• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہاں! ہمارے نزدیک مسلمان عورتوں کا قتل جائز ہے۔!!!

Rashid Yaqoob Salafi

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 12، 2011
پیغامات
139
ری ایکشن اسکور
509
پوائنٹ
114
السلام علیکم۔

جی جی سمجھ کیسے آئے ، جب مسئلہ کچھ ہو اور بے علمی میں اس پر کچھ اور پیش کیا جارہا ہو!!!

میں نے عرض کی کہ ملالہ کے مسئلے میں گستاخی رسول والی حدیث کی بنیاد پر فٹ کی گئ؟؟؟

اور شب خون والی روایات کفار کے خلاف قتال کے دوران ہے نہ کہ مسلمانوں پر حملوں کے لئے دلیل ، اور نہ ہی آج تک صحابہ نے سلف صالحین نے اس روایت سے مسلمان جتھوں پر شب خون کا جواز تراشنا کہاں کا انصاف ہے؟؟؟


اب میں کیا کہوں جو چاہے جس کی مرضی حمایت کرے ، جس کو مرضی صحیح کہے، راشد صاحب ۔۔میری اپروچ جو بھی ہو ، میرے موقف کو غلط ثابت کرنے کے لئے آپ دلیل سے بات کریں، محض ملفوظات سے کام نہیں چلے گا۔ معذرت کے ساتھ
و علیکم السلام ! آپ نے ٹائپسٹ بھائی کے جواب کہ "پسند" بھی کیا ہے اور پھر بھی اپنی بات پر قائم ہیں کہ انہوں نے بے علمی میں اس پر حدیث پیش کی ؟؟ بھائی خدارا اپنی روش پر غور کریں، آپ بات کرتے وقت ہر ایک کو ترش روی سے جواب دیتے ہیں. آپ کا اپنے مؤقف کے خلاف کسی بات کو برداشت نہ کرنا اور اپنے مخالف نظریہ رکھنے والے کو لازماً "خارجی" سمجھنا ویسے ہی ہے جیسے آذان سے قبل (خود ساختہ ) درود پڑھنے والے نہ پڑھنے والوں کو درود کا منکر قرار دیتے ہیں. بھائی نے آپ کے اس نظریے کہ کسی بھی کافرہ عورت کو مطلق قتل کرنا ہی نا جائز ہے، رد کیا اور اس پر حدیث پیش کی. یہ حدیث ملالہ پر ہونے والے حملے کے جواز میں پیش نہیں کی گئی، جیسا کہ آپ سمجھے. شب خون والی روایت صرف کفار کے لیے نہیں بلکہ ان مسلمانوں کے لیے بھی ہے جو دارلکفر سے ہجرت نہیں کرتے.
میں ملالہ پر حملے کے رد عمل میں آپ کے یوں بھڑکنے پر بہت حیران ہوں. وہ ملالہ جس کاآئیڈیل اوباما ہے، جو لبرل کہلانے والے طبقے کی نمائندہ ہے. جس کے امریکی سفیر سے میٹنگز کی تصاویر منظر عام پر آ چکی ہیں، اس کے لیے اتنی تڑپ اور باقی مسلمانوں پر جاری حملوں پر سکوت مرگ ؟؟ بھائی آپ کا طرز عمل ہمارے خدشات کو بڑہا رہا ہے.
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
عبدل! میں نے جو لکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے قتل کی اجازت دی تو یہ حدیث میں نے یہ ثابت کرنے کے لیے کوٹ نہیں کی کہ ملالہ کا قتل جائز ہے۔ بلکہ تمہاری اصلاح کی غرض سے کہ تمہاری یہ بات قرآن و سنت کے خلاف ہے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت موجود ہے، اب ملالہ کا مسئلہ الگ ہے اس کے ساتھ جو ہوا میں اس پر بحث کر ہی نہیں رہا بس یہ کہہ رہا ہوں کہ اسلام میں عورت کے قتل کی اجازت موجود ہے۔ اپنی اصلاح کر لو اگر تم کہتے ہو کہ اجازت موجود نہیں تو پھر یہ کہو کہ میں نے جو حدیث کوٹ کی ہے وہ حدیث غلط ہے یعنی میرے سمجھنے میں یا تو غلطی ہوئی ہے یا میں بھول کر کچھ غلط بیان کر رہا ہوں۔ پھر کہہ رہا ہوں کہ میں نے صرف تمہاری اصلاح کے لیے کہ تم جو مؤقف رکھتے ہو کہ اسلام میں اجازت ہی نہیں کہ کسی عورت کو مارا جائے تو یہ بات غلط ہے۔
جی ہاں میں عالم نہیں ہوں اور یہ آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں میں نے خود اس کا اعتراف کیا ہے، اور رہی بات علماء کی طرف رجوع کرنے کی تو الحمدللہ اللہ کے فضل سے میں علم علماء سے ہی حاصل کرتا ہوں اور جو باتیں میں نے کوٹ کیں ان میں بھی میں نے یہی لکھا کہ میں نے سنا ہے۔ اور علمی باتیں علماء سے ہی سنی جاتی ہیں نہ آپ سے۔

