ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 813
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
کیا وضعی قوانین نافذ کرنے والے حکمران طواغیت ہیں؟ شیخ صالح الفوزان کی وضاحت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين، أما بعد:
وہ حکمران جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کو معطل کرکے اس کی جگہ وضعی، جاہلی اور انسانی قوانین نافذ کرتے ہیں، وہ محض فاسق یا ظالم نہیں بلکہ "طاغوت" ہیں؛ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حقِ حاکمیت میں خود کو شریک ٹھہرایا۔
شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں:
من حكم بغير ما أنزل الله، ومنهم الحكام الذين يستون القوانين، ويلغون الشريعة ويجعلون القوانين محلها، هؤلاء طواغيت، الذي يحكم بغير ما أنزل الله هذا طاغوت بنص القرآن يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ ﴾ [النساء : ٦٠) فمن حكم بغير ما أنزل الله متعمدا ذلك فإنه يكون طاغوتا
جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے خلاف فیصلہ کرے، اور انہی میں وہ حکمران بھی شامل ہیں جو وضعی قوانین نافذ کرتے ہیں، شریعت کو معطل کر دیتے ہیں، اور اس کی جگہ انسانی قوانین کو قائم کر دیتے ہیں، یہ سبھی حکمران طواغیت ہیں۔ جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے بغیر فیصلہ کرے، وہ قرآن کی صریح نص کے مطابق طاغوت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وہ چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس کا انکار کریں۔﴾[النساء: ٦٠] پس جو شخص جانتے ہوئے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے خلاف فیصلہ کرے، وہ طاغوت بن جاتا ہے۔
[شرح رسالة معنى الطاغوت للإمام محمد بن عبد الوهاب، شرح الشيخ صالح الفوزان، ص : ١٢]
شیخ صالح الفوزان نے مرجئہ عصر اور طواغیت کے پجاری مدخلیوں کا زبردست رد کیا ہے جو طاغوتی حکمرانوں کے کفریہ و جاہلی نظاموں پر پردہ ڈال کر عوام کو ان کی غلامی پر قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ شیخ نے نہایت صریح الفاظ میں وضعی قوانین نافذ کرنے والے حکمرانوں کو "طواغيت" قرار دیا ہے۔
چنانچہ انہوں نے فرمایا: "ومنهم الحكام الذين يستنون القوانين، ويلغون الشريعة ويجعلون القوانين محلها، هؤلاء طواغيت" یعنی ان طاغوت کے سرغنوں میں وہ حکمران بھی شامل ہیں جو قوانین گھڑتے ہیں، شریعت کو معطل کرتے ہیں اور اس کی جگہ انسانی قوانین نافذ کرتے ہیں، یہ لوگ طواغیت ہیں۔
پس جو حکمران اللہ کی شریعت کو ہٹا کر پارلیمنٹ، جمہوریت، وضعی آئین و دساتیر اور کفریہ قوانین کو نافذ کرے، وہ محض فاسق یا ظالم نہیں بلکہ شیخ صالح الفوزان نے صاف لفظوں میں فرمایا "هؤلاء طواغيت" یعنی یہ سب طواغیت ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے مداخلہ چھپاتے ہیں اور عوام کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ایسے حکمران "ولی الامر" ہیں، ان کی تعظیم کرو، ان کے قوانین کے سامنے سر جھکاؤ، اور ان کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا ممنوع ہے فتنہ ہے!
یہ دراصل اللہ تعالٰی کی توحید پر کھلا حملہ ہے۔ کیونکہ طاغوت کا انکار توحید کی بنیاد ہے، جبکہ یہ مداخلہ لوگوں کو طاغوت کے ساتھ وفاداری سکھاتے ہیں۔ مداخلہ نہ شریعت کے معطل کیے جانے پر بولتے ہیں، نہ وضعی قوانین کے نفاذ پر، بلکہ ان کو تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب کوئی حاکمیت میں اللہ تعالٰی کی توحید کی بات کرے۔ گویا مدخلیوں کے نزدیک "لا إله إلا الله" کا مطلب صرف بتوں کا انکار ہے، جبکہ قانون سازی اور حاکمیت میں اللہ کے مقابل انسانوں کو شریک ٹھہرانا کوئی مسئلہ ہی نہیں!
حالانکہ شیخ صالح الفوزان نے قرآن سے دلیل پکڑتے ہوئے فرمایا: "الذي يحكم بغير ما أنزل الله هذا طاغوت بنص القرآن" یعنی جو اللہ کے نازل کردہ شریعت کے بغیر فیصلہ کرے، وہ قرآن کی نص کے مطابق طاغوت ہے۔ یہ الفاظ سعودی عرب کے موجودہ مفتی اعظم اور سینئر علماء کونسل کے سربراہ شیخ صالح الفوزان کے ہیں۔ مگر مدخلی مرجئہ اتنے بے شرم ہو چکے ہیں کہ انہیں قرآن، حدیث اور علماء سے زیادہ اپنی طاغوت نواز سیاست عزیز ہے۔ وہ "ولاة الأمور" کے نام پر طاغوتوں کی تعظیم سکھاتے ہیں، ان کے جاہلی قوانین کے دفاع میں منبر سجاتے ہیں، اور جو شخص شریعت کی حاکمیت کی بات کرے اسے فتنہ پرور اور خوارج کہہ دیتے ہیں۔
شیخ صالح الفوزان نے مزید فرمایا: "فمن حكم بغير ما أنزل الله متعمدا ذلك فإنه يكون طاغوتا" یعنی جو شخص جانتے ہوئے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے بغیر حکم کرے، وہ طاغوت بن جاتا ہے۔ غور فرمائیں! جانتے بوجھتے شریعت کو ہٹانا، اور اس کے بدلے انسانوں کے قوانین نافذ کرنا، محض ایک سیاسی غلطی نہیں بلکہ طاغوتی فعل ہے۔ لیکن مدخلی مرجئہ اس صریح کفر و طغیان کو مصلحت اور عصری تقاضا جیسے الفاظ سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ عوام کے دلوں میں طاغوت کی نفرت پیدا نہ ہو بلکہ اس کی وفاداری راسخ ہو جائے۔
یہی مدخلی مرجئہ دراصل آج کے دور کے طاغوتوں کے خادم اور درباری ہیں۔ ان کا مقصد عوام کو طاغوتی نظام کے سامنے جھکائے رکھنا ہے۔ پس ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ مدخلیوں کے دھوکوں سے بچے، اور یہ سمجھے کہ توحید صرف سجدے کا نام نہیں بلکہ حکم، قانون، تشریع اور حاکمیت میں بھی اللہ تعالٰی کو یکتا ماننے کا نام ہے۔ اور جو شریعت کو ہٹا کر وضعی قوانین نافذ کرے، قرآن و اہل علم کی تصریحات کے مطابق وہ طاغوت ہے، چاہے مدخلی مرجئہ اسے کتنے ہی ولی الامر کے خوشنما لقب دیں یا ان طاغوتوں کی غلامی کو "منهج سلف" باور کرائے۔
وما علينا إلا البلاغ المبين، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