ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 821
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
کیا کوئی مسلمان کافر فوج میں شامل ہو سکتا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آج ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں کفر کے پرچم لہرا رہے ہیں، طاغوت کی عدالتیں فیصلے کر رہی ہیں، مشرکین کے آئین نافذ ہیں، اور انہی قوانین کے تحفظ کو "وطن سے محبت" کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس سب سے بھی زیادہ خطرناک وہ درباری، طاغوت پرست، جمہوریت کے پجاری اور سیکولر ازم کے محافظ بنے مولوی ہیں، جو فتنۂ ابلیس کو دینِ محمدی کا لبادہ پہنا کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔
یہ وہی علمائے سوء ہیں جنہوں نے نہ صرف امتِ مسلمہ کو ذلت کی طرف گھسیٹا بلکہ طاغوت کے در پر جھک کر اس ذلت کو شرعی مقام کا نام دیا۔ یہی وہ ملعون طبقہ ہے جو آج کفار کی افواج میں شمولیت کو "جہاد"، "خدمتِ وطن" اور "اسلامی حمیت" سے تعبیر کر رہا ہے۔
مگر اب ہم فقیہ عراق امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زبردست اور قاطع فتویٰ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
کتاب الأصل کے شروع میں محمد بن حسن الشیبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"قد بينتُ لكم قول أبي حنيفة وأبي يوسف وقولي، وما لم يكن فيه اختلاف فهو قولنا جميعاً"
یعنی: میں نے تم لوگوں کے لیے (اس کتاب میں) امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور اپنا مؤقف بیان کر دیا ہے، اور جس مسئلے میں اختلاف نہیں وہ ہم سب کا متفقہ مؤقف ہے۔
"قلت: أرأیت القوم من المسلمین یکونون مستأمنین فی دار الحرب فیغیر علیہم قوم آخرون من أھل الحرب أیحل لمن ثم من المسلمین أن یقاتلوا معہم؟ قال: لا. قلت: لمَ؟ قال: لأن أحکام أھل الشرک ظاھرۃ غالبۃ، لأن المسلمین لا یستطیعون أن یحکموا بأحکام أھل الإسلام. قلت: فإن خاف المسلمون علی أنفسہم من ذلک العدو أیقاتلون دفعاً عن أنفسہم؟ قال: إذا کان ھکذا فلا بأس بالقتال لیدفعوا عن أنفسہم."
یعنی: اگر کوئی مسلمان قوم دارالحرب میں امان لے کر رہتی ہو، پھر ان پر اہلِ حرب کی کوئی دوسری قوم حملہ کر دے، تو کیا ان مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ وہ (ان کافروں کے ساتھ مل کر دوسرے کافروں سے) قتال کریں؟
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: "نہیں، یہ جائز نہیں ہے۔"
میں (یعنی محمد بن حسن) نے عرض کیا: "کیوں جائز نہیں؟"
تو امام ابو حنیفہ نے فرمایا: "کیونکہ وہاں اہلِ شرک کے احکام و قوانین غالب ہیں، اور مسلمان اس بات کی استطاعت نہیں رکھتے کہ وہاں اسلامی احکام نافذ کریں یا ان کے مطابق فیصلے کریں۔"
میں نے پوچھا: "اگر مسلمانوں کو اس دشمن سے اپنی جانوں کا خطرہ ہو تو کیا وہ اپنی جانوں کے دفاع میں قتال کر سکتے ہیں؟"
تو امام ابو حنیفہ نے فرمایا: "اگر معاملہ ایسا ہو جائے تو اپنی جانوں کے دفاع میں قتال کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔"
[کتاب الأصل، کتاب السیر في أرض الحرب، ج : ٧، ص : ٤٩١]
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ دارالحرب میں امان لے کر رہنے والے مسلمانوں کو اہلِ حرب کی کوئی دوسری قوم کے حملہ آور ہونے پر کافروں کے ساتھ مل کر دوسرے حملہ آور کافروں سے قتال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
"لأن أحكام أهل الشرك ظاهرة غالبة، لأن المسلمين لا يستطيعون أن يحكموا بأحكام أهل الإسلام."
کیونکہ کافروں کے قوانین وہاں ظاہر و غالب ہیں، اور مسلمان اسلامی قوانین نافذ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
آج کا ہر وہ نظام جس میں قرآن کی جگہ انسانوں کے وضع کردہ آئین کو دستور مانا جائے، وہ دارالاسلام نہیں۔ کیونکہ ان ممالک میں تمام قوانین پارلیمنٹ کی منظوری سے بنتے ہیں جبکہ شریعت کہتی ہے "إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلّٰہِ"۔
کیا ان ممالک میں اللہ کا حکم نافذ ہے؟ ہرگز نہیں! یہاں جمہوریت، یعنی طاغوت کی حاکمیت نافذ ہے۔ اور جو اس نظام کا محافظ بنے، خواہ وہ مولوی ہو یا سپاہی، وہی طاغوت کا خادم ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اس قول پر غور کریں:
"لا یستطیعون أن یحکموا بأحکام الإسلام"
(مسلمان وہاں اسلامی احکام نافذ نہیں کر سکتے)
تو جو کافر جھنڈے کو سلامی دیتا ہے، کفر کے ترانے پر قدم مارتا ہے، اور طاغوتی عدالتوں، سیکولر پارلیمنٹ، مشرک آئین، اور صلیبی طیاروں کا محافظ بنتا ہے اس کے ساتھ مل کر لڑنا ناجائز و حرام ہے۔
اور جب امام محمد بن حسن نے سوال کیا:
"فإن خاف المسلمون على أنفسهم من ذلك العدو، أيقاتلون دفعاً عن أنفسهم؟" یعنی اگر مسلمانوں کو اپنی جانوں کا خطرہ ہو تو کیا وہ دفاعاً قتال کر سکتے ہیں؟
تو ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اجازت دی، مگر محض ذاتی دفاع کے لیے، نہ کہ کسی کافر وطن، شرکیہ وطنی پرچم، یا طاغوتی نظام کے تحفظ کے لیے۔
آج جو فوجی وردی پہنے طاغوت کے اشارے پر مسلمانوں پر گولیاں چلاتے ہیں، جو شریعت کے نفاذ کی دعوت دینے والوں کو جیلوں میں سڑاتے ہیں، اور جو جمہوری طاغوتوں کو تحفظ دیتے ہیں وہ مرتدین کے صف میں کھڑے ہیں۔
تبلیغی جماعت، جماعتِ اسلامی، جمعیت اہلِ حدیث جو کفار کی عدالتوں، جمہوریت کی پارلیمنٹ، اور طاغوتی افواج کے لیے قتال کو “اسلامی خدمت” کہتے ہیں، یہ دینِ اسلام کے غدار، ابلیس کے نائب، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے دشمن ہیں۔