- شمولیت
- اگست 28، 2019
- پیغامات
- 76
- ری ایکشن اسکور
- 12
- پوائنٹ
- 56
بسم اللہ الرحمن الرحیم
گرمی اور جہنم
گرمی اور جہنم
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:
1۔ گرمی کیوں لگتی ہے؟
محترم سامعین!مئی کا مہینہ شروع ہوچکا ہے اورگرمی اپنے چرم سیما پر ہے،پورے ملک میں جگہ جگہ پر تپمان اوردھوپ کی شدت40/ڈگری سے لے کر 45 ڈگری بلکہ جگہ جگہ پر اس سے بھی زیادہ50/ڈگری تک پہنچ چکی ہے،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس گرمی سے ہرمخلوق بے حال و بدحال اورپریشان ہے،اسی لئے آج کے خطبۂ جمعہ کے لئے میں نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے وہ ہے ’’ گرمی اور جہنم ‘‘ میرے دوستو! اگر میں آپ سے یہ پوچھوں کہ بھائی کیا آپ کو پتا ہے کہ یہ گرمی کیوں ہوتی ہے؟ توآپ فوراً کوئی ظاہری سائنسی وجوہات بتانا شروع کردیں گے کہ دنیا میں (Air Pollution) یعنی فضائی اورہوائی آلودگی زیادہ ہوگئی ہے اس وجہ سے گرمی بڑھ رہی ہے ،کوئی کہے گا کہ اب دنیا میں درخت وجھاڑ وغیرہ دھیردھیرے کم ہوتے جارہے ہیں اسی لئے گرمی دن بدن بڑھتی جارہی ہے،الغرض ہرکوئی اپنے اپنے علم کے مطابق اس گرمی کی وجہ بتانا شروع کردے گا،مگر کائنات کے رب کی قسم!یہ ظاہری سائنسی اسباب ووجوہات غلط بھی ہوسکتی ہیں کیونکہ سائنسدان لوگ تو ہردس ،بیس سال میں اپنی تحقیقات میں بدلاؤ لاتے ہی رہتے ہیں،کبھی کچھ کہتے ہیں تو کبھی کچھ اور ہی کہتے ہیں مگرکیا آپ کو معلوم ہے کہ اس گرمی کے بڑھنے کا ایک ایساغیبی سبب بھی ہے جس کے سچ ہونے میں کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے کیونکہ اس کی خبر اس دنیا کے آخری رسول جناب محمدعربیﷺ نے دی ہے،ساری دنیا جھوٹی ہوسکتی ہے مگر ہمارے نبیﷺ کی بات جھوٹی ہوہی نہیں سکتی ہے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہمارے نبیﷺ نے گرمی کے بڑھنے کی کیا وجہ بتائی ہے تو پھر سن لیجئے حدیث،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ محسن انسانیت ونبیٔ رحمت للعالمینﷺ نے فرمایا کہ ’’ اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ‘‘جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی’’ رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ‘‘ کہ اے میرے رب میرا ایک حصہ، میرے دوسرے حصے کو کھائے جارہاہے’’ فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ ‘‘تو اللہ رب العالمین نے جہنم کو سال میں دومرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی’’ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ‘‘ایک سانس سردیوں میں (اندرکی طرف) اور ایک سانس گرمیوں میں (باہرکی طرف)پھرآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ ‘‘ تم لوگ گرمیوں میں جو شدید گرمی محسوس کرتے ہو وہ اسی جہنم کی سانس کی وجہ سے ہے اور سردیوں میں جو شدید ترین سردی تم محسوس کرتے ہو وہ بھی اسی جہنم کی سانس کی وجہ سے ہی ہے۔(بخاری:3260)
2۔دنیاوآخرت میں سورج کی دوری اور لوگوں کی حالتیں:
محترم سامعین وسامعات!
