• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا مردوں کے لئے سونے کے علاوہ "ہیرے کی انگوٹھی یا کوئی زیورات پہننا جائز ہے؟

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
السلام علیکم،

کیا مردوں کے لئے سونے کے علاوہ "ہیرے کی انگوٹھی ، لوہے کی انگوٹھی ، پلٹینم کی انگوٹھی، وائٹ گولڈ یا پیتل تانبے کی انگوٹھی یا کوئی زیورات پہننا جائز ہے؟
اور عورتوں کے لئے بھی بتا دیں کی وہ کن دھاتو کی چیزیں استمعال نہیں کر سکتی.
ولسلام .
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
کیا مردوں کے لئے سونے کے علاوہ "ہیرے کی انگوٹھی ، لوہے کی انگوٹھی ، پلٹینم کی انگوٹھی، وائٹ گولڈ یا پیتل تانبے کی انگوٹھی یا کوئی زیورات پہننا جائز ہے؟
شیخ صالح المنجد ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

سوال : مرد كے ليے وائٹ گولڈ ( سفيد سونا ) پہننے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

حقيقت ميں سونا زرد رنگ كا ہوتا ہے، اسى طرح غالبا اس ميں تانبا ملانے كے سبب سے اسے سرخ كا وصف بھى ديا جاتا ہے، لوگوں كے ہاں سونے كے بارہ ميں تو يہى معروف ہے، اور لغت اور معدنيات وغيرہ كى كتب ميں بھى يہى معروف ہے.

المعجم الوسيط ميں درج ہے:

سونا زرد رنگ ميں زمين كا دھاتى عنصر ہے.

اور استاد محمد حسين جودى اپنى كتاب " علوم الذھب و صياغۃ المجوہرات " ميں لكھتے ہيں:

" يہ معروف ہے كہ سونے كا پگھلا ہوا دھات كا ہر ٹكڑا مثلا تانبا، چاندى، پلاٹيم، اور پلاٹينيم ( platinum )، اور خارصين وغيرہ كى پگھلے ہوئے ٹكڑے كے رنگ اور اس كى سختى اور پگھلانے كے درجہ پر واضح اثر ہوتا ہے.

چنانچہ سونا اسے زرد رنگ ديتا ہے، اور پگھلے ہوئے ٹكڑے كو زنگ نہيں لگنے ديتا... ليكن تانبا پگھلے ہوئے ٹكڑے كو سرخ رنگ ديتا ہے، اور اس كى قوت اور سختى ميں زيادتى كرتا ہے " انتہى.

زيورات بنانے اور سونا ڈھالنے والے تجربہ كار افراد سے سوال كرنے كے بعد ان كا يہ كہنا ہے كہ:

" وائٹ گولڈ يعنى سفيد سونا كا اطلاق كئى ايك اشياء پر ہوتا ہے:

اول:

پلاٹينيم ( platinum ) كى دھات پر اطلاق ہوتا ہے، اور يہ مرد كے ليے پہننا جائز ہے، اس ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ شريعت ميں كوئى ايسى دليل وارد نہيں جو اس كى حرمت پر دلالت كرتى ہو،
اور لوگوں كا اسے وائٹ گولڈ كا نام دينا اسے حرام نہيں كر ديتا، كيونكہ يہ صرف ايك اصطلاح ہے، اور حقيقت ميں يہ سونا نہيں، جس طرح كاٹن كو بھى سفيد سونے كا نام ديا جاتا ہے، اور پٹرول كو بليك گولڈ سياہ سونے كا نام ديا جاتا ہے، اور اس كا قيمتى ہونا بھى اسے حرام نہيں كرتا، كيونكہ مرد كے ليے قيمتى پتھر مثلا الماس اور ياقوت وغيرہ پہننا جائز ہيں.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" ہمارے علم ميں تو مردوں كے ليے الماس پہننے ميں كوئى حرج نہيں، جب يہ صرف الماس ہى ہو اور اس ميں سونا اور نہ ہى چاندى ہو " انتہى.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 24/76 ).

دوم:

وائٹ گولڈ كا اطلاق معروف زرد رنگ كے سونے پر ہوتا ہے، ليكن اس كے اوپر پلاٹينيم كى پالش چڑھى ہوتى ہے، اور يہ مردوں كے ليے پہننا حرام ہے، كيونكہ اسے پہننے والے نے معروف زرد رنگ كا سونا ہى پہنا ہے، اور علماء كرام كا اجماع ہے كہ يہ سونا مردوں كے ليے پہننا حرام ہے، جيسا كہ امام نووى رحمہ اللہ نے صحيح مسلم كى شرح ميں ذكر كيا ہے ".

