• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یزید بن معاویہ محدثین کی نظر میں

شمولیت
ستمبر 15، 2026
پیغامات
6
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
2
*فضائل امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ میں بندۂ احقر و خاکسار سلفی کی جانب سے علمی و تحقیقی مقالہ؛-*

┄┄┅═✧❁ *﷽* ❁✧═┅┄┄

*ابتدائیہ؛-*

آج جب تحقیق کر کر ہمارے سامنے امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ کی ایک ایسی شخصیت سامنے آ چکی ہے کہ کہیں وہ میدان جہاد میں سپہ سالاری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، کہیں ان کے ہاتھ پر سینکڑوں صحابہ و اہلییبت و تابعین کی بیعت دکھائی دیتی ہے، کہیں جلیل القدر صحابہ کرام ؓ ان کی معیت میں نبی کریم ﷺ کے بشارت یافتہ جہاد میں شامل ہوتے نظر آتے ہیں، کہیں اہلیبیت اپنی بیٹیوں کا عقد ان سے فرما رہے ہیں تو پھر ہمیں بھی چائیے کہ ہم ان سے محبت رکھیں جیسے کہ نیک و صالح مسلمان بھائیوں سے محبت کا درس کتاب و سنت سے ہمیں ملا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ( مہاجرین و انصار پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ ) اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمایئے اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھنا۔ اے ہمارے پروردگار! آپ بہت شفیق اور بہت مہربان ہیں۔ *[ الحشر 10 ]* تو اللہ تعالیٰ تو فرما رہے ہیں کہ جو سلف صالحین گزر چکے متاخرین اسلام کا کام ہے وہ ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائیں اور ان سے محبت روا رکھیں۔ امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ تو قطعی جنتی ہیں اور ان کے جنتی ہونے میں کسی قسم کی غبار نہیں ہے تو ہمیں چائیے ہم ان سے محبت روا رکھیں اور ان کے دشمنوں سے اعلان برات کریں۔ قارئین کرام! اس بحث کو آگے بڑھانے سے قبل یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ سیدنا یزید ؒ کی مذمت میں غلیظ روایات پر یقین کرنے سے قبل آپ کا پرلے درجے کا احمق، جاہل مطلق العنان، بے شرم اور بدکردار ہونا ضروری ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی یہ نہ سمجھے کہ ایسی روایات صرف سیدنا معاویہؓ و سیدنا یزید بن معاویہ ؓ کی توہین کی غرض سے گھڑی گئی ہیں بلکہ ان کو وضع کرنے کا مقصد فقط یہ تھا تاکہ شخصیاتِ صحابہ کرام ؓ کو اتنا مجروح بنایا جائے کہ ان کو اپنا امام و خلیفہ منتحب کرنے والے مطعون ہو کر رہ جائیں۔ جب بھی کوئی رافضی امیر المؤمنین سیدنا یزید بن معاویہ ؓ پر کسی مجہول، موضوع یا ضعیف سند کو لے کر طعن کرے گا ان پر باطل الزامات لگائے گا وہ ضرور و لازماً کسی نہ کسی طرح امیر المؤمنین سیدنا معاویہؓ تک دراز ہو گا۔ پھر سیدنا معاویہؓ کو سیاست میں لانے والے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق ؓ کے بارے بدکلامی کرے گا اور پھر سیدنا عمر فاروق ؓ کو خلافت کی کرسی پر براجمان کرنے والے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ پر دراز ہو کر سقیفہ بنی ساعدہ پر حملہ آور ہو جائے گا۔ ایسی کئی مثالیں میں آج کی دنیا میں دیکھ چکا ہوں کہ سیدنا یزید بن معاویہ ؓ پر طعن و تشنیع کرنے والا ایک دن سقیفہ بنی ساعدہ کے باغات میں ہوئے مجمع پر حملہ آور ہوا ہو۔ کس کس صحابی نے امیر المؤمنین سیدنا یزید بن معاویہ ؓ کی بیعت کی تھی؟ یہ ایک الگ موضوع سخن ہے جس پر پھر کسی اور مقالہ میں تفصیلی بحث کی جائے گی۔ ابھی فقط مدعا یہ ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا یزید بن معاویہ ؓ کی بیعت کا اجماع سیدنا معاویہؓ نے منعقد کر کر انہیں خلافت کی کرسی پر براجمان کیا تھا اور اصحاب رسول ﷺ میں سے کسی ایک کی بھی نیت پر شک کرنا گویا اپنے ایمان پر حملہ کرنا عین برابر ہے۔ سیدنا معاویہؓ صحابی رسول ہیں، عترت رسول ہیں، کاتب القرآن و فقیہ و مجتہد ہیں اگر انہوں نے امیر المؤمنین سیدنا یزید بن معاویہ ؓ کو خلیفہ نامزد کیا تھا تو وہ جتنا اُنہیں جانتے تھے ان کی بیعت کرنے والا کوئی صحابی نہیں جانتا ہو گا۔ وہ سیدنا یزید ؒ کے شب و روز سے بھی واقف تھے اور ان کے بارے یہ بھی جانتے تھے کہ جس مسند کو وہ ان کے حوالے کر رہے ہیں اُس مسند کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے صحابہ کرام ؓ سے ہر قسم کے فسق و فجور و معصیت کے امور کو دور کر دیا ہے، ناپسند کر دیا ہے اور ایمان ان کے انگ انگ میں آراستہ کر دیا ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ *[ الحجرات 7 ]* سیدنا معاویہؓ کے ایمان اور ان کی باطنی نیت کی گواہی تو اللہ رب العالمین اپنی لاریب کتاب قرآن میں آیات بینات بنا کر نازل کر رہا ہے جس پر تفسیر بیان فرماتے ہوئے وہ زبان مقدسہ گویا ہوئی جس سے سوائے صدق کے کبھی کوئی دوسرا لفظ کبھی ادا ہی نہ ہوا۔ آمنہ کے در یتیم، جگوں کے پیر، امام الانبیاء ، نبی الثقلین، ہادی دو جہاں ﷺ فرماتے ہیں کہ سب سے بہترین زمانہ میری امت کا صحابہ کرام ؓ کا ہے۔ *[ صحیح البخاری 3649 ]* اب کوئی رافضی ہو، خارجی ہو، ناصبی ہو، مدخلی ہو، ظنی ہو، باطنی ہو، سہولت کار ہو تم سب سن لو، اپنے دماغوں میں یہ بات سمو لو جس نے سیدنا یزید ؒ کو نامزد کیا وہ بھی پاک و مطہر، جنہوں نے بیعت یزیدی کی وہ بھی پاک و مطہر تھے۔ اب رہ گئے تیرے نقوی، مودودی، جہالوی و جہلمی سمیت جتنے بھی مولوی، ذاکر اور سہولت کار یہ سب کے سب غلیظ، پلید، بدکردار اور شراب و شباب کی محافل سجھانے والے ہیں۔ جب دورِ صحابہ کرام ؓ پر مہر آمنہ کے در یتیم نے لگا دی، بتا دی، سمجھا دی تو گئی باڑ میں تیری یہ تاریخی غلاظت و خفاست، آگ لگاتا ہوں میں تیری ایسی غلیظ تاریخ کو کہ جس کا دھارا اسلام کے غازیوں اور شہیدوں کی سیرتوں کو داغدار کرنے کی غرض سے بہتا ہو۔ فلاں نے یہ فتویٰ دیا فلاں امام یہ کہہ گیا وہ کہہ گیا۔۔۔ خاموش! آواز نیچی رکھ تیرے اُس اکابر، اس سعودی ریالوں پر پلنے والے ملاں یا کسی درباروں پر ناچ گانے کی محافل میں ناچنے والی سستی طوائفوں کی کمائی کھانے والے درباری و سعودی ملاں پنڈت کی اصحاب و اہلیبیت اطہار کی بیعت اور اس پر بیعت پر کف لسانی کے بعد کیا حیثیت و وقعت ہے؟ ملاں تیرا قصور یہ ہے کہ توں نے اپنے پیٹ اور اپنے دو تین بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر حسینی یزیدی گورکھ دھندے میں امت اسلامیہ کو الجھائے و پھنسائے رکھا۔ کبھی فلاں کا قول، کبھی فلاں کا قول مگر جب اسی امام کا قول تیرے مسلک کے، منہج کے، فرقہ کے خلاف آئے تو توں یہ کہہ کر لنگوٹی اٹھا کر راہ فرار اختیار کر لیتا ہے کہ میں اس امام کا مقلد نہیں ہوں نہ ہی اس کا فتویٰ میرے لئے لائقِ عمل ہے۔ مگر جب پیٹ کی آگ بجھانا ہو، اپنے بچوں کو حرام کی کمائی کھلانا ہو یا لمبی لمبی مہنگی گاڑیوں میں بیٹھنا ہو تو تجھے فقظ کردارِ یزید ؒ ہی نظر آتا ہے؟ اور یہ سارے آئمہ تیرے لئے معتبر اور قول رسول پر سبقت لے جاتے ہیں؟ ملاں سب چھوڑ آ تجھے تقریر کے لئے میں بلاتا ہوں توں بھی آ جا اور اپنے باقی ملاں بھی ساتھ لے آ۔ موضوع رکھتے ہیں واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر! اگر تیرے دس مولویوں کی بکواس اس موضوع پر ایک ہو گئی تو میں ابومعاویہ سلفی یہ ببانگ دہل اعلان کرتا ہے کہ وہ دفاع صحابہ کرام ؓ پر کام کرنا چھوڑ دے گا اور نبی کریم ﷺ کا منبر چھوڑ کر خلوت نشینی اختیار کر لے گا۔ آؤ میدان میں جس نے کردار یزید ؒ پر مجھ سے مناظرہ، مباحثہ و مجادلہ کرنا ہے۔ میں حاضر ہوں آؤ میدان میں تیری صفوں سے قاتلین حسین ؓ کوفی شیعیوں کے حامی لا کر سامنے رکھوں گا اور تیری جانے انجانے میں ناصبیت کو تیرے سامنے واضح کروں گا۔ میں یہ ثابت کروں گا جن کے گھر بنو ہاشم کے سادات اپنی بیٹیوں کا عقد لے کر جاتے ہوں وہ گھرانہ بھی پاک، وہ خاندان بھی پاک اور وہ آشیانہ بھی پاک کیونکہ اللہ نے قرآن میں اہلیبیت اطہار کو ہر قسم کی نجاست سے دور کر دیا ہوا ہے۔ ملاں کھول تاریخ دمشق آ تجھے میں علم الانساب سے ثابت کرتا ہوں کہ سادات بنو ہاشم کی دو بیٹیاں سادات بنو امیہ کو بیاہی گئیں۔ سیدہ زینب بنت علی ؓ کی منہ بولی بیٹی سیدہ ام محمد ؒ کا عقد پاک امیر المؤمنین، خلیفہ راشد سیدنا یزید بن معاویہ ؓ سے ہوتا ہے۔ *[ تاریخ دمشق لابن عساکر 261/70 رقم 9481 ]* سیدنا یزید بن معاویہ ؓ کے پوتے سیدنا عبداللہ بن خالد بن یزید بن معاویہ ؓ کا عقد بنو ہاشم کی بیٹی سیدہ نفیسہ بنت عبیداللہ بن عباس ؓ سے ہوا۔ *[ تاریخ دمشق لابن عساکر 261/70 رقم 9436 ]* یعنی ملاں توں اپنی بیٹی کا نکاح کرے تو لڑکے کی سیرت بھی دیکھے، کردار بھی دیکھے، اس کے والدین کا شجرہ بھی دیکھے ان کی سیرت بھی دیکھے۔ مگر کیا عترت رسول اہلیبیت اطہار کو کردار یزید ؒ نظر نہ آیا؟ انہیں یہ تیری گھڑی ہوئی کہانیاں نظر نہ آئیں؟ اب کچھ ہو نہ ہو ان دو نکاحوں سے ملاں تیرے سارے فاسد قیاسات کا جنازہ دھوم دھام سے ضرور نکلا ہے البتہ ثابت مندر کا گھنٹہ بھی نہیں تیری طرف سے ہو سکا۔ ملاں کیا تجھے شرم نہیں آتی؟ بغیرت ہو چکے ہو؟ بدکردار ہو چکے ہو؟ کہ جس حسین پاک سرکار ؓ کے لبوں کو محمد عربی چوسا کرتے تھے توں ریالوں، ڈالروں اور مقتدرہ کے بیانیہ کے سامنے ہیچ ہو کر اسی نواسہ رسول گوشہ بتول عترت رسول کے قاتلین کوفی شیعیوں کا دفاع کرتا پھرتا ہے؟ جبکہ اصحاب و اہلیبیت کا متفقہ موقف ہے کہ قافلہ حسین ؓ کو کوفیوں نے لوٹا، انہوں نے لوٹا جنہوں نے ان سے قبل ان کے بھائی سیدنا حسن بن علی ؓ کو لوٹا، انہیں شہید کیا، ان کے والد سیدنا علی ؓ کو شہید کیا۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے مظلوم کائنات سیدنا عثمان ؓ کو بھوک و پیاس کی حالت میں بے لباس کر کر شہید کیا۔ ملاں اتنا بغیرت ہو گیا کہ تجھے عاقبت بھول گئی؟ توں نے اپنے اکابر کی لونڈا پرستی میں حقائق کو مسخ کر دیا؟ او ملاں توں اتنا قماش کہ تجھ سے تو یہود و نصارٰی کے رہبان بھی پناہ مانگتے ہوں گے بلکہ میں کہتا ہوں کہ ملاں! تیری شاگردی تو ابلیس بھی کرتا ہو گا کہ وہ جنت سے نکالا دئیے جانے کے بعد اتنا غلیظ نہ بن سکا جتنا آج کا فرقہ پرست و ڈالر خور مولوی ہو چکا ہے۔ اب یہ چاہے محراب و منبر پر بکواسات کے انبار لگانے والا کوئی صوفی، سلفی یا مقلد کہلوائے جانے والا کوئی ملاں ہو یا جہلم کے بند کمرے کا مداری گر ہو تم سب کے سب عین برابر جہنم کی ایک ہی وادی سے تعلق رکھتے ہو۔ عزیزانِ من! کردار یزید بن معاویہ ؓ ہمیشہ اقوال کے گورکھ دھندے کا شکار ہوتا چلا آ رہا ہے مگر کوئی رافضی یا سہولت کار نیم خارجی آج تلک ایک سند اُس وقت ( 50 سے 64 ہجری تک ) کے موجود صحابہ کرام و اہلیبیت سے متصل و صحیح سند سے ثابت نہ کر سکا جس سے یہ نتائج نکلتے ہوں کہ واقعہ کربلا کے ذمہ دار امیر المؤمنین سیدنا یزید بن معاویہ ؓ تھے، واقعہ حرہ کے مجرم سیدنا یزید ؒ تھے، صحابہ کرام ؓ کے قاتل سیدنا یزید بن معاویہ ؓ تھے یا پھر کعبہ کو آگ لگانے والے سیدنا یزید بن معاویہ ؓ تھے۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ جانتے ہیں جو اِس اصل تک پہنچ گیا وہ حقائق سے پردہ اٹھا لے گا اور سچ جان کر قاتلین عثمان و حسین ؓ کوفی شیعیان علی پر لعنت بھیجے گا۔ انہیں چوکوں میں، چوراہوں میں، سر بازار کافر کہے گا، جو جان لے گا وہ ان کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دے گا۔ آؤ اہلسنت والجماعت کے نواجوانوں! جس نے نبی کریم ﷺ کے یاروں کا دفاع کرنا ہے آؤ حقائق ہم اپنے عزیز و اقارب، دوستوں و بزرگوں کو بتائیں۔ ان کو بتلائیں کہ قرون اولیٰ کے ان فتنوں کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ آؤ مل کر بتائیں کس نے مدینہ میں مظلوم بوڑھا خلیفہ شہید کیا؟ آؤ مل کر بتائیں کون تھا جس نے مسجد کوفہ میں منبر کوفہ کے پاس امیر المؤمنین سیدنا علی ؓ کو شہید کیا؟ آؤ بتائیں کہ کس نے عشرہ مبشرہ کے صحابہ سیدنا طلحہٰ و زبیر ؓ کو شہید کیا؟ آؤ بتائیں کہ جن کی کتب گواہ ہیں، دلیل ہیں، ان کے خلاف ایف آئی آر ہیں کہ یہ تھے جنہوں نے قافلہ حسین ؓ کو لوٹا و بے دردی سے شہید کروایا۔ کتاب و سنت جن کے خلاف چارج شیٹ ہے کہ جسم بھی جن کا خنجر بھی ان کا اور پٹ پٹ کر پٹ رہے اور ان کا یہ جسمانی ریمانڈ بروز محشر تک جاری و ساری رہے گا ان شاءاللہ۔ دوسری جانب بروز محشر تک عرب و عجم میں اسلام کے پرچم کی سربلندی کا سہرہ امیر المؤمنین سیدنا معاویہؓ اور ان کے بیٹے سیدنا یزید بن معاویہ ؓ اور اموی صحابہ و تابعین سمیت باقی صحابہ کرام ؓ کے سروں پر سجھتا رہے گا اقول قولی ہذا وأستغفر الله لی ولكم۔