سنا آپ نے کہ یہ گرمی،جہنم کےسانس کی وجہ سے ہوتی ہے کہ جب جہنم باہر کی طرف سانس چھوڑتی ہے تو زمین پر گرمی زیادہ لگتی ہےتو گویا کہ یہ گرمی اور دھوپ کی شدت وتمازت ہمیں جہنم کی یاددلاتے ہوئے بزبان حال یہ پیغام دے رہی ہوتی ہے کہ اے لوگوں!ذرا سوچو کہ آج جب سورج زمین سےتقریباً 14/کروڑ 96 لاکھ کلو میٹرجو کم وبیش 149.6 ملین کلو میٹر کی دوری پر ہے مزید یہ کہ سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں تقریبا 8/ منٹ اور 19/20 سیکنڈ لگتے بھی ہیں تو گرمی کا یہ عالم ہے اورتم اس گرمی سے بے حال و بدحال اورپریشان ہورہے ہواورہوجاتے ہوتوذرا یاد کرو کہ کہ اُس دن تمہاری کیاحالت ہوگی اورتمہاری کیا درگت بنے گی جس دن سورج بالکل ہی قریب ٹھیک تمہارےسرکے اوپر ہوگا ،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اُس دن سورج ہم سے کتنا قریب اورکتنا نزدیک ہوگا تو پھرفرمان مصطفی ﷺ سن ہی لیجئے،سیدنا مقداد بن اسودؓ بیان کرتے ہیں کہ حبیب کائنات ومحبوب خداﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ ‘‘ قیامت کے دن سورج کو مخلوق کے نزدیک کردیا جائے گا ،کتنا نزدیک کردیا جائے گا ؟آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ ‘‘یہاں تک کہ سورج صرف ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا!راویٔ حدیث حضرت سُلَیْم بن عامرؒ کہتے ہیں کہ ’’ فَوَاللهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ ‘‘اللہ کی قسم! مجھے یہ نہیں معلوم کہ اس میل سے کیا مراد ہے؟’’ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ أَمِ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ ‘‘آیا اس سے مراد زمین کی ایک مسافت مراد ہے یا پھر وہ سلائی جس سے آنکھوں میں سرمہ لگاتے ہیں!پھرآگے آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ ‘‘تمام لوگ اپنے اپنے اعمال کے بقدر پسینے میں شرابور ہوں گے،چنانچہ ’’ فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ ‘‘ ان میں سے بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا، ’’ وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ‘‘ اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے گھٹنوں تک پسینہ ہوگا،’’ وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ ‘‘اور بعض لوگ وہ ہوں گے جو کمر تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے، اور’’ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا ‘‘ بعض لوگ تو ایسے بھی ہوں گے جن کے لئے ان کا پسینہ ہی لگام بن جائے گا۔(مسلم:2864)یعنی کہ کچھ لوگوں کو پسینہ تو ان کے منہ تک پہنچ جائے گا۔اور ایک دوسری حدیث کے اندر ہے ،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، آپﷺ نے فرمایاکہ’’ يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ القِيَامَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِي الأَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا وَيُلْجِمُهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ ‘‘قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہوجائیں گے اور حالت یہ ہوجائے گی کہ ان کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا۔(بخاری:6532،مسلم:2863)اورایک تیسری حدیث کےاندر ہے،سیدناابن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا’’ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ العَالَمِينَ ‘‘جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔(المطففین:6)تو’’ حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ‘‘اس دن کچھ لوگ اپنے پسینے میں اپنے کانوں کے درمیان تک چھپ جائیں گے۔ (بخاری:4938،مسلم:2862)اللہ اکبرکبیرا! میرے دوستو!ذرا سوچوکہ آج جب ہمیں دھوپ کی شدت محسوس ہوتی ہے تو ہم اے سی اورکولریاپھر کم از کم پنکھے کے سامنے بیٹھ جاتے جس کی وجہ سے ہماری گرمی بھی دورہوجاتی ہے اورہم آرام وسکون بھی محسوس کرتے ہیں مگر جب اس دن ہمیں گرمی لگے گی تو ہم کدھر جائیں گے؟جس دن سورج بالکل ہی سر کے اوپر صرف اورصرف ایک میل کے فاصلے پر ہوگا!وہاں تو آرام وسکون پانے کے لئے یہ ساری چیزیں بھی مہیا نہ ہوں گی!
محترم بزرگوں اور دوستو!
