• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کلمہ گو مشرک کا جنازہ پڑھا جا سکتا ہے۔؟

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
5,788
پوائنٹ
354
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ۔۔۔شیخ محترم!
۔سوال نمبر ١۔کیا کسی ایسی رشتہ دار عورت کا جنازہ پڑھا جا سکتا ہے۔کہ جس پر تقریبا مکمل شرک ثابت ہو چکا ہو۔بلکہ شیعہ سے تعلق ہو۔لیکن ہو بظاہر کلمہ گو؟
۔سوال نمبر٢۔بعض اہل توحید دوستوں کا یہ خیال ہے کہ رشتہ داری نبھانے کیلئے بے شک بے وضو ہو کر بغیر نیت کے جنازے میں کھڑا ہوجانا چاہیے۔حکمت کے تحت۔تاکہ رشتہ دار ناراض نہ ہوں۔کیاان لوگوں کا یہ طریقہ ٹھیک ہے۔؟کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو یہ کلمہ گو مشرک لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو ہم سچے تھے تو انھوں نے ہمارے پیچھے جنازہ پڑھا ہے۔اللہ کے ڈر کےمقابلے میں رشتہ داروں کا ڈر۔۔۔کیا ان کا یہ عمل ٹھیک ہے۔؟
سوال نمبر٣۔بعض لوگ ان کے جنازے کے ساتھ قبرستان بھی چلے جاتے ہیں۔اور یہ لوگ وہاں جا کر شرکیہ حرکتیں کرتے ہیں ۔کیا ان اہل توحید کا جانا حکمت کا تحت ٹھیک ہے۔؟
نوٹ۔۔۔۔۔۔۔یہ سوالات صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ بریلوی حضرات کیلئے بھی ہیں۔یعنی ان دونوں کا جنازہ پڑھنے کے متعلق؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

١۔ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُ‌وا لِلْمُشْرِ‌كِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْ‌بَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴿١١٣﴾
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں، چاہے وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، اس کے بعد کہ ان مشرکین کے لیے یہ واضح ہو چکا ہے کہ وہ اہل جہنم ہیں۔
اس آیت مبارکہ کا ہائی لائٹ کیا ہوا حصہ قابل غور ہے۔ ان مشرکین کے لیے ان کا جہنمی ہونا کیسے واضح ہوا تھا؟ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کی مشرکین کے پاس جا جا کر توحید کی دعوت و تبلیغ، محنت و مشقت، ایثار و قربانی، شرک کی مذمت اور قرآن کے ابلاغ کے ذریعے ہوا تھا۔ پس اگر تو آپ نے اپنے کلمہ گو مشرک بھائی، ساتھی، رشتہ دار یا پڑوسی کو قرآن کی توحید اور شرک کی مذمت سے متعلقہ آیات پہنچائی تھیں اور ان پر کتاب وسنت کی بیان کردہ توحید کو واضح کر دیا تھا اور اس پر یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ اگر اس نے اپنے ان شرکیہ اعمال کو ترک نہ کیا تو اس کا انجام کتاب و سنت کی روشنی میں یہ یہ ہے تو پھر ایسے شخص کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے۔

لیکن اگر آپ نے تو ان تک توحید کا پیغام نہیں پہنچایا اور بس فرض کر لیا کہ اس شخص کو موحد ہونا چاہیے تھا حالانکہ وہ عامی ہو اور عربی زبان بھی نہ جانتا ہو یا اس کے علماء شرک کو توحید بنا کر دکھانے والوں میں سے ہوں تو پھر ہمیں ایسے شخص کی نماز جنازہ کے معاملہ میں غور کرنا چاہیے اور ہر شخص کو اس صورت میں اپنے دل سے پوچھنا چاہیے کہ یہ شخص اپنی طبیعت کے اعتبار سے کیسا تھا کہ اگر اس تک توحید کی دعوت صحیح معنوں میں پہنچ جاتی تو اس کا رویہ کیا ہوتا؟

٢۔ پہلی صورت میں جائز نہیں ہے دوسری صورت میں اپنے دل سے پوچھ لیں۔

٣۔ پہلی صورت میں جائز نہیں ہے اور دوسری صورت میں اپنے دل سے پوچھ لیں۔
 
Top