❁ *فضائل امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ بذبان سلف صالحین؛-*

➊ امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ اس اول جیش کے امیر تھے جس کے بارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر روم کے شہر قسطنطنیہ پر حملہ آور ہو گا اس پر جنت واجب ہے۔ *[ صحیح البخاری 2924 ]* اس لشکر میں امیر سیدنا یزید ؒ تھے۔ *[ صحیح البخاری 1186 ]* امام ابن حجر العسقلانی ؒ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس بات پر محدثین عظام کا اجماع ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ اس اول لشکر کے سپہ سالار تھے۔ *[ فتح الباری شرح صحیح البخاری تحت الحدیث 2924 ]*

➋ اہلیبیت میں سے سیدنا محمد بن حنفیہ ؒ نے مفسدیوں سے مباحثہ کرتے ہوئے امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ کی وکالت کی اور انہیں صوم و صلوٰۃ کا پابند اور خیر کا متلاشی قرار دیا۔ *[ البدایہ والنہایہ لابن کثیر 233/8 ]* انہوں نے امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ پر لگنے والے تمام باطل و لغو الزامات کا نہ صرف رد کیا بلکہ رہتی دنیا تک کہ اہلیبیت سے محبت کرنے والے مسلمانوں کے لئے یہ سنت چھوڑی کہ جب بھی سیدنا یزید ؒ پر کوئی رافضی یا سہولت کار کسی قسم کی غلاظت اڑائے یا ان پر کسی قسم کا فاسد الزام لگائے تو نبی کریم ﷺ کی حدیث *[ جامع ترمذی 1931 ]* کے مطابق اس الزام پر ان کا دفاع کیا جائے گا۔

➌ سیدنا زین العابدین ؒ فرماتے ہیں کہ جب ہم شہادت حسین ؓ کے بعد امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ کے پاس پہنچے تو ہمیں دیکھ کر ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور انہوں نے ہماری ہر اس مانگ کو پورا کیا جو ہم نے ان سے چاہا۔ *[ تاریخ الاسلام للذہبی 583/2 واسنادہُ صحیح ]*

➍ پرست ملاں جن سیدنا حسین ؓ کے نام پر مذہبی چورن بیچتے ہیں انہوں نے کہا کہ مجھے امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ کے پاس لے جاؤ تاکہ میں ان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے سکوں۔ *[ تاریخ الطبری 299/3 واسنادہُ قوی ]*

➎ امام لیث بن سعدؒ نے بھی سیدنا یزید بن معاویہؓ کو امیر المؤمنین کہا ہوا ہے۔ امام لیث بن سعدؒ کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا یزید بن معاویہؓ سن 64 ہجری میں فوت ہوئے۔ *[ تاریخ خلیفہ بن خیاط صفحہ 253 واسنادہُ صحیح ]* اور اس بات کو امام قاضی ابن العربی ؒنے بھی حجت و دلیل بنایا ہے۔ *[ العواصم من القواصم صفحہ 228 ]*

