• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا جلسہ استراحت صحیح حدیث سے ثابت ہے ؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
السوال : هل جلسة الاستراحة عند القيام من الركعة الأولى للثانية ، والقيام من الثالثة للرابعة في الصلاة واجبة أو سنة مؤكدة ؟.

الحمد لله، اتفق العلماء على أن جلوس المصلي بعد رفعه من السجدة الثانية من الركعة الأولى والثالثة وقبل نهوضه لما بعدها ليس من واجبات الصلاة ، ولا من سننها المؤكدة ، ثم اختلفوا بعد ذلك هل هو سنة فقط أو ليس من واجبات الصلاة أصلاً ؟ أو يفعلها من احتاج إليها لضعف من كبر سن أو مرض أو ثقل بدن .
فقال الشافعي وجماعة من أهل الحديث : إنها سنة وهي إحدى الروايتين عن الإمام أحمد لما رواه البخاري وغيره من أصحاب السنن عن مالك بن الحويرث أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم فإذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعداً . رواه البخاري في الأذان (818) .
ولم يرها أكثر العلماء منهم أبو حنيفة ومالك وهي الرواية الأخرى عن أحمد رحمهم الله لخلو الأحاديث الأخرى عن ذكر هذه الجلسة ، واحتمال أن يكون ما ذكر في حديث مالك بن الحويرث من الجلوس كان في آخر حياته عندما ثقل بدنه صلى الله عليه وسلم أو لسبب آخر .
وجمعت طائفة ثالثة بين الأحاديث بحمل جلوسه صلى الله عليه وسلم على حالة الحاجة إليه ، فقالت : إنها مشروعة عند الحاجة دون غيرها ، والذي يظهر هو أنها مستحبة مطلقاً ، وعدم ذكرها في الأحاديث الأخرى لا يدل على عدم استحبابها ، بل يدل على عدم وجوبها .
ويؤيد القول باستحبابها أمران :
أحدهما : أن الأصل في فعل النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يفعلها تشريعاً ليُقتدي به ، والأمر الثاني : في ثبوت هذه الجلسة في حديث أبي حميد الساعدي الذي رواه أحمد وأبو داود بإسناد جيد ، وفيه وصف صلاة النبي صلى الله عليه وسلم في عشرة من الصحابة رضي الله عنهم فصدقوه في ذلك .
اللجنة الدائمة في فتاوى إسلامية 1/268
اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پہلی اورتیسری رکعت کے بعد جلسہ استراحت نہ تو نماز کے واجبات میں سے ہے اور نہ ہی سنن موکدہ میں سے ہے بلکہ ایک عام سنت یعنی سنت غیر موکدہ ہے۔ ان اہل علم کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر کے بڑے ہونے یا مرض یا بدن کے بھاری ہو جانے کے سبب سے یہ جلسہ کیا تھا یا یہ بطور سنت کیا تھا.
امام شافعی اور اہل الحدیث کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ یہ جلسہ بطور سنت تھا اور امام احمد رحمہ اللہ سے مروی دو روایات میں سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ اور اس کی دلیل امام بخاری رحمہ اللہ کی روایت ہے جو انہوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی طاق رکعتوں میں سیدھا بیٹھ کر اٹھا کرتے تھے۔ جبکہ بقیہ اہل علم امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ کی ایک روایت کے مطابق کا خیال ہے کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جلسہ اپنی آخر عمر میں بدن کے بھاری ہو جانے کے سبب سے کیا تھا۔ جبکہ ایک تیسری جماعت اہل علم کا خیال ہے کہ جلسہ استراحت کسی بھی حاجت کے وقت ہے جبکہ صحیح قول یہی ہے کہ مطلقا مستحب ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال میں اصل تشریع ہے اور مسند احمد میں دوسرا ابو حمید ساعدی کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مستقل کمیٹی کا فتوی
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
جزاک الله خیرا جناب
لیکن بات واضح نہیں ہویی اور اطمنان بھی نہیں ہوا

جب حدیث سے ثابت ہو گیا کے یہ عمل صحیح ہے تو پھر اس میں ہم خود کی سوچ کو ترجہی کیسے دے سکتے ہیں ؟
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
حدثنا ایوب عن ابی قلابہ قال :جاءنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ فی مسجدنا ھذا فقال :انی لاصلیبکم وما اریدالصلاة،اصلی کیف رایت للنبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی۔فقلت لابی قلابہ :کیف کان یصلی؟قال مثل شیخنا ھذا ،قال: و کان شیخنا یجلس اذا رفع راسہ من السجود قبل ان ینھض فی الرکعةالاولی۔
(رواہ البخاری:کتاب الاذان:باب من صلی بالناس وھولایرید الا ان یعلمھم صلاةالنبی صلی اللہ علیہ وسلم )

ہم سے ایوب نے ابوقلابہ عبداللہ بن زیدسے رحمتہ اللہ علیہ بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ تعالی عنہ ایک دفعہ ہماری اس مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم لوگوں کو نماز پڑھاﺅں گا اور میری نیت نماز پڑھنے کی نہیں ہے،میرا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہیں نماز کا وہ طریقہ سکھا دوں جس طریقہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے۔میں نے ابو قلابہ سے پو چھا کہ انہوں نے کیسے نمازپڑھی تھی؟انہوں نے بتایا کہ ہمارے شیخ (عمر بن سلمہ رحمتہ اللہ علیہ )کی طرح۔شیخ جب سجدہ سے سراٹھاتے تو ذرا بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے۔

عن ابی قلابہ قال :اخبرنا مالک بن الحویرث اللیثی رضی اللہ عنہ انہ رای النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی، فاذا کان فی وتر من صلاتہ لم ینھض حتی یستوی قاعدا ۔
(رواہ البخاری:کتاب الاذان:باب من استوی قاعدا فی وتر من صلاتہ ثم نھض)

ابو قلابہ رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب طاق رکعت (پہلی اور تیسری رکعت ) میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک تھوڑی دیر بیٹھ نہ لیتے۔

ان احادیث سے تو کہیں بھی یہ بات ثابت نہیں ہوتی کے آپ نے اپنے بوڑھاپے میں اسکو کیا ہو
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
جبکہ صحیح قول یہی ہے کہ مطلقا مستحب ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال میں اصل تشریع ہے اور مسند احمد میں دوسرا ابو حمید ساعدی کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مستقل کمیٹی کا فتوی
راجح قول یہی ہے۔
 
Top