• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یا رسول اللہ ( صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ) مدد کہنا...

میرب فاطمہ

مشہور رکن
شمولیت
جون 06، 2012
پیغامات
195
ری ایکشن اسکور
217
پوائنٹ
107
ہاہاہا۔۔۔۔۔جناب ہمیں مشرک کہہتے وقت تو آپ کو کوئی تردد نہیں ہوتا ادھر کیوں؟؟وحید الزمااہلحدیث نہیں تو مشرک کہو؟؟کیوں نہیں کہتیں آپ؟؟؟؟؟؟؟؟؟باقی جب تراجم کی بات ہو تو ہمارا وحید الزاماں (پاک و ہند میں اہلحدیث کی خدمات حدیث) اور جب کو ئی مطلب کے خلاف بات ہو تو ہمارا نہیں؟اگر تمہارا نہیں تو کہو مشرک اے۔پھر جناب عبد الغفور اثری صاحب کی بات کا بھی جواب دے۔
ایک بار اسکو پڑھ لیں۔۔۔
http://forum.mohaddis.com/threads/نواب-وحید-الزماں-کی-شخصیت،-ایک-تحقیقی-جائزہ.626/
 
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
670
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
93
آپ وحید الزماں کو مشرک کہہ دے بات ختم ۔اس نے اپنی اسی کتاب یہ بھی کہا ہے قبلہ دیں مدد دے قاضی شوکا مدد دے تو جب اس نے غیر اللہ سے مدد مانگی ہے تو آپ اس کو مشرک کیوں نہیں کہتیں۔میٹھا میٹھا ہپ ہپ تے کوڑا کوڑا تھو تھو ۔اور عبد الغفور اثری صاحب کے بارے میں بھی کچھ عرض کریں۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
محترمہ میرب صاحبہ...
براہ کرم ...حوالہ جات؟؟؟؟
پہلے اس روایت کی سند دیکھ لیں ،
قال الطبري كتب إلي السري، عن شعيب، عن سيف، عن الضحاك بن يربوع، عن أبيه، عن رجل من بني سحيم قد شهدها مع خالد، قال: لما اشتد القتال- وكانت يومئذ سجالا إنما تكون مرة على المسلمين ومرة على الكافرين الخ
اس سند میں سیف بن عمر تو ناقابل اعتبار ہے
سيف بن عمر [ت] الضبي الاسيدى
ويقال التميمي البرجمى، ويقال السعدي الكوفي.
مصنف الفتوح والردة وغير ذلك.
هو كالواقدي.
يروى عن هشام بن عروة، وعبيد الله بن عمر، وجابر الجعفي، وخلق كثير من المجهولين.
كان أخباريا عارفا.
روى عنه جبارة بن المغلس، وأبو معمر القطيعى، والنضر ابن حماد العتكي، وجماعة.
قال عباس، عن يحيى: ضعيف.
وروى مطين، عن يحيى: فلس خير منه.
وقال أبو داود: ليس بشئ.
وقال أبو حاتم: متروك.

میزان الاعتدال
ـ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ـ عن رجل۔ مجہول ہے ۔
ایسی ناکارہ روایات سے بھلا عقیدہ کیسے ثابت ہوسکتا ہے،
 
Last edited:

