• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا قبرستان کی دیکھ بھال، زیب و زیبائش ، اور خوبصورت بنانا جائز ہے؟

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
کیا قبرستان کی دیکھ بھال، زیب و زیبائش ، اور خوبصورت بنانا جائز ہے؟

سوال: کچھ لوگ قبرستان کی زیبائش و آرائش اور اندرونی راستوں کی دیکھ بھال کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں، تا کہ معذور افراد اور بچے آسانی سے قبرستان میں داخل ہوسکیں، تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

الحمد للہ:

بلاشبہ قبرستان میں مدفون افراد کو بے حرمتی سے بچانے کیلئے قبرستان کی دیکھ بھال کرنا ایک شرعی عمل ہے، لیکن دیکھ بھال صرف اتنی ہی کی جائے گی جس سے مقصد پورا ہوجائے، چنانچہ حد سے تجاوز کرتے ہوئے قبرستان کی دیکھ بھال ، زیبائش و آرائش ، قبروں کو پختہ بنانے، ان پر پینٹ وغیرہ کرنے کیلئے پیسہ خرچ کرکے شرعی حدود کو پامال نہیں کیا جائے گا۔

شرعی حکم یہ ہے کہ قبروں کو انکی اپنی اصلی حالت میں رکھا جائے؛ کیونکہ قبروں کی زیارت سے نصیحت حاصل ہوتی ہے، اور اصلی حالت پر برقرار رکھنے سے قبروں کی تعظیم اور انکے بارے میں غلو کی نفی ہوتی ہے۔

اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ قبرستان کے ارد گرد حفاظتی دیوار بنائی جائے، ایسے ہی وہاں روشنی ، اور قبروں کی صفائی کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں، داخلی راستے بنائے جائیں، لیکن ان کاموں کیلئے اسراف اور غلو سے بچیں، قبرستان میں داخلی راستہ بنائیں لیکن فرش نہ لگائیں، اور روشنی کا انتظام دفن کرتے ہوئے ضرورت کے وقت استعمال کیلئے ہو، اسی طرح قبرستان کی انتطامیہ کو قبرستان میں شجر کاری، ضرورت سے زیادہ زیبائش و آرائش سے روکا جائے، صرف اس حد تک دیکھ بھال کی جائے کہ تدفین کے مراحل آسان رہیں، اور کوئی قبرستان کی بے حرمتی نہ کرے۔

یہ سب کچھ عقیدہ توحید کی حفاظت ، اور شرک کے اسباب کی روک تھام، اور مسلمان فوت شدگان کے احترام کیلئے ہے، تا کہ قبرستان کی شکل و صورت اس انداز سے باقی رہے جسکو دیکھ کر نصیحت ملے، اور جس مقصد کیلئے قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت دی گئی ہے وہ مقاصد حاصل ہوں۔

شوکانی رحمہ اللہ "الدراري المضية" (2 / 301) میں کہتے ہیں :

"قبروں کا اہتمام اگر انکا مقام و مرتبہ بڑھانے، اور خوبصورتی کیلئے ہو تو اس کام کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن اس سے بھی بڑھ کر فتنہ انگیز یہ ہے کہ قبرستان کے زائرین قبروں پر قیمتی چادریں اور پتھر وغیرہ چڑھائیں؛ کیونکہ ایسے کام کرنے سے قبرستان میں آنے والے عوام الناس زائرین کے دلوں میں صاحب قبر کی تعظیم آتی ہے ، جسکی وجہ سے زائرین صاحب قبر کے بارے میں ناجائز نظریات بنا لیتے ہیں"انتہی

شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

"قبرستان کی ارد گرد سے گری ہوئی دیوار کی مرمت ، قبرستان کی حفاظت کیلئے دروازے لگانا، چوکیدار رکھنا، وقبرستان میں داخلی راستے بنانے اور قبرستان کی صفائی ستھرائی میں کوئی حرج نہیں ہے۔

جبکہ قبرستان میں شجر کاری کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں عیسائیوں کی مشابہت ہے، اس لئے کہ وہ اپنے قبرستان کو باغیچہ بنا کر رکھتے ہیں،چنانچہ درختوں کو ، اور انکی آبیاری کیلئے لگی ہوئی پانی کو ٹوٹیوں کو ہٹانا ضروری ہے، صرف انہیں ٹوٹیوں کو باقی رکھا جائے گا جو پانی پینے اور مٹی گیلی کرنے کیلئے استعمال ہوں۔