جی حیرت میں پڑنے کی ضرورت نہیں میں نے وجہ بیان کر دی ہے کہ میں نے یہ حدیث کیوں پیش کی ہے۔

الحمدللہ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میرا کی بورڈ حرکت میں ہے اور اللہ کے فضل سے آپ لوگوں کی اصلاح کی غرض سے حرکت میں ہے، اور اللہ اس کو نیک مقصد کے لیے حرکت میں ہی رکھے۔ آمین
آپ کا یہ کہنا کہ میں نے دلیلیں گھڑی ہیں تو کیا آپ ان احادیث کو نہیں مانتے یا آپ کے علم کے مطابق یہ احادیث کتب احادیث میں موجود نہیں ہیں؟ اگر نہیں ہیں تو برائے مہربانی میری اصلاح کر دیں تاکہ میں آئندہ کسی اور کو یہ احادیث سنا کر اپنے لیے اللہ کی ناراضگی کا سبب نہ بنوں۔ اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھے علم سے وابستہ کر دے جیسے اس کو پسند ہے نہ کہ کسی بندے کو ، کیونکہ اس زندگی کا مقصد رب کی رضا ہے۔

اے اللہ مجھے معاف فرما دے اگر میں نے کوئی غلطی کی ہے ان صاحب کو جواب دینے میں اور اللہ تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے میں بہت گناہ گار اور سیاہ کار ہوں۔ اور اے اللہ مجھے صحیح بات کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

تو کیا میں دین اسلام پر عمل کرنا یکسر چھوڑ دوں اور لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دینے سے اپنے آپ کو بالکل بری الذمہ سمجھوں کیا یہ آپ کا فتوی ہے ایسے شخص کے متعلق جو کہ کسی متعین عالم سے باقاعدہ تو علم حاصل نہیں کرتا لیکن جو کچھ سنتا اور سمجھتا ہے اس کو کوشش کرتا ہے کہ لوگوں تک پہنچا دے۔

آخر میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اگر میری کوئی بھی بات نہ مانیں جو کہ میں قرآن و سنت کے حوالے سے کر رہا ہوں تو مجھے آپ سے بد تمیزی کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں کیوں ہمیں ہمارے رب نے کہاں ہے کہ ’’وما علینا الا البلاغ‘‘ تو میں نے اپنی ذمہ داری پور کر لی تو اب مجھے غصہ ہونے کی کیا ضرورت ہے کسی پر اگر وہ میری نہیں مانتا اور اپنی بد اخلاقی ظاہر کرنے کی کیا پڑی ہے اگر کوئی قرآن اور حدیث پر عمل نہیں کرے گا تو وہ اپنے لیے آگ کا گڑھا تیار کر رہا ہے میں تو اپنا کام کر چکا اس کو دعوت دے کر ۔ تو میرے بھائی جذبات کو قابو میں رکھو اور بداخلاقی کا مظاہرہ کر کے لوگوں کو موقعہ نہ دو کہ یہ ہیں دین اسلام کے داعی جن کو اخلاق سے واسطہ نہیں ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کو کہا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق بخشے۔ آمین
جزاک اللہ خیرا جناب۔۔۔۔
مجھے غلطی اس وجہ سے لگی کے فورم پر بہت سی پوسٹ چل رہی تھیں ، جن میں اکثر ملالہ پر تھیں ، اور میں یہ سمجھا کہ میں جواب کسی ویسی پوسٹ میں دے رہا ہوں،
مجھے علم نہیں تھا کہ یہ کس موضوع میں بات کر رہا ہوں۔۔۔۔خطا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوئی!!!!
باقی بھائی میں نے اس پوسٹ کا عنوان ابھی آپ کے لمبت جواب کے بعد دیکھا۔۔۔۔۔میں دل سے معذرت خواہ ہوں۔۔۔ اور شرمندہ ہو ں
مجھے جو بھی ہو اخلاقیات کا خیال رکھنا چاہئے تھا۔

