہیں سنی" کا مطلب یہ ہو گا کہ اس روایت کو امام زہری نے اصلا ہی ابو سلمہ سے نہیں بلکہ سلیمان بن ارقم سے روایت کیا ہے جس کو بیان کرنے میں یونس کو غلطی لگی ہے، نہ یہ کہ زہری نے تدلیس کی ہے!!
تیسرا:
ابو جعفر الطحاوی فرماتے ہیں: "وهذا الحديث أيضا لم يسمعه الزهري من عروة إنما دلس به" اس حدیث میں بھی زہری نے عروہ سے نہیں سنا، کیونکہ انہوں نے تدلیس کی ہے۔ (شرح معانی الآثار 1/72 رقم 429)
ابو جعفر الطحاوی اگرچہ صدوق فی الحدیث ہیں لیکن متعصب حنفیوں میں سے ہیں۔ اپنے مذہب کی تائید میں بعید سے بعید تر تاویلات بھی کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ علم حدیث سے ان کا ایسا تعلق نہیں کہ صرف ان کے قول کی بنیاد پر کسی راوی پر فیصلہ کیا جائے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: "وَالطَّحَاوِيُّ لَيْسَتْ عَادَتُهُ نَقْدَ الْحَدِيثِ كَنَقْدِ أَهْلِ الْعِلْمِ ; وَلِهَذَا رَوَى فِي " شَرْحِ مَعَانِي الْآثَارِ " الْأَحَادِيثَ الْمُخْتَلِفَةَ، وَإِنَّمَا يُرَجِّحُ مَا يُرَجِّحُهُ مِنْهَا فِي الْغَالِبِ مِنْ جِهَةِ الْقِيَاسِ الَّذِي رَآهُ حُجَّةً، وَيَكُونُ أَكْثَرُهَا مَجْرُوحًا مِنْ جِهَةِ الْإِسْنَادِ لَا يَثْبُتُ، وَلَا يَتَعَرَّضُ لِذَلِكَ ; فَإِنَّهُ لَمْ تَكُنْ مَعْرِفَتُهُ بِالْإِسْنَادِ كَمَعْرِفَةِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِهِ، وَإِنْ كَانَ كَثِيرَ الْحَدِيثِ، فَقِيهًا عَالِمًا" حدیث کی نقد طحاوی کی عادت نہیں ہے جیسا کہ اہل العلم نقد کرتے ہیں، اسی لیے انہوں نے شرح معانی الآثار میں کئی مختلف احادیث بیان کیں، اور اس میں سے جن کو بھی دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں تو اس میں زیادہ تر قیاس کی وجہ سے ہوتا ہے جسے وہ حجت سمجھتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر مجروح الاسناد غیر ثابت ہوتی ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ کثیر الحدیث، اور فقیہ عالم تھے لیکن ان کی معرفتِ اسناد اہل العلم کی معرفت جیسی نہیں تھی ۔ (منہاج السنہ النبویہ لابن تیمیہ: 8/195-196)۔
اور اگر آپ اس حدیث کو کھول کر دیکھیں جس کہ تحت طحاوی نے امام زہری پر یہ الزام لگایا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس حدیث میں بھی طحاوی صاحب حنفیوں کے دفاع میں ہی بے جا لگے ہوئے ہیں اور ثقہ راویوں پر بھی جرح کرنے میں مصروف ہیں۔ لہٰذا جرح و تعدیل اور علم حدیث امام ابن تیمیہ کے بقول طحاوی کا فن نہیں ہے تو کسی غیر ماہر اور متعصب شخص کی بناء پر ایسے الزام کی بنیاد رکھنا محققین کا شیوہ نہیں ہے۔