جبکہ قبرستان میں لائٹنگ سے خدشہ ہے کہ یہ قبروں پر چراغاں کا موجب بنے گا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر چراغاں کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے، اور ویسے بھی جاہل لوگ خرافات کے دلدادہ ہوتے ہیں، اس لئے ان خدشات کے پیش نظر لائٹوں کو اتار دینا چاہئے"انتہی

"فتاوى ورسائل محمد بن إبراہيم" (3 / 161)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

"ہر صاحب استطاعت کیلئے ضروری ہے کہ وہ قبروں پر بنی ہوئی مساجد، گنبد، اور عمارتوں کو ہٹانے میں اپنا کردار ادا کرے، اور قبروں کو ایسے ہی کھلا رہنے دیا جائے جیسے بقیع کے قبرستان میں عہد نبوی میں اور ہمارے دور میں کھلی ہوئی ہیں، کہ قبریں کھلے آسمان تلے ہیں، ان پر کوئی مسجد، حجرہ، گنبد وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر عمارت ، انہیں عبادت گاہ ، اور قبروں کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے؛ اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ عمل اہل قبور کے بارے میں غلو کاذریعہ ہے، جس سے خدشہ ہے کہ انکی اللہ کے ساتھ عبادت کی جائے گی۔

اسی طرح قبروں پر پیسوں، جانوروں، اور کپڑوں کی شکل میں نذرانے نہیں دئے جا سکتے، قبر پر مجاور یا خادم بھی نہیں رکھا جائے گا،لیکن قبرستان کی بیرونی جانب پوری دیوار بنائی جائے، تا کہ قبرستان کی بے حرمتی نہ ہو، اور جانور قبرستان میں داخل نہ ہوسکیں ، اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے "اختصار کیساتھ اقتباس مکمل ہوا،

"فتاوى نور على الدرب" (1 / 271-272)

آپ رحمہ اللہ سے یہ بھی پوچھا گیا:

کیا قبروں پر اور قبرستان کے داخلی راستوں میں روشنی کا انتظام کرنا درست ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"اگر تدفین کے لئے لوگوں کی سہولت کو مد نظر رکھ کر یا قبرستان کی بیرونی دیوار پر لائٹیں لگائی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن قبروں پر چراغاں اور روشنی کا انتظام کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان کی زیارت کرنے والی خواتین پر ، اور مساجد کو عبادت گاہ بنانے والے لوگوں ، اور ان پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔

اسی طرح اگر قبرستان کے پاس سے گزرنے والے راستے پر اسٹریٹ لائٹس لگی ہوئی ہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر تدفین کے وقت ضرورت کی بنا پر لائٹ کا انتظام کیا گیا ، یا تدفین کیلئے آنے والے افراد اپنے ساتھ روشنی کا انتظام کرکے آئے تو تب بھی کوئی حرج نہیں ہے"انتہی

"مجموع فتاوى ابن باز" (13 / 244-245)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"قبرستان فوت شدگان کا علاقہ ہے، زندہ افراد وہاں نہیں رہتے کہ وہاں پر زیب و زیبائش کا کام کیا جائے، اور سیمنٹ پر مرثیے لکھے جائیں، قبرستان فوت شدگان کا علاقہ ہے، اس لئے قبرستان کو اسی حالت میں رکھا جائے جس حالت میں موجود ہے، تا کہ قبرستان کے پاس سے گزرنے والے لوگ نصیحت حاصل کریں، اور صحیح حدیث میں بریدہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا کرتا تھا، اب زیارت کیلئے جایا کرو، بلاشبہ اس سے آخرت کی یاد آتی ہے)

اور اگر ہم نے لوگوں کیلئے قبروں کو پختہ بنانے، اور ان پر کتابت کرنے کی اجازت دے دی تو ان قبروں پر بھی فخر شروع ہوجائے گا، اور قبرستان زندہ افراد کیلئے نصیحت کی جگہ نہیں رہے گی، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو پختہ بنانے، اور اس پر عمارت کھڑی کرنے، قبر پر کتابت، اور قبر پر بیٹھنے سے منع فرمایا، لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے معامالات سے منع فرمایا دیا جو قبروں کے بارے میں غلو کا سبب بن سکتے تھے، اسی طرح ایسے معاملات سے بھی منع فرمایا جن میں اہل قبور کی اہانت تھی، اس لئے قبر پر بیٹھنے سے منع فرمایا"انتہی

"فتاوى نور على الدرب" (196 / 34)

اور قبروں کے بارے میں جائز اور ناجائز دیکھ بھال کے متعلق جاننے کیلئے سوال نمبر: (126400) کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال وجواب

http://islamqa.info/ur/148439
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
قبروں کی جائز اور ناجائز دیکھ بھال !!!

