عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,558
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
نام کتاب
یادگار سلف سوانح حافظ عبد اللہ غازی پوری
نام مصنف
حافظ شاہد رفیق
نام ناشر
دار ابی الطیب، گوجرانوالہ
حافظ عبد اللہ غازی پوری رحمہ اللہ(1260ھ؍1844ء- ۱۳۳۷ھ ؍۱۹۱۸ء) ہندوستان کے مشہور قصبہ مئو میں پیدا ہوئے۔سالہا سال مسند تدریس پر رہنے کے سبب استاذ الاساتذہ کے لقب سے شہرت حاصل کی ۔آپ کا حافظہ نہایت ہی قوی تھا کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لینے سے اس کے نقوش لوحِ دل پر ثبت ہو جاتے ۔۱۰سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا ۔ اس کے بعد غازی پور کے مشہور مدرسہ ’’چشمۂ رحمت‘‘ میں مولانا رحمت اللہ ؒ سے کسبِ فیض کیا۔ ان دنوں جونپور کے ایک مدرسہ ’’امام بخش‘‘ کی بہت شہرت تھی جس کے صدر مدرس مولانا مفتی محمد یوسف صاحب لکھویؒ تھے۔ علمی تشنگی دور کرنے کے لیے جونپور تشریف لے گئے اور اپنی خداداد ذہانت و لیاقت سے جلد ہی مولانا ممدوح کے مقبول شاگرد بن گئے۔ علوم و فنون میں مہارت تامہ یہیں سے حاصل کی۔شوق تکمیل حدیث نے آپ کو شیخ الکل میاں سید نذیر حسین رحمہ اللہ محدث دہلی کی خدمت میں پہنچایا علم حدیث اور علم تفسیر وغیرہ کی تکمیل سید صاحب سے کی۔ حضرت شیخ الکل آپ کی ذہانت طبع اور جودت فہم کے بہت مداح تھے۔ تکمیلِ حدیث کے بعد آپ واپس اپنے قصبہ میں تشریف لائے اور مدرسہ ’’چشمہ رحمت‘‘ میں مدرس اعلیٰ متعین ہوئے ،سینکڑوں طلبہ نے اس چشمۂ رحمت سے کسبِ فیض کیا، تدریس میں اس قدر مصروف ہوئے کہ دیگر علمی مشاغل کے لیے آپ کو وقت نہ ملتا تھا ۔ زیر نظر کتاب ’’ یادگار سلف‘‘ حافظ شاہد رفیق حفظہ اللہ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ،محقق و مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے ۔جو کہ سلفیان برصغیر کے پہلے تنظیمی سربراہ اور دبستانِ نذیریہ کے ممتاز رکن استاذ الاساتذہ حافظ محمد عبد اللہ محدث غازی پوری رحمہ اللہ کے احوال و آثار اور دینی خدمات ،سوانح حیات کے متعلق 13؍ابواب پر مشتمل اولین مستقل و مستند کتاب ہے۔یہ کتاب محدث غازی پوری رحمہ اللہ کے حالات پر ایک مستند کتاب ہی نہیں بلکہ تاریخ اہل حدیث کے متعدد پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)
لنک کتاب
یادگار سلف سوانح حافظ عبد اللہ غازی پوری
نام مصنف
حافظ شاہد رفیق
نام ناشر
دار ابی الطیب، گوجرانوالہ
تبصرہ
حافظ عبد اللہ غازی پوری رحمہ اللہ(1260ھ؍1844ء- ۱۳۳۷ھ ؍۱۹۱۸ء) ہندوستان کے مشہور قصبہ مئو میں پیدا ہوئے۔سالہا سال مسند تدریس پر رہنے کے سبب استاذ الاساتذہ کے لقب سے شہرت حاصل کی ۔آپ کا حافظہ نہایت ہی قوی تھا کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لینے سے اس کے نقوش لوحِ دل پر ثبت ہو جاتے ۔۱۰سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا ۔ اس کے بعد غازی پور کے مشہور مدرسہ ’’چشمۂ رحمت‘‘ میں مولانا رحمت اللہ ؒ سے کسبِ فیض کیا۔ ان دنوں جونپور کے ایک مدرسہ ’’امام بخش‘‘ کی بہت شہرت تھی جس کے صدر مدرس مولانا مفتی محمد یوسف صاحب لکھویؒ تھے۔ علمی تشنگی دور کرنے کے لیے جونپور تشریف لے گئے اور اپنی خداداد ذہانت و لیاقت سے جلد ہی مولانا ممدوح کے مقبول شاگرد بن گئے۔ علوم و فنون میں مہارت تامہ یہیں سے حاصل کی۔شوق تکمیل حدیث نے آپ کو شیخ الکل میاں سید نذیر حسین رحمہ اللہ محدث دہلی کی خدمت میں پہنچایا علم حدیث اور علم تفسیر وغیرہ کی تکمیل سید صاحب سے کی۔ حضرت شیخ الکل آپ کی ذہانت طبع اور جودت فہم کے بہت مداح تھے۔ تکمیلِ حدیث کے بعد آپ واپس اپنے قصبہ میں تشریف لائے اور مدرسہ ’’چشمہ رحمت‘‘ میں مدرس اعلیٰ متعین ہوئے ،سینکڑوں طلبہ نے اس چشمۂ رحمت سے کسبِ فیض کیا، تدریس میں اس قدر مصروف ہوئے کہ دیگر علمی مشاغل کے لیے آپ کو وقت نہ ملتا تھا ۔ زیر نظر کتاب ’’ یادگار سلف‘‘ حافظ شاہد رفیق حفظہ اللہ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ،محقق و مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے ۔جو کہ سلفیان برصغیر کے پہلے تنظیمی سربراہ اور دبستانِ نذیریہ کے ممتاز رکن استاذ الاساتذہ حافظ محمد عبد اللہ محدث غازی پوری رحمہ اللہ کے احوال و آثار اور دینی خدمات ،سوانح حیات کے متعلق 13؍ابواب پر مشتمل اولین مستقل و مستند کتاب ہے۔یہ کتاب محدث غازی پوری رحمہ اللہ کے حالات پر ایک مستند کتاب ہی نہیں بلکہ تاریخ اہل حدیث کے متعدد پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)
لنک کتاب