• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا شوہر کو گھر کا ہر کام کرنا چاہئے ؟

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
804
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
کیا شوہر کو گھر کا ہر کام کرنا چاہئے ؟

تحریر : کفایت اللہ سنابلی

اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم «كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ» ، (اپنے گھر والوں کے کام وکاج میں لگے رہتے تھے ) [صحيح البخاري رقم 6039]

اس سے بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ گھر کے تمام کاموں میں شوہر کو بیوی کا تعاون کرنا چاہئے حتی کہ کھانا بنانے ، برتن دھونے اور جھاڑو لگانے میں بھی بیوی کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔

عرض ہے کہ :
یہ حدیث مجمل ہے اور دوسری حدیث میں خود اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس اجمال کی تفصیل یوں پیش کی ہے:
كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ، قَالَتْ: وَكَانَ يَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ
آپ ﷺ خود اپنے کپڑے سی لیتے تھے، اپنے جوتے خود مرمت کر لیتے تھے، اور آپ ﷺ وہ تمام کام کرتے تھے جو مرد اپنے گھروں میں کیا کرتے ہیں۔“ [مسند أحمد رقم 26239 وإسناده صحيح]

اس حدیث کے اخیر میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوری صراحت کے یہ اصولی بات کہہ دی کہ « وَكَانَ يَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں مردوں والے کام کیا کرتے تھے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کے صرف وہی کام کرتے تھے جو مردوں کے کام ہوتے تھے ۔ اس کا یہ مطلب لینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں والے کام بھی کرتے تھے یہ انتہائی گمراہ کن استدلال ہے ۔

● ابوزرعہ ، ابن العراقی (ت 826هـ) فرماتے ہیں:

« أَمَّا خِدْمَةُ أَهْلِهِ فِي الْحَاجَاتِ الْمُخْتَصَّةِ بِهِنَّ فَهُوَ غَيْرُ مُرَادٍ فِي الْحَدِيثِ فِيمَا يَظْهَرُ وَلَا يُمْكِنُ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ رضي الله عنهن السُّكُوتُ عَنْ ذَلِكَ وَالْمُوَافَقَةُ عَلَيْهِ »

اہلِ خانہ کی ان ضروریات میں خدمت کرنا جو خاص طور پر عورتوں سے متعلق ہوں، ظاہر ہے کہ حدیث میں یہ مراد نہیں ہے، اور نہ ہی امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے لیے ممکن تھا کہ وہ ایسی کسی بات پر خاموش رہتیں یا اس کی موافقت کرتیں۔“ [ طرح التثريب في شرح التقريب 8/ 181]

● امام ابن القيم رحمه الله (المتوفى751) فرماتے ہیں:

«وأما ترفيه المرأة وخدمة الزوج وكنسه وطحنه وعجنه وغسيله وفرشه وقيامه بخدمة البيت فمن المنكر»

اور رہا شوہا کا بیوی کی خدمت کرنا، گھر میں جھاڑو دینا، آٹا پیسنا، آٹا گوندھنا، کپڑے دھونا، بستر بچھانا، اور گھر کی دیکھ بھال کرنا تویہ شوہر کے لئے نامناسب عمل ہے۔“ [زاد المعاد، ن مؤسسة الرسالة: 5/ 171]

معلوم ہوا کہ شوہر کے لئے ہر طرح کے گھریلو کام کرنے کو سنت رسول بتانا غلط ہے۔
 
Top