lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436
کیا معاویہ رضی الله عنہ نے متعہ کیا؟
متعہ نکاح کی ایک قسم تھا جو عربوں میں رائج تھا اس کی اسلام میں اجازت صرف غزوات وغیرہ میں حالتِ سفر میں دی گئی اور اسی میں ان پر پابندی بھی لگائی گئی
سنن سعید بن منصور کی روایت ہے
سنن سعید بن المنصور کی روایت ہے سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ کہتے ہیں
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ
بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے فتح مکہ کے سال منع فرمایا
فتح مكه رمضان ٨ هجري میں ہوئی خیبر ٧ ہجری میں ہوئی
عبدللہ ابن عبّاس کی ولادت ہجرت سے تین سال پہلے ہوئی اور سن ٨ ہجری میں آپ عبّاس رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ مدینہ پھنچے یعنی آپ ١١ سال کے تھے چونکہ اپ بہت چھوٹے تھے لہذا بالغوں کے مسائل سے اگاہ نہیں تھے اور نکاح المتعہ جو عربوں میں رائج تھا اس کی ممانعت آپ تک نہیں پہنچی اور آپ اس کے قائل رہے
ان کے برعکس دیگر اصحاب اور اہل بیت اس کی ممانعت سے اگاہ تھے لہذا علی رضی الله عنہ نے اس سے ان کو اگاہ کیا
صحیح مسلم اور سنن سعید بن المنصور کے مطابق
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، وَالْحَسَنَ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ يُحَدِّثَانِ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى زَمَنَ خَيْبَرَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ
علی رضی الله عنہ نے ابن عباس رضی الله عنہ سے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خیبر کے دنوں میں اس سے منع کیا اور پالتو گدھے کے گوشت سے بھی
لیکن شاید وہ پھر بھی قائل نہیں ہو سکے کیونکہ بعض روایات میں اس کی ممانعت فتح مکہ کے سال کہی گئی ہے یہاں تک کہ اس حوالے سے ان کا ابن زبیر رضی الله عنہ سے اختلاف بھی ہوا
عامہ اصحاب اور تابعین اس کے قائل نہیں تھے سنن سعید بن المنصور کے مطابق حسن بصری کہتے تھے
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ مِنَ النِّسَاءِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَمْ يَكُنْ قَبْلَ ذَلِكَ وَلَا بَعْدَهُ
حسن بصری کہتے ہیں متعہ صرف تین دن تھا نہ اس سے پہلے نہ بعد میں
اس تناظر میں ظاہر ہے ابن عباس کسی کا متعہ کرنا سنتے تو اس کو غلط نہیں گردنتے اب مصنف عبد الرزاق کی روایت دیکھینے
عبد الرزاق عن ابن جريج عن عطاء قال : لاول من سمعت منه المتعة صفوان بن يعلى ، قال : أخبرني عن يعلى أن معاوية
استمتع بامرأة بالطائف ، فأنكرت ذلك عليه ، فدخلنا على ابن عباس ، فذكر له بعضنا ، فقال له : نعم ، فلم يقر في نفسي ، حتى قدم جابر ابن عبد الله ، فجئناه في منزله ، فسأله القوم عن أشياء ، ثم ذكروا له المتعة ، فقال : نعم ، استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وأبي بكر ، وعمر ، حتى إذا كان في آخر خلافة عمر استمتع عمرو بن حريث بامرأة – سماها جابر فنسيتها – فحملت المرأة ، فبلغ ذلك عمر ، فدعاها فسألها ، فقالت : نعم ، قال : من أشهد ؟ قال عطاء : لا أدري قالت : أمي ، أم وليها ، قال : فهلا غيرهما ، قال : خشي أن يكون دغلا الاخر ، قال عطاء : وسمعت ابن عباس يقول : يرحم الله عمر ، ما كانت المتعة إلا رخصة من الله عزوجل ، رحم بها أمة محمد صلى الله عليه وسلم ، فلو لا نهيه عنها ما احتاج إلى الزنا إلا شقي