اللہ کے لئے تمام بھائی مجھے معاف فرمائیں۔ اور اللہ مجھے معاف فرمائے۔ آمین
جزاک اللہ خیرا
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
معذرت کے ساتھ میں نے یہ پوسٹ اشارتا ملالہ والے مسئلے پر لگائی تھی۔
ملالہ جو تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ وہ گستاخ رسول ہے اور نہ ہی وہ شب خون کے لائق!!!
میں نے اس پوسٹ کے عنوان میں اصل خوارج کا نظریہ پیش کیا کہ وہ بغیر کسی وجہ کے اور اختلاف رائے کی بنیاد پر بھی مسلمان عورتوں کے خون بہانے کو جائز سمجھتے ہیں۔ جس کی تائید میں میں نے یہ واقع پیش کیا۔۔

حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ کا سفاکانہ قتل

امام طبری، امام ابن الاثیر اور حافظ ابن کثیر روایت کرتے ہیں :
فأضجعوه، فذبحوه، فسال دمه في الماء، وأقبلوا إلی المرأة. فقالت : أنا امرأة، ألا تتقونﷲ؟
فبقروا بطنها، وقتلوا ثلاث نسوة من طئ.
ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 : 219۔۔۔طبری، تاريخ الأمم والملوک، 3 : 119۔۔۔ابن کثير، البداية والنهاية، 7 : 288
’’پس خوارج نے حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ کو چت لٹا کر ذبح کر دیا۔ آپ کا خون پانی میں بہ گیا تو وہ آپ کی زوجہ کی طرف بڑھے۔
انہوں نے خوارج سے کہا :
میں عورت ہوں، کیا تم (میرے معاملے میں) اﷲ سے نہیں ڈرتے؟
اُنہوں نے ان کا پیٹ چاک کر ڈالا اور (ہمدردی جتانے پر) قبیلہ طے کی تین خواتین کو بھی قتل کر ڈالا۔‘‘
اس واقعے کے بعد:
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ نے حارث بن مُرہ العبدی کو خوارج کے پاس دریافتِ احوال کے لیے بھیجا کہ معلوم کریں کیا ماجرا ہے؟
جب وہ خوارج کے پاس پہنچے اور حضرت عبد اﷲ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا سبب پوچھا تو خوارج نے انہیں بھی شہید کر دیا۔
(ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 :219)

میں الحمد اللہ جانتا ہوں گستاخ رسول واجب القتل ہے اور شب خون والی بات بھی کسی کفار کے علاقے پر حملے سے خاص ہے۔۔۔۔۔

میری یہ پوسٹ ایسی عورتوں کے بارے تھی جو نہ گستاخ رسول ہے اور نہ کفار کے علاقے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے اور آپ کے درمیان جو غلط فہمی ہوئی امید ہے وہ رفع ہو گئی ہو گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس طرح پہلے بھی میری ارسلان بھائی بھی غلط فہمی پر تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔۔۔

لیکن الحمد اللہ ، جیسے ہی غلط فہمی دور ہوئی معاملات نکھر گئے۔

اب میں یہی امید رکھتا ہو ٹائپسٹ صاحب سے کہ وہ درگزر فرمائیں گے۔


اور وہ لوگ جو یہاں مجھ سے اپنی ذاتی دشمنی پر آگ پر تیل چھڑ رہے تھے ، ان کو زرا اپنی اداوں پر غور کرنا چاہیئے۔

جزاک اللہ خیرا


اسلام علیکم
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
راشد صاحب نے لکھا::

میں ملالہ پر حملے کے رد عمل میں آپ کے یوں بھڑکنے پر بہت حیران ہوں. وہ ملالہ جس کاآئیڈیل اوباما ہے، جو لبرل کہلانے والے طبقے کی نمائندہ ہے. جس کے امریکی سفیر سے میٹنگز کی تصاویر منظر عام پر آ چکی ہیں، اس کے لیے اتنی تڑپ اور باقی مسلمانوں پر جاری حملوں پر سکوت مرگ ؟؟
راشد صاحب کیا اس سے اس بچی کا خون حلال ہو گیا؟؟؟
لائیے کو ئی فتوی پیش کیجئے جو کسی بھی عالم دین نے شائع کیا ہو؟؟؟