آج تواس دھوپ کی شدت وتمازت اورگرمی سے بچنے کے لئےہمارے گھروں میں اے سی ہے،کولر ہے،ٹھنڈا ٹھنڈا پانی پینے کے لئےفریج بھی ہے،یاپھر کم ازکم ٹھنڈا پانی پینے کے لئے مٹی کا گھڑا ومٹکا ہی ہے،مزید یہ کہ آج ہمارے پاس اس گرمی سے بچنے کے لئے گھرومکان ہے،چھت ہے،کپڑے بھی ہیں مگر پھر بھی ہم اس گرمی سے بدحال اور پریشان ہیں،ذرا سوچئے کہ اس دن ہمارا کیا بنے گا جس دن ایک توسورج بالکل ہی سرکے اوپر صرف اور صرف ایک میل کے فاصلے پر ہوگامزید یہ کہ اس دن دھوپ کی شدت وتمازت سے بچنے کےلئے ہمارے پاس نہ تو گھرومکان ہوں گے اور نہ ہی کوئی چھت ہوگا اور نہ ہی ہمارے جسموں پر کوئی لباس ہوگا!جیسا کہ اماں عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آقائے دوجہاں جناب محمدعربیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ‘‘ لوگوں کو ننگے پاؤں،ننگے بدن اور بغیر ختنہ کئے میدان محشر میں جمع کیا جائے گا،امی عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ ’’ يَا رَسُولَ اللهِ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ‘‘اے میرے آقاﷺ پھر تو مردوخواتین ایک دوسرے کو برہنہ دیکھ لیں گے،یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ يَا عَائِشَةُ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ‘‘ اےمیری پیاری عائشہ!وہاں معاملہ بہت سخت ہوگا اور لوگوں کے ذہن ودماغ میں یہ خیال ہی نہ آئے گا کہ وہ ایک دوسرے کے طرف دیکھیں۔(مسلم:2859،بخاری:6527)اللہ اکبر!سناآپ نے کہ میدان محشر کا معاملہ اتنا خطرناک اور اتناسخت ہوگا کہ لوگوں کو اس بات کی فکرہی نہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے کے طرف دیکھیں جب کہ مردوخواتین بغیرلباس کے ہوں گے،میرے دوستو!سوچو!غوروفکرکرو کہ اس دن کی گرمی سے ہم کیسے بچ پائیں گے؟ آج اس گرمی سے بچنے کے لئے ہمارے پاس ہزارروں چیزیں مہیا اور دستیاب ہیں،آج گرمی سے بچنے کے لئے ہمارے پاس لباس بھی ہے،جوتے اور چپل بھی ہے،سرپر رکھنے کے لئے ہیٹ اورکیپ بھی ہے،گھرو مکان اور چھت بھی ہے،ٹھنڈی چھاؤں بھی ہے،اے سی اورکولر بھی ہے،ٹھنڈی ٹھنڈی قدرتی ہوا بھی ہے،صبح وشام بھی ہےاور دن ورات بھی ہے جس سے ہمیں گرمی سے راحت مل جاتی ہے مزید یہ کہ یہ گرمی کے ایام دوچارمہینے میں ختم بھی ہوجاتے ہیں ،مگر کیا ہم نے اپنے آپ کو اس جگہ کی گرمی سے بچانے کی کوشش کی ہے جس جگہ پر گرمی سے بچنے کے لئے نہ تو چھاؤں ہوں گے اور نہ ہی کوئی چھت ہوگا، نہ توجسم پر کوئی لباس ہوگااور نہ ہی پاؤں میں جوتے چپل ہوں گے،نہ تو ٹھنڈی ہوائیں ہوں گی اور نہ ہی موسم کی تبدیلی کا کوئی امکان ہوگا،قرآن یہ گواہی دے رہاہے کہ اس دن کی حالت کو دیکھ کر ’’ يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ، كَلَّا لَا وَزَرَ ‘‘اس دن انسان كهے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟نہیں نہیں کوئی پناہ گاہ نہیں۔(القیامۃ:10-11)اللہ کی پناہ!
3۔جہنم کی آگ کیسی ہے؟
میرے اسلامی بھائیو اور بہنو!!ذرا سوچواور غوروفکرکرو کہ آج اتنی ساری سہولیتوں کے باوجود ہم اس معمولی 40/45/50/ڈگری والی گرمی سے پریشان اور بے حال وبدحال ہوجاتے ہیں تو اس جگہ کی گرمی میں ہماری کیا حالت ہوگی اورہماری کیادرگت بنے گی جس جگہ کی گرمی کی شدت اس دنیا کی آگ سے 69 گنا زیادہ ہے جیسا کہ محسن انسانیت ،رحمۃ للعالمین جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ نَارُكُمْ هَذِهِ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ ‘‘تمہاری یہ دنیا کی آگ جسے انسان جلاتاہے جہنم کی آگ کی گرمی کا سترہواں حصہ ہے،صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا کہ ’’ وَاللهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً يَا رَسُولَ اللهِ ‘‘اللہ کی قسم!اے اللہ کے نبیﷺ! انسانوں کو جلانے کے لئے تو بس یہی دنیا کی آگ ہی کافی تھی،یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهَا مِثْلُ حَرِّهَا ‘‘لیکن وہ تو دنیا کی آگ سے انہتر/69 درجہ زیادہ گرم ہے اور اس کا ہرحصہ اس دنیا کی آگ کے برابر گرم ہے۔(مسلم:2843)اللہ کی پناہ!ذرا سوچومیرے بھائیواور بہنو!