ابن جریج عطا سے روایت کرتے ہیں کہ پہلا شخص کے جس سے میں نے متعہ کے بارے میں سنا، وہ صفوان بن یعلی تھا۔ اس نے کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ معاویہ نے طائف میں متعہ کیا؛ مگر میں نے اس کی تردید کی۔ سو ہم ابن عباس سے ملے، اور اس کا کچھ تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ مگر میں نے نہ مانا۔ یہ رہا یہاں تک کہ ہم جابر بن عبداللہ سے ملے، ہم ان کے گھر آئے، اور لوگوں نے ان سے سوال پوچھے۔ پھر متعہ کی بات چھڑی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی پاک کی زندگی میں متعہ کیا، پھر ابو بکر کی زندگی میں، اور پھر عمر کے زمانے میں یہاں تک کہ ان کی خلافت کے آخری عرصے میں عمر ابن حریث نے متعہ کیا ایک عورت کے ساتھ، جابر نے اس کا نام لیا تاہم میں بھول گیا۔ وہ حاملہ ہو گئی، اور یہ بات عمر تک پہنچی، عمر نے اسے بلایا اور اس بارے میں پوچھا
عطا نے پھر کہا کہ میں نے ابن عباس سے سنا کہ اللہ عمر پر رحم کرے، متعہ اللہ کی جانب سے ایک رخصت تھی امت محمدیہ کے لیے۔ اگر اسے منع نہ کیا جاتا، تو سوائے شقی کے، کوئی زنا نہ کرتا
یہ روایت ان وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں
اول ابن جريج مدلس ہیں عن سے روایت کر رہے ہیں یہ جلیل القدرتبہ تابعین میں سے ہیں – عَطاء بن أبي رَبَاح المتوفی ١١٥ھ ہیں الذھبی سیر الاعلام النبلاء میں کہتے ہیں وُلِدَ: فِي أَثْنَاءِ خِلاَفَةِ عُثْمَانِ یہ عثمان رضی الله عنہ کے دور میں پیدا ہوئے-
دوم اس میں کہا گیا ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے اس سے منع کیا جو تاریخی طور پر صحیح نہیں ہے ابو بکر رضی الله عنہ کے دور میں تو یہ ثابت ہی نہیں ہے
سوم صفوان بن يعلى بْنِ أُمَيَّةَ التَّمِيمِيُّ کو ان کے باپ نے خبر دی کہ معاویہ نے متعہ کیا یہ بھی عجیب ہے جس کو سن کر ابن عباس کو کہنا چاہیے تھا اس میں کیا برائی ہے کیونکہ ایک طرف تو روایات ہیں کہ ابن عباس خود اس کے قائل تھے دوسری طرف کوئی تو وہ اپنا موقف واضح نہیں کرتے
بعض روایات میں ہے کہ ابن عباس نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھے- ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ، كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ البَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ، وَتُصْلِحُ لَهُ شَيْئَهُ، حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الآيَةُ: {إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ}، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَى هَذَيْنِ فَهُوَ حَرَامٌ.
متعہ اوّل اسلام میں جائز تھا یہاں تک کہ آیت (الّا علیٰ ازواجھم اوماملکت ایمانھم)نازل ہوئی تو وہ منسوخ ہو گیا اس کے بعد ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ زوجہ اور مملوکہ کے علاوہ ہر طرح کی شرمگاہ سے استمتاع حرام ہے۔
(ترمذی۱/۱۳۳)
ابو بکر جصاص ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے رجوع کے متعلق لکھتے ہیں
تمام صحابہ رضی اللہ عنہ میں سوائے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے کوئی بھی حلت متعہ کا قائل نہیں اور انہوں نے بھی متعہ کے جواز سے اس وقت رجوع کر لیا تھا جب تمام صحابہ رضی اللہ عنہم سے متعہ کی حرمت ان کے ہاں تواتر کے ساتھ ثابت ہو گئی۔
(احکام القرآن۲/۱۵۶)
البانی کتاب إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل میں لکھتے ہیں
أن ابن عباس رضى الله عنه روى عنه فى المتعة ثلاثة أقوال:
الأول: الإباحة مطلقا.
الثانى: الإباحة عند الضرورة.
والآخر: التحريم مطلقا , وهذا مما لم يثبت عنه صراحة , بخلاف القولين الأولين , فهما ثابتان عنه.
ابن عباس رضی الله عنہ کے سے متعلق تین اقوال ہیں
اول مطلق مباح ہے
دوم ضرورتا مباح ہے
سوم مطلق حرام ہے اور یہ وہ قول ہے جو صراحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے
الغرض ابن عباس رضی الله عنہ اس کے قائل تھے پھر انہوں نے اس سے رجوع کیا ابو بکر الجصاص کی رائے میں اور البانی کی رائے ہے انہوں نے رجوع نہیں کیا -
الغرض معاویہ رضی الله عنہ کا متعہ کرنا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس روایت کا متن دیگر روایات سے متصادم اور سند غیر مظبوط ہے