ایک گنہگار

مبتدی
شمولیت
اگست 28، 2014
پیغامات
72
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
18
پہلے اس روایت کی سند دیکھ لیں ،
قال الطبري كتب إلي السري، عن شعيب، عن سيف، عن الضحاك بن يربوع، عن أبيه، عن رجل من بني سحيم قد شهدها مع خالد، قال: لما اشتد القتال- وكانت يومئذ سجالا إنما تكون مرة على المسلمين ومرة على الكافرين الخ
اس سند میں سیف بن عمر تو ناقابل اعتبار ہے
سيف بن عمر [ت] الضبي الاسيدى
ويقال التميمي البرجمى، ويقال السعدي الكوفي.
مصنف الفتوح والردة وغير ذلك.
هو كالواقدي.
يروى عن هشام بن عروة، وعبيد الله بن عمر، وجابر الجعفي، وخلق كثير من المجهولين.
كان أخباريا عارفا.
روى عنه جبارة بن المغلس، وأبو معمر القطيعى، والنضر ابن حماد العتكي، وجماعة.
قال عباس، عن يحيى: ضعيف.
وروى مطين، عن يحيى: فلس خير منه.
وقال أبو داود: ليس بشئ.
وقال أبو حاتم: متروك.
میزان الاعتدال
ـ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ـ عن رجل۔ مجہول ہے ۔
ایسی ناکارہ روایات سے بھلا عقیدہ کیسے ثابت ہوسکتا ہے،
اب یہ بات بریلوی بھائیوں کو کون سمجھائے. ..
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
آپ وحید الزماں کو مشرک کہہ دے بات ختم ۔اس نے اپنی اسی کتاب یہ بھی کہا ہے قبلہ دیں مدد دے قاضی شوکا مدد دے تو جب اس نے غیر اللہ سے مدد مانگی ہے تو آپ اس کو مشرک کیوں نہیں کہتیں۔میٹھا میٹھا ہپ ہپ تے کوڑا کوڑا تھو تھو ۔اور عبد الغفور اثری صاحب کے بارے میں بھی کچھ عرض کریں۔
توعرض ہے کہ پہلے ثابت کریں کہ وحید الزمان ایسا کہا ہے ،،اور جس کتاب کا حوالہ آپ نے دیا وہ اسی کی ہے،،
اور اگربالفرض وحید الزمان نے ایسا کہا ہے،، تو آپ وحید الزمان کو جاتے ہوئے اپنے ساتھ ہی لے جائیں ،ہمیں اس کی ضرورت نہیں ،
یہ آپ کے کام کی چیز ہے ،اور مل کر ندائے غیراللہ کا ورد کرتے رہیں ،،شاید لوگ وہابی بننے سے رک جائیں !
اور عبد الغفور اثری کا تعارف کروائیں یہ کس صدی کے امام ہو گزرے ہیں ،؟ اور ان کی کتاب کا مطلوبہ سکین ضرورلگائیں ،
 