انسانوں کو جلانے کے لئے تو یہی دنیا کی آگ کافی تھی مگر وہ جہنم کی آگ کیسی آگ ہے جو دنیا کی آگ سےانہتر/69 درجہ زیادہ گرم ہے،اللہ کی قسم!صحابۂ کرام نے بالکل ہی سچ کہا تھا کہ انسانوں کو جلانے کے لئے تو بس یہی دنیا کی آگ ہی کافی ہے مگر اللہ رب العزت نے بدکاروں اورسیہ کاروں کے لئے وہ کیسی آگ تیار کررکھی ہےجو دنیا کی آگ سے کہیں زیادہ تکلیف دینے والی ہے،اللہ کی پناہ!! مزید یہ کہ وہ آگ دنیا کی آگ کی طرح سرخ بھی نہیں ہے بلکہ اس کی رنگت تو بالکل ہی کالی کلوٹی ہےجیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں ’’ أَتَرَوْنَهَا حَمْرَاءَ كَنَارِكُمْ هَذِهِ لَهِيَ أَسْوَدُ مِنَ الْقَارِ ‘‘کہ کیا تم جہنم کی آگ کو دنیا کی آگ کی طرح لال سمجھتے ہو ؟وہ تو تارکول سے بھی زیادہ سیاہ ہے۔(مؤطا امام مالک:2/994)اللہ کی پناہ!اے ہمارے رب تو ہم سب کو اس جہنم سے محفوظ رکھنا۔آمین
4۔جہنم کیا ہے ؟اورجہنم میں لوگوں کا جسم کیسا ہوگا؟
میرے دوستو!یہ جہنم کیا ہے؟اللہ جباروقہار نے اس کا تعارف دیتے ہوئےکہا کہ اے لوگوں سن لو!یہ جہنم ’’ نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ،الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ ‘‘وہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی،جودلوں پر چڑھتی چلی جائے گی۔(الھمزۃ:6-7)ایک دوسری جگہ اللہ جبار وقہار نے کہا کہ یہ جہنم’’ نَارٌ حَامِيَةٌ ‘‘ وہ تندوتیز آگ ہے۔(القارعۃ:11)اور ایک تیسری جگہ اللہ جباروقہار نے کہا کہ یہ جہنم ’’ إِنَّهَا لَظَى،نَزَّاعَةً لِلشَّوَى ‘‘ یقیناً وہ شعلے والی آگ ہے،جومنہ اور سر کی کھال کھینچ لانے والی ہے۔(المعارج:16-17)انسان کو ایسا محسوس ہوگا کہ اب ہمیں موت آجائے گی مگرہائے افسوس !!وہاں موت کہاں ہوگی !وہاں تو موت کو ہی موت آ چکی ہوگی، اللہ نے فرمایاکہ جہنمیوں کو’’ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ‘‘ہرجگہ سے موت آتی دکھائی دے گی لیکن وہ مرنے والا نہیں ہوگا۔(ابراہیم:17) ’’ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى ‘‘جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جئے گا(بلکہ حالت نزع میں پڑا رہے گا۔(الاعلی:13)وہاں تو جیسے ہی انسان کا ایک چمڑہ جلے گاپھر سےاللہ نیا چمڑا پیداکردے گا جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ‘‘ جب ان كي كھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں۔(النساء:56)صرف یہی نہیں کہ اللہ رب العزت جہنمیوں کے جسم وبدن پر نیاچمڑا پیداکردے گا بلکہ جہنمیوں کے جسموں اوربدنوں اور کھالوں اورچمڑوں کو بھی اللہ رب العزت خوب موٹا تازہ کردے گا جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ’’ إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الكَافِرِ اثْنَتَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا ‘‘جہنم میں کافرکی کھال کی موٹائی بیالیس 42/ہاتھ ہوگی،جوتقریباً 63 فٹ ہوتی ہے،اور’’ وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ ‘‘اورایک دانت احد پہاڑ کے برابر ہوگا ’’ وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالمَدِينَةِ ‘‘اوراس کے بیٹھنے کی جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیانی فاصلہ کے برابرہوگی۔(ترمذی:2577،اسنادہ صحیح) یعنی کہ جہنم میں ایک انسان کی بیٹھنے کی جگہ تقریباً 440 کلو میٹرکی دوری کے برابر ہوگی ۔اللہ کی پناہ!اور ایک دوسری روایت کے اندرہے،آپﷺ نے فرمایا کہ جہنم میں كافر كي دانت ياپھر اس کی کچلی والی دانت احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور’’ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ ‘‘اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی۔