➏ امام ابن کثیر ؒ بھی سیدنا یزید بن معاویہؓ کے بارے لکھتے ہیں کہ یہ یزید بن معاویہؓ کا تعارف ہے۔ یہ یزید بن معاویہ بن ابوسفیانؓ بن صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس امیر المؤمنین ابو خالد اموی ہیں۔ *[ البدایہ والنہایہ لابن کثیر 226/8 ]*

➐ امام احمد بن حنبل ؒ نے امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ کو خیر الناس قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ( سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر کو اس کے بعد پھر جو اس کے بعد صحیح البخاری 3650 ) کا مصداق قرار دیا ہوا ہے۔ *[ کتاب السنہ للخلال رقم 846 واسنادہُ صحیح ]*

➑ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس جب امیر المؤمنین سیدنا معاویہؓ کی وفات کی خبر آئی تو آپ ؓ نے فرمایا کہ اے اللہ! سیدنا معاویہؓ پر اپنی رحمت کو وسیع فرما۔ یقیناً آپ ان لوگوں کی مثل تو نہ تھے جو آپ سے قبل گزر چکے البتہ آپ کے جانے کے بعد بھی کوئی آپ سا دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ آپ کے صاحبزادے سیدنا یزید ؒ نیک و صالح انسان ہیں اس لئے آپ لوگ اپنی اپنی جگہ اطمینان رکھیں اور ان کی اطاعت و بیعت کر لیجئے۔ *[ روافض و سہولت کاروں کی پسندیدہ کتاب، کتاب انساب الاشراف للبلاذری 303/5 ]*

➒ جب واقعہ حرہ کے دنوں میں اہل مدینہ کے شرپسند عناصر امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ کی بیعت توڑ رہے تھے تب سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے اس عہد کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نے عہد شکنی کی میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ہم نے اللہ و رسول کے نام پر ( امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ ) کی بیعت کی ہے۔ *[ صحیح البخاری 7111 ]*

➓ سیدنا ابوہریرہ ؓ مدینہ کے بازاروں میں چلتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ لوگو! سیدنا معاویہؓ کی کنپٹیوں ( سیاسی حکمت عملیوں ) کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ *[ دلائل النبوۃ للبیہقی 2801 واسنادہُ صحیح ]*

⓫ امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ 67 لاکھ مربع میل تک اسلامی سلطنت کو وسیع کرنے والے امیر المؤمنین سیدنا معاویہؓ ہی کی سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں امیر المؤمنین کے مرتبہ پر فائز ہوئے تھے اگر محدث اعظم سیدنا ابوہریرہ ؓ امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ کا دور دیکھتے تو وہ خود اس کی وضاحت انہیں الفاظ میں بیان کرتے۔

⓬ سادات کی ملکہ سیدہ زینب بنت علی ؓ اپنی بیٹی ام محمد ؒ کا عقد امیر المؤمنین سیدنا یزید بن معاویہؓ سے فرمایا۔ *[ تاریخ دمشق لابن عساکر رقم 9431 جلد 70 ]* اور سیدہ نفیسہ بنت عبیداللہ بن عباسؓ کا عقد مبارکہ واقعہ کربلا کے بعد امیر المؤمنین سیدنا یزید بن معاویہؓ کے پوتے سیدنا عبداللہ بن خالد بن یزیدؒ کے ساتھ ہوا۔ *[ تاریخ دمشق لابن عساکر رقم 9436 جلد 70 ]*

⓭ امام ابن تیمیہ ؒ کے شاگرد خاص امام ابن قیم ؒ بیان فرماتے ہیں کہ مذمت سیدنا معاویہؓ اور سیدنا یزید ؒ میں تمام روایات جھوٹی ہیں۔ *[ المنار المنیف فی الصحیح والضعیف صفحہ 79 ]*

⓮ امام غزالی ؒ نے فرمایا کہ سیدنا یزید ؒ مسلمان تھے ایک مکمل مسلمان اور صحیح عقیدہ پر اور شریعت میں اس پر لعن طعن کرنے کی اجازت نہیں۔ *[ احیاء العلوم از امام غزالی 108/3 ]*

⓯ امام قاضی ابن العربی ؒ بیان کرتے ہیں کہ کہاں ہیں وہ تاریخ دان جنہوں نے سیدنا یزید ؒ پر فسق ( سر عام گناہ