مزید یہ کہ امام طحاوی نے امام زہری کی عروہ سے مس الذکر والی حدیث پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حدیث کو زہری نے عروہ سے براہ راست نہیں سنا بلکہ انہوں نے تدلیس کی ہے، اور اس تدلیس کو ثابت کرنے کے لیے طحاوی صاحب اگلی روایت زہری عن ابو بکر بن محمد بن عمرو عن عروہ سے روایت کرتے ہیں۔ گویا اگر زہری نے ایک روایت ابو بکر بن محمد عن عروہ اور عن عروہ دونوں طرق سے روایت کی تو امام طحاوی نے سمجھ لیا کہ زہری نے تدلیس کی ہے جبکہ اس میں ان کی کسی نے تائید نہیں کی ہے بلکہ الٹا امام ابن حزم نے المحلی میں اس روایت کے متعلق فرمایا ہے کہ: " فَإِنْ قِيلَ: إِنَّ هَذَا خَبَرٌ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ، قُلْنَا: مَرْحَبًا بِهَذَا، وَعَبْدُ اللَّهِ ثِقَةٌ، وَالزُّهْرِيّ لا خِلافَ فِي أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ عُرْوَةَ وَجَالَسَهُ، فَرَوَاهُ عَنْ عُرْوَةَ وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُرْوَةَ، فَهَذَا قُوَّةٌ لِلْخَبَرِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ." اگر یہ کہا جائے کہ اس خبر کو زہری نے عن عبد اللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم عن عروہ سے روایت کی ہے، تو ہم کہتے ہیں: مرحبا بہذا اور عبد اللہ ثقہ ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ زہری نے عروہ سے سنا ہے اور ان کے پاس بیٹھے ہیں، تو انہوں نے اسے عروہ سے بھی روایت کر دیا اور عبد اللہ بن ابی بکر عن عروہ سے بھی روایت کر دیا، لہٰذا یہ خبر کے لیے قوت کا باعث ہے، والحمد للہ رب العالمین۔"
چنانچہ امام طحاوی کے برعکس امام ابن حزم کے نزدیک اگر امام زہری نے ایک روایت کو عبد اللہ بن ابی بکر عن عروہ سے اور پھر براہ راست عروہ سے بھی روایت کر دیا تو یہ ان کی تدلیس کی دلیل نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ زہری نے یہ روایت دونوں سے لی ہے۔
اس کے بعد عرض ہے کہ جس روایت میں طحاوی نے امام زہری پر تدلیس کا الزام لگایا ہے اسی روایت کے ایک دوسرے طریق میں امام زہری نے خود امام عروہ بن الزبیر سے سماع کی صراحت کر دی ہے۔ (دیکھیں تاریخ بغداد: 10/451، واسنادہ صحیح؛ ومسند الشامیین للطبرانی: 2875)۔ لہٰذا جس روایت کی بنیاد پر امام زہری پر تدلیس کا الزام لگایا گیا اس میں انہوں نے تدلیس کی ہی نہیں تو الزام کیسا!؟
لہٰذا، امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ پر تدلیس کا الزام غلط ہے ۔آپ تدلیس سے برئ ہیں اور آپ کی تمام معنعن روایات صحیح ہیں، والحمد للہ۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,961
ری ایکشن اسکور
9,818
پوائنٹ
722
واضح رہے کہ جن اہل علم نے امام زہری کو مدلس جانا بھی ہے انہوں نے بھی ان کے عنعنہ کو قبول کیا ہے۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,574
پوائنٹ
384
امام ابو حاتم الرازی نے جس حدیث میں کہا کہ شاید زہری نے تدلیس کی ہے اس میں امام زہری کا کوئی قصور بھی نہیں تھا۔ جس بنیاد پر امام ابو حاتم نے یہ کہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے! واللہ اعلم
 