سوال:

میرے ایک عزیز نے اپنے بھائیوں سے اپنی والدہ صاحبہ کی قبر کی دیکھ بھال کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کا مطالبہ کیا، کہ انکی والدہ کی قبر پر کافی مٹی چڑھ چکی ہے، اور اردگرد کافی تعداد میں جھاڑیاں بھی اگ چکی ہیں، اس قبر کے اردگرد لوہے کا جنگلا لگا ہوا ہے، اور سفید پینٹ کیا گیا ہے، ساتھ میں انکا نام اور تاریخ پیدائش بھی درج ہے۔۔۔ الخ، تو کیا قبر کی دیکھ بھال کیلئے فنڈ دینا جائز ہے؟


الحمد للہ:

اول:

اسلامی شریعت میں قبر کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا ہے، اس لئے شرعی طور پر قبروں کی اہانت، اور قبروں کیساتھ زیادتی جائز نہیں ہے، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے کو شدت کیساتھ حرام قرار دیا ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایک آدمی دہکتے ہوئے انگارے پر بیٹھ جائے جو اسکے کپڑے جلا کر اسکی جلد بھی جلا دے، یہ اسکے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے)
مسلم: (971)

اس کے بارے میں مزید سوال نمبر : (4309) اور (4698) کے جواب میں ملاحظہ فرمائیں۔

قبروں کے احترام کا مسلمانوں سے تقاضا ہے کہ قبروں کی اتنی دیکھ بھال رکھی جائے جس سے میت کا تقدس پامال نہ ہو، اور میت کے بے حرمتی نہ ہو، میت کو اہانت اور تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے، چنانچہ اس کیلئے درج ذیل وسائل اپنائے جائیں:

1- قبر کے سر کی جانب کوئی پتھر وغیرہ رکھ دیا جائے، جیسے کہ ابو داود (3206) کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی جلیل عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس رکھا تھا۔

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"یہ سنت ہے کہ قبر کے سر کی جانب پتھر، لکڑی وغیر کوئی ابھری ہوئی علامت رکھ دی جائے، امام شافعی، صاحب کتاب، [یعنی: شیرازی]، اور تمام [شافعی ]فقہائے کرام اسی کے قائل ہیں" انتہی
" المجموع " (5/265)

مزید کیلئے آپ سوال نمبر: (8991) کا جواب ملاحظہ کریں۔

2- سطح زمین سے صرف ایک بالشت قبر کو بلند کیا جائے، اس سے زیادہ نہ ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک ایسی ہی تھی، چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "قبر کو سطح زمین سے ایک بالشت بلند کیا جائے گا، تا کہ معلوم ہو کہ یہ قبر ہے، اس سے قبر کا احترام ہوگا، اور میت کیلئے دعائے رحمت کی جائے گی۔۔۔ اور قبر کو تھوڑا سا بلند کرنا ہی مستحب ہے"انتہی
" المغنی " (2/190)

اور "الموسوعة الفقهية " (11/342)میں اسی بات پر فقہائے کرام کا اتفاق نقل کیا گیا ہے، مزید کیلئے سوال نمبر: (83133) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

3- قبرستان کے ارد گرد حفاظتی دیوار بنائی جائے، جس سے قبرستان کو عام آبادی سے جدا کیا جائے، تا کہ چھوٹے بچوں کی شرارتوں ، اور جانوروں سے قبریں محفوظ رہیں۔

دیکھیں: "فتاوى شيخ محمد بن ابراہيم ": (3/211-212) اور "احكام المقابر" از: سحيبانی، صفحہ:(457)

دوم:

جبکہ قبروں کی ناجائز دیکھ بھال کے طریقے جنہیں لوگ اپنے عزیز و اقارب کی قبروں کیلئے استعمال کرتے ہیں، یہ ہر علاقے اور ملک کے اعتبار سےالگ الگ ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