باقی مسلمانوں پر جاری حملوں پر سکوت مرگ والی بات تو میرا خیال ہے کہ آپ سے میرا تعلق کچھ نیا ہے۔۔۔۔ میں تمام کفار جو مسلمانوں کے علاقوں پر قابض ہیں یا پاکستان میں ڈرونز کی شکل میں ظلم ڈھا رہے ہیں انکے خلاف ہوں اور اللہ کی خاص رحمت سے ان خلاف میں جہاد میں حسب توفیق حصہ ڈالتا رہتا ہوں۔۔۔
ابھی مسئلہ ملالہ پر حملے کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا ہے اور اس پر بات ہو رہی ہے مگر کچھ دوست دوسرے معاملات کو درمیان میں گڈ مڈ کر کے موجودہ مسئلہ ملالہ پر سے بے توجہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو کہ شرمناک ہے۔

آپ نے لکھا::

بھائی آپ کا طرز عمل ہمارے خدشات کو بڑہا رہا ہے.
جناب میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے گا۔ میں اسلام پسند ہوں ، توحید و سنت کی امانت سینے میں لئے ہوئے ہوں، اور غیر اسلامی نظاموں اور افکار سے بیزار ہوں۔
مگر میں جانتا ہوں کہ جس نقطہ پر میں توجہ دلوانا چاہ رہا ہوں کوئی اس پر ٹھنڈے دل سے سوچنے کو تیار نہیں ۔۔۔۔۔تبھی تو پہلے میں آپ کے نزدیک نیرو مائنڈڈ بنا اور اب آپ کے خدشات میرے بارے خطرناک حد تک پہنچ چکے ہین۔

حسن ظن باعث تحسین ہوتا ہے۔

اللہ ہماری اصلاح فرمائے۔ آمین
 

ٹائپسٹ

رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
186
ری ایکشن اسکور
987
پوائنٹ
86
عزیز بھائیو! ہم یہاں اور خاص طور پر میں اپنے لیے یہ کہتا ہوں کہ ہم یہاں کچھ حاصل کرنے اور جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے آتے ہیں اور یہی ذمہ داری ہم پر دین اسلام نے عائد کی ہے اس مسئلے میں ۔ تو اگر کوئی میری بات نہ مانے تو میں اپنا کام کر چکا اس تک بات پہنچا کر مجھے غصہ کرنے کی یا بد تمیزی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہاں کچھ مقام ایسے ہوتے ہیں جہاں غصے کا اظہار بھی ضروری ہوتا ہے جیسے کہ عفتِ رسول پر کوئی حملہ کرے وغیرہ۔
بہرحال عبداللہ عبدل بھائی میں نے جو کچھ لکھا وہ آپ کی پوسٹ میں موجود ایک غلط نقطے کی اصلاح کی غرض سے لکھا اگر آپ نہ مانتے تو بھی میں آپ تک بات پہنچا چکا اور اب تو الحمدللہ آپ نے بات تسلیم بھی کر لی ہے تو اب تو ناراضگی کا سبب موجود نہیں۔ اللہ ہمارے حالوں پر رحم کرے ۔ آمین
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,581
پوائنٹ
211
میں ملالہ پر حملے کے رد عمل میں آپ کے یوں بھڑکنے پر بہت حیران ہوں. وہ ملالہ جس کاآئیڈیل اوباما ہے، جو لبرل کہلانے والے طبقے کی نمائندہ ہے. جس کے امریکی سفیر سے میٹنگز کی تصاویر منظر عام پر آ چکی ہیں، اس کے لیے اتنی تڑپ اور باقی مسلمانوں پر جاری حملوں پر سکوت مرگ ؟؟ بھائی آپ کا طرز عمل ہمارے خدشات کو بڑہا رہا ہے.
راشد بھائی،
عبداللہ عبدل صاحب کی اس فورم پر پوسٹس اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ باقی مسلمانوں پر جاری حملوں کے بارے میں بھی سکوت مرگ اختیار نہیں کرتے۔ اگر آپ چاہیں تو ڈھونڈ کر ان کے لنکس دے سکتا ہوں۔

