• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہیرے جواہرات وغیرہ پر زکوٰۃ

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
ہیرے جواہرات وغیرہ اگر تجارت کیلئے رکھے ہوں تو پھر بلا اختلاف اموال تجارت کی طرح ان پربھی زکوٰۃ فرض ہوگی لیکن اگر یہ ذاتی استعمال (مثلاً زیب و زینت کے لئے) یا کاروباری آلات کے لئے استعمال ہوں تو پھر بلا نزاع ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں، خواہ یہ کتنے ہی قیمتی کیوں نہ ہوں۔ جیسا کہ امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ:
''لا زکوٰة فیما سوی الذھب والفضة من الجواھر کالیاقوت والفیروزج، واللؤلؤ والمرجان والزمرد والزبرجد والحدید والصفر وسائر النحاس والزجاج وان حسنت صنعھا وکثرت قیمتھا ولازکوٰة أیضاً فی المسک والعنبر وبه قال جماھیر العلماء من السلف وغیرهم'' (المجموع شرح المذہب: ج۵ص۴۶۴)
اسی طرح ابن قدامہ فرماتے ہیں کہ :
''فالزکوٰۃ في الحلی من الذھب والفضة دون الجوھر لأنھا لا زکوٰة فیھا عند أحد من أھل العلم فإن کان الحلی للتجارة قومہ بما فیه من الجواھر لأن الجواھر لوکانت مفردة وھي للتجارة لقومت وزکیت'' (المغنی: ج۴؍ص۲۲۴ نیز دیکھئے الفقہ علی المذاہب الأربعۃ:ج ۱؍ ص ۵۹۵، موسوعۃ الاجماع: ۱؍۴۶۷)
مذکورہ بالا اقتباسات کا حاصل یہ ہے کہ ہر طرح کے قیمتی موتی اور جملہ عطریات زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں بشرطیکہ یہ تجارت کے لئے نہ ہوں اور جمہور ائمہ سلف کا شروع سے یہی موقف رہا ہے۔ باقی رہا جواہرات کو سونے چاندی کے زیورات پر قیاس کرنے کا مسئلہ تو یہ قیاس درست نہیں، اس لئے کہ زیورات میں استعمال ہونے والا سونا چاندی نقدی اور نموکی حیثیت بھی رکھتا ہے جبکہ ہیرے جواہرات میں یہ خاصیت نہیںپائی جاتی۔ اسی لئے متقدمین میں سے جو اہل علم زیورات پر زکوٰۃ کے قائل رہے ہیں، ان میں سے کسی نے بھی انہیں زیورات پر قیاس نہیں کیا۔ تقریباً یہی رائے ابن حجر کی بھی ہے، دیکھئے فتح الباری: ج۳؍ص۳۶۳ اور حنفیہ کا بھی یہی موقف ہے ، دیکھئے درّمختار: ج۲ ؍ص۲۷۳ اور فتاویٰ ہندیہ :۱؍۱۰۲
 

قاری مصطفی راسخ

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 07، 2012
پیغامات
664
ری ایکشن اسکور
737
پوائنٹ
301
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حافظ عمران الہی صاحب!
ان عبارتوں کا اگر ترجمہ بھی کردیاجائے تو زیادہ مفید ہو گا:
''لا زکوٰة فیما سوی الذھب والفضة من الجواھر کالیاقوت والفیروزج، واللؤلؤ والمرجان والزمرد والزبرجد والحدید والصفر وسائر النحاس والزجاج وان حسنت صنعھا وکثرت قیمتھا ولازکوٰة أیضاً فی المسک والعنبر وبه قال جماھیر العلماء من السلف وغیرهم'' (المجموع شرح المذہب: ج۵ص۴۶۴)
اسی طرح ابن قدامہ فرماتے ہیں کہ :
''فالزکوٰۃ في الحلی من الذھب والفضة دون الجوھر لأنھا لا زکوٰة فیھا عند أحد من أھل العلم فإن کان الحلی للتجارة قومہ بما فیه من الجواھر لأن الجواھر لوکانت مفردة وھي للتجارة لقومت وزکیت'' (المغنی: ج۴؍ص۲۲۴ نیز دیکھئے الفقہ علی المذاہب الأربعۃ:ج ۱؍ ص ۵۹۵، موسوعۃ الاجماع: ۱؍۴۶۷)
 
Top