محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,087
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
اگر ماں باپ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک حرام ذریعے سے روزی کماتا ہو، تو اولاد کو چاہیے کہ انہیں تقوی اختیار کرنے اور اللہ سے ڈرنے کی ترغیب دیں ۔ انہیں سمجھائیں کہ قیامت کے روز انسان کو اپنے کمائے ہوئے مال کا حساب دینا ہو گا۔ انہیں یہ بھی بتائیں کہ اللہ تعالی حرام کمانے والے کی دعا بھی قبول نہیں کرتے۔
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (البقرة: 173)
’’اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز حرام کی ہے جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے، پھر جو مجبور کر دیا جائے، اس حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘
والله أعلم بالصواب.
- اگر اولاد نابالغ ہو یا بالغ ہو لیکن کمانے کی استطاعت نہ رکھتی ہو، تو وہ اپنے والدین کی حرام کمائی سے اپنی ضروریات پوری کر سکتی ہے، کیونکہ اس صورتحال میں وہ مجبور ہیں، لیکن جب وہ حلال روزی کمانے پر قادر ہو جائیں، ان پر اس حرام کمائی سے لینا جائز نہیں ہو گا کیونکہ ان کے لیے رخصت مجبوری کی بنا پر تھی، جب مجبوری ختم ہو گئی تو رخصت بھی ختم. ہو جائے گی۔
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (البقرة: 173)
’’اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز حرام کی ہے جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے، پھر جو مجبور کر دیا جائے، اس حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘
والله أعلم بالصواب.