متلاشی

رکن
شمولیت
جون 22، 2012
پیغامات
336
ری ایکشن اسکور
412
پوائنٹ
92
بریلوی حلقوں میں بهی یہی بات گردش کر رہی ہے کہ آج بهی جو یا رسول اللہ ( صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کہتا ہے وہی حق پر ہے یعنی بریلوی.
آپ کی بات میرے لیے تو کافی ہے لیکن کسی بریلوی کو دینے کے لیے دلیل نہیں بن سکتی.
مسلمانوں نے صرف اپنے آپ کو دوران جنگ پہچان کے لئے یہ نعرہ لگایا تھا۔ بریلوی کیا جانے جنگ کیا ہوتی ہے، جہاد کیا ہوتا ہے تکلیف کیا ہوتی ہے۔ آپ اُن بریلوی حلقوں میں جا کر بولیں چلو تم کشمیر جاو جہاد کرنے پھر تم بھی یہ نعرہ لگادینا صرف گیارہویں کا دودھ، میلاد کی بریانی، اور محرم کی حلیم کھانے کے لیے یہ نعرہ تو نہیں ہونا چاہیے
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,107
ری ایکشن اسکور
320
پوائنٹ
156
مذکورہ روایت کی سندی حیثیت سے تو یہ بات واضح ہی ہے کہ یہ اور اس طرح کی دوسری روایات سے کبھی کوئی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ عقیدہ کے جواز کےلیے قرآن و سنت سے ٹھوس دلائل پیش کیے جاتے ہیں، تاریخی کتب سے نہیں۔
لیکن اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس کی ایک معقول توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس معرکہء جنگ میں مخالف گروہ کی طرف سے فقط نعرہء توحید اس بات کا غمازی تھا کہ نبوت و رسالت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اسلامی جماعت کی طرف سے مذکورہ نعرہ شائد اس بات کو واضح کرنے کے لیے لگایا گیا تھا کہ محمدﷺ پر نبوت ورسالت کامل و اکمل ہو کر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے کیونکہ یہ معرکہ تھا ہی نبوت و رسالت کے لیے نہ کہ مذکورہ نعرہ کا جواز ثابت کرنے کے لیے اور اس نعرہ کا مقصد فقط اس سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا کہ دونوں گروہوں میں نبوت ورسالت کا فرق واضح ہو جائے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کسی اور معرکے میں مذکورہ نعرہ نہیں لگایا گیا مزید یہ کہ اس روایت میں بھی نبیﷺ سے مدد مانگنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اور نہ ہی یا رسول اللہ مدد کہنے کا۔
ستم تو یہ ہے کہ ایک طبقہء خاص قرآن و سنت کی واضح تعلیمات سے چشم پوشی کرکے اس طرح کی روایات کو بطور عقیدہ ثابت کرنے کے لیے پیش کرتا ہے پھر اسکو مان کر دوسروں سے بھی منوانے کی کوشش کرتا ہےاور جو نہ مانے اس پر حکم بھی جاری کرنے سے گریز نہیں کرتا ۔
یاد رہےکہ عقیدہ ایک ایسی چیز ہے جس پر انسان کی نجات کا دارومدار ہے لہذا اس کو اللہ تعالٰی نے انسانی اجتہاد پر نہیں چھوڑا بلکہ پوری وضاحت کے ساتھ قرآن مجید میں بیان کر دیا ہے کیونکہ انسانی اجتہاد میں خطاء کا عنصر بہرحال موجود ہے لیکن اللہ تعالٰی ہر خطاء و نسیان سے پاک اور منزہ ہے۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,523
پوائنٹ
304
یمامہ جنگ میں کفار بھی تکبیر کہتے تھے
تھا فرق مومن اور کافر میں نعرہ یا رسول اللہ
باقی جنگوں میں صحابہ کرام رضوان الله اجمعین یہ نعرہ کیوں بھول گئے تھے - باقی جنگوں میں تو اس نعرے کے بغیر ہی مسلمان فتح یاب ہوگئے - آخر کیسے ؟؟؟ `
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
یمامہ جنگ میں کفار بھی تکبیر کہتے تھے
تھا فرق مومن اور کافر میں نعرہ یا رسول اللہ
ایسا کہنا ،،،،اہل اسلام کے جہاد کے شعار کے بالکل خلاف ہے ، دیکھئے غزوہ احد میں جناب رسول کریم ﷺ بنفس نفیس موجود تھے ،اور اس جنگ کی صورتحال کا تقاضا بھی تھا کہ صحابہ کرام رض اس میدان میںـرسول اکرم ﷺ کے نام مبارک کے نعرے لگاتے ،ـ لیکن صحابہ کرام کا بیان ہے، کہ آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نعرہ لگائیں ۔الله مولانا ولا مولى لكم»"
لما كان يوم أحدٍ أشرف أبو سفيان على المسلمين فقال: "أفي القوم محمدٌ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تجيبوه» ثم قال: أفي القوم ابن أبي قحافة ـثلاثًاـ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تجيبوه» ثم قال: أفي القوم عمر بن الخطاب[ ] ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تجيبوه » فالتفت إلى أصحابه فقال: أما هؤلاء فقد قتلوا، لو كانوا أحياءً لأجابوا، فلم يملك عمر نفسه أن قال: كذبت يا عدو الله، قد أبقى الله لك ما يخزيك، فقال: اعل هبلٌ! اعل هبلٌ! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أجيبوه» فقالوا: ما نقول؟ قال: «قولوا: الله أعلى وأجل» فقال أبو سفيان: ألا لنا العزى ولا عزى لكم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أجيبوه» قالوا: ما نقول؟ قال: «قولوا: الله مولانا ولا مولى لكم»" (رواه ابن حبان وصححه الألباني ).
وفي روايةٍ لابن إسحاق وصححها الألباني أن عمر رضي الله عنه قال لأبي سفيان: "لا سواءٌ، قتلانا في الجنة[ ] وقتلاكم في النار[ ] ".

