- شمولیت
- اگست 28، 2019
- پیغامات
- 79
- ری ایکشن اسکور
- 12
- پوائنٹ
- 56
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا یہ دلیل ہے یا بدعت کا بہانہ
کیا یہ دلیل ہے یا بدعت کا بہانہ
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،اما بعد:
برادران اسلام!
آج کے خطبۂ جمعہ کے لئے میں نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے وہ ’’ کیا یہ دلیل ہے یا بدعت کا بہانہ ‘‘ اور اس موضوع کا انتخاب میں نے اس لئے کیا ہے کیونکہ سماج ومعاشرے کے اندر لوگ طرح طرح کے حیلوں اور بہانوں سےبدعت کو سنت ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں تاکہ لوگ بدعت کو سنت سمجھ کر انجام دیں،کبھی بدعت کو محبت کا نام دیا جاتاہے تو کبھی بدعت کو رسم ورواج کا نام دیاجاتاہے، کبھی بزرگوں کا طریقہ کہاجاتاہے توکبھی یہ کہاجاتا ہے کہ منع کہاں ہے اوراگر کوئی دلیل پوچھ بیٹھے تو اسے گستاخ رسول کا لیبل لگادیا جاتاہےیا پھر یہ کہہ دیا جاتاہے کہ یہ گمراہ ہوگیا ہےدیکھو دلیل مانگ رہاہے،قرآن وسنت سےدلیل مانگو تو بس یہ کہاجاتاہے کہ نیت اچھی ہے، سب کرتے ہیں ،منع کہاں ہے؟ہم غلط ہی کیا کررہے ہیں ،غرضیکہ ہربدعت کو سنت ثابت کرنے کے لئے لوگوں نے ہزاروں حیلے وبہانے تلاش کررکھے ہیں توآئیے دیکھتے ہیں کہ اہل بدعت اپنی بدعت کوسنت ثابت کرنے کے لئے کیسے کیسے حیلے وبہانے اپناتے ہیں:
1۔ہمارے بڑے کرتے آئے ہیں اسی لئے ہم بھی کررہے ہیں!
برادران اسلام!
سماج ومعاشرے کے اندر اکثروبیشتر ہربدعات وخرافات کو جائزقراردینے اوراسے اجروثواب کاکام بتانے کے لئے ایک دلیل بہت ہی زورشورسے دیتے ہیں کہ یہ کام ہمارے بڑے کرتے آئےہیں اسی لئے ہم بھی کررہے ہیں اوراس کو ہم کبھی بھی نہیں چھوڑسکتے ہیں ،اگریہ کام غلط ہے توپھرہمارے بڑوں نے کیسے کیا؟کیاتم ہمارے بڑوں سے زیادہ جانتے ہوکیا؟فلاں فلاں بزرگ نے کیاتھا؟کیاتم ان سے زیادہ جانتے ہو؟جب انہوں نے کیاتوہم کیوں نہ کریں؟الغرض اس طرح کی اوٹ پٹانگ کی باتیں پھیلاکرعوام کوبدعات وخرافات کے دلدل میں پھنساکررکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنا الو سیدھا کرتے رہیں اوراس طرح سےان کےبدعات وخرافات کی دوکانیں چلتی رہیں !میرے دوستو!آپ کو یہ جان کربڑی حیرانی ہوگی کہ ہرزمانے میں لوگ اپنے کفریہ وشرکیہ عقائد ونظریات اوربدعات وخرافات کو ثابت کرنے کے لئے یہی دلیلیں دیتے ہیں کہ ہمارے بڑوں نے کیا ہے ہم بھی کررہے ہیں جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے ’’ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ‘‘ اورجب ان سے کہاجاتاہے کہ اللہ تعالی نے جواحکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اوررسول کی طرف رجوع کروتوکہتے ہیں کہ ہم کووہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کوپایاہے،کیااگرچہ ان کے بڑے نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اورنہ ہدایت رکھتے ہوں۔(المائدۃ:104)اسی طرح سے ایک دوسری جگہ رب نے کچھ یوں بیان فرمایاکہ’’ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ‘‘اوران سے جب کبھی کہاجاتاہے کہ اللہ تعالی کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کروتوجواب دیتے ہیں کہ ہم تواس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کوپایاہے،گوان کے باپ دادے بے عقل اورگمراہ ہی کیوں نہ ہو۔(البقرۃ:170)دیکھا اور سنا آپ نے کہ لوگ اپنے باپ داداؤں کی پیروی بغیر دلیل اور بغیرسوچے سمجھے ہی کرتے ہیں ۔
میرے پیارے پیارے اسلامی بھائیو!
