الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
سادہ کمیٹی رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ باہمی تعاون کا ایک ذریعہ ہے۔ ہاں! کسی کمیٹی میں کچھ مخصوص خلاف شریعت صورتیں ہیں یا شرائط ہیں جیسا کہ بولی والی کمیٹی وغیرہ تو اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
سادہ طور قسطوں پر لی گئی چیز سود نہیں ہے۔ البتہ اگر قسطوں کے ساتھ کچھ مزید بھی خلاف شریعت شرائط ہیں تو پھر وہ خرید و فروخت درست نہ ہو گی جیسا کہ اگر یہ شرط لگا دی کہ قسط لیٹ ہوئی تو جرمانہ پڑے گا تو یہ اضافی جرمانہ سود میں شامل ہے۔
مثال کے طور پر ایک فریج نقد لیں تو 30 ہزار کا ملے اور قسطوں پر لیں تو وہی فریج 35 ہزار کا ملے تو کیا قسطوں پر چیز دینے کی وجہ سے پانچ ہزار اضافی سود ہوں گے؟
جی نہیں! قسطوں کی بنیاد پر قیمت میں اضافہ سود نہیں ہے۔
اس سوال پر اس طرح بھی غور کریں کہ اگر ایک دوکاندار ایک فریج 30 ہزار میں دے رہا ہے اور دوسرا وہی فریج 35 میں فروخت کر رہا ہے تو کیا یہ سود ہے؟ یقینا نہیں ہے۔ یہ تو گاہک اور دوکاندار کا معاملہ ہے کہ جس قیمت پر بھی ان کا معاملہ طے ہو جائے، چاہے وہ عام مارکیٹ ریٹ کی نسبت کم یا زیادہ ہو۔
لیکن ایک دکاندار نقد چیز خریدنے پر کم قیمت میں دے رہا ہو اور اسی چیز کو اگر قسطوں میں گاہک خریدنا چاہے اور دکاندار قسطوں پر دینے کی وجہ سے قیمت بڑھا دے تو کیا یہ سود نہیں ہو گا؟
جب تک وہ بیع ایک کر رہا ہو تو یہ جائز ہے یعنی ایک بیع میں دو بیع کو جمع نہ کرے کہ نقد دو گے تو اتنی پیمنٹ کردو اور ادھار دو گے تو اتنی پیمنٹ کر دینا۔ سودا نقد یا ادھار ایک ہی طے ہونا چاہیے تو یہ اہل علم کے نزدیک جائز ہے۔
اس کا دوسرا پہلو یہ بھی توسوچیں کہ پیسے کی ویلیو بھی تو کم ہو رہی ہے یعنی علم معاشیات کی اصطلاح میں ڈی ویلیو ایشن آف کرنسی کا مسئلہ بھی انوالو ہے۔ اگر دوکاندار ایک شیئ ادھار میں اسی قیمت پر بیچ دیتا ہے اور رقم اس کو سال بعد ملے گی تو سال بعد اس رقم کی وہ ویلیو یعنی قوت خرید نہیں ہو گی جو سال پہلے تھی لہذا اس صورت میں دوکاندار نقصان میں رہا۔
ادھار کی صورت میں قیمت زیادہ لینے سے نہ تو دوکاندار کا نقصان ہوتا ہے اور نہ ہی گاہک کا کیونکہ گاہک کو وقت مل گیا ہے۔ اگر گاہک کے پاس پوری قیمت ہوتی تو وہ کہیں اور سے سستے داموں وہ چیز خرید لیتا تو اس کے پاس قیمت نہیں ہے لہذا وہ مشکل میں ہے اور دوکاندار نے اس کی مشکل قسطوں کی صورت میں حل کی ہے لہذا گاہک اور دوکاندار دونوں کا ایک ایک پہلو سے فائدہ ہے۔