HUMAIR YOUSUF

رکن
شمولیت
مارچ 22، 2014
پیغامات
191
ری ایکشن اسکور
56
پوائنٹ
57
میں نے ایک کتاب حقیقی دستاویر، صفحہ نمبر 405 میں امام زہری رحمہ اللہ کے متعلق ایک بات پڑھی تھی، اور اس پر میں چاہتا ہوں کہ یہاں اہل علم حضرات کچھ تبصرہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام ابن شہاب زہری کے متعلق بعض کتابوں میں یہ چیز ملتی ہے کہ یہ صاحب بعض اوقات روایات کی وضاحت کے لئے از خود تفسیر کردیتے تھے، پھر اس مفسرانہ کلام کے تفسیری حروف و اداۃ کو بعض مواضع میں ساقط بھی کردیتے تھے۔ اس طریقے سے روایت کے اصل الفاظ اور تفسیری الفاظ میں فرق نہیں ہوسکتا تھا، بلکہ نفس الامر میں اختلاط ہوجاتا تھا۔

امام زہری کے اس طریقہ کار کو علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب فتح المغیث شرح الفئیتہ الحدیث للعراقی بحث مدرج میں ذکر کیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف "النکت" میں لکھا ہے ، فرماتے ہیں کہ

"کذا کان الزھری یفسر الاحادیث کثیرا و زبما اسقط اداۃ التفسیر فکان بغض قرانہ دائما یقول لہ افصل کلامک من کلام النبی ﷺ الیٰ غیر ذالک من الحکایات"۔ (النکت علی کتاب ابن صلاح الفیتہ للعراقی لابن حجر عسقلانی۔ تحت النوع العشرون (المدرج) قلمی در کتب خانہ پیر جھنڈا (سندھ)

فتح المغیث سخاوی صفحہ 103 بحث مدرج مطبوعہ انوار محمدی لکھنو۔ طبع قدیم۔

نیز امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ اپنی مرویات میں اختلاط و تخلیط فرمایا کرتے تھے، اس وجہ انکے عم عصر حضرات کو انکو یہ نصیحت کرنا پڑی کہ جب لوگوں کو آپ روایات بیان کریں تو اپنی رائے اور روایت میں فرق قائم رکھا کریں، تاکہ لوگوں کو آپ کی رائے اور روایت میں مفارقت معلوم ہوسکے، دونوں میں تخلیط نہ رہے۔

اہل علم کے اطمینان کے لئے یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ علامہ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کے ادراجات فی روایات بے شمار پائے جاتے ہیں۔ بہت سے اکابر علماء مثلا دارلقطنی ؒ، طحاوی ؒ، ابن عبدالبر ، بہیقہی ؒ، ابوبکر الحازمی ؒ، امام نووی ؒ ، جمال الدین الزیلعی ؒ، ابن کثیر ؒ، ابن حجر عسقلانی ؒ، جلال الدین سیوطی اور ملا علی قاری ؒ وغیرہ ہم نے زہری کے ادراجات کو تصریحا ذکر کیا ہے

بحوالہ: حقیقی دستاویز فی تائید تاریخی دستاویز وفی رد تحقیقی دستاویز باب نمبر 4 صفحہ 404 - 405
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,574
پوائنٹ
384
احادیث میں ادراج کی معرفت کے لئے محدثین نے علیحدہ کتب بھی لکھی ہیں مثلا خطیب بغدادی کی: الفصل للوصل المدرج في النقل۔ بعض لوگ اسے امام زہری پر جرح کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ یہ جرح نہیں ہے اور مدرج الفاظ کو اصل متن سے الگ کرنا بھی مشکل نہیں ہے۔ اور امام زہری کے تمام ادراجات تو ویسے ہی معلوم شدہ ہیں۔ جیسا کہ مضمون نگار نے بھی کہا ہے:
بہت سے اکابر علماء مثلا دارلقطنی ؒ، طحاوی ؒ، ابن عبدالبر ، بہیقہی ؒ، ابوبکر الحازمی ؒ، امام نووی ؒ ، جمال الدین الزیلعی ؒ، ابن کثیر ؒ، ابن حجر عسقلانی ؒ، جلال الدین سیوطی اور ملا علی قاری ؒ وغیرہ ہم نے زہری کے ادراجات کو تصریحا ذکر کیا ہے
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
427
پوائنٹ
198
مام زہری جیسے بڑے اور جلیل القدر امام کی اتنی تو حیثیت ہے کہ ان پر اتنا بڑا الزام صرف ایک شاید کی بناء پر نہ لگایا جائے۔
@ رضا میاں بھائی
سوال : امام سفیان ثوری کو بھی ایک صرف روایت کی وجہ سے مدلس کہا جاتا ہے اس بارے میں بتائیں ۔کہ وہ مدلس ہے یا نہیں
امام شافعی نے یہ اصول سمجھایا ہے کہ جو شخص صرف ایک دفعہ بھی تدلیس کرے تو اس کی وہ روایت مقبول نہیں ہوتی جس میں سماع کی تصریح نہ ہو۔ صدیکھئے الرسالہ ص۳۷۹، ۳۸۰) اختصار علوم الحدیث
۱) امام ابو حنیفہ نے عاصم عن ابی رزین عن ابن عباس کی سند سے ایک حدیث بیان کی کہ مرتدہ کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ دیکھئے سنن دارقطنی (۲۰۱/۳ ح۳۴۲۲) الکامل لابن عدی (۲۴۷۲/۷) السنن الکبریٰ للبیہقی (۲۰۳/۸) کتاب الام للشافعی (۱۶۷/۶) اور مصنف ابن ابی شیبہ (۱۰۴/۱۰ ح۲۸۹۸۵) وغیرہ

امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: ابو حنیفہ پر اس کی بیان کردہ ایک حدیث کی وجہ سے (سفیان) ثوری نکتہ چینی کرتے تھے جسے ابوحنیفہ کے علاوہ کسی نے بھی عاصم عن ابی رزین (کی سند) سے بیان نہیں کیا۔ (سنن دارقطنی ۲۰۰/۳ ح۳۴۲۰ وسندہ صحیح)

امام عبدالرحمن بن مہدی نے فرمایا: میں نے سفیان (ثوری) سے مرتدہ کے بارے میں عاصم کی حدیث کا پوچھا تو انھوں نے فرمایا: یہ روایت ثقہ سے نہیں ہے۔ (الانتقاء لابن عبدالبرص ۱۴۸، و سندہ صحیح)

ی وہی حدیث ہے جسے خود سفیان ثوری نے ’’عن عاصم عن ابی رزین عن ابن عباس‘‘ کی سند سے بیان کیا تو ان کے شاگرد امام ابو عاصم (الضحاک بن مخلد النبیل) نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سفیان ثوری نے اس حدیث میں ابوحنیفہ سے تدیس کی ہے لہٰذا مں نے دونوں سندیں لکھ دی ہیں۔ (سنن دارقطنی ۲۰۱/۳ ح۳۴۲۳ و سندہ صحیح)