’’ غزوہ احد کےدن (لڑائی کے دوران جب ایک مرحلہ پر اہل ایمان کچھ مشکلات میں گھر گئے تو ) ابو سفیان (جو اس وقت تک مسلمان نہیں تھے ) ایک اونچے مقام پر چڑھے پکار کر کہنے لگے کیا مسلمانوں میں محمدﷺ زندہ ہیں آپؐ نے فرمایا خاموش رہو کچھ جواب نہ دو پھر کہنے لگا اچھا ابو قحافہ کے بیٹے(ابوبکرؓ)زندہ ہیں ،یہ سوال اس نے تین مرتبہ پوچھا ، آپ ﷺ نے فرمایا چپ رہو کچھ جواب نہ دو پھر کہنے لگا اچھا خطاب کے بیٹے(عمرؓ) زندہ ہیں ،
تب ابوسفیان کہنے لگے :(اس خاموشی سے ہمیں ) معلوم ہوگیا یہ سب مارے گئے اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے یہ سن کر حضرت عمرؓ سے رہا نہیں گیا بے اختیار کہہ اٹھے ارے خدا کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس کے جواب میں ابو سفیان نےکہا ، ہبل (ایک بت) بلند رہے۔حضور ﷺ نےفرمایا کہ اس کاجواب دو۔صحابہ نے عرض کیا کہ ہم کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا کہ کہو، اللہ سب سےبلند اوربزرگ وبرتر ہے۔
ابوسفیان نےکہا ، ہمارے پاس عزی(بت) ہےاورتمہارے پاس عزیٰ نہیں ۔ آپ نےفرمایا، اس کا جواب دو۔ صحابہ نےعرض کیا، کیا جواب دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہو ، اللہ ہمارا حامی اورمدگار ہےاورتمہارا کوئی حامی نہیں ۔
یہ الفاظ صحیح ابن حبان کے ہیں ،اس روایت کو علامہ البانیؒ نے صحیح کہا ہے ،
اور مشہور سیرت نگار ابن اسحاقؒ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق ؓ نے ابوسفیان کے جواب میں یہ بھی کہا تھا کہ : ہمارے شہداتو جنت میں ہیں ،اور تمہارے مقتول جہنم رسید ہوئے ‘‘
-------------------------------
ٍصحیح بخاری (کتاب المغازی ،باب غزوہ احد ) میں غزوہ احد کا یہ واقعہ حسب ذیل تفصیل سے مروی ہے :

عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِينَا الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ وَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا مِنْ الرُّمَاةِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ وَقَالَ لَا تَبْرَحُوا إِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ فَلَا تَبْرَحُوا وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا فَلَا تُعِينُونَا فَلَمَّا لَقِينَا هَرَبُوا حَتَّى رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ فِي الْجَبَلِ رَفَعْنَ عَنْ سُوقِهِنَّ قَدْ بَدَتْ خَلَاخِلُهُنَّ فَأَخَذُوا يَقُولُونَ الْغَنِيمَةَ الْغَنِيمَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَبْرَحُوا فَأَبَوْا فَلَمَّا أَبَوْا صُرِفَ وُجُوهُهُمْ فَأُصِيبَ سَبْعُونَ قَتِيلًا وَأَشْرَفَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ فَقَالَ لَا تُجِيبُوهُ فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ قَالَ لَا تُجِيبُوهُ فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ قُتِلُوا فَلَوْ كَانُوا أَحْيَاءً لَأَجَابُوا فَلَمْ يَمْلِكْ عُمَرُ نَفْسَهُ فَقَالَ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَبْقَى اللَّهُ عَلَيْكَ مَا يُخْزِيكَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ اعْلُ هُبَلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجِيبُوهُ قَالُوا مَا نَقُولُ قَالَ قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجِيبُوهُ قَالُوا مَا نَقُولُ قَالَ قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُمْ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ وَتَجِدُونَ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِي
سیدنا براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ :احد کےدن مشرکوں سے ہمارا مقابلہ ہوا نبی مکرم ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک ٹکڑی بٹھا دی ان کاافسر عبداللہ بن جبیر کو کیا ان سے فرمایا تم اس جگہ سے نہ سرکنا خواہ تم دیکھو ہم ان کافروں پر غالب ہوئے جب بھی نہ سرکنا خواہ تم دیکھو ہم مغلوب ہوئے(تب بھی تم اپنی پوزیشن سے نہ ہٹنا) ہماری مدد بھی نہ کرنا خیر جب ہماری اور کافروں کی مڈبھیڑ ہوئی تو وہ بھاگ نکلے میں نے انکی عورتوں کو دیکھا پنڈلیوں پر سے کپڑا اٹھائے پہاڑ پربھاگی جارہی تھیں ان کی پازیبیں دکھلائی دے رہی تھیں مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کیا ارے لوٹ کا مال لو لوٹ کا مال لو عبداللہ بن جبیر نے ان کو سمجھایا دیکھو نبیﷺ تاکید کر گئے ہیں کہ اس جگہ سے نہ سرکنا اس جگہ سے مت ہلو انہوں نے نہ مانا اب مسلمانوں کے منہ پھرگئے(بھاگ نکلے)اور ستر مسلمان شہید ہوئے ،
اور ابو سفیان (جو اس وقت تک مسلمان نہیں تھے ) ایک اونچے مقام پر چڑھے پکار کر کہنے لگے کیا مسلمانوں میں محمدﷺ زندہ ہیں آپؐ نے فرمایا خاموش رہو کچھ جواب نہ دو پھر کہنے لگا اچھا ابو قحافہ کے بیٹے(ابوبکرؓ)زندہ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا چپ رہو کچھ جواب نہ دو پھر کہنے لگا اچھا خطاب کے بیٹے(عمرؓ) زندہ ہیں ،
تب ابوسفیان کہنے لگے :(اس خاموشی سے ہمیں ) معلوم ہوگیا یہ سب مارے گئے اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے یہ سن کر حضرت عمرؓ سے رہا نہیں گیا بے اختیار کہہ اٹھے ارے خدا کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس کے جواب میں ابو سفیاننےکہا ، ہبل (ایک بت) بلند رہے۔حضور ﷺ نےفرمایا کہ اس کاجواب دو۔صحابہ نے عرض کیا کہ ہم کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا کہ کہو، اللہ سب سےبلند او ربزرگ وبرتر ہے۔ابوسفیان نےکہا ، ہمارے پاس عزی(بت) ہےاورتمہارے پاس عزیٰ نہیں ۔ آپ نےفرمایا، اس کا جواب دو۔ صحابہ نےعرض کیا، کیا جواب دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہو ، اللہ ہمارا حامی اورمدگار ہےاورتمہارا کوئی حامی نہیں ۔ابوسفیان نےکہا ، آج کادن بدر کےدن کا بدلہ ہےاور لڑائی تو کنویں سے پانی نکالنے والے ڈول کے مانندہوتی ہے۔ (کبھی ہمارے ہاتھ میں اور کبھی تمہارے ہاتھ میں) تم اپنے مقتولین میں کچھ لاشوں کامثلہ کیاہوا پاؤگے،میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا لیکن مجھے برانہیں معلوم ہوا۔
ـــــــــــــــــــــــ
 
Last edited:
Top