(مسلم:2851)اور ایک تیسری روایت کے اندر ہے آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ ‘‘قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابرہوگی اور ’’ وَعَرْضُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ‘‘اس کے چمڑے کی موٹائی ستر70/ہاتھ یعنی تقریبا سو100/فٹ ہوگی،’’ وَعَضُدَهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءَ ‘‘ اور اس کا بازو بیضاء پہاڑکے برابر’’ وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ ‘‘ اور ران ورقان پہاڑ کے برابر ہوگی،’’ وَمَقْعَدُهُ فِیْ النَّارِ مِثْلُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ الرَّبَذَةِ ‘‘اور اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہوگی جتنی میرے اور ربذہ گاؤں کے درمیان فاصلہ ہے۔(الصحیحۃ:1105)اورایک چوتھی روایت کے اندر ہے کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَا بَيْنَ مَنْكِبَيِ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ ‘‘ کہ جہنم میں کافر کے دونوں کندھوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا کہ ایک سوارسب سے تیزسواری پر تین دن کی مسافت طے کرسکے۔(مسلم:2852،بخاری:6551)دیکھااورسنا آپ نے کہ جہنمیوں کے جسموں کے ہراعضاء وجوارح کو کتنا بڑا بڑا کردیاجائے گااور یہ صرف اورصرف اس لئے ہوگا تاکہ لوگوں کو جہنم میں زیادہ سے زیادہ عذاب دیا جائے۔
5۔جہنم میں کیسے کیسے عذاب ہوں گے:
اور میرے بھائیو اور بہنو! عذاب بھی کیسے کیسے عذاب ہوں گے!اللہ کی پناہ!انسان تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ وہاں پر کیسے کیسے عذاب ہوں گے،طرح طرح کے عذاب اور سزاؤں کو دیکھ کرکے جہنمیوں کی کیا حالت ہوگی اس کا اندازہ آپ صرف اس بات سے لگاسکتے ہیں، آپﷺ نے فرمایاکہ ’’ إِنَّ أَهْلَ النَّارِ لَيَبْكُونَ فِي النَّارِ حَتَّى لَوْ أُجْرِيَتِ السُّفُنُ فِي دُمُوعِهِمْ لَجَرَتْ ‘‘ بے شک کہ جہنمی اتنا روئیں گے کہ اگر ان کے آنسوؤں میں کشتیاں چلائی جائیں تو چلنے لگیں،’’ وَإِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ الدَّمَ يعني مكان الدمع ‘‘پھر رو رو کرکے جہنمیوں کے آنسوختم ہوجائیں گے تو جہنمی خون کے آنسو بہائیں گے یعنی جہنمیوں کے آنکھوں سے پانی کے بجائے خون نکلے گا ۔(الصحیحۃ:1679)اللہ کی پناہ!میں کیا بتاؤں کہ اس جہنم میں کیسے کیسے عذاب اللہ نے تیارکررکھے ہیں،کہیں اللہ نے فرمایا کہ’’عَذَابٌ عَظِيمٌ ‘‘جہنم میں بڑے بڑے عذاب ہیں،کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‘‘جہنم میں دردناک عذاب ہیں،کہیں اللہ نے فرمایا کہ’’عَذَابٌ مُهِينٌ ‘‘ جہنم میں رسواکرنے والا عذاب ہے،کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ عَذَابٌ شَدِيدٌ ‘‘جہنم میں نہایت ہی سخت عذاب ہے،کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ عَذَابٌ مُقِيمٌ ‘‘ جہنمیوں کے لئے دائمی اور ہمیشگی کا عذاب ہے،کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’عَذَابٌ غَلِيظٌ ‘‘جہنمیوں کے لئے سخت سے سخت عذاب ہے،الغرض اللہ جبار وقہار نے ہمیں یہ متنبہ کردیا ہے کہ اے لوگوں بس یوں سمجھ لو کہ جہنم میں ’’ عَذَابَ الْحَرِيقِ ‘‘ بس آگ ہی آگ کا عذاب ہے،وہاں تو اوڑھنا اور بچھونا بھی آگ کا ہی ہوگاجیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ‘‘جهنميوں کے لئے آگ کا ہی بچھونا ہوگا اور آگ کا ہی اوڑھنا ہوگا ۔(الاعراف:41)لباس بھی تو آگ ہی کا ہوگا جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ ‘‘پس کافروں کے لئے تو آگ کے کپڑے کاٹے جائیں گے اور ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا،’’ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ ‘‘جس سے ان کے پیٹ کی سب چیزیں اور کھالیں پگھل جائیں گی،’’ وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ ‘‘ اور ان کی سزا کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہیں،’’ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ ‘‘یہ جب بھی وہاں کے غم سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے وہیں لوٹادئیے جائیں گے اور کہاجائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھو۔(الحج:19-22)کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَى وُجُوهَهُمُ النَّارُ ‘‘جہنمیوں کے لباس گندھک کے ہوں گےاور آگ ان کے چہروں پر بھی چڑھی ہوئی ہوگی۔(ابراہیم:50) یعنی ہرطرف آگ ہی آگ ،اوپر بھی آگ،نیچے بھی آگ ، فرمان باری تعالی ہے’’ لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ‘‘ كه جهنميوں کو نیچے اوپر سے آگ کےشعلے سائبان کے مانند ڈھانک رہے ہوں گے۔(الزمر:16)اللہ کی پناہ! اے میرےرب تونے بدکاروں اور سیہ کاروں کے لئے وہ کیسی جگہ بنائی ہے جہاں سوائے آگ کے کچھ رکھا ہی نہیں ہے،اے رحمان ورحیم تو ہم سب کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھنا۔آمین
