عبداللہ کشمیری
مشہور رکن
- شمولیت
- جولائی 08، 2012
- پیغامات
- 579
- ری ایکشن اسکور
- 1,658
- پوائنٹ
- 186
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سوال: محاذجنگ (بارڈر) پر ڈیوٹی دینے والے آپ کے فرزندان ملت آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ انہیں بھی اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے والوں کی طرح اجروثواب ملے گا۔۔۔آپ جانتے ہیں کہ انہیں ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جسے کسی عہد کا پاس ہے اور نہ کسی حق کی حفاظت کا خیال([1])؟ وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وطن، عزت اور مال کا دفاع بھی جہاد میں داخل ہے؟جواب: کتاب وسنت سے یہ ثابت ہے کہ جس شخص کی نیت نیک ہو اس کے لئے دشمن کی سرحد کے پاس ہمیشہ قیام رکھنا جہادفی سبیل اللہ ہے، کیونکہ اللہ جل وعلا کا ارشاد گرامی ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (آل عمران: 200)
(اے اہل ایمان! (کفار کے مقابلے میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور (مورچوں پر) جمے (ڈٹے) رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو)
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: "رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَأَمِنَ الْفَتَّانَ"([2]) ((اللہ تعالی کے راستے میں) ایک دن ثابت قدم ہوکر جمے (ڈٹے) رہنا ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے۔ اگر وہ اس حالت میں فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جارہی رہے گا جو وہ کیا کرتا تھا۔ اس کا اسے رزق بھی جاری کردیا جائے گا اور وہ فتنے میں مبتلا کردینے والے(شیطان) سے بھی محفوظ رہے گا)
صحیحین میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَالرَّوْحَةُ يَرُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ الْغَدْوَةُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا"([3]) (اللہ کے راستے میں ایک دن کا قیام دنیا اور جو کچھ دنیامیں ہے اس سے بہتر ہے۔ جنت میں تم میں سے کسی ایک کی ایک کوڑے کے برابر جگہ تمام دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے اور ایک شام یا ایک صبح جسے بندہ اللہ تعالی کے راستے میں بسر کرتا ہے وہ بھی دنیا اورجو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے)
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ"([4]) (جس کے پاؤں اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوگئے، تو اسے اللہ تعالی نے جہنم کی آگ پر حرام قرار دے دیا ہے)
اس میں کوئی شک نہیں کہ دین، جان، اہل، مال، ملک اور اہل ملک کا دفاع جہاد ہے اور جو مسلمان اس راہ میں قتل ہو جائے، وہ شہید شمار ہوگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: "مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ"([5]) (جو مال کے دفاع میں قتل کردیا گیا وہ شہید ہے۔ جو دین کی وجہ سے قتل کردیا گیا وہ شہید ہے۔ جو اپنی جان کے دفاع میں قتل کردیا گیا وہ شہید ہے اورجو اپنے اہل وعیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کردیا گیا تو وہ بھی شہید ہے)
محاذ جنگ میں دشمن کی سرحدکے پاس قیام کرنے والو! ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ تقوی اختیار کرو۔ اپنے تمام اعمال کو اللہ تعالی ہی کے لئے اخلاص کے ساتھ سرانجام دو۔ نماز پنجگانہ باجماعت ادا کرو۔ اللہ عزوجل کا ذکر کثرت سے کرو۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت استقامت کے ساتھ بجا لاؤ۔ اتفاق کو اختیار کرو اور اختلاف سے اجتناب کرو۔ اس سلسلہ میں نفس مطمئنہ کے ساتھ خود بھی صبرکرو اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرو۔ اللہ تعالی کی ذات گرامی کے ساتھ حسن ظن رکھو اور اس کی تمام نافرمانیوں سے بچو۔ اس سلسلہ میں سورۃ الانفال کی حسب ذیل آیات بہت جامع ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (الانفال: 45-46)
(اے مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم مراد حاصل کرو اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گےتو) تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گااور صبر سے کام لو یقیناَ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)
اللہ تعالی آپ کو راہ راست پر رکھے۔ اپنے دین پر ثابت قدم رکھے۔ آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ حق کی مدد کرے اور آپ کی بدولت باطل اور اہل باطل کو ذلیل ورسوا کرے۔ انہ ولی ذلک والقادر علیہ۔
(فتاوی اسلامیہ ج 4 ص 280-281 ط دارالسلام)
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
حاشیہ:
[1] جیسا کہ پاک بھارت اور دیگر اسلامی ممالک وغیرہ کا معاملہ ہے۔ (ط ع)
[2] صحیح مسلم، الامارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل، ح: 1913
[3] صحیح البخاري، الجھاد والسیر، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ، ح: 2896، صحیح مسلم، الامارۃ، فضل الغدوۃ والروحۃ فی سبیل اللہ، ح: 1881 مختصراً
[4] صحیح البخاري، الجمعۃ، باب المشي الی الجمعۃ، ح: 907
[5] جامع الترمذي، الدیات، باب ماجاء فیمن قتل دون مالہ فھو شھید، ح: 1421، سنن ابی داود، ح: 4772، سنن نسائی، ح: 4100، سنن ابن ماجہ، ح: 2580 نیز دیکھئے صحیح سنن ترمذی1421
http://www.truemanhaj.com/index.php/images/articles-images/pdf-books/www.truemanhaj.com/images/articles-images/index.php?option=com_content&view=article&id=1004:2012-02-26-08-56-18&catid=115:2011-12-26-16-59-35&Itemid=181