کیاآپ جانتے ہیں کہ آج جولوگ سنت کے مقابلے میں اپنے باپ دادوں کے طوروطریقے کو پیش کرتے ہیں یہی لوگ کل قیامت کےدن کیاکہیں گے؟اگرنہیں جانتے ہیں توپھر سنئے رب نے کیاہی پیارانقشہ کھینچاہے ،فرمان باری تعالی ہے’’ يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولا ، وَقالُوا رَبَّنا إِنَّا أَطَعْنا سادَتَنا وَكُبَراءَنا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلا ، رَبَّنا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْناً كَبِيراً ‘‘ اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے (حسرت وافسوس سے)کہیں گے کہ کاش ہم اللہ تعالی اوررسول کی اطاعت (دنیا میں )کرتے ،اورکہیں گے اے ہمارے رب!ہم نے اپنے سر داروں اوراپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکادیا،اے ہمارے پروردگار!توانہیں دگناعذاب دے اوران پربہت بڑی لعنت نازل فرما۔(الاحزاب:66-68)دیکھااورسنا آپ نے کہ آج جولوگ اپنے بڑوں کو دلیل بناتے ہیں کل وہی لوگ ان کودگناعذاب دینے کی درخواست کریں گےاوردنیامیں اطاعت رسولﷺ نہ کرنے پر افسوس کریں گےمگرتب افسوس کرناکسی کے کچھ کام نہ آئے گا،اس لئے آج وقت رہتے ہی لوگوں کے لئے ہمارا یہ پیغام ہے کہ اے لوگوں!کتاب وسنت کی پیروی کرو ،بزرگوں اور باپ داداؤں کی نہیں کیونکہ یہ دین بزرگوں اور باپ داداؤں سے نہیں بلکہ اللہ اور رسولﷺ کی وحی سے ثابت ہوتاہے۔
2۔منع کہاں ہے؟
میرے دوستو!بدعات وخرافات کو گلے لگاکرسنت سے دوری اختیارکرنے والے لوگ اپنی بدعت کو ثابت کرنے کے لئے ایک اوربات کا سہارالیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اگریہ چیز غلط ہے اوربدعت ہے تو بتاؤ منع کہا ہے؟کس کتاب میں یہ لکھاہوا ہے کہ ایساکرنا بدعت ہے؟ذرابتاؤ کہ کس صحابی نے یاپھر کس محدث نے یہ کہا ہے کہ میلاد منانا بدعت ہے؟بدعتی حضرات اس طرح کے جملوں سے عوام کوبیوقوف بناکراپناالوسیدھاکرتے ہیں جب کہ یہ کہنا یہ منع کہاں ہے یہ تو سراسرحماقت وجہالت اوربیوقوفی کی دلیل ہےکیونکہ دلیل ثبوت کی دی جاتی ہے ،جوچیز ثابت ہی نہیں ہے اس کی دلیل ہی نہیں دی جاتی ہے،آئیے اس بات کو ایک مثال کے ذریعے سمجھتے ہیں کہ کوئی انسان مغرب کی نماز تین رکعتیں پڑھنے کے بجائے چارپڑھنے لگے اورلوگوں سے کہتاپھرے کی منع کہاں ہےذرا بتاؤ؟ اسی طرح سے کوئی انسان جب نماز پڑھنے لگے تو ہررکعت میں دو رکوع کرنے لگے اورتین سجدے کرنے لگے اورپھر لوگوں سے کہے کہ ایساکرنا منع کہاں ہے ذرابتاؤ؟اسی طرح سے اب کوئی انسان جب آذان دے تو آخر میں لاالہ الا اللہ پرختم کرنے کے بجائےمحمدرسول اللہ کا اضافہ کردے اورکہے کہ منع کہاں ہے ذرابتاؤ؟ تو اب آپ ہی فیصلہ کرلیں کہ ساری دنیا ایسے انسان کو کیاکہے گی؟یہی کہ یہ انسان پاگل ہوگیاہے اورپاگلوں جیسی باتیں کررہاہے،پتہ یہ چلاکہ یہ کہنا منع کہاں ہے یہ سراسرحماقت وجہالت کی نشانی ہے،اب اگرکوئی انسان بضد ہے کہ نہیں منع کی دلیل ہی بتاؤ تولیجئے ہم آپ کودلیل بھی بتادیتے ہیں ،پڑھئے قرآن مجید آپ کو اس میں یہ آیت ملے گی’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ‘‘کہ اے ایمان والو!اللہ اوراس کے رسول سے آگے نہ بڑھواوراللہ سے ڈرتے رہاکرو،یقینا اللہ تعالی سننے والا ،جاننے والاہے۔(الحجرات:1)میرے دوستو!ذراسوچو کہ اللہ اوراس کے رسولﷺ سے آگے بڑھنا کیا ہے ؟یہی تو ہے کہ دین میں من مانی کی جائے،دین میں بدعات ایجاد کی جائےاوردین میں کتاب وسنت کو چھوڑکراپنی رائے وقیاس پر عمل کیاجائے،اب اسی میلاد کی ہی مثال لے لیجئے کہ یہ اللہ اوراس کے رسول ﷺ سے آگے بڑھنے کی ناپاک جسارت نہیں توپھر اورکیا ہے کہ لوگ رسول کے نام پر میلاد مناتے ہیں جب کہ اس کام کو نہ تو اللہ نے کہا کرنے کے لئے اورنہ ہی اللہ کے رسولﷺ نے خوداپنامیلادمنایا اور نہ ہی منانے کاحکم دیا اور نہ ہی کسی صحابی نے آپﷺ کاکبھی میلاد منایا! یقیناایسے لوگ اللہ اوراس کے رسول کےدین کے دشمن ہیں جو اللہ اوراس کے رسول سے آگے بڑھنے کی جسارت کرتے ہیں۔
برادران اسلام!
