حدثنا ایوب عن ابی قلابہ قال :جاءنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ فی مسجدنا ھذا فقال :انی لاصلیبکم وما اریدالصلاة،اصلی کیف رایت للنبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی۔فقلت لابی قلابہ :کیف کان یصلی؟قال مثل شیخنا ھذا ،قال: و کان شیخنا یجلس اذا رفع راسہ من السجود قبل ان ینھض فی الرکعةالاولی۔
(رواہ البخاری:کتاب الاذان:باب من صلی بالناس وھولایرید الا ان یعلمھم صلاةالنبی صلی اللہ علیہ وسلم )
ہم سے ایوب نے ابوقلابہ عبداللہ بن زیدسے رحمتہ اللہ علیہ بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ تعالی عنہ ایک دفعہ ہماری اس مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم لوگوں کو نماز پڑھاﺅں گا اور میری نیت نماز پڑھنے کی نہیں ہے،میرا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہیں نماز کا وہ طریقہ سکھا دوں جس طریقہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے۔میں نے ابو قلابہ سے پو چھا کہ انہوں نے کیسے نمازپڑھی تھی؟انہوں نے بتایا کہ ہمارے شیخ (عمر بن سلمہ رحمتہ اللہ علیہ )کی طرح۔شیخ جب سجدہ سے سراٹھاتے تو ذرا بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے۔
عن ابی قلابہ قال :اخبرنا مالک بن الحویرث اللیثی رضی اللہ عنہ انہ رای النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی، فاذا کان فی وتر من صلاتہ لم ینھض حتی یستوی قاعدا ۔
(رواہ البخاری:کتاب الاذان:باب من استوی قاعدا فی وتر من صلاتہ ثم نھض)
ابو قلابہ رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب طاق رکعت (پہلی اور تیسری رکعت ) میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک تھوڑی دیر بیٹھ نہ لیتے۔
ان احادیث سے تو کہیں بھی یہ بات ثابت نہیں ہوتی کے آپ نے اپنے بوڑھاپے میں اسکو کیا ہو