6۔جہنمیوں کا کھانا پینا کیسا ہوگا؟
میرے دوستواور بھائیو اوربہنو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ جہنم میں اوڑھنا،بچھونا اور لباس یہ سب آگ ہی سے بنائے جائیں گے ،اب ذرا کھانے پینے کے بارے میں بھی تو سنئے کہ وہاں جہنمیوں کا کیا کھلایا اورپلایاجائے گا،فرمان باری تعالی ہے ’’ مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ ‘‘اس کے سامنے دوزخ ہےجہاں وہ پیپ کا پانی پلایاجائے گا،’’ يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ ‘‘جسے بمشکل گھونٹ گھونٹ پیے گا،پھر بھی اسے گلے سے اتار نہ سکے گا۔(ابراہیم:16-17)کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ ‘‘اورنہ سوائے پیپ کے اس کی کوئی غذا ہے،’’ لَا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ ‘‘جسے گناہ گاروں کے سواکوئی نہیں کھائے گا۔(الحاقہ:36-37) کہیں اللہ جبار وقہار نے فرمایا کہ ’’ تُسْقَى مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ ‘‘ انهيں نہایت گرم چشمے کا پانی پلایا جائے گا ،اللہ کی پناہ!کتنا گرم ہوگا ؟سنئے اللہ نے کیا کہا،فرمایا ’’ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ ‘‘اورجنہیں گرم کھولتاہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔(محمد:15)ايك دوسري جگہ اللہ نے فرمایا کہ ’’ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ ‘‘ یادرکھوکہ سرکشوں کے لئے بڑی بری جگہ ہے،’’ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ ‘‘دوزخ ہے جس میں وہ جائیں گے،آہ! کیا ہی برا بچھونا ہے،’’ هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ ‘‘یہ ہے،پس اسے چکھیں،گرم پانی اور پیپ،’’ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ ‘‘ اورکچھ اور اسی طرح کی طرح طرح کی چیزیں (ہوں گی جہنم میں )۔(ص:55-58)ان آیتوں میں اللہ جبار وقہار نے کہا کہ جہنمیوں کو پینے کے لئے غساق دیا جائے گا یعنی کہ جہنمیوں کے بدن وکھالوں سے رسنے والا خون وپیپ ہی جہنمیوں کو پینے کےلئے دیا جائے گا،اللہ کی پناہ!پانی تو اتنا خطرناک ہوگا اورکھانا جہنمیوں کو کیسا ملے گا ،سنئے فرمان باری تعالی ہے’’ لَيْسَ لَهُمْ طَعامٌ إِلاَّ مِنْ ضَرِيعٍ ‘‘ان کے لئے سوائے کانٹے دار درختوں کے اورکچھ کھانا نہ ہوگا،’’ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ ‘‘ جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے۔(الغاشیۃ:5-7)کہیں اللہ جبار وقہار نے فرمایا کہ ’’ إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ ، طَعَامُ الْأَثِيمِ ‘‘بے شک تھوہرکا درخت، گناہ گار کا کھانا ہے،’’ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ ،كَغَلْيِ الْحَمِيمِ ‘‘جومثل تلچھٹ کے ہے اورپیٹ میں کھولتا رہتاہے،جیسے سخت گرم پانی کھولتاہے۔(الدخان:43-46)اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ زقوم کیا ہے؟توپھر سنئے حدیث ،سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي دَارِ الدُّنْيَا لَأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعَايِشَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ تَكُونُ طَعَامَهُ ‘‘ یہ زقوم یعنی تھوہر کا درخت اتنا خطرناک ہے،اتنا خطرناک ہےکہ اگر تھوہر کا ایک قطرہ دنیا میں گرا دیاجائے تو ساری دنیا یعنی تمام مخلوق کے کھانے پینے کی چیزوں کو تباہ وبرباد کردے،پھر اس شخص کا کیا حال ہوگا جس کا کھانا پینا ہی تھوہر ہوگا۔(صحیح الجامع للألبانیؒ:5250)الغرض جہنمیوں کو جہنم سے کسی بھی ناحیے سے چین وسکون نہ ملے گا ،بس اللہ رب العزت نے اتنا فرمادیا کہ اے لوگوں یاد رکھنا!’’ إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا ‘‘ بے شک دوزخ گھات کی جگہ ہے۔’’ لِلطَّاغِينَ مَآبًا،لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا ‘‘سرکشوں کا ٹھکانا وہی ہے،اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے،’’ لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا ،إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا ‘‘ نہ کبھی اس میں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے ،نہ پانی کا،سوائے گرم پانی اوربہتی پیپ کے۔’’ جَزَاءً وِفَاقًا ‘‘ان کو پورا پورا بدلہ ملےگا۔(النبا:21-26)