1- قبر کو ایک بالشت سے زیادہ بلند کرنا، اسکے منع ہونے کی دلیل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے: (تمام مورتیوں کو مٹا دینا، اور سب اونچی قبروں کو برابر کردینا)
مسلم: (969)

2- قبروں پر کسی بھی صورت میں عمارت بنانا ، چاہے بلند ہو یا نہ ہو، قبہ کی شکل میں ہو یا مزار کی شکل میں یا کسی اور انداز سے، چنانچہ " الموسوعة الفقهية " (32/250) میں ہے کہ: "مالکی، شافعی، اور حنبلی فقہائے کرام مجموعی طور پر قبر کے اوپر عمارت بنانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، اسکی دلیل جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو پختہ بنانے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا" چاہے قبر پر بنائی جانے والی عمارت میں گنبد ہو یا خانقاہ یا کچھ اور ، جبکہ حنفی فقہائے کرام کہتے ہیں کہ: اگر قبر پر تعمیراتی کام خوبصورتی کیلئے ہے تو حرام ہے، اور اگر دفن کرنے کے بعد قبر کی مضبوطی کیلئے ہے تو یہ مکروہ ہے"انتہی

3- قبر پر پینٹ کرنا، یا چونا وغیرہ کا استعمال خوبصورتی کیلئے کرنے کے بارے میں " الموسوعة الفقهية " (32/250) میں ہے کہ: "تمام فقہائے کرام کا اتفاق ہے کہ قبر پر چونے کا استعمال مکروہ ہے، جیسے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے مروی ہے کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو چونا گچ کرنے، اس پر بیٹھنے ، اور قبر پر عمارت بنانے سے منع فرمایا"

محلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: چونا گچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ قبر کو چونا لگا کر سفید رنگ دیا جائے۔

اور عمیرہ کہتے ہیں : ممانعت کی وجہ زیب و زینت ہے، مزید اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ : اس میں غیر شرعی مقاصد میں پیسے کا ضیاع بھی ہے"انتہی

4- قبرستان کے ارد گرد بیرونی دیوار کے باوجود کسی معین قبر کے ارد گرد دیوار بنانا ، یا جالی لگانا، کیونکہ یہ بھی قبروں پر ممنوعہ تعمیراتی کام میں شامل ہے، چنانچہ شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "قبر پر اس انداز سے آرائش و زیبائش کیساتھ کیبن بنانا بھی ایک گناہ ہے، جو کہ لوگوں کو اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی پر ابھارتا ہے، جس سے صاحب قبر کی غیر شرعی تعظیم کی جاتی ہے، جیسے کہ عام طور پر مشاہدے میں بھی یہ چیز پائی گئی ہے"انتہی
" تحذير الساجد " (ص/89)

5- قبروں پر مدح سرائی، اور مرثیہ وغیرہ کی کتابت کروانا، جس سے میت پر نوحہ گری کے دروازے کھلتے ہیں، یا میت کے بارے میں غلو اور حد سے تجاوز سامنے آتا ہے۔

6- قبروں پر شجر کاری کرنا، اور سبز بیل بوٹے لگانا، کیونکہ یہ مسلمانوں کا طریقہ کار نہیں ہے، بلکہ عیسائیوں کے مراسم میں یہ کام موجود ہیں، اس بات کا تفصیلی بیان سوال نمبر: (14370) اور (41643) اور (48958) کے جواب ملاحظہ فرمائیں۔

سوم:

مندرجہ بالا تفصیلات کے مطابق ، اگر قبر کی بے حرمتی نہیں ہو رہی تو قبروں کی شرعی دیکھ بھال کیلئے پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ قبر پر پلستر ، پینٹ، اور اس پر تعمیراتی کام کروانا سب کچھ ممنوعہ امور میں سے ہے، ایسے ہی لوہے کا جنگلا قبر کے ارد گرد لگانا بھی منع ہے، اور قبر پر مٹی پڑنے سے قبر کی توہین نہیں ہوتی؛ بلکہ قبریں ہمیشہ ایسے ہی ہوتی ہیں، کیونکہ میت کو قبر میں مٹی کے نیچے ہی دفن کیا جاتا ہے۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال وجواب
 
Top