• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا جن انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے ؟؟؟

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
کیا جن انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے ؟؟؟

السلام علیکم : شیخ محترم @کفایت اللہ صاحب

قاری بشیر صاحب جو کہ کراچی میں ہوتے ہے وہ جن کا انسانی جسم میں داخل ہونے کا انکار کرتے ہیں - اور وہ چند جمعوں سے جن کے موضوع پر خطاب کر رہے ہیں - جس کے جواب میں میں نے انکو کچھ فتویٰ اسلام کیواے سے دیئے اس موضوع پرلیکن وہ اس کا انکار کرتے رہیں :


http://islamqa.info/ur/1819

میں نے ان کو یہ حدیث بھی پیش کی :

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ >۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شیطان ابن آدم (انسان)کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کر تا ہے


جس کا ترجمہ انھوں نے یہ کیا کہ شیطان انسان کے ساتھ ساتھ (لگا رہتا ہے) دوڑتا ہے

اور کیا یہ حدیث صحیح ہے - اس حدیث کی مکمل سند بتا دے مکمل جراح کے ساتھ - جزاک اللہ

سنن ابن ماجہ ، باب: گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟۔

حدیث نمبر: 3548


عن عثمان بن ابي العاص ، قال: لما استعملني رسول الله صلى الله عليه وسلم على الطائف ، جعل يعرض لي شيء في صلاتي حتى ما ادري ما اصلي ، فلما رايت ذلك رحلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال:"ابن ابي العاص"، قلت: نعم يا رسول الله ، قال:"ما جاء بك"، قلت: يا رسول الله ، عرض لي شيء في صلواتي حتى ما ادري ما اصلي ، قال:"ذاك الشيطان ادنه"، فدنوت منه ، فجلست على صدور قدمي ، قال: فضرب صدري بيده ، وتفل في فمي ، وقال:"اخرج عدو الله"، ففعل ذلك ثلاث مرات ثم قال:"الحق بعملك"، قال: فقال عثمان: فلعمري ما احسبه خالطني بعد.

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا ابن ابی العاص ہو“؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: ”تم یہاں کیوں آئے ہو“؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور (شیطان کو مخاطب کر کے) فرمایا: «اخرج عدو الله» ”اللہ کے دشمن! نکل جا“ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: ”اپنے کام پر جاؤ“ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔

تخریج دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ۹۷۶۷، ومصباح الزجاجة : ۱۲۳۸) (صحیح) قال الشيخ الألباني: صحيح


کیا جن انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے ؟؟؟

شیخ تفصیل سے اس مسلے کی وضاحت کر دے - جزاک اللہ
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,006
ری ایکشن اسکور
9,809
پوائنٹ
773
بھائی تفصیل تو نہیں پیش کرسکتا ہے تفصیل کے لئے کسی اور سے رابطہ کرلیں ۔
البتہ اتنا عرض ہے کہ درج ذیل روایت اس بارے میں سندا صحیح اور مفہوما صریح ہے۔

امام ابن ماجة رحمه الله (المتوفى273)نے کہا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: لَمَّا اسْتَعْمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الطَّائِفِ جَعَلَ يَعْرِضُ لِي شَيْءٌ فِي صَلَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَحَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ابْنُ أَبِي الْعَاصِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَرَضَ لِي شَيْءٌ فِي صَلَوَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي قَالَ: «ذَاكَ الشَّيْطَانُ ادْنُهْ» فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَجَلَسْتُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيَّ، قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ، وَتَفَلَ فِي فَمِي وَقَالَ: «اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ» فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: «الْحَقْ بِعَمَلِكَ» قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: «فَلَعَمْرِي مَا أَحْسِبُهُ خَالَطَنِي بَعْدُ»[سنن ابن ماجه 4/ 1378 واسنادہ صحیح ]

علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے بلکہ انسانی جسم میں شیطان کے داخل ہونے کے سلسلے میں اس روایت کو صریح کہا ہے ملاحظہ ہوں علامہ البانی رحمہ اللہ کے الفاظ:

وفي الحديث دلالة صريحة على أن الشيطان قد يتلبس الإنسان ويدخل فيه ولو كان مؤمنا صالحا [سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها: 6/ 1002 ]

لہٰذا ماننے کے لئے یہ ایک روایت ہی کافی ہے۔
اگراس کی سند پر کوئی اعتراض کیا جائے تو ہمیں آگاہ کریں ۔
 
Top