7۔جنت و جہنم کی سیر:
میرے دوستو!آج دنیا میں جب ہمیں پیاس لگتی ہے یاپھر گرمی کا احساس ہوتاہے تو ہم اے سی اور کولر کے سامنے میں بیٹھ کر اورطرح طرح کے مشروبات وماکولات سےاپنی پیاس کی شدت کو بجھالیتے ہیں اورگرمی کے احساس کو کم کرلیتے ہیں اورہمیں چین وسکون بھی مل جاتاہے مگر کیاکبھی ہم نے سوچا کہ جہنم کی پیاس اور جہنم کی گرمی سے اپنے آپ کو کیسے محفوظ کیاجائے؟سوچئے !غوروفکر کیجئے!اوراپنی حالتوں اور عادتوں بدل لیجئے اورنیک بن جائیے اس سے پہلے کہ بہت تاخیر ہوجائے،یہ دنیا توفانی ہے اوریہاں کی ہرچیز فانی ہے اوروہاں کی ہرچیز باقی رہنے والی ہے،دنیا کی ہرتکلیف اورہرغم وپریشانی کا ختم ہونا تو بالکل ہی یقینی امر ہے کہ آج نہیں توکل یہ ختم ہوجائیں گے مگر آخرت اورجہنم کی تکالیف اور سزاؤں کا کبھی خاتمہ ہی نہیں ہوگا،اورہاں میرے دوستو!ایک بات ہمیشہ یادرکھنا کہ اس دنیا کی تکالیف وپریشانیاں آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں،اگرآپ اس بات کا اندازہ لگاناچاہتے ہیں توپھر آئیے میں ایک حدیث سنا کر اپنی بات کو ختم کردیتاہوں،سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘کہ کل قیامت کے دن اہل جہنم میں سے ایک ایسے انسان کو حاضرکیاجائے گا جس نے دنیا میں عیش وآرام کی زندگی گذاری ہوگی ،اورپھر’’ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ‘‘اسے جہنم میں ایک ڈوبکی لگائی جائے گی،یعنی بس جہنم میں ڈال کر اسےنکالا جائے گا،پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ ’’ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ ‘‘ اے انسان کیا تو نے دنیا میں چین وسکون کو دیکھا؟’’ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ ‘‘اے انسان!کیاتونے دنیا میں عیش وآرام کو دیکھا؟اللہ اکبر!میرے دوستو!اب ذرا غورسے ایسے انسان کاجواب سنئے جو دنیا میں اپنی پوری زندگی عیش وعشرت میں گذاری ہوگی ،وہ کہے گا ’’ لَا وَاللهِ يَا رَبِّ ‘‘ نہیں!اے میرے رب!اللہ کی قسم میں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی عیش وآرام کو دیکھا ہی نہیں!پھرآگے آپﷺ نے فرمایا کہ’’ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‘‘اوراسی کے برعکس اہل جنت میں سے ایک ایسے انسان کو حاضرکیا جائے گا جس نے دنیا میں بڑی تکلیف سے زندگی گذاری ہوگی،’’ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ ‘‘اسے جنت کی سیر کرائی جائے گی اورپھر اس سے پوچھا جائے گا کہ ’’ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ ‘‘ اے انسان!کیا تو نے کبھی دنیا میں کوئی تکلیف دیکھی؟’’ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ ‘‘کیا تو نے کبھی دنیا میں کوئی غم والم اور پریشانی اٹھائی؟اللہ اکبر کبیرا!ذرا غورسے سنئے کہ ایسا انسان جس نے اپنی ساری زندگی دکھ ودرد ،غم والم اور پریشانی میں گذاری ہوگی وہ جنت کی ہواکھاکر کیا کہے گا؟وہ کہے گا کہ ’’ لَا وَاللهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ ‘‘نہیں!نہیں! اللہ کی قسم! اے میرے رب! میں نے تو دنیا میں کبھی کوئی غم دیکھی ہی نہیں!میں نے تو دنیا میں کبھی کوئی پریشانی اٹھائی ہی نہیں!(مسلم:2807)دیکھا اور سنا آپ نے کہ ایک انسان صرف چند لمحے جہنم کی وادیوں میں گذارنے کے بعد کس طرح سے اپنی دنیاوی زندگی کی تمام آسائشوں کو بھول جائے گا،اس لئے اے میرے بھائیو اور بہنو!