• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہومیو کلینک

نسرین فاطمہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
فروری 21، 2012
پیغامات
1,279
ری ایکشن اسکور
3,231
پوائنٹ
396
ہومیو کلینک

بعض افراد گردے کی تکلیف میں مبتلا ہو تے ہیں تو دیکھا گیا ہے کہ ان مریضوں میں اکثر کو گردے کے ورم کی شکایت ہوتی ہے یورین ٹیسٹ کرانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں البیومن کا اخراج زیادہ ہو رہا ہے جسکی وجہ سے ورم کی شکایت بڑھتی جاتی ہے ایسے مریضوں کے لئے ہومیو دوا فوشینا Fuschina 30 بہترین دوا ہوا کرتی ہے اس کے استعمال سے چند ہی دنوں میں البیومن کا اخراج بند ہو کر ورم گردہ کی شکایت رفع ہو جاتی ہے ایک چمچہ پانی میں پانچ قطرے اس دوا کے کچھ روز استعمال کرنا بہتر ہو تا ہے ۔
_________
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,383
ری ایکشن اسکور
6,753
پوائنٹ
332
جزاکم الله خیرا بہنا

ویسےآپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا نئے اراکین کا تعارف
میں
نہیں تو پھر جنکو پتا نہیں وہ آپ سے اسکے حوالے پوچھتے رہینگے
 

عامر

رکن
شمولیت
مئی 31، 2011
پیغامات
151
ری ایکشن اسکور
826
پوائنٹ
86
السلام علیکم بہنا،

بڑی خوشی ہوی آپکے تعرف سے کہ آپ ہومیو ڈاکٹر ہیں امید ہیکہ ہمیںآپکے علم سے مستفید کرئینگیں۔

کیا شوگر ڈاون ہوجانے کی نشانیاں کیا ہیں اور اسکا گھریلو علاج کےسے کیا جاے؟
میری والدہ کے خون کا ٹیسٹ کیا گیا اور رسلٹ یہ ہے
creatine کیمقدار خون میں 1۔7 mg/dl ہے جبکہ urea nitrogen 29

اسکی وجہ کیا ہوسکتی ہے اور اسکا گھریلو علاج کیا ہے
آپکے قیمتی جوابات کا منتظر
عامر
 

نسرین فاطمہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
فروری 21، 2012
پیغامات
1,279
ری ایکشن اسکور
3,231
پوائنٹ
396
کیا شوگر ڈاون ہوجانے کی نشانیاں کیا ہیں اور اسکا گھریلو علاج کےسے کیا جاے؟
اس مرض میں غذا خاص اہمیت رکھتی ہے نشاستہ دار اور شیریں غذا سے بہت زیادہ پرہیز ہے مزید یہ کہ زیادہ جسمانی محنت اور رنج و غم سے پرہیز کرنا چائیے شوگر ڈاون ہونے کی نشانیاں مسلسل تھکن طبیعت مضمحل اور ہاتھ پاوں کا ٹھنڈا ہونا ہے ہماری غذا میں شامل شکر نشاستہ اور چکنائیاں ہاضمے کے مراحل سے گزر کر گلوکوز کی شکل میں خون میں شامل ہو جاتی ہیں گلوکوز جسم کو حرارت اور توانائی فراہم کرتا ہے فاضل گلوکوز لبلبہ میں پیدا ہونے والے ایک کیمیائی مادہ انسولین کی مدد سے جگر میں اور عضلات میں چربی کی شکل میں جمع ہو جاتے ہیں انسولین بنانے اور خون میں ملانے کا عمل ہمارا لبلبہ حیرت انگیز طور پر ادا کرتا رہتا ہے اگر غذا کی قلت ہو جائے یا کسی خلل کے باعث انسولیں اس کو خون میں شامل نہ کر پائے تو شوگر ڈاون ہوجا تی ہے اس کا آسان اور فوری حل تو یہ ہے کہ مریض فورا کوئی میٹھی چیز چوس لے ایک گلاس جوس پی لیا جائے ۔ اگر مسلسل شوگر ڈاون رہتی ہو تو اپنی غذا میں کا ربو ہائیڈ ریٹس والی غذائیں اور رس دار پھلوں کا استعمال کیا جائے ۔
اگر الفلفا ٹانک دن میں تین مرتبہ کھانا کھانے سے آدھا گھنٹے قبل استعمال کیا جائے تو تو بہت اچھے نتائج ملتے ہیں ۔
 

محمد شاہد

سینئر رکن
شمولیت
اگست 18، 2011
پیغامات
2,510
ری ایکشن اسکور
6,022
پوائنٹ
447
السلام علیکم بہنا،

بڑی خوشی ہوی یہ جان کر کہ آپ ہومیو ڈاکٹر ہیں امید ہے کہ ہم آپکے علم سے مستفید ہوتے رہیں گے۔
کچھ گیس کے علاج کے بارے میں بتائیں۔ جزاکم اللہ خيرا واحسن الجزاء في الدنيا و الآخر
 