میراجی یہ چاہتاہے کہ منع کہاں ہے اس بات پراورایک دلیل دے دو تاکہ مسئلہ واضح ہوجائے کہ ہروہ چیز جو نبی اورصحابہ سے ثابت نہیں وہ مردود ہےاورجب مردود ہے تو پھر اس کے نیکی اوراچھاہونے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتاہےاوراس کے لئے کوئی دلیل کی ضرورت نہیں ہے،کیاآپ نے سنا نہیں کہ حبیب کائناتﷺ نے اپنے دین پہ مہرلگاتے ہوئے فرمادیا ہے کہ ’’ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ‘‘ جوکوئی ایساعمل کرے جس پرمیراحکم نہیں تو وہ مردود ہے۔ (مسلم:1718) اوردوسری روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ ’’ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ ‘‘جوشخص ہمارے دین میں وہ چیز ایجاد کرے جو اس دین میں نہیں ہے تو وہ مردود ہےیعنی ناقابل قبول ہےاسی لئے ہرمسلمان کو چاہئے کہ وہ اس عمل کو ہرگزہرگز قبول نہ کرے بلکہ اس کی تردید کرتے ہوئے لوگوں کو اس سے منع کرے۔(بخاری:2697،ماجہ:14) پتہ یہ چلا کہ ہروہ چیز اورہروہ کام جو نبیﷺ نے نہ کیا اورنہ کہا تووہ مردود ہے اب اگرکوئی انسان اسے سنت اورمستحب عمل کہہ رہاہے تو وہ اس پر دلیل دے اورجب تک رسولﷺ کے قول وفعل سے دلیل نہ دے گا تب تک وہ عمل اوروہ چیز مردود ہی رہے گی۔ذرا سوچئے میرے بھائیواور بہنو!اگرہردینی کام کے لئے یہ اصول بنادیا جائے کہ ’’ منع کہاں ہے‘‘ تو پھر ہرکوئی اپنی طرف سے ایک نئی عبادت ایجاد کرلے گا اور کہے گا کہ مجھے منع کی دلیل دکھاؤ؟
3۔یہ کرنے میں حرج کیا ہے؟
اہل بدعت اپنی بدعت کو سنت بتانے کے لئے ایک اوربات کا سہارالیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنے میں حرج کیا ہے ؟اب مثال کے طورپر عید میلاد ہی کو لے لیجئے یہ میلاد منانے والے لوگ لوگوں کو ایک بات کہہ کر بیوقوف بناتے ہیں کہ میلاد منانے میں حرج کیا ہے؟ہم کونسا غلط کام کررہے ہیں؟ہم تو اپنے نبیﷺ کے اخلاق وکردار اور سیرت وفضائل ہی کو تو بیان کررہے ہیں تو اس میں حرج کی کیا بات ہے؟
اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نبیﷺ کے فضائل اور آپﷺکی سیرت کو بیان کرنے میں حرج نہیں ہے ،مگر حرج اس بات پر ہے کہ کیاہمارے نبیﷺ کاحق یہی ہے کہ لوگ پورے سال میں اپنے نبیﷺ کی سیرت وکردار،فضائل کو کبھی نہ بیان کریں اور صرف ربیع الاول کے مہینے کے دس یا بارہ دن ہی بیان کیا جائے؟کتنے بڑے ظالم ہیں وہ لوگ جو اپنے نبیﷺ کو سال میں کبھی یاد نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی محفلیں سجاتے ہیں مگر جیسے ہی ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوجاتاہے آپﷺ کی سیرت کو بیان کرنے کے لئے محفلیں لگاناشروع کردیتے ہیں!غرض کہ لوگوں نے آپﷺ کی سیرت کو بیان کرنے کے لئے صرف ماہ ربیع الاول کو خاص کرلیا ہے۔
دوسری بات اس سلسلے میں یہ ہے آپﷺ کی سیرتوں کو بیان کرنے میں حرج نہیں ہے حرج تو اس بات پر ہے کہ لوگوں نے وہ طریقہ اختیار کرلیا ہے جو نہ تو آپﷺ نے کیا اور نہ ہی کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی صحابہ نے کیا ہے،جو لوگ بھی بات بات میں ہربدعت کو ثابت کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ حرج کیا ہے تو ایسے لوگوں کے لئے میں ایک حدیث سنادیتاہوں تاکہ حق وباطل واضح ہوجائےکہ جو نبیﷺ نے نہیں سکھایا ہے اس کے کرنے اور کہنے میں حرج ہے،آئیے حدیث سنتے ہیں حضرت نافعؒ بیان کرتے ہیں کہ ’’ أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ‘‘ عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا کہ ’’ أَلحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ‘‘ تو ابن عمرؓ نے کہا کہ ’’ وَأَنَا أَقُولُ أَلحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ‘‘ میں بھی یہ جملہ الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ کہتاہوں اور کہہ سکتاہوں مگر ’’ وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‘‘اس طرح سے ہمیں آپﷺ سے تعلیم نہیں دی ہے بلکہ اس موقع پر ’’ أَلحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ‘‘ ہرحال میں اللہ کا شکر ہے کہنے کی تعلیم دی ہے۔(ترمذی:2738،وقال الالبانیؒ:اسنادہ حسن)دیکھا اور سنا آپ نےکہ جس چیز کی تعلیم آپﷺ نے نہیں دی ہے اس کے کرنے میں ضروربالضرورحرج ہے تبھی تو حضرت ابن عمرؓ نے اس انسان کو روکا اور منع کیا،اس مسئلے کی اتنی وضاحت ہوجانے کے باوجود بھی اگر کسی کو سمجھ میں نہ آئےتو وہ اپنے عقل کا ماتم کرے۔
4۔اگرایساکرنا بدعت ہے تو پھرمائک سے آذان دینا ،مسجد میں فین اوراے سی لگانابھی بدعت ہے،قرآن میں زبرزیر لگانااورتمہارا پیداہونا بھی بدعت ہے کیونکہ نہ تویہ ساری چیزیں نبیﷺ کے زمانے میں تھی اورنہ ہی تم تھے؟
برادران اسلام!
