• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا واقعی افغانستان میں امریکہ کو شکست ہوئی؟

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
879
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
کیا واقعی افغانستان میں امریکہ کو شکست ہوئی؟

فتنہ جہادی فراڈی تنظیمیں اور علماء سوء

از قلم: مفتی اعظم حفظہ اللہ

جیسا کہ طالبان کے جاہل سپورٹر حقائق کو نہ جانتے ہوئے منہ میں نسوار ڈال کر بغیر اپنے عقل کے گھوڑے دوڑانے کے بس جو بات ان کے چرسی دماغ میں آتی ہے بغیر کسی تحقیق کے اس بات کو نسواری منہ میں لاکر کہہ دیتے ہیں
امریکہ کو شکست ہوئی!

نسواری منہ سے نکلی ہوئی بات ان کے لئے حق و سچ ہے، تحقیق سے دور دور تک ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ امریکہ افغانستان میں کیوں آیا تھا؟ ان کا مشن کیا تھا؟ ان کے مقاصد کیا تھے؟ یہ باتیں نسواریوں کے نزدیک فضولیات ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں شکست کسے ہوئی امریکہ یا طالبان کو؟ افغانستان میں امریکہ جس مشن پر آیا تھا ہار جیت کا فیصلہ اسی مشن پر ہوتا ہے۔ امریکی اپنے مشن میں ناکام ہوئے تو انہیں شکست ہوئی اگر انہیں مشن میں کامیابی ملی تو ظاہری بات ہے فتح ان کی ہوئی۔

امریکہ افغانستان پر قبضہ کرکے وہاں ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں آیا تھا۔ امریکہ کا افغانستان پر حملہ کرنے کے تین مقاصد تھے :

(1) اسامہ بن لادن کا قتل۔
(2) القاعدہ کا خاتمہ تھا۔
(3) افغانستان میں ایک ایسی حکومت جو اس کے لئے خطرہ نہ ہو اور امریکہ کے لئے خطرہ بننے والے گروہوں سے لڑے ان کا خاتمہ کرے۔

امریکہ نے یہ تینوں مقاصد حاصل کئے:

(1) امریکہ نے اسامہ بن لادن کو قتل کیا۔
(2) امریکہ نے القاعدہ کی ساری قیادت کا خاتمہ کیا، اس کے تمام عرب جنگجووں کا افغانستان سے خاتمہ کیا۔
(3) امریکہ ملا عمر کے دور کی حکومت کا خاتمہ کرکے ملا ہیبتولا خنزیر کی جدید حکومت بنانے میں کامیاب ہوا جس نے امریکہ کی غلامی قبول کرکے اس کے مطالبات مان لئے کہ نہ وہ خود امریکہ کے لئے خطرہ بنیں گے اور نہ کسی دوسرے جہادی گروپ کو امریکہ کے لئے خطرہ بننے دیں گے، نام نہاد دہشت گری کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحادی بن گئے۔

جب امریکہ نے تینوں مقاصد حال کئے تو فتح امریکہ کی ہوئی۔

شکست تو طالبان کی ہوئی :

(1) ملا عمر کے دور میں طالبان کے جو مقاصد تھے ان سے دستبردار ہو کر اقتدار کے لئے طالبان امریکہ کے آگے سرینڈر ہوگئے۔

(2) جو امریکی مطالبات ملا عمر نے مسترد کئے تھے ہیبتولا خنزیر نے مان لئے۔

(3) ملا عمر نے امریکہ کے کہنے پر اسامہ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا؛ ہیبتولا خنزیر نے امریکہ کا مطالبہ مان کر الظواہری کو کابل میں بلاکر قتل کروایا۔

(4) ملا عمر نے القاعدہ کو پناہ نہ دینے کے امریکی مطالبات مسترد کئے تھے؛ ہیبتولا خنزیر نے اس کے مطالبات مان لئے۔ القاعدہ مرکزی کا تو پہلے ہی خاتمہ ہوچکا تھا القاعدہ برصغیر کے ڈیڑھ دو سو کارندے جو رہتے تھے ان کو غیر مسلح کر دیا، ان کا تنظیمی ڈھانچہ ختم کر دیا ان کے امراء کو نظر بند کرکے ان کی سارے سرگرمیاں ختم کر دی۔

(5) طالبان نے امت مسلمہ پر بدترین مظالم سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا کہ انہیں صرف افغانستان کے مسائل پر دلچسپی ہے دوسرے مسلمانوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔

(6) ملا عمر کے دور میں افغانستان کی سرزمین ہجرت کے لئے تمام مسلمانوں کے لئے کھلی تھی؛ امریکہ کے کہنے پر ہیبتولا خنزیر نے ہجرت کے لئے تمام مسلمانوں کا افغانستان کا داخلہ بند کر دیا۔

(7) ملا عمر دنیا کے تمام جہادی گروہوں کو افغانستان میں پناہ دیتا تھا؛ امریکہ کے کہنے پر ہیبتولا خنزیر نے دنیا کے تمام جہادی گروہوں کے لئے افغانستان کا داخلہ بند کر دیا۔

(8) ملا عمر کے دور میں کسی بھی مسلمان کے خلاف جنگ میں طالبان امریکہ کے اتحادی نہیں تھے؛ ہیبتولا خنزیر دولہ اسلامی (داعش) کے خلاف امریکہ کے اتحادی بن گئے۔

(9) ملا عمر بیت المقدس کی آزادی کے لئے اسامہ بن لادن کے موقف کی حمایت کرتا تھا؛ ہیبتولا خنزیر کا طالبان بیت المقدس کی آزادی کے اس موقف سے دست بردار ہوگیا، امریکہ کو یقین دہانی کروائی کہ انہیں صرف افغان سرزمین کی آزادی سے غرض ہے وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے۔

(10) طالبان نسواریوں نے جن مقاصد کے لئے امریکہ اور دوسرے کافروں کے خلاف جہاد کے نام پر لاکھوں مسلمان قتل کروائے؛ ہیبتولا خنزیر کے طالبان نے مسلمانوں کے ساتھ خیانت کر کے ان کے قاتلوں سے ہاتھ ملایا اور ان کے قاتلوں کے محافظ بن گئے۔

(11) طالبان نے گوانتانامو بے اور دوسرے مظلوم قیدیوں سے لاتعلقی کرکے امریکہ سے ہاتھ ملایا، صرف اپنے افغانی رہا کروائے؛ ان کے ساتھ خیانت کی۔

یہ تو کچھ باتیں ہیں طالبان اور القاعدہ کی امت مسلمہ کے ساتھ دھوکہ اور خیانت کی، اگر گننے لگ جائیں تو پوری ایک کتاب بنے گی۔

اس سے بدترین شکست طالبان نسواریوں کے لئے کیا ہوگی جو اقتدار کے لئے یہودی و نصارٰی کے دوست بن گئے، جہاد جیسے فرضیت کا انکار کیا، جہاد کے خلاف کافروں کے دوست بن گئے کہ کسی بھی مسلمان کو جہاد کرنے نہیں دیں گے۔

یہ ایسا ہے جیسا کہ ایک گروپ یہود سے معائدہ کرے کہ ہم مسلمانوں کو نماز پڑھنے نہیں دیں گے! جس طرح نماز فرض ہے اللہ کا حکم ہے ویسے ہی جہاد بھی فرض ہے اللہ کا حکم ہے۔ کچھ معاملات میں تو جہاد کو نماز پر فوقیت دی جاتی ہے جیسا کہ حملہ آور دشمنوں کے خلاف جنگ یا مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہوں یا مسلمان عورت کی عزت لوٹی جا رہی ہو تو اس وقت ایمان کے بعد افضل ترین اعمال جہاد فی سبیل اللہ ہے یہی امام ابن تیمیہ اور دوسرے محدثین کا فتویٰ ہے۔

واپس آتے ہیں اصل مدعے پر: امریکہ کے تو صرف تین مقاصد تھے انہیں توقع سے زیادہ کامیابی ملی۔ امریکیوں کی سوچ میں بھی نہیں تھا کہ طالبان امریکہ کے آگے یوں سرینڈر ہوکر ان کے کتے بنیں گے، ان کے لئے دوسرے جہادی گروہوں سے لڑیں گے، ان کے لئے مسلمانوں کو قتل کریں گے، جہاد سے دستبردار ہوکر ان کے اتحادی بنیں گے، ان کے بنائے ہوئے تمام بین الااقوامی قوانین مان لیں گے۔

یقیناً امریکہ کو توقع سے زیادہ کامیابی ملی۔ وہ طالبان کو شکست دے کر غلامی کی زنجیریں پہنا کر اپنا مشن کمپلیٹ کر کے چلے گئے۔
 
Top