سوم:

وائٹ گولڈ كا اطلاق معروف زرد سونے پر ہوتا ہے، ليكن ايك معين تناسب كے ساتھ اس ميں پلاڈيم يا كوئى اور مادہ ملايا جاتا ہے، يہ كيرٹ كے حساب سے زيادہ اور كم ہوتا ہے، جتنے كيرٹ كا مطلوب ہو گا اسى حساب سے اسے شامل كيا جائيگا، اور سونے كى دوكانوں ميں يہى اطلاق مشہور ہے.


تجربہ كار لوگوں كے بيان كے بيان اس كى تفصيل يہ ہے كہ:

اگر آپ ( 21 ) اكيس كيرٹ كا ايك كلو سونا تيار كرنا چاہيں تو اس ميں ( 875 ) گرام خالص سونا يعنى ( 24 ) چوبيس كيرٹ كا سونا ( 125 ) گرام چاندى اور تانبے ميں ملائينگے، اور اگر آپ اس ميں تانبے اور چاندى كى بجائے ايك سو پچيس گرام پلاڈيم مادہ ملا ليں تو ہمارے پاس اكيس كيرٹ كا ايك كلو وائٹ گولڈ تيار ہو جائيگا.

اور اٹھارہ ( 18 ) كيرٹ كا ايك كلو سونا تيار كرنے كے ليے سات سو پچاس ( 750 ) گرام خالص سونا دوسو پچاس ( 250 ) گرام تانبا اور چاندى ميں ملائينگے، اور اگر ہم اتنا ہى وزن تانبے اور چاندى كى بجائے ( 250 ) گرام پلاڈيم ملائيں تو ہمارے پاس اٹھارہ ( 18 ) كيرٹ كا ايك كلو وائٹ گولڈ تيار ہو جائيگا.... اور اسى طرح.

سعودى عرب ميں پٹرول اور معدنى ثروت كى وزارت كے اعلامى نشريہ ميں وكالت الوزارہ معدنى ثروت كى جانب سے سونے كے متعلق ( 22 / 3 / 1410 ھـ ) ايك بيان آيا كہ:

" وائٹ گولڈ سونے كے ساتھ بارہ فيصد ( 12% ) پلاڈيم يا پھر پندرہ فيصد ( 15 % ) نيكل ملا ہوتا ہے، اور اسے غلابى رنگ ميں مائل كرنا بھى ممكن ہے اس كے ليے پانچ فيصد ( 5 % ) چاندى اور بيس فيصد ( 20 % ) تانبا ملانا ہوگا، اور سبزى مائل رنگ كے ليے اس ميں پچھتر فيصد ( 75 %) سونا اور پچيس فيصد ( 25 % ) چاندى يا پھر زنك (zinc ) اور كيڈيم كے ساتھ ملائيں.

اور نيلگوں مائل رنگ اس وقت ہو گا جب سونے ميں تھوڑا سا لوہا ملايا جائے، ليكن جب سونا بيس فيصد ( 20 % ) المونيم كے ساتھ ملايا جائے تو اس كا رنگ پرپل (purple ) ہو جائيگا، اور سرخى بڑھانے اور كم كرنے كے ليے سونے ميں زيادہ كردہ تانبے كو كم اور زيادہ كرنا ہوگا " انتہى.

اور استاد ڈاكٹر ممدوح عبد الغفور حسن اپنى كتاب " مملكۃ المعادن " ميں لكھتے ہيں:

" خالص اور صاف سونا زيورات بنانے كے ليے كارآمد نہيں ہوتا، ليكن اس ميں تانبا يا چاندى، يا پھر نيكل، يا پلاٹينيم ملانا پڑتى ہے تا كہ اس كو مضبوط كيا جا سكے، اور اسى وقت اسے امتيازى رنگ بھى دينا ممكن ہيں، اس ليے تھوڑا سا تانبا اس ميں سرخى لے آئيگا، اور چاندى اس ميں سفيدى كو لے آئيگى، ليكن پچيس فيصد تك پلاڈيم يا پندرہ فيصد نيكل شامل كرنے سے اسے وہ رنگ دےگى جسے وائٹ گولڈ كا نام ديا جاتا ہے " انتہى.

خلاصہ يہ ہوا كہ:

اصل ميں سونا زرد رنگ كا ہى ہوتا ہے، اور اصلا وائٹ گولڈ كا كوئى وجود ہى نہيں، ليكن اس ميں كچھ مواد شامل كر كے اسے سفيد رنگ ميں تبديل كيا جاتا ہے.

