رضا میاں
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 11، 2011
- پیغامات
- 1,557
- ری ایکشن اسکور
- 3,583
- پوائنٹ
- 384
اسلام علیکم
آج میں نے بہت ہی عجیب بات سنی ہے۔
وہ یہ کہ قرآن کی چند آیتیں منسوخ ہونے کے بعد قرآن سے ہی نکال دی جاتی تھی۔ اور وہ صحابہ کے ذہن سے بھی نکال دی جاتی تھیں۔
مندرجہ ذیل حدیث کے تحت ایسا ہی ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْبَقَّالُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَاذِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرُوهُ : " أَنَّهُ قَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يُرِيدُ أَنْ يَفْتَتِحَ سُورَةً كَانَ قَدْ وَعَاهَا ، فَلَمْ يَقْدِرْ مِنْهَا عَلَى شَيْءٍ إِلا : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ، فَأَتَى بَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ ، يَسْأَلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، جَاءَ آخَرُ وَآخَرُ حَتَّى اجْتَمَعُوا ، فَسَأَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا مَا جَمَعَهُمْ ، فَأَخْبَرَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِشَأْنِ تِلْكَ السُّورَةِ ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ خَبَرَهُمْ ، وَسَأَلُوهُ عَنِ السُّورَةِ فَسَكَتَ سَاعَةً ، لا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : " نُسِخَتِ الْبَارِحَةَ فَنُسِخَتْ مِنْ صُدُورِهِمْ ، وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ كَانَتْ فِيهِ " .
الحكم المبدئي: إسناده حسن
حوالہ: تواسخ القرآن لا ابن الجوزی، مجموع الفتویٰ لا ابن تیمیہ، معانی الاثار وغیرہ۔
ایک اور حدیث کہ:
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ
(رواہ: مسلم)
اس سے اگلا سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ جو قرآن عرش پر محفوظ ہے، کیا اس میں یہ آیتیں جو نکال دی گئی تھیں، موجود ہیں؟؟؟؟
اگر ہیں، تو کیا جو قرآن ہم پڑھتے ہیں وہ نامکمل ہے؟؟ (نعوذ باللہ)
یہ سوال مجھے بہت تنگ کر رہا ہے، اس لیے مہربانی فرما کر اس کا جلد سے جلد مفصل جواب دیں، جزاک اللہ خیراً
آج میں نے بہت ہی عجیب بات سنی ہے۔
وہ یہ کہ قرآن کی چند آیتیں منسوخ ہونے کے بعد قرآن سے ہی نکال دی جاتی تھی۔ اور وہ صحابہ کے ذہن سے بھی نکال دی جاتی تھیں۔
مندرجہ ذیل حدیث کے تحت ایسا ہی ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْبَقَّالُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَاذِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرُوهُ : " أَنَّهُ قَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يُرِيدُ أَنْ يَفْتَتِحَ سُورَةً كَانَ قَدْ وَعَاهَا ، فَلَمْ يَقْدِرْ مِنْهَا عَلَى شَيْءٍ إِلا : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ، فَأَتَى بَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ ، يَسْأَلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، جَاءَ آخَرُ وَآخَرُ حَتَّى اجْتَمَعُوا ، فَسَأَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا مَا جَمَعَهُمْ ، فَأَخْبَرَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِشَأْنِ تِلْكَ السُّورَةِ ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ خَبَرَهُمْ ، وَسَأَلُوهُ عَنِ السُّورَةِ فَسَكَتَ سَاعَةً ، لا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : " نُسِخَتِ الْبَارِحَةَ فَنُسِخَتْ مِنْ صُدُورِهِمْ ، وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ كَانَتْ فِيهِ " .
الحكم المبدئي: إسناده حسن
حوالہ: تواسخ القرآن لا ابن الجوزی، مجموع الفتویٰ لا ابن تیمیہ، معانی الاثار وغیرہ۔
ایک اور حدیث کہ:
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ
(رواہ: مسلم)
اس سے اگلا سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ جو قرآن عرش پر محفوظ ہے، کیا اس میں یہ آیتیں جو نکال دی گئی تھیں، موجود ہیں؟؟؟؟
اگر ہیں، تو کیا جو قرآن ہم پڑھتے ہیں وہ نامکمل ہے؟؟ (نعوذ باللہ)
یہ سوال مجھے بہت تنگ کر رہا ہے، اس لیے مہربانی فرما کر اس کا جلد سے جلد مفصل جواب دیں، جزاک اللہ خیراً