اس دنیا کے دکھ ودرد اورغم والم کودورکرنے کے بجائے اس دکھ ودرد اور غم والم کو دور کرنے کی فکرمیں ہمیشہ رہاکروجس دکھ ودرد اور غم والم سے نجات ممکن نہیں ہوگی،اور یہ بات اپنے ذھن ودماغ میں بیٹھالوکہ آج دنیا کے ہردکھ ودرد کی دوا دنیا میں ہی موجود ہے مگر آخرت کے دکھ ودرد کی دوا وہاں موجود نہیں ہوگی بلکہ آج ہی اس دنیا میں ہی اس دکھ ودرد کی دوا ہمیں تیارکرلینی ہے،بہت افسوس کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑرہاہے کہ آج لوگوں کو ایران وازرائیل اور امریکہ کی بہت فکر ہے مگر اپنے گھر کی اور اپنی اولاد کی بالکل بھی فکرنہیں ہے،جس کو دیکھئے ایران وازرائیل اور امریکہ کے جنگوں پر فیصلہ صادرفرمارہاہے ایسا لگ رہاہے کہ یہی امریکہ وازرائیل اور ایران کا رہنما و لیڈراور ٹھیکدار ہے،ارے میرے بھائیو!اللہ ہم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ ایران وازرائیل میں جنگ کیوں ہورہی تھی؟اور کون حق پر تھا اور کون ظالم تھا؟مگر اللہ ہم سے یہ تو ضرورپوچھے گا کہ تم نے اپنی اور اپنی آل واولاد کی کیسی دیکھ ریکھ کی،اس لئے میرے بھائیو اور بہنو!دنیا کی چھوڑو اور اپنی فکر کرو اسی بات کا حکم دیتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ‘‘اے ایمان والو!تم اپنے آپ کو اوراپنے گھروالوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اورپتھر۔(التحریم:6)ذرا غورکیجئے کہ اللہ نے یہاں پر یہ نہیں کہا کہ اے لوگوں!اے کافروں!اے مشرکوں!اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ،بلکہ اللہ نے بلافاصلہ ڈائریکٹ ہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے مومنوں!اے ایمان والو!اے نمازیوں!اے اہل توحیدوں!اے مسلمانوں!جہاں تک ہوسکے،اپنی طاقت بھرتم اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ،اوراپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانا کتنا ضروری ہے اس کا اندازہ آپ صرف اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ‘‘ کہ اے لوگو! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ گرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرکے ہی کیوں نہ ہو۔(بخاری:1417،مسلم:1016)یعنی جیسے ہو اور جس طریقے سے ہو ،بس تم ہرطرح کے چھوٹے بڑے اعمال کو انجام دے کر کے اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچالو، ذرا سوچئے کہ آج جب کہ جہنم ہم سے کوسوں دور ہے تو اس کی صرف ایک گرم سانس کی وجہ سے ہماری یہ حالت ہے کہ ہم بے حال وبدحال اور پریشان ہیں تو جہنم کی گرمی اور اس کے عذاب وسزاؤں کوہم کیسے برداشت کرپائیں گے ،اسی لئے تو رب نےیہ اعلان کردیاکہ اے لوگو!یادرکھنا ’’ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا ‘‘بات بھی یہی ہے کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے۔(بنی اسرائیل:57)اور ایک دوسری جگہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ’’ إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ ‘‘بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں ۔(المعارج:28)سنا آپ نے میرے بھائیو اور بہنوکہ اللہ کے عذاب سے کسی کو بھی بے خوف نہیں ہونا چاہئےمگرہائے رے ہماری بدقسمتی !ہم نے تو جہنم اور جہنم کے عذاب وسزاؤں کومعمولی سمجھ لیا ہے،ہم جہنم اورجہنم کی سزاؤں کا تذکرہ باربارسنتے ہیں ،پڑھتے ہیں مگر ہمارے کانوں پر جوں تک رینگتی نہیں ہے،ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم تو اہل توحید ہیں سیدھے جنت میں چلے جائیں گے،اوراگر سیدھے نہیں گئے تو کیا ہوا؟ اللہ ہے نہ!اللہ ہمیں معاف فرمادے گا اورجہنم سے نکال کرکبھی نہ کبھی تو جنت میں ڈال ہی دے گا،نہیں میرے بھائیواوربہنو نہیں!ہرگز نہیں!ایسا نہ سوچنا کبھی ،ورنہ ہلاک وبرباد ہوجاؤگے،کیا آپ نے یہ سنا نہیں کہ رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں ہے،اس لئے اے میرے بھائیواوربہنو!اپنے آپ کو اوراپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بچانے کی ہمیشہ فکر میں رہو۔
اب آخر میں اللہ رب العالمین سے دعاگوہوں کہ اے بارالہ تو ہم سب کو اپنی رحمت اوراپنے فضل وکرم سے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھنا۔آمین ثم آمین یا رب العالمین
کتبہ
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
اٹیچمنٹس
-
818.8 KB مناظر: 5