چنانچہ وائٹ گولڈ تو زرد سونا ہى ہے، ليكن اس ميں چاندى اور تانبے كى بجائے پلاڈيم شامل كرنے سے وائٹ گولڈ بن جائيگا، اسى ليے سونے كى دوكانوں پر زرد سونے كى طرح وائٹ گولڈ بھى كئى كيرٹ كا پايا جاتا ہے، اور يہ تو معلوم ہى ہے كہ سونے ميں چاندى يا تانبا ملانے سے وہ سونے سے خارج نہيں ہو جاتا، اور نہ ہى مردوں كے ليے اس كا استعمال مباح ہو جاتا ہے، تو اسى طرح سونے ميں پلاڈيم ملانے سے بھى سونا مباح نہيں ہو گا.


اس بنا پر وائٹ گولڈ مردوں كے ليے پہننا حرام ہے، كيونكہ حقيقتا يہ زرد سونا ہى ہے، ليكن اس ميں ايسا مادہ ملايا گيا ہے جو اس كے رنگ كو تبديل كر كے سفيد كر ديتا ہے.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

بعض لوگوں ميں خاصر كر مردوں ميں وائٹ گولڈ نامى سونے كا استعمال پھيل ہو چكا ہے، اور اس سے گھڑياں، انگھوٹھياں اور پين و قلميں وغيرہ بنائى جاتى ہيں، اور فروخت كرنے والوں، اور زيورات بنانے والوں سے دريافت كرنے كے بعد پتہ چلا ہے كہ:

معروف زرد رنگ كا سونا ہى وائٹ گولڈ يا دوسرے رنگ كا سونا ہے، جو اسے دوسرى معدنيات اور دھاتوں سے مشابہ بنا ديتى ہيں اور ان آخرى ايام ميں اس كا استعمال بہت زيادہ بڑھ چكا ہے، اور اس كا حكم بہت سارے لوگوں پر خلط ملط ہو گيا ہے، اس كے متعلق وضاحت فرمائيں ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" اگر تو واقعى ايسا ہى ہے جيسا سوال ميں بيان كيا گيا ہے، تو پھر سونے كو كسى دوسرى چيز كے ساتھ ملانے سے سونے كى جنس سے ہى اسے فروخت كرنے ميں كم اور زيادہ كے ساتھ فروخت كرنے كى حرمت كے احكام سے خارج نہيں ہو جاتا، اور مجلس عقد ميں اپنے قبضہ ميں كرنے كے وجوب، ميں فرق نہيں آتا، چاہے وہ اسى جنس سے فروخت كيا گيا ہو يا پھر چاندى يا نقدى روپوں ميں، اور مردوں كے ليے پہننے كى حرمت سے بھى خارج نہيں ہوتا، اور اسى طرح اس كے برتن بنانے بھى حرام ہى رہينگے.
اور اسے وائٹ گولڈ كا نام دے دينا اسے ان احكام سے خارج نہيں كر ديگا " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃالدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 24 / 60 )

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اور عورتوں کے لئے بھی بتا دیں کہ وہ کن دھاتوں کی چیزیں استعمال کر سکتی ہے۔والسلام۔
شیخ صالح المنجد ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
سوال : آپ كو معلوم ہى ہے كہ بہت سارى اسلامى روايات كو دوسروں كى تقليد كى وجہ سے آنے والى خرافات نے بدل كر اور خراب كر كے ركھ ديا ہے، جس كى بنا پر اب لوگوں كے ليے يہ مشكل ہو چكا ہے كہ وہ اپنى غلطى كو تسليم كريں اور ممطئن ہوں جائيں كہ وہ غلطى پر ہيں، كيونكہ وہ سمجھتے ہيں كہ ان كا عقيدہ سليم ہے جو اسلامى احكام پر مبنى ہے.
اور ان آخرى ايام ميں ميں نے يہ سنا ہے كہ قيمتى پتھر پہننا بالكل ايسے ہى ہے كہ جيسے كوئى اچھى يا برى چيز ہو، مجھے ايك شخص كہنے لگا: ميرے ضرورى ہے كہ ميں اپنى بيوى كے ليے الماس نہ خريدوں، كيونكہ اس سے بہت سارى برى اشياء وابستہ ہيں، تو كيا اسلام ميں اس پر كچھ ملتا ہے ؟


الحمد للہ:

بلا شك و شبہ يہ خرافات ميں شامل ہے، اور اللہ تعالى كى شريعت ميں اس كى كوئى اصل نہيں ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى نے عورتوں كا وصف بيان كرتے ہوئے فرمايا ہے:

﴿ كيا جو زيورات ميں پليں، اور جھگڑے ميں ( اپنى بات ) واضح نہ كر سكيں ﴾الزخرف ( 18 ).
اور پھر زيور ايك ايسى چيز ہے جس ميں عورت كى پرورش ہوتى ہے، اور وہ اسى ميں پلتى ہے، جو كہ سونا و چاندى اور پتھر و نگينے وغيرہ ہيں.

