• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کمیٹی رکھنا جائز ہے؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
سادہ کمیٹی رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ باہمی تعاون کا ایک ذریعہ ہے۔ ہاں! کسی کمیٹی میں کچھ مخصوص خلاف شریعت صورتیں ہیں یا شرائط ہیں جیسا کہ بولی والی کمیٹی وغیرہ تو اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
سادہ طور قسطوں پر لی گئی چیز سود نہیں ہے۔ البتہ اگر قسطوں کے ساتھ کچھ مزید بھی خلاف شریعت شرائط ہیں تو پھر وہ خرید و فروخت درست نہ ہو گی جیسا کہ اگر یہ شرط لگا دی کہ قسط لیٹ ہوئی تو جرمانہ پڑے گا تو یہ اضافی جرمانہ سود میں شامل ہے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
مثال کے طور پر ایک فریج نقد لیں تو 30 ہزار کا ملے اور قسطوں پر لیں تو وہی فریج 35 ہزار کا ملے تو کیا قسطوں پر چیز دینے کی وجہ سے پانچ ہزار اضافی سود ہوں گے؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
جی نہیں! قسطوں کی بنیاد پر قیمت میں اضافہ سود نہیں ہے۔
اس سوال پر اس طرح بھی غور کریں کہ اگر ایک دوکاندار ایک فریج 30 ہزار میں دے رہا ہے اور دوسرا وہی فریج 35 میں فروخت کر رہا ہے تو کیا یہ سود ہے؟ یقینا نہیں ہے۔ یہ تو گاہک اور دوکاندار کا معاملہ ہے کہ جس قیمت پر بھی ان کا معاملہ طے ہو جائے، چاہے وہ عام مارکیٹ ریٹ کی نسبت کم یا زیادہ ہو۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
لیکن ایک دکاندار نقد چیز خریدنے پر کم قیمت میں دے رہا ہو اور اسی چیز کو اگر قسطوں میں گاہک خریدنا چاہے اور دکاندار قسطوں پر دینے کی وجہ سے قیمت بڑھا دے تو کیا یہ سود نہیں ہو گا؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
جب تک وہ بیع ایک کر رہا ہو تو یہ جائز ہے یعنی ایک بیع میں دو بیع کو جمع نہ کرے کہ نقد دو گے تو اتنی پیمنٹ کردو اور ادھار دو گے تو اتنی پیمنٹ کر دینا۔ سودا نقد یا ادھار ایک ہی طے ہونا چاہیے تو یہ اہل علم کے نزدیک جائز ہے۔
اس کا دوسرا پہلو یہ بھی توسوچیں کہ پیسے کی ویلیو بھی تو کم ہو رہی ہے یعنی علم معاشیات کی اصطلاح میں ڈی ویلیو ایشن آف کرنسی کا مسئلہ بھی انوالو ہے۔ اگر دوکاندار ایک شیئ ادھار میں اسی قیمت پر بیچ دیتا ہے اور رقم اس کو سال بعد ملے گی تو سال بعد اس رقم کی وہ ویلیو یعنی قوت خرید نہیں ہو گی جو سال پہلے تھی لہذا اس صورت میں دوکاندار نقصان میں رہا۔
ادھار کی صورت میں قیمت زیادہ لینے سے نہ تو دوکاندار کا نقصان ہوتا ہے اور نہ ہی گاہک کا کیونکہ گاہک کو وقت مل گیا ہے۔ اگر گاہک کے پاس پوری قیمت ہوتی تو وہ کہیں اور سے سستے داموں وہ چیز خرید لیتا تو اس کے پاس قیمت نہیں ہے لہذا وہ مشکل میں ہے اور دوکاندار نے اس کی مشکل قسطوں کی صورت میں حل کی ہے لہذا گاہک اور دوکاندار دونوں کا ایک ایک پہلو سے فائدہ ہے۔
 
Top