محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,823
- پوائنٹ
- 1,069
نبی کریمﷺسے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ ان کو معراج کروایا گیا اور ان کے لئے سارے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے گئے حتی رسول اللہ ﷺ ساتویں آسمان کو بھی کراس کر گئے ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے ان سے جو چاہا گفتگو کی اور ان پر پچاس نمازیں فرض کیں ۔نبی کریمﷺ مسلسل مراجعہ کرتے رہے اوراللہ تعالیٰ سے تخفیف کا سوال کرتے رہے حتی کہ پانچ نمازیں کر دی گئیں۔اب ادائیگی میں پانچ نمازیں فرض ہیں لیکن اجر پچاس نمازوں کا ہی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر نیکی کا اجر دس گنا زیادہ کر کے دیتے ہیں جو ہم پر اللہ کا احسان اور کرم ہے۔فللّٰہ الحمد۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
((سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَا مِ اِلٰی الْمَسْجِدِ الْأَقْصٰی الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ ئٰ ایٰتِنَا اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ)) [الاسرائ:۱]
’’پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیاجس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے،اس لئے کہ ہم اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں ،یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
((اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلٰمَ دِیْناً))[المائدۃ:۳]
’’آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیااور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا ۔‘‘
نبی کریمﷺ سے صحیح أحادیث میں ثابت ہے کہ بدعت سے بچو کیونکہ بدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔دوسری جگہ فرمایا:
((أَمْ لَھُمْ شُرَکَآئُ شَرَعُوْا لَھُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَأْذَنْ بِہٖ اللّٰہُ وَلَوْ لَا کَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ))[الشوری:۲۱]
’’کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے)شریک (مقرر کر رکھے)ہیں جنہوں نے ایسے (احکام )دین مقرر کر دئیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو (ابھی ہی)ان میں فیصلہ کر دیا جاتا ۔یقینا ان ظالموں کے لئے ہی درد ناک عذاب ہے۔‘‘
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنھاسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد))[متفق علیہ]
’’جس نے ہمارے دین میں نئی چیز گھڑ لی وہ مردود ہے‘‘
دوسری جگہ فرمایا:
((من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھو رد))[مسلم]
’’جس شخص نے ایسا کام کیا جو ہمارے دین میں نہیں ہے ، وہ مردود ہے۔‘‘
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے ہر خطبہ جمعۃ المبارک میں کہا کرتے تھے:
((أما بعد:فان خیر الحدیث کتاب اللّٰہ ،وخیر الھدی ھدی محمد ﷺ،وشر الامور محدثاتھا ،وکل بدعۃ ضلالۃ))[مسلم]
’’بے شک بہترین بات اللہ کی کتاب ہے،اور بہترین ہدایت نبی کریمﷺ کی ہدایت ہے،اور بد ترین امور بدعات ہیں،اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘
اس معنی کی اور بہت ساری احادیث موجود ہیں۔حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ہمیں فصیح وبلیغ وعظ کیا جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں بہنے لگیں۔پس ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! گویا کہ یہ الوداع کرنے والے کاوعظ ہے،پس آپ ہمیں کوئی وصیت کیجئیے!تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((أوصیکم بتقوی اللّٰہ ، والسمع والطاعۃ، وان تأمر علیکم عبد فانہ من یعش منکم فسیری اختلافا کثیرا ،فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین من بعدی ،تمسکوا بھا،وعضوا علیھا بالنواجذ ،وایاکم ومحدثات الأمور،فان کل محدثۃ بدعۃ،وکل بدعۃ ضلالۃ))[رواہ اہل السنن]
’’میں تمہیں اطاعت و فرمانبرداری اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں،اگرچہ تم پر کسی غلام کو ہی امیر مقرر کر دیاگیا ہو،تم میں سے جوشخص بھی زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت زیادہ اختلاف کو دیکھے گا ،میرے بعد میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو لازم پکڑ لینا،اور اس کو مضبوطی سے تھلینا،دین میں نئی نئی چیزیں گھڑنے سے بچو! بیشک ہر نئی گھڑی ہوئی چیز بدعت ہے ،اور ہر بدعت گاممراہی ہے۔‘‘
اس سے ثابت ہوا کہ بدعت قرآن اور سنت دونوں کے صریح مخالف اور متضاد ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے:
((اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ))[المائدۃ:۳]’’
آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا۔‘‘