اور اللہ سبحانہ وتعالى نے جن و انس پر يہ احسان كيا ہے كہ اس كے ليے سمندروں اور درياؤں سے لؤلؤ اور مرجان جيسے قيمتى پتھر نكالے ہيں.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اس نے دو دريا جارى كيے جو ايك دوسرے سے مل جاتے ہيں، ان دونوں كے درميان ايك آڑ ہے كہ وہ اس سے بڑھ نہيں سكتے، تو تم اپنے پروردگار كى كون كون سى نعمت كو جھٹلاؤ گے ؟ ﴾
﴿ ان دونوں ميں سے لؤلؤ اور مرجان ( موتى اور مونگے ) برآمد ہوتے ہيں ﴾الرحمن ( 19 - 22 ).
اور الماس وغيرہ دوسرے قيمتى پتھر يہ زينت و آرائش كى وہ اشياء ہيں جن كے ساتھ عورتوں كے ليے آرائش و زينت اختيار كرنى جائز ہے، ليكن يہ زينت غير محرم اور اجنبى مردوں كے سامنے ظاہر نہيں ہونى چاہيے.

چنانچہ ان پتھروں كا پہننا نہ تو كسى اچھى چيز اور نہ ہى كسى برى چيز كى پيش خيمہ اور ڈراوا ہے، بلكہ يہ فاسد اور خراب قسم كے اعقادات ميں شامل ہوتا ہے، جس سے مومن شخص كو اجتناب كرنا چاہيے.

اور ہر مسلمان عورت كو تكبر سے اجتناب كرنا چاہيے كيونكہ يہ قيمتى پتھر پہن كر ہو سكتا ہے اس ميں تكبر جيسى چيز آ جائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
کیا مردوں کے لئے سونے کے علاوہ "ہیرے کی انگوٹھی ، لوہے کی انگوٹھی ، پلٹینم کی انگوٹھی، وائٹ گولڈ یا پیتل تانبے کی انگوٹھی یا کوئی زیورات پہننا جائز ہے؟
شیخ صالح المنجد ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
سوال : ميں نے پڑھا ہے كہ مرد كے ليے سونے كے علاوہ چاندى يا دوسرى قيمتى معدنيات پہننا جائز ہے، ميرے درج ذيل سوالات ہيں:
1 - الماس اور نقلى سونا اور سونے كى پالش والى اشياء كا حكم كيا ہے ؟
2 - كيا مرد كے ليے زنجير اور كنگن اور چوڑياں پہننا جائز ہيں ؟
مجھے ايك مشكل درپيش ہے كہ سكول ميں ميرا ايك دوست جو كہ مسلمان ہے، ليكن ميرے علم كے مطابق وہ اسلامى تعليمات پر عمل نہيں كرتا، اس نے دائيں كان ميں بالياں پہن ركھى ہيں ميرا گمان ہے كہ اس ميں سونا اور الماس جڑے ہوئے ہيں، ميں نے اسے بتايا كہ يہ جائز نہيں، اور مردوں كے ليے سونا اور زيورات پہنے كے كچھ دلائل بھى پيش كيے، ليكن ميرا خيال ہے كہ اس نے انہيں پڑھا تك بھى نہيں، آپ سے گزارش ہے كہ بالياں پہننے كے متعلق كچھ دلائل ديں تا كہ ميں اسے پيش كر سكوں، اور مجھے اس موضوع ميں كس طرح معاملہ كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

اول:

مرد كے ليے سونا پہننا حرام ہے، اس كى دليل درج ذيل مسلم كى روايت ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك شخص كے ہاتھ ميں سونے كى انگوٹھى ديكھى تو اسے اتار كر پھينك ديا، اور فرمايا:

" تم ميں سے ايك شخص آنگ كا انگارہ اٹھا كر اپنے ہاتھ ميں ركھ ليتا ہے! "
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے وہاں سے چلے جانے كے بعد اس شخص كو كہا گيا: اپنى انگوٹھى اٹھا كر اس سے فائدہ حاصل كر لو، تو اس نے جواب ديا: اللہ كى قسم ميں اس انگوٹھى كو كبھى نہيں اٹھاؤنگا جسے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اتار كر پھينك ديا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2090 ).