نسرین فاطمہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
فروری 21، 2012
پیغامات
1,279
ری ایکشن اسکور
3,231
پوائنٹ
396
جزاک اللہ خیرا!
امید ہے آپ اس رپورٹ کے تعلق سے مفید باتیں شیر کرئینگیں۔
creatine کیمقدار خون میں 1۔7 mg/dl ہے جبکہ urea nitrogen 29
عامر بھائی اسی رپورٹ کا میں نے جواب دیا ہے اللہ آپ کی والدہ کو صحت و تندرستی دے شوگر ڈاون کی نشانیوں میں بھوک نہ لگنا یا کھانے کی طرف رغبت نہ ہونا ہے اگر زیادہ شوگر ڈاون ہوجاے تو بسا اوقات ٹیمپریچر بھی گرجاتا ہے اور مریض کے پاوں ٹھنڈے ہوجا تے ہیں فوری علاج تو یہی ہے کہ جوسز یا کھجور یا کوئی میٹھی چیز مریض کو دی جائے اور ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے غذا ہمیشہ ایسی استعما ل کی جائیں جن میں اسٹارچ یا گلوکوز موجود ہو ۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,404
پوائنٹ
562
کیا شوگر ڈاون ہوجانے کی نشانیاں کیا ہیں اور اسکا گھریلو علاج کےسے کیا جاے؟
لبلبہ سے نکلنے والا انسولین ایک خودکار نطام کے تحت خون میں شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے۔ خواہ آپ میٹھی چیز کم کھائیں یا زیادہ۔ لیکن اگر لبلبہ اپنا معمول کا کام کرنا بند یا کم کردے تو خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کا "خودکار نظام" درہم برہم ہوجاتا ہے۔ اورایسے انسان کو طبی اصطلاح میں ذیابطیس کا مریض کہتے ہیں۔ ذیابطیس کا تا حال کوئی مصدقہ علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ ذیابطیس کے مریض کو اپنی بلڈ شوگر کو خود مینول کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔ شوگر والی غذا کے کنٹرولڈ استعمال سے، ادویات سے یا انسولین کے انجیکشن سے یا ان تینوں کے مجموعہ سے۔

اگر کسی کو شک ہو کہ اسے شوگر ہے یا نہیں تو وہ بارہ گھنٹہ کے فاقہ کے بعد اپنے خون کا شوگر ٹیسٹ کروائے ۔ اگر بارہ گھنٹہ کے فاقہ کے بعد بلڈ شوگر ریڈنگ ١١٠ آئے اور ناشتہ یا کھانا کھانے کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد ریڈنگ ١٤٥ آئے تو یہ نارمل ہے۔ یعنی اسے شوگر نہیں ہے۔ ایک نارمل انسان اپنے آپ کو اس طرح بھی چیک کرسکتا ہے کہ پچھتر ٧٥ گرام گلوکوز ایک کپ پانی مین گھول کر پی لے۔ اگر ایک گھنٹہ کے بعد بلڈ شوگر ریڈنگ ١٢٥ اور دو گھنٹہ بعد ١٤٥ یعنی تقریبا" ڈیڑھ سو آئے تو آپ کو شوگر نہیں ہے اور اگر ڈیڑھ سے بڑھ جائے تو پھر آپ کو شوگر ہوگی۔

ایک شوگر کے مریض کی شوگر بالکل نیچے بھی گر سکتی ہے اور بہت اوپر بھی جاسکتی ہے۔ اگربلڈ شوگر بہت زیادہ ہائی ہوجائے تو اسے کنٹرول کرنے کے لئے وقت کا مارجن مل جاتا ہے۔ اور مریض ایک دو گھنٹہ تک اسپتال لے جانے تک اس کا علاج ممکن ہے۔ لیکن اگر شوگر لیول ٦٥ سے کم ہوجائے تو منٹوں کے اندر اندر آپ کو شوگر لیول بڑھانا پڑے گا ورنہ آپ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

لو بلڈ شوگر کی صورت میں آپ کو متلی محسوس ہوگی،اُلٹی بھی ہوسکتی ہے۔ ٹھنڈے پسینے آئیں گے، دل گھبرائےگا۔ ایسی صورت میں فورا" چینی یا گلوکوز پانی میں گھول کر یا ویسے ہی کھا لیں۔ شوگر کے مریض باہر جاتے وقت میٹھی گولیاں یا ٹافیاں اپنے ساتھ رکھنی چاہئے۔ جب بلڈ شوگر ہائی ہو جائے تو پیشاب بار بار آنے لگتا ہے۔ پیاس زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

ذیابطیس کا مریض اپنے شوگر کو خود کنٹرول کرتا ہے، ابتدا میں ڈاکٹر کے مسلسل مشورے سے اور بعد میں از خود۔ البتہ وقتا" فوقتا" اسے ٹیست بھی کراتے رہنا چاہئے اور ادویات اور انسولین وغیرہ کی ڈوزج کو ری سیٹ کراتے رہنا چاہئے۔
" ایچ بی اے ون سے " بلڈ شوگر کا ایک ٹیسٹ ہے جو پچھلے تین ماہ کے بلڈ شوگر کا اوسط بتلاتا ہے۔ اگر اس کی ریڈنگ سات سے کم ہو تو آپ نارمل ہیں (ذیابطیس مریض ہو یا نارمل انسان) اگر ریڈنگ سات سے زیادہ ہو تو پریشانی کی بات ہے۔ فورا" ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
 
Top