اس سے معلوم ہوا کہ امام سفیان ثوری اپنے نزدیک غیر ثقہ (ضعیف) راوی سے بھی تدلیس کرتے تھے۔ حافظ ذہبی نے لکھا ہے: وہ (سفیان ثوری) ضعیف راویوں سے تدلیس کرتے تھے۔ الخ (میزان الاعدتال ۱۶۹/۲، نیز دیکھئے سیر اعلام النبلاء ۲۴۲/۷، ۲۷۴)
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,574
پوائنٹ
384
امام سفیان الثوری کو صرف ایک روایت کی بنا پر مدلس نہیں کہا گیا ہے بلکہ ان کی تدلیس پر دیگر کئی ثبوت بھی پائے جاتے ہیں۔ البتہ وہ بہت کم تدلیس کیا کرتے تھے لیکن ان کے مدلس ہونے پر اتفاق ہے۔
جبکہ امام زہری سے سرے سے تدلیس ثابت ہی نہیں ہے نہ قلیل اور نہ کثیر۔ مشکل سے ایک یا دو روایتوں میں شاید کوئی ہلکا سا اشارہ مل جائے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اتنا تو عام غیر مدلس راویوں سے بھی مل جاتا ہے، اس سے اس راوی پر ایک عمومی مدلس کا حکم ہی لگا دینا غلط ہے۔
خیر سفیان الثوری تدلیس کیا کرتے تھے لیکن ان کی تدلیس کم تھی اس لئے ان کا عنعنہ تبھی رد کیا جائے گا جب کسی حدیث میں ان کی تدلیس ثابت ہو جائے۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«أما المدلس فينقسم إلى قسمين أحدهما حافظ عدل ربما أرسل حديثه وربما أسنده وربما حدث به على سبيل المذاكرة أو الفتيا أو المناظرة فلم يذكر له سندا وربما اقتصر على ذكر بعض رواته دون بعض فهذا لا يضر ذلك سائر رواياته شيئا لأن هذا ليس جرحة ولا غفلة لكنا نترك من حديثه ما علمنا يقينا أنه أرسله وما علمنا أنه أسقط بعض من في إسناده ونأخذ من حديثه ما لم نوقن فيه شيئا من ذلك وسواء قال أخبرنا فلان أو قال عن فلان أو قال فلان عن فلان كل ذلك واجب قبوله ما لم يتيقن أنه أورد حديثا بعينه إيرادا غير مسند فإن أيقنا ذلك تركنا ذلك الحديث وحده فقط وأخذنا سائر رواياته وقد روينا عن عبد الرزاق بن همام قال كان معمر يرسل لنا أحاديث فلما قدم عليه عبد الله بن المبارك أسندها له وهذا النوع منهم كان جلة أصحاب الحديث وأئمة المسلمين كالحسن البصري وأبي إسحاق السبيعي وقتادة بن دعامة وعمرو بن دينار وسليمان الأعمش وأبي الزبير وسفيان الثوري وسفيان بن عيينة وقد أدخل علي بن عمر الدارقطني فيهم مالك بن أنس ولم يكن كذلك ولا يوجد له هذا إلا في قليل من حديثه أرسله مرة وأسنده أخرى» ترجمہ: ”جہاں تک مدلس کی بات ہے تو وہ دو قسموں میں منقسم ہیں: پہلے وہ حفاظ عدل ہیں جو کبھی کبھار اپنی حدیث میں ارسال کر جاتے ہیں اور کبھی انہیں مسند بیان کر دیتے ہیں اور کبھی محض مذارکرہ یا فتوی دینے یا مناظرہ کی غرض سے حدیث بیان کرتے ہیں تو اس کی سند ذکر نہیں کرتے یا اس کے صرف چند رواۃ کے ذکر پر ہی اکتفاء کرتے ہیں اور باقیوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ایسا کرنا ان کی تمام روایات کو ہرگز مضر نہیں ہے کیونکہ یہ جرح نہیں ہے اور نہ ہی غفلت ہے البتہ ہم ان کی ان احادیث کو ضرور ترک کر دیں گے جن کے متعلق ہمیں پکا یقین ہو جائے کہ انہوں نے اس میں ارسال کیا ہے یا یہ کہ انہوں نے اس کی سند کے بعض رواۃ کو ذکر نہیں کیا ہے، اور ہم اُن کی اُن احادیث کو لیں گے جن میں ہمیں اِن میں سے کسی چیز کا بھی یقین نہ ہو۔ اُن کے لئے اخبرنا فلان کہنا یا عن فلان کہنا یا قال فلان عن فلان کہنا سب ایک برابر ہے اور واجبِ قبول ہے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ اُنہوں نے کوئی حدیث غیر مسند روایت کی ہے، پس اگر ہمیں اس بات کا یقین ہو جائے تو ہم ان کی صرف اُسی ایک روایت کو ترک کریں گے اور باقی تمام روایات کو ویسے ہی لیں گے۔ اور ہم نے امام عبد الرزاق بن ہمام سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ امام معمر بن راشد ہمیں بعض احادیث مرسلا روایت کرتے تھے تو جب امام عبد اللہ بن المبارک ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے اُن احادیث کو اُنہیں مسند کر کے بیان کیا۔ اور اس قسم کے مدلسین میں بڑے بڑے جلیل القدر اصحاب الحدیث ائمہ مسلمین شامل ہیں جیسے حسن البصری، ابو اسحاق السبیعی، قتادہ بن دعامہ، عمرو بن دینار، سلیمان الاعمش، ابو الزبیر، سفیان الثوری، سفیان بن عیینہ، اور امام دارقطنی نے اس میں امام مالک کا نام بھی شامل کیا ہے حالانکہ وہ ایسے نہیں تھے اور نہ ہی ان سے ایسا کرنے کا ثبوت ملتا ہے سوائے گنتی کی چند احادیث میں جن کو انہوں نے مرسل بیان کیا اور دوسری ہی جگہ مسند بیان کر دیا۔“ (الإحكام في أصول الأحكام لابن حزم: 1/41-42)
اور یہی موقف متقدمین محدثین کا ہے۔
جہاں تک امام شافعی کے قول کا سوال ہے تو یہ ایک شاذ قول ہے جس کی امام شافعی نے خود بھی اپنی کسی بھی تصنیف میں پیروی نہیں کی ہے اور نہ ہی دنیا کے کسی محدث نے اس کی پیروی کی ہے۔ جو لوگ امام شافعی کے اس قول سے حجت لیتے ہیں انہیں چاہیے کہ پہلے امام شافعی سے خود اس قول پر عمل کا ثبوت دکھائیں!
 
Top