اہل بدعت اپنی بدعت کو ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے لوگوں کو یہ کہہ کربیوقوف بناتے ہیں کہ اگر ایسا کرنابدعت ہے تو پھر مائک سے آذان دینا ،مسجد میں فین اوراے سی لگانابھی بدعت ہے،قرآن میں زبرزیر لگانااورتمہارا پیداہونا بھی بدعت ہے کیونکہ نہ تویہ ساری چیزیں نبیﷺ کے زمانے میں تھی اورنہ ہی تم تھے؟
افسوس صد افسوس لوگ سنت کے مقابلے میں بدعت کو ثابت ورائج کرنے کے لئے کیسی کیسی احمقانہ باتیں کرتے ہیں،انہیں یہ بات بھی معلوم نہیں ہے کہ اس دین اسلام کو مکمل کیاجاچکا ہےاب اس میں کسی کمی وبیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے ’’ أَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ‘‘آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپناانعام بھرپورکردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔(المائدہ:3)جب دین کو مکمل کردیا گیا ہے توپھر جوچیز دین میں نہیں وہ دین کا حصہ کبھی بھی بن نہیں سکتی ہےگرچہ وہ چیز کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو!
میرے پیارے پیارے اسلامی بھائیو اوربہنو! آپ یہ بات اچھی طرح سے جان لیں کہ کسی بھی عمل کو دین کا حصہ سمجھتے ہوئےباعث اجروثواب سمجھ کرانجام دینا ہی بدعت ہے کیونکہ آپﷺ نے ’’ فِیْ أَمْرِنا ‘‘ کہہ کر دین کی قید لگادی ہے کہ بدعت صرف وہی جو میرے دین میں ایجاد کی جائے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے کہ ’’ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ ‘‘جوشخص ہمارے دین میں وہ چیز ایجاد کرے جو اس دین میں نہیں ہے تو وہ مردود ہےیعنی ناقابل قبول ہے۔(بخاری:2697،ماجہ:14) اورجہاں تک رہی بات مسجد میں جو اے سی اور فین لگائی جاتی ہے اور جو مائک سے آذان دی جاتی ہےاوراسی طرح سے جوبھی دنیاوی ضروریات کی چیزیں استعمال کی جاتی ہیں یہ دین کا حصہ نہیں ہےاور نہ ہی کوئی انسان ان ساری چیزوں کو اجروثواب سمجھ کراستعمال کرتاہےاور نہ ہی یہ ساری چیزیں ممنوع ہے۔
دوسری بات اس سلسلے میں سب سے اہم یہ ہے کہ یہ دین مکمل کیا جاچکاہے جس میں کسی بھی طرح کی کمی وبیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے جب کہ یہ دنیا نامکمل ہے اور اس کی تکمیل نہیں کی گئی ہےجیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ‘‘عنقريب هم انهیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اورخود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ حق یہی ہے،کیا آپ کے رب کا ہرچیز سے واقف وآگاہ ہونا کافی نہیں۔(حم السجدہ:53)پتہ یہ چلا کہ جب دنیا کہ تکمیل ہی نہیں ہوئی ہے تو اس کی ضروریات کی چیزیں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہےاورنہ ہی یہ گناہ کا کام ہے اور اس بات کی تعلیم تو خود جناب محمدعربی ﷺ نے دی ہے کہ تم دنیاوی ضرورتوں کو اپنے وقت وحالات کے حساب سے استعمال کرسکتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ سیدنا انسؓ اور طلحہ بن عبیداللہؓ اور اماں عائشہؓ سے مروی احادیث کے اندر اس بات کا ذکر ہے کہ صحابۂ کرام اپنے کھجوروں کے اندر گابھا کی پیوندکاری کیاکرتے تھے یعنی کہ نرکھجورکے درخت کا شگوفہ لے کر مادہ کھجوروں کے درختوں میں لگایا کرتے تھے جس سے کثیرمقدار میں اوراچھے اچھے کھجورپیداہواکرتے تھے مگر ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ جب آپﷺنے ایسا کرتے دیکھاتو آپ ﷺ نے صحابۂ کرامؓ سے کہا کہ ’’ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ ‘‘ اگرتم لوگ ایسا نہ کرتے تو بہت اچھا ہوتا،یہ سن کر صحابۂ کرامؓ نے ایسا کرنا چھوڑدیا اور مادہ کھجوروں میں نرکھجوروں کے شگوفے کی پیوندکاری نہیں کی جس کا اثر اورنتیجہ یہ ہوا کہ اس بار بہت ہی خراب اورردی قسم کے کھجوروں کے پھل آئے ،جب اس بات کی جانکاری صحابۂ کرامؓ نے آپﷺ کو دی تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ إِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنَكُمْ بِهِ وَإِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ ‘‘ اگر تمہاری دنیا کا کوئی معاملہ ہو تو اسے خود (اپنے تجربات اور رائے کی روشنی میں )انجام دے لیا کرو اوراگر تمہارے دین کا کوئی معاملہ ہوتو میری طرف رجوع کیاکرو ،اور مسلم شریف کے جو الفاظ ہیں اس کے اندر ہے کہ ’’ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ ‘‘ تم اپنی دنیاوی معاملات کو زیادہ جاننے والے ہو۔(مسلم:2363،ابن ماجہ:2470،2471،احمد:24920)دیکھا اور سنا آپ نے کہ دنیاوی معاملات وامور میں آپﷺ نے خود یہ کہا کہ تم اپنے اپنے حساب سے ان سب چیزوں سے فائدہ اٹھاؤ مگر دین کے معاملات وامور کے بارے میں آپ نے یہ قید اورشرط لگادی کہ صرف میرا ہی حکم چلے گا،اتنے واضح فرمان کےہونے کے باوجود بھی اگر کوئی انسان اس معاملے میں اس طرح کی باتیں کہتا ہے تو پھر ایسے انسان کے عقل پر سوائے ماتم کے اور کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔
5۔قرآن میں زبرزیر پیش وغیرہ لگانا بھی بدعت ہے
اسی طرح سے اہل بدعت اپنی بدعت کو ثابت کرنے کے لئے یہ بات بھی کہہ کرلوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں کہ قرآن میں زبراورزیر و پیش وغیرہ نہیں تھا تو یہ بھی بدعت ہے!افسوس صد افسوس لوگ اپنی بدعت کو ثابت کرنے کے لئے کیسی کیسی بیوقوفانہ اوراحمقانہ باتیں کرتے ہیں یاد رکھ لیجئے کہ یہ کہنا ہی سراسر غلط ہےکیونکہ قرآن کے کلمات وحروف اور حرکات وسکنات تو پہلے سے موجود ہیں اور جس طرح سے آج پڑھی جاتی ہے ٹھیک اسی طرح سے پہلے بھی نبی اور صحابہ کے ادوار میں پڑھی جاتی تھی اور جب قرآن کی تلاوت کی جاتی تھی تو اس کا مطلب یہ ہے اس کو زبرزیراورپیش وغیرہ کے ساتھ ہی پڑھی اور تلاوت کی جاتی تھی یہ الگ بات ہے کہ وہ تحریری شکل میں نہیں تھی،توتحریری شکل کا بعدمیں وجود میں آنا یہ تو بدعت نہیں ہے،آئیے اس بات کو ایک مثال کے ذریعےسے سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کا ہرطالب علم یہ جانتا ہے کہ دوران تعلیم جو احادیث اور دیگر عربی فنون کی کتابیں طلبہ کو پڑھائی جاتی ہیں اس میں آج بھی زبراورزیر وپیش وغیرہ نہیں ہوتاہے مگرپھر بھی طلبہ واساتذہ اس کو پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ، اب اگر اس میں زبروزیروپیش وغیرہ لگادیا جائے اور کوئی کہے کہ یہ بدعت ہے تو پھر ایسے انسان کو اپنے دماغ کا علاج کراناچاہیے ، ویل ہے ایسے کج فہم لوگوں پر جو جان بوجھ کراپنی بدعت کی دوکان کوچلانے کے لئے اس طرح کی اوٹ پٹانگ کی باتوں سے عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
6۔کیا اتنے سارے لوگ غلط ہیں؟
برادران اسلام!
اہل بدعت اپنی بدعت کو ثابت کرنے کے لئے ایک اور بات کا سہارا لیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یہ کام تو پوری دنیا میں لوگ کررہے ہیں ،کیا اتنے سارے لوگ غلط ہوسکتے ہیں؟ جیسا کہ پچھلے دنوں آپ نے بھی سنا ہوگا کہ اہل بدعت اس بات کا کثرت سے ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ اگر یہ میلاد منانا غلط ہے تو پھر پوری دنیا کے مسلمان کیسے منارہے ہیں؟کیااتنے سارے لوگ غلط ہوسکتے ہیں؟اگرمیلاد مناناغلط ہوتا تو اس طرح سے پوری دنیا میں یہ چیز نہیں منائی جاتی تھی ؟جولوگ میلاد منانے کے قائل ہیں وہ کثیرتعداد میں ہیں اور جو نہیں مناتے ہیں وہ تو بہت تھوڑے ہیں؟غرض کہ اکثریت واقلیت کی بات کہہ کر لوگوں کو یہ باورکرایاجاتاہے کہ یہ میلاد منانا سنت ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ میلادمنانا اکثریت واقلیت سے ثابت نہیں کیا جاسکتاہے اس کے لئے تو دلیل کی ضرورت ہے ،حق وباطل کا معیار لوگوں کی اکثریت واقلیت نہیں بلکہ دلائل وبراہین ہیں ، مشہور ہونا دلیل نہیں بلکہ دلیل ہونا دلیل ہے،ویسےاگرہم اکثریت ہی کو معیار تسلیم کرلیں تو پھرقرآن ہمیں یہ تلقین کرتاہے کہ اے لوگوں اکثریت کی بات اور اکثریت کے طوروطریقے کوکبھی نہ ماننا اوراکثریت کے راستے پر کبھی نہ چلناکیونکہ اکثریت ہمیشہ گمراہ لوگوں کی ہوتی ہے،اگرآپ کو میری باتوں پر یقین نہ ہو تو پھرسورہ الانعام كي آیت نمبر116 کی تلاوت کیجئے،فرمان باری تعالی ہے ’’ وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ‘‘اوردنیا میں زیادہ ترلوگ ایسے ہیں کہ اگرآپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کردیں ،وہ تو محض بے اصل خیالات پر چلتے ہیں اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں،(الانعام:116)ایک دوسری جگہ اللہ نے فرمایا کہ ’’ وَإِنَّ كَثِيرًا لَيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ‘‘اوربے شک اکثرلوگ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑکر بغیرعلم کے گمراہ ہوتے ہیں ۔ (الانعام:119)یقینا قرآن نے جیسا کہا ہے آج ہم اپنی آنکھوں سے ویسا ہی دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے پاس دلائل وبراہین تو نہیں ہوتے مگر اٹکل پچو ،قیاسی باتیں اورجھوٹے قصے کہانیاں ضرورہوتے ہیں،لوگوں کو جواچھا لگتا ہے وہی دین سمجھ کرکرنے لگ جاتے ہیں،ہمارے رب کا فرمان کتنا سچ ہے کہ ’’ وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ‘‘اوران میں سے اکثرلوگ صرف گمان پر چل رہے ہیں۔(یونس:36)میرے دوستو!قرآن مجید کے اندر جگہ جگہ پر رب العزت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ہردورمیں اکثرلوگ کفروشرک اور گمراہیت کے راستے پر ہوتے ہیں ،کہیں پر اللہ نے کہا کہ ’’ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ‘‘ اوران میں اکثر لوگ مسلمان نہ تھے۔(الشعراء:190)کہیں پر اللہ نے کہا کہ اکثر لوگ بے عقل ہوتے ہیں ’’ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ‘‘ بلکہ ان میں اکثر بے عقل ہیں۔(العنکبوت:63)کہیں پر اللہ نے کہا کہ ’’ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ‘‘اورلیکن اکثرلوگ جانتےنہیں ہیں۔(الروم:30)کہیں پر اللہ نے کہا کہ ’’ أَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ ‘‘اکثرلوگ ایسےہوتے ہیں جو سنتے نہیں ہے۔(حم السجدۃ:4)کہیں پر اللہ نے کہا کہ ’’ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ‘‘اورلیکن کثرلوگ ناشکری کرتے ہیں۔(النمل:73)کہیں پر اللہ نے کہا کہ ’’ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ ‘‘اوراکثرلوگ ایمان رکھنے کے باوجود بھی مشرک ہوتے ہیں۔(یوسف:106)کہیں پر اللہ نے کہا کہ ’’ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ ‘ ‘اورلیکن زیادہ ترلوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔(الانعام:111)دیکھا اورسنا آپ نے کہ اکثریت ہمیشہ اورہردورمیں گمراہ لوگوں اورکم عقل ونادانوں ،مشرکوں وکافروں اورجاہل بے علموں جیسےلوگوں کی ہوتی ہےاورحق کواپنانے والے اورنیک لوگ ہرزمانے میں اقلیت ہی میں رہتے ہیں جیسا کہ رب العالمین نے فرمایا ’’ وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ ‘‘کہ میرے بندوں میں سے شکرگزاربندے کم ہی ہوتے ہیں۔(سبا:13)پتہ یہ چلاکہ بدعات وخرافات اورشرک وکفر کو ہمیشہ اکثرلوگ اپناتے ہیں اوراس کے مقابل سنت وتوحید کوہمیشہ بہت ہی کم لوگ اپناتے ہیں،لہذا اہل بدعت کا یہ کہنا کہ یہ کام تو ساری دنیا میں ہورہاہے اسی لئے ایسا کرنا صحیح ہے یہ محض عبث وبیکار اورکج فہمی کی علامت ونشانی ہے۔
7۔میری نیت تو اچھی ہے اس میں برائی ہی کیا ہے؟
اہل بدعت اپنی بدعت کو ثابت کرنے کے لئے ایک اور بات کا سہارا لیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اس میں غلط کیا ہے؟ہماری نیت تو اچھی ہے اس میں برائی کیا ہے؟ ہم تو قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں ،ہم تو اللہ کا ہی ذکر کررہے ہیں ،اسی طرح سے میلاد کے موقعے سے اہل بدعت یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم تو مناقب وفضائل رسول ﷺبیان کرتے ہیں؟درود کی محفلیں سجاتے ہیں؟تو کیا یہ سب کرنا غلط اور گناہ ہے؟تو اس کا جواب سنئے دراصل اس طرح کے جملوں سے عوام کو دھوکا دیا جاتاہے اورلوگوں کے دینی جذبوں سے فائدہ اٹھاکر انہیں بیوقوف بنایاجاتاہے،سن لیجئے اور اچھی طرح سے یادرکھ لیجئے کہ ہروہ کام جو نبیﷺ کے بتائے ہوئے قول وفعل سے ثابت نہ ہووہ مردود ہے گرچہ وہ کتنا ہی ا چھا کیوں نہ ہو!جونبی اور صحابہ سے ثابت نہیں اس کا کرنا گناہ ہے گرچہ ساری دنیا اس کی تعریف کرے اور اسے اچھا کہے!جولوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری نیت تو اچھی ہے ،اس میں برائی ہی کیا ہے؟ ایس کرنے میں کیا گناہ ہے؟ توایسے لوگوں کو میں سب سے پہلے ایک حدیث سنانا چاہتا ہوں جس کے اندر اسی بات کا ذکر ہے کہ کچھ صحابۂ کرام نے بہت ہی زیادہ نیکی کرنے کا ارادہ کیا اور نماز وروزے کو اختیارکرنے کی بات کہی تھی مگر حبیب کائنات ﷺ نے انہیں کیاکہاتھا ذرا سنئے،سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ تین صحابۂ کرامؓ(سیدنا علیؓ،سیدناعبداللہ بن عمروبن عاصؓ اور سیدنا عثمان بن مظعونؓ)امہات المومنین والمومنات میں سے کسی کے پاس گئے اور ان سے آپﷺ کی عبادتوں اورریاضتوں کے بارے میں پوچھا تو جب انہیں آپﷺ کی عبادتوں وریاضتوں کے بارے میں بتائی گئی تو انہوں نے اسے کم سمجھا اورحیران وپریشان ہوکرکہا کہ ہم کہا ں اور آپﷺ کہاں ’’ وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ‘‘ ہماراآپﷺ سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی وپچھلی لغزشوں کو معاف کردیاگیاہے(جب آپﷺ اتنی زیادہ عبادت وبندگی کرتے ہیں تو ہمیں کتنی کرنی چاہئے)یہ کہہ کر ان میں سے ایک نے کہا کہ ’’ أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا ‘‘ اب سے میں تو رات بھر نماز پڑھتارہوں گا اور کبھی نہیں سوؤں گا اور دوسرے نے کہا کہ ’’ أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلاَ أُفْطِرُ ‘‘ اب سے میں بھی ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی افطار نہیں کروں گا ،اب تیسرے صحابی نے کہا کہ ’’ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا ‘‘ میں عورتوں سے کنارہ کشی اختیارکرتاہوں اور کبھی نکاح وغیرہ کے جھمیلے میں نہیں پڑوں گا،اور کسی نے یہ بھی کہاتھا کہ ’’ لَا آكُلُ اللَّحْمَ ‘‘ اب سے میں گوشت وغیرہ بھی نہیں کھاؤں گا،ذراغور سے سنتے جانا میرے دوستو کہ ان صحابۂ کرام نے کتنا اچھا اورنیکی کا ارادہ کیا مگر ذرا یہ بھی یاد رکھ کرجانا کہ جب آپﷺ کو اس بات کی جانکاری دی گئی کہ انہوں نے ایسا اور ایسا کہا ہے توآپ ﷺ نے کیاکہاتھا!جب آپﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپﷺ نے انہیں بلایا اور پوچھا کہ کیا تمہیں لوگوں نے ایسا اورایسا کہا ہےاورپھرآپﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں کوکیا ہوگیا ہے کہ وہ اس طرح کی باتیں کہتے اور سوچتے ہیں،اے لوگوسن لو ’’ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ‘‘ خبردار! اللہ کی قسم ! میں تم سب سے کہیں زیادہ اللہ سے ڈرنے والاہوں،میں تم سب سے کہیں زیادہ متقی وپرہیزگارہوں لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطاربھی کرتاہوں ،نمازیں بھی پڑھتاہوں اور راتوں میں سوتابھی ہوں اور میں نے نکاح بھی کررکھے ہیں اسی لئے یہ بات یادرکھ لو!’’ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ‘‘ جو میرے طریقے سے ہٹا وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔(بخاری:5063 ،مسلم:1401)دیکھا اورسنا آپ نے کتنا اچھا اورنیکی کا ارادہ انہوں نے کیا تھا مگر آپﷺ نے انہیں کتنا سخت ڈرایا اوردھمکایاکہ اگرمیرے راستے سے ہٹوگے توپھر کہیں کے نہیں رہوگے،پتہ یہ چلاکہ کوئی کام کتنااچھا اور نیک ہی کیوں نہ ہو اگر اس پر مدینے والے کا فرمان نہیں تو وہ مردوداور باعث عذاب ہے۔
جولوگ کسی بھی بدعت کو ثابت کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ یہ تو بہت اچھا کام ہے ،نیکی کا کام ہے تو ایسے لوگوں کومیں ایک اور حدیث سنادینا چاہتاہوں تاکہ حق واضح ہوجائے ،سنن دارمی حدیث نمبر 210 کی یہ روایت ہے اور اس حدیث کو علامہ البانیؒ نے صحیح کہا ہے حضرت عمرو بن سلمہ ہمدانیؒ کہتے ہیں ہم اکثروبیشتر فجر کی نماز سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے دروازے پر بیٹھ جایاکرتے اور پھر ان کے ساتھ ہی مسجد کی طرف نکلا کرتے تھے،ایک دن ایسا ہوا کہ سیدنا ابوموسی اشعریؓ آئے اور وہ بھی ابن مسعودؓ کے انتظارمیں بیٹھ گئے جیسے ہی ابن مسعودؓ اپنے گھر سے نکلے تو ان سے ابوموسی اشعریؓ نے کہا کہ اے ابوعبدالرحمن ’’ إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ آنِفًا أَمْرًا أَنْكَرْتُهُ وَلَمْ أَرَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ إِلَّا خَيْرًا ‘‘ میں نے مسجد میں ابھی ابھی ایک کام دیکھا ہے جومجھے برامعلوم ہورہاہے اور اللہ کا شکر ہے کہ میں نے اچھا اور بہترہی دیکھا ہے،حضرت ابن مسعودؓ نے پوچھا کہ ویسا آپ نے کیا دیکھا ہے؟تو ابوموسی اشعریؓ نے کہا کہ میں نے یہ دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو حلقوں کی شکل میں مسجد میں بیٹھے نماز کا انتظار کررہے ہیں، اور ہرحلقے میں ایک آدمی ہے جس کے ہاتھ میں کنکریاں ہیں اور وہ لوگوں کو کہتاہے کہ 100 سوبار اللہ اکبر پڑھو تو لوگ 100سو باراللہ اکبر پڑھتے ہیں،پھر وہ کہتاہے کہ 100سوبار لاالہ الااللہ پڑھو تو وہ لوگ 100 سوبار لاالہ الا اللہ پڑھتے ہیں ،پھر وہ کہتا ہے کہ 100سوبار سبحان اللہ پڑھو تو وہ لوگ 100 سوبارسبحان اللہ پڑھتے ہیں ،یہ سن کر ابن مسعودؓ نے ابوموسی اشعریؓ سے پوچھا کہ آپ نے انہیں کچھ کہا نہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کے رائے کا انتظارکرتے ہوئے انہیں کچھ نہیں کہا ،تو ابن مسعودؓ نے کہا کہ آپ انہیں اس بات کو حکم دیتے کہ وہ(اس طرح سے نیکیوں کوشمار نہ کرکے) اپنے گناہوں کا شمارکریں اور آپ انہیں اس بات کی ضمانت دیتے کہ تمہاری نیکیوں میں سے کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی،بہرحال جب سب کے سب مسجد میں پہنچے تو انہوں نے بھی لوگوں کو ویسا ہی کرتے ہوئے پایاتو ابن مسعودؓ نے پوچھا کہ ’’ مَا هَذَا الَّذِي أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَ ‘‘ یہ تم لوگ کیا کررہے ہو؟ توانہوں نے کہا کہ اے ابوعبدالرحمن! ہم ان کنکریوں کے ساتھ اللہ اکبر ،لاالہ الا اللہ اور سبحان اللہ کو شمار کررہے ہیں،یہ سن کرابن مسعودؓ نے ان سے کہا کہ ایساکرنے کے بجائے تم سب اپنی برائیوں کو شمارکرو اور میں تمہیں اس بات کی گارنٹی دیتاہوں کہ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی،پھر ان سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایاکہ ’’ وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ هَؤُلَاءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ ‘‘افسوس ہے تم پر اے امت محمدیہ!تم کتنی جلدی ہلاکت وبربادی کے طرف چل دئے،ابھی تو تمہارے درمیان بکثرت آپﷺ کے اصحاب موجود ہیں اور ابھی تو آپﷺ کے کپڑے بھی بوسیدہ نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی ابھی آپﷺ کابرتن ٹوٹاہے ،’’ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِيَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَةٍ ‘‘قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یا توتم ایسے بدعت والے طریقے پر ہو جس میں محمدﷺ کے طریقے سے زیادہ ہدایت ہے یا پھرتم نے گمراہی کا دروازہ کھولا ہے،ایسا سننے کےبعد ان لوگوں نے جواب دیا کہ’’ وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَيْرَ ‘‘ اے ابوعبدالرحمن ہم نے تو بس خیروبھلائی کا ہی ارادہ کیا تھا،ایسا سننے کے بعد جو ابن مسعودؓ جواب دیا وہ ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے انہوں نے کہا کہ ’’ وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ ‘‘ بہت سارے لوگ نیکی کا ارادہ تو کرتے اوررکھتے ہیں مگر انہیں نیکی حاصل نہیں ہوتی ہے۔۔۔(سنن دارمی:210،الصحیحۃ:2005)دیکھا اورسنا آپ نے کہ ایک نیکی کا کام ہورہاتھا مگر وہ نیکی کاکام رسولﷺ کے طریقے وسنت کے موافق نہیں تھا جس کی وجہ سے ہی ابن مسعودؓ نے انہیں کھراکھوٹاسنایا اور کہا کہ یہ نیکی نہیں بلکہ گمراہی ہے،ذراغورکیجئے کہ جب اس طرح سے اللہ کا ذکرکرنا نیکی نہیں ہے توپھر جو کچھ بھی لوگ دین اور سنت کے نام پر آج کل کررہے ہیں وہ دین کیسے ہوسکتاہے،اس لئے اے میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اوربہنو!یہ یادرکھ لو کہ اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہر اچھے مقصد کے لئے اپنی مرضی کا طریقہ بنالیا جائے بلکہ اسلام ہمیں یہ سکھاتاہے کہ عمل کے درست ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ عمل رسول اللہﷺ کے طریقے کے مطابق ہو۔
حرف آخر:
آخر میں یہی کہوں گا کہ نام بدلنے سےحقیقت نہیں بدلتی،کثرت عمل سے سنت ثابت نہیں ہوتی ،اچھی نیت سے غیرثابت شدہ عمل وطریقہ سنت نہیں بن جاتااور کسی بزرگ کی نسبت سے کوئی عمل شریعت میں ثابت نہیں ہوجاتا،لہذا اے میرے بھائیو اور بہنو! حیلوں اور بہانوں کے پیچھے چلنے کے بجائے قرآن وسنت کو اپناؤ،اپنی محبت کو اتباع رسول کے ساتھ جوڑو،اپنی عبادت کو سنت کے مطابق انجام دو کیونکہ عبادت اپنی خواہش سے نہیں ،شریعت کی رہنمائی سے ہوتی ہے اور جو چیز اللہ اور اس کے رسولﷺ نے دین بناکر ہمیں دے دی ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے۔ہمیں یہ نہیں دیکھنا ہے کہ کون کررہاہے بلکہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ رسول اللہﷺ نے کیاہے یا نہیں۔
اب آخر میں اللہ رب العزت سے دعاگو ہوں کہ اے بارالہ تو ہم سب کو ہمیشہ اپنے نبی کی سنتوں پر قائم رکھنا اور ہرطرح کی بدعات وخرافات سے تو ہمیں بچا کررکھنا۔آمین۔ثم آمین یا رب العالمین
کتبہ
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
امام وخطیب مرکز مسجداہل حدیث۔فتح دروازہ۔آدونی
ناظم جامعہ ام القری للبنین والبنات۔آدونی۔ضلع کرنول۔آندھراپردیش
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
امام وخطیب مرکز مسجداہل حدیث۔فتح دروازہ۔آدونی
ناظم جامعہ ام القری للبنین والبنات۔آدونی۔ضلع کرنول۔آندھراپردیش
اٹیچمنٹس
-
999.6 KB مناظر: 3