ابو داود اور نسائى اور ابن ماجہ نے على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ريشم لے كر اپنے دائيں ہاتھ ميں پكڑى اور سونا لے كر اسے اپنے بائيں ہاتھ ميں پكڑا اور پھر فرمايا:

بلاشبہ يہ دونوں ميرى امت كے مردوں پر حرام ہيں "
سنن ابو داود حديث نمبر ( 4057 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 5144 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3595 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح ابو داود ميں صحيح كہا ہے.

اور امام احمد رحمہ اللہ نے مسند احمد ميں عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميرى امت ميں سے جس نے بھى سونا پہنا اور اسے پہنے ہوئے مر گيا اللہ تعالى نے اس پر جنت كا سونا حرام كر ديا، اور ميرى امت ميں سے جس نے بھى ريشم پہنى اور اسے پہنے ہوئے مر گيا تو اللہ تعالى نے اس پر جنت كى ريشم حرام كر دى "
مسند احمد حديث نمبر ( 6556 ) شعيب ارناؤط نے مسند احمد كى تحقيق ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

امام نووى رحمہ اللہ مسلم كى شرح ميں كہتے ہيں:

" اور سونے كى انگوٹھى مرد كے ليے بالاجماع حرام ہے، اور اسى طرح اگر كچھ كا كچھ حصہ سونے اور كچھ حصہ چاندى كا ہو تو بھى حرام ہے " انتہى.
اور نقلى سونا پہننے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ يہ حقيقت ميں سونا نہيں، اس ليے مردوں كے سونے كى حرمت والى احاديث اسے شامل نہيں ہونگى، ليكن اولى اور بہتر يہى ہے كہ اسے بھى نہ پہنا جائے؛ كيونكہ اس كے پہننے سے لوگ غلط گمان كرينگے، اور ہو سكتا ہے اسے ديكھ دوسرے لوگ بھى پہننے لگيں، اور يہ گمان كريں كہ اس نے اصلى سونا پہن ركھا ہے.

اور سونے كى پالش كى گئى اشياء كے متعلق اكثر فقھاء كرام كے ہاں يہ مقرر ہے كہ اگر اسے كھرچنے يا آگ پر ركھنے كے وقت اس پالش سے سونا جمع ہو جائے تو پھر يہ حرام ہو گا، ليكن اگر صرف رنگ ہى ہے اور اس ميں سے ذرا بھى سونا جمع نہيں ہوتا تو پھر پہننے ميں كوئى حرج نہيں.

ديكھيں: المجموع ( 4 / 327 ) اور الانصاف ( 1 / 81 ).

دوم:

مرد كے ليے سونے كے علاوہ چاندى يا دوسرى قيمتى معدنيات مثلا الماس وغيرہ كى انگوٹھى پہننا جائز ہے، كيونكہ اصل ميں يہ مباح ہيں، اور اس كى ممانعت كى كوئى دليل نہيں، ليكن اگر وہ عورتوں كے زيورات ميں شامل ہو مثلا چوڑياں اور كنگن، يا گردن كا ہار اور زنجير وغيرہ تو يہ منع ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" مردوں كے ليے انگوٹھي پہننا جائز ہے، ليكن يہ چاندى يا قيمتى پتھر كى ہو، سونے كى نہيں " ا نتہى.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 24 / 77 ).

سوم:

مرد كے ليے عورتوں كا زيور چوڑياں، اور ہار، اور بالياں وغيرہ پہننا جائز نہيں، چاہے سونے كا ہو يا چاندى يا كسى اور چيز كا، كيونكہ اس سے عورتوں كے ساتھ مشابہت ہوتى ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عورتوں كے ساتھ مشابہت كرنے والے مردوں پر لعنت فرمائى ہے، اس كى تفصيل سوال نمبر ( 1980 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے آپ ا سكا مطالعہ كريں.

چہارم:

آپ كو چاہيے كہ اپنے دوست كو نصيحت كريں، اور اس كے سامنے مرد كے ليے كانوں ميں بالياں پہننے كى حرمت بيان كريں، اور اسے بتائيں كہ آپ كا يہ فعل كئى ايك حرام كاموں پر مشتمل ہے:

اول:

وہ چيز پہننا جس ميں سونا ہے.

دوم:

عورتوں كے ساتھ مشابہت.

سوم:

كفار كے ساتھ مشابہت، كيونكہ بعض معاشروں ميں كفار كى عادت ہے كہ وہ اپنے كان ميں بالى پہنتے ہيں، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے بھى كسى قوم سے مشابہت كى تو وہ انہى ميں سے ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4031 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ہم اللہ تعالى سے دعا گو ہيں كہ وہ ہميں اور آپ كو توفيق دے اور سيدھى راہ پر چلائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
 
Top