محمد ارسلان
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 17,859
- ری ایکشن اسکور
- 41,102
- پوائنٹ
- 1,155
کیا غسل جنابت میں سر اور کانوں کا مسح کرنا چاہیے؟
غسل كا مكمل طريقہ يہ ہے كہ:كفائت كرنے والا طريق غسل يہ ہے كہ: كلى كر كے اور ناك ميں پانى ڈال كر سارے بدن پر پانى ڈال ليا جائے، چاہے ايك بار ہے، اور اگر گہرے پانى ميں غوطہ لگائے تو بھى ٹھيك ہے۔
ديكھيں: اعلام المسافرين ببعض آداب و احكام السفر و ما يخص الملاحين الجويين، تاليف فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين صفحہ ( 11 )۔اپنى شرمگاہ اور جہاں جہاں نجاست لگى ہو اسے دھوئے، اور پھر مكمل وضوء كرنے كے بعد اپنے سر پر تين چلو پانى بہائے حتى كہ بالوں تك سر تر ہو جائے، اور پھر اپنے جسم كى دائيں جانب اور پھر بائيں جانب دھوئے۔
وضو میں شامل ہے۔اور پھر مكمل وضوء كرنے كے بعد اپنے سر پر تين چلو پانى بہائے
کیا یہ کفایت کرنے والا طریقہ بھی نبی کریمﷺ سے ثابت ہے؟كفائت كرنے والا طريق غسل يہ ہے كہ: كلى كر كے اور ناك ميں پانى ڈال كر سارے بدن پر پانى ڈال ليا جائے، چاہے ايك بار ہے، اور اگر گہرے پانى ميں غوطہ لگائے تو بھى ٹھيك ہے۔