• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا دنیا میں واپسی ممکن ہے ؟؟ سن لیں عجیب انداز میں !!

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
ویڈیو کی آواز کلیئر نہیں ہے۔ لہٰذا قابل اعتراض شے واضح نہیں ہو سکی۔

السلام علیکم ۔۔ محترم ابو بصیر بھائی کیا عجیب بات ہے کہ ہم خامیاں ہی تلاش کرتے ہیں،،، ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ الله کی دین کے لئے گرانقدر خدمات ہیں ،،، کیا آپکو وہ نہیں پتا ؟؟؟
اور بیٹھ کر ان لوگوں کی خامیاں بیان کرنا جویہاں موجود بھی نہیں اس دنیا میں ،،کیا ہمارا مذہب یہ تعلیم دیتا ہے ؟؟؟ تنقید کرنا بہت آسان ہے ،،،
پہلے پارے کی آخری آیت....
((تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا یعْمَلُونَ (134) )) (بقرہ)
''وہ لوگ گزر گئے ان کے لیے وہی ہو گا جو انہوں نے کیا اور تمہارے لیے جو تم نے کیا اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے?''
" اپنے مردوں کی خوبیوں کا ذکر کرو اور ان کے عیوب کو نہ چھیڑو " ۔
{ سنن ابو داود :4900، الادب – سنن الترمذی :1019، الجنائز – مستدرک الحاکم :1/358 ، بروایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما }
الله ہمیں

ہدایت دے ،،آمین
وعلیکِ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

محترم بہن!

کسی کے موقف سے اتفاق نہ کرنا اس کی خامی تلاش کرنا ہرگز نہیں ھے۔ دلائل کی بناء پر کسی بھی امتی کی دینی اجتہادی رائے کو بالکل مسترد کیا جا سکتا ہے۔ ہمیشہ علمائے دین وفقہائے ملت سلف صالحین (بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک) کے اقوال سے دلائل کی بنا پر اتفاق یا عدمِ اتفاق کرتے چلے آئے ہیں۔

خامی نکالنے، عیب ٹٹولنے کا مطلب کسی ’نیک وبَری شخص‘ کو بُرا بھلا کہنا ہوتا ہے: کہ فلاں کذاب، دجال، خائن وغیرہ وغیرہ ہے یا شدت اختیار کرتے ہوئے علماء کی تکفیر کرنا وغیرہ!

کسی کی اجتہادی رائے کی مخالفت اس لئے خامی نکالنا نہیں ہے کیونکہ غلط اجتہادی رائے پر بھی اَجر ملتا ہے: إذا اجتهد الحاكم فأصاب فله أجران وإن أخطأ فله أجر لیکن اس اجتہادی غلطی کو دوسروں کے سامنے واضح کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ دیگر لوگ اس کی وجہ سے بہک نہ جائیں۔ من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه

اصلاح وتفہیم کی غرض سے امتی تو چھوڑئیے انبیاء کی بشری لغزش بھی بیان کی جا سکتی ہے۔ مثلاً سیدنا آدم علیہ السلام اور اماں حوا کا درخت کا پھل کھانا، سیدنا نوح علیہ السلام کا کافر بیٹے کیلئے دُعا کرنا، نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا اپنے اوپر شہد حرام کرنا وغیرہ!

واللہ تعالیٰ اعلم!

اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں!
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
ویڈیو کی آواز کلیئر نہیں ہے۔ لہٰذا قابل اعتراض شے واضح نہیں ہو سکی۔

انس بھائی! قابلِ اعتراض بات کی وضاحت میں نے اپنے پوسٹ میں کی ہے۔
اس بات کو میں نے جب سنا تھا تو یہ مجھے بھی قابلِ اعتراض لگی تھی، ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ "مانگو اللہ سے وہ چاہے تو کسی فرشتے کے ذریعے، کسی فوت شدہ ولی اللہ کی روح کے ذریعے سے یا چاہے تو ڈائریکٹ دے دے" یہ جملہ قابلِ اعتراض ہے، ہمارا ماننا ہے اور یہ بات ہمارے عقیدے میں شامل ہے کہ صرف اللہ سے مانگو اور وہی دینے والا ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ، ہم سب اس کے محتاج ہیں، وہ سب کی براہ راست دعائیں سنتا ہے اور چاہے تو قبول فرماتا ہے۔
 