اس کے برعکس اگر اس فورم پر آپ نے "باقی مسلمانوں" پر جاری حملوں پر مذمت کی ہے، تو ازراہ کرم اس کا لنک عنایت کیجئے۔
دراصل یہ سوائے بدگمانی یا کسی قسم کی غلط فہمی کے اور کچھ نہیں۔
جیسے دیگر دھاگوں میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ ملالہ والے واقعے کی مذمت کرنے والے ہرگز ڈرون حملوں یا امریکی دہشت گردی کو کسی بھی طور پر سپورٹ نہیں کرتے۔
لیکن ڈرون حملوں کی مذمت کرنے والوں کو ملالہ والے سانحے کی مذمت کرنے سے کون سی چیز روکتی ہے یا سمجھ سے بالا ہے۔ کیا فقط اس لئے کہ اس واقعے میں طالبان ملوث ہیں؟ اور ان سے ہماری جذباتی وابستگی قائم ہے؟

اگر واقعی ایسا ہی ہے تو راشد بھائی پہلے اپنا موقف واضح کر دیجئے کہ:
1۔ آیا جتنا کچھ بھی ملالہ کی نسبت سے میڈیا میں پیش کیا جا چکا ہے۔ سب کو سچ مان لیا جائے تب بھی کیا وہ اس کو مرتد بنانے کو کافی ہے؟
2۔ کیا ایسے مرتدین کو قتل کرنے کا اختیار ریاست کو ہے یا ہر عام مسلمان کو؟

ہم تو ڈرون حملوں اور امریکی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، چاہے وہ پاکستان میں ہو، یا افغانستان اور عراق وغیرہ میں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ ملالہ والے اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں یا نہیں؟


باقی جو لوگ ملالہ کو "ایک لڑکی" قرار دے کر اس کی حمایت کرنے والوں سے اختلاف رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ "عافیہ" بھی تو "ایک لڑکی" ہی تھی۔ کیا اس سے قبل فلسطین، افغانستان، پاکستان اور عراق میں ہزاروں مظلوم خواتین پر ظلم کے پہاڑ امریکیوں نے نہیں توڑے تھے؟

تو کیا وجہ ہے کہ ہم سب عافیہ کے نام پر تو امریکہ کی مذمت کرتے ہیں اور باقی مظلوم خواتین کو بھول جاتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ماحول اور کردار کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے۔ کسی ایک شخص کو اہمیت دینے کا مطلب ہرگز اسی ماحول میں پھنسے دوسرے لوگوں کو نظر انداز کرنا نہیں ہوتا۔ خود قرآن ابولہب کا نام لے کر اس کو جہنم کی وعید سناتا ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ طائف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارنے والے کسی کم تر سزا کے مستحق ہیں۔

ہمیں آپس میں ایک دوسرے کی ذاتیات پر طنز و طعن کے بجائے ان مشترکہ دشمنوں کے خلاف یکجا ہونے کی ضرورت ہے جو امریکہ اور طالبان کی صورت میں اس وقت پاکستانیوں کے سر منڈلا رہے ہیں۔
 

عبداللہ کشمیری

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 08، 2012
پیغامات
568
ری ایکشن اسکور
1,654
پوائنٹ
186
ہمیں آپس میں ایک دوسرے کی ذاتیات پر طنز و طعن کے بجائے ان مشترکہ دشمنوں کے خلاف یکجا ہونے کی ضرورت ہے جو امریکہ اور طالبان کی صورت میں اس وقت پاکستانیوں کے سر منڈلا رہے ہیں۔[/QUOTE]

جزاکم اللہ خیرا
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
ہمیں آپس میں ایک دوسرے کی ذاتیات پر طنز و طعن کے بجائے ان مشترکہ دشمنوں کے خلاف یکجا ہونے کی ضرورت ہے جو امریکہ اور طالبان کی صورت میں اس وقت پاکستانیوں کے سر منڈلا رہے ہیں۔
جزاکم اللہ خیرا[/QUOTE]

