• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا مسافر نماز کو قضا کر سکتا ہے.؟؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
شیخ صالح المنجد ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

سوال : قصر ميں كيا چيز معتبر ہے، مشقت كا ہونا يا كہ صرف سفر كى موجودگى ؟


الحمد للہ :​
نماز قصر كرنے كے ليے سفر معتبر ہے، چاہے مسشقت ہو يا نہ.
اللہ سبحانہ وتعالى اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز قصر كے حكم كو سفر پر معلق كيا ہے.
فرمان بارى تعالى ہے:
﴿ اور جب تم زمين ميں سفر كرو تو تم پر نماز قصر كرنے ميں كوئى حرج نہيں اگر تم ڈرو كہ كافر تمہيں فتنہ ميں ڈاليں گے، يقينا كافر تمہارے كھلے دشمن ہيں ﴾النساء ( 101 ).
اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" سفر كى نماز دو ركعت ہے "
سنن نسائى حديث نمبر ( 1420 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اور ايك حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان كچھ اسطرح ہے :
" يقينا اللہ تعالى نے مسافر سے آدھى نماز معاف كردى ہے "
سنن نسائى حديث نمبر ( 2275 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح نسائى ميں اسے حسن قرار ديا ہے.
اس كى دليل يہ بھى ہے كہ: مقيم شخص ( جو مسافر نہيں ) كے ليے نماز قصر كرنى جائز نہيں، چاہے اسے پورى نماز ادا كرنے ميں مشقت بھى ہوتى ہو اس كى دليل يہ ہے كہ حكم كو سفر كے ساتھ معلق كيا گيا ہے نہ كہ مشقت كے ساتھ.
مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:
اگر كوئى انسان لمبى مسافت كا ہوائى جہاز كے ذريعہ سفر كرے ليكن يہ سفر دو گھنٹے يا اس سے بھى كم ميں طے ہو جاتا ہے تو كيا يہ مسافر نماز قصر كرے گا، اور رمضان ميں روزہ افطار كر سكتا ہے يا نہيں ؟
اور اسى طرح ايك انسان گاڑى كے ذريعہ تقريبا دو سو ميل يا اس سے زيادہ مثلا اڑھائى گھنٹوں ميں طے كرتا اور شام كو واپس اپنے گھر لوٹ آتا اور نماز قصر كرتا ہے تو كيا يہ قصر كرنى جائز ہے يا كہ نہيں ؟ ليكن اگر سفر كى مشقت اور تھكاوٹ ہو تو پھر قصر كرے ؟
كميٹى كا جواب تھا:
" جتنى مسافت كا سوال كا ذكر ہوا ہے مسافر كے ليے اس ميں نماز قصر كرنى اور اسى مسافت ميں روزہ افطار كرنے كى رخصت ہے، چاہے وہ مسافت كم وقت يا زيادہ ميں طے كى جائے، ايك گھنٹہ يا اس سے زيادہ وقت لگے، اور چاہے اسے مشقت ہو يا نہ؛ كيونكہ سفر كى شان ہى مشقت ہے، چاہے بالفعل مشقت نہ بھى ہوتى ہو، يہ اللہ تعالى كى جانب سے اپنے بندوں پر رحمت اور فضل ہے " اھـ
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 127 ).
واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
جزاک الله خیر
لیکن میرا سوال قضا کا تھا کی اگر کوئی سفر کر رہا ہو اور وہ نماز اس لئے چھوڑ دیتا ہو کی میں تو سفر میں ہوں. تو ایسا کرنے پر کیا حکم ہوگا؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اگر تو قضا سے مراد یہ ہے کہ نمازوں کو اپنے اوقات پر نہ پڑھے یا جمع تقدیم و تاخیر سے بھی لیٹ کر دے تو یہ کسی صورت جائز نہیں ہے کیونکہ نماز اہل ایمان پر اپنے اوقات میں فرض کی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا ﴿١٠٣
 
Top