شمولیت
مارچ 14، 2013
پیغامات
22
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
19
السلام علیکم و رحمت الله -

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈا کٹر اسرار صاحب کی اسلام اور پاکستانی عوام کے لئے دینی خدمات بہت زیادہ ہیں - لیکن ڈا کٹر اسرار بہر حال نبی نہیں تھےکہ ان سے غلطی نہیں ہو سکتی -اور یہ ایک فطری امر ہے کہ جب انسان کسی کا معتقد ہو جاتا ہے تو اس کی ہر ہر بات یا عقیدہ اس کو صحیح لگنے لگتا ہے -ان کے معتقدین جو ہمارے ملک میں ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں یہ ان کے لئے ایک خطرناک چیز ہے -

اور یہ آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی جانتا ہوں کہ جب تک انسان کا عقیدہ قرآن و سنّت کے مطابق نہ ہو اس کا بڑے سے بڑا نیک عمل بھی الله کی بارگاہ میں کاغذ کی راکھ کے برابر نہیں ہے - شرک وہ گناہ ہے جس کی کوئی معافی نہیں- (جیسا کہ ارسلان بھائی نے اپنی پوسٹ میں شرک کا انجام واضح کردیا ہے- الله ان کو جزا دے آمین)

عوام کو صرف ان کے باطل عقیدے سے خبردار کرنے کے لئے ایسی پوسٹ کی جاتی ہیں - کیوں کہ ان کے معتقدین کےایک بڑی تعداد یہاں موجود ہے -یہ بات ذہن میں رہے کہ ہمیں ان سے کوئی ذاتی عناد نہیں ہے - اسلام کے لئے ان کی بہت سے مثبت کوششیں قابل ستائش بھی ہیں -(واللہ اعلم)-

الله ہم سب کو اپنی ہدایت سے نوازے (آمین )
میں ڈاکٹر صاحب کی معتقد یا مقلد نہیں ہوں ۔۔قرآن و حدیث کی ہی پیروی کرتی ہوں،،،سلف و صالحین کی ۔۔ الحمد للّه ،،،،، صرف اتنی وضاحت کرنا تھی کہ جو گزر گئے ان کے عمل ان کے ساتھ ہیں ،،، اوربلا شبہ جب تک انسان کا عقیدہ قرآن و سنّت کے مطابق نہ ہو اس کا بڑے سے بڑا نیک عمل بھی الله کی بارگاہ میں کاغذ کی راکھ کے برابر نہیں ہے - شرک وہ گناہ ہے جس کی کوئی معافی نہیں ۔۔۔ بہت سے علماء کے علاوہ انکی تفسیر بھی سنی ہے ،،، اچھی جامع انداز میں ہے،،، واللہ اعلم
انسان معصوم نہیں ۔۔ غلطیاں ہوتی رہتی ہیں،،،الله انکی لغزشوں کو معاف فرمایے اور ہم سب کو اپنی ہدایت سے نوازے (آمین)
 
شمولیت
مارچ 14، 2013
پیغامات
22
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
19
"مانگو اللہ سے وہ چاہے تو کسی فرشتے کے ذریعے، کسی فوت شدہ ولی اللہ کی روح کے ذریعے سے یا چاہے تو ڈائریکٹ دے دے"
میں بھی اسکو ٹھیک نہیں سمجھتی نہ ان کے مواقف سے متفق ہونا ضروری ہے ،،، اور یہ جملہ بھی قابلِ اعتراض ہے، کیوں کہ ہمارا ماننا ہے اور یہ بات ہمارے عقیدے میں شامل ہے کہ صرف اللہ سے مانگو اور وہی دینے والا ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ، ہم سب اس کے محتاج ہیں، وہ سب کی براہ راست دعائیں سنتا ہے اور چاہے تو قبول فرماتا ہے۔
اللہ لغزشوں کو معاف فرماے.آمین
جزاک الله خیرا انس بھائی !
 
Top