السلام علیکم۔
جزاک اللہ خیرا۔۔۔

عبداللہ بھائی آپ نے بالکل حق بات کی۔۔۔۔۔۔مذمت کی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔امریکہ کی ، انڈیا کی، اسرائیل کی اور دیگر محارب کفار کی اور ظالمان کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ یہ سب نہ اسلام اور نہ مسلمان کے خیر خواہ ہیں۔
باقی میری تمام بھائیوں سے التماس ہے ، کہ کسی گناہ گار کے گناہ کی غلط تصویر پیش کرنا اور اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر خود سے اس کی سزا تجویز بھی کرنا اور اس نافذ بھی کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

ویسے میں ابھی تک حیران ہوں ، ہم سب لوگ باہمی مباحثہ میں ایک چیز تو بھول ہی گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی کیسا بھی کیوں نہ ، اسلام کا مزاج ہے۔۔۔۔۔پہلے حکم پھر اقدام۔۔۔۔۔
مگر یہاں ملالہ کے کیس میں ایک عجیب منہج سامنے آیا کہ

پہلے اقدام اور پھر حکم


اس نقطے پر بھائی کس کی مذمت کریں گے؟؟؟
 

Rashid Yaqoob Salafi

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 12، 2011
پیغامات
139
ری ایکشن اسکور
509
پوائنٹ
114
تمام بھائیوں کو السلام و علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ.
عبداللہ عبدل بھائی آپ نے فرمایا کہ "راشد صاحب کیا اس سے اس بچی کا خون حلال ہو گیا؟؟؟
لائیے کو ئی فتوی پیش کیجئے جو کسی بھی عالم دین نے شائع کیا ہو؟؟؟
میرے بھائی، میری تحریر کے کون سے حصے کو پڑھ کر آپ کو ایسا محسوس ہوا کہ میں نے اس بچی کے خون کو حلال قرار دیا ہو ؟؟ میرے بھائی مجھے آپ سے یہی شکایت ہے کہ آپ دوسروں کی تحریروں سے وہ مفہوم اخذ کرتے ہیں جو لکھنے والے کا منشا نہیں ہوتا. میں اس پورے ڈرامے کو جو کے ایک خاص مقصد کے لیے بنایا گیا ہے سمجھ چکا ہوں. آج کے اخبار میں شائع خبر میں " دفاع کونسل " نے بھی اس کی طرف واضح اشارہ کیا ہے. آپ بھی دیکھ سکتے ہیں. E-paper :: Daily Express
یقیناً دفاع پاکستان کونسل کی بات آپ کے لیے حجت ہو گی...

آپ نے فرمایا کہ
"باقی مسلمانوں پر جاری حملوں پر سکوت مرگ والی بات تو میرا خیال ہے کہ آپ سے میرا تعلق کچھ نیا ہے۔۔۔۔ میں تمام کفار جو مسلمانوں کے علاقوں پر قابض ہیں یا پاکستان میں ڈرونز کی شکل میں ظلم ڈھا رہے ہیں انکے خلاف ہوں اور اللہ کی خاص رحمت سے ان خلاف میں جہاد میں حسب توفیق حصہ ڈالتا رہتا ہوں۔۔۔"


بھائی شاید آپ کو یاد نہیں لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے ، سوشل میڈیا کے ایک اور پلٹ فارم "فیس بک" پر میری آپ سے کئی بار بات چیت ہوئی ہے، اورمیں آپ کے نظریات سے واقف ہوں. میرے خیال میں یہ مناسب فورم نہیں جہاں اس موضوع پر بات کی جائے. بہرحال، اللہ آپ کو جہاد سے مزید محبت اور اس میں اور بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق دے.
میں اس پر اتنا ہی کہوں گا.
 

Rashid Yaqoob Salafi

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 12، 2011
پیغامات
139
ری ایکشن اسکور
509
پوائنٹ
114
راشد بھائی،

جیسے دیگر دھاگوں میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ ملالہ والے واقعے کی مذمت کرنے والے ہرگز ڈرون حملوں یا امریکی دہشت گردی کو کسی بھی طور پر سپورٹ نہیں کرتے۔
لیکن ڈرون حملوں کی مذمت کرنے والوں کو ملالہ والے سانحے کی مذمت کرنے سے کون سی چیز روکتی ہے یا سمجھ سے بالا ہے۔ کیا فقط اس لئے کہ اس واقعے میں طالبان ملوث ہیں؟ اور ان سے ہماری جذباتی وابستگی قائم ہے؟
اگر واقعی ایسا ہی ہے تو راشد بھائی پہلے اپنا موقف واضح کر دیجئے کہ:
1۔ آیا جتنا کچھ بھی ملالہ کی نسبت سے میڈیا میں پیش کیا جا چکا ہے۔ سب کو سچ مان لیا جائے تب بھی کیا وہ اس کو مرتد بنانے کو کافی ہے؟
2۔ کیا ایسے مرتدین کو قتل کرنے کا اختیار ریاست کو ہے یا ہر عام مسلمان کو؟
ہم تو ڈرون حملوں اور امریکی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، چاہے وہ پاکستان میں ہو، یا افغانستان اور عراق وغیرہ میں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ ملالہ والے اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں یا نہیں؟
باقی جو لوگ ملالہ کو "ایک لڑکی" قرار دے کر اس کی حمایت کرنے والوں سے اختلاف رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ "عافیہ" بھی تو "ایک لڑکی" ہی تھی۔ کیا اس سے قبل فلسطین، افغانستان، پاکستان اور عراق میں ہزاروں مظلوم خواتین پر ظلم کے پہاڑ امریکیوں نے نہیں توڑے تھے؟
تو کیا وجہ ہے کہ ہم سب عافیہ کے نام پر تو امریکہ کی مذمت کرتے ہیں اور باقی مظلوم خواتین کو بھول جاتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ماحول اور کردار کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے۔ کسی ایک شخص کو اہمیت دینے کا مطلب ہرگز اسی ماحول میں پھنسے دوسرے لوگوں کو نظر انداز کرنا نہیں ہوتا۔ خود قرآن ابولہب کا نام لے کر اس کو جہنم کی وعید سناتا ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ طائف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارنے والے کسی کم تر سزا کے مستحق ہیں۔
ہمیں آپس میں ایک دوسرے کی ذاتیات پر طنز و طعن کے بجائے ان مشترکہ دشمنوں کے خلاف یکجا ہونے کی ضرورت ہے جو امریکہ اور طالبان کی صورت میں اس وقت پاکستانیوں کے سر منڈلا رہے ہیں۔
اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اس واقع میں طالبان ملوث ہیں ؟ محض آپ کے کہنے سے تو ایسا نہیں ہو گا. جب خود عبدالرحمن ملک صاحب یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ اس واقع میں طالبان ملوث نہیں، اور اب تو دفاع پاکستان کونسل نے بھی یہی بات کہہ دی ہے. E-paper :: Daily Express
طالبان کے ساتھ جذباتی وابستگی ہی اس واقعہ کے رد کی بڑی وجہ نہیں.
دوسری بات میں نے ملالہ کو مرتد یا واجب القتل قرار نہیں دیا، نہ میں ایسا کر سکتا ہوں، یہ اہل علم کا کام ہے. ہاں یہ ضرور ہے کہ ملالہ کے اس بیان کہ " بارک اوباما میرا آئیڈیل ہے اور وہ امن کے لیے کام کر رہا ہے، نے میرے دل سے اس کے لیے وہ جذبات ختم کر دیئے ہیں جو اس بیان کے بغیر ہوتے. جن لوگوں کا خیال ہے کہ وہ محض ایک بچی ہے، میں اس سے بھی متفق نہیں ہوں، ہمارے بھی بچے ہیں، لیکن وہ اتنی بڑی باتیں نہیں کرتے.. وہ باچا خان جیسے شخص کو (جو خودکیمیونسٹ تھا) بھی اپنا آئیڈیل قرار دیتی ہے. کیا ١٤ سال کے بچے ایک نظریاتی شحصیت (خاص کر اینٹی اسلام) کو اپنا آ ئیڈیل قرار دے سکتے ہیں ؟؟
میں ملالہ پر کیے گئے حملے کی مذمت نہیں کرتا، یہ سب ڈراما ہے. ان شا اللہ چند دنوں بعد مزید واضح ہو جائے گا.
آپ ملالہ اورعافیہ کو ایک ہی پلڑے میں نہ رکھیں. عافیہ امریکی دشمن اور ملالہ حمایتی تھی. ہم دونوں کو ایک جیسا ہرگز نہیں سمجھتے.

طالبان پاکستان کے لیے خطرہ نہیں ہیں. اور نہ ہی امریکہ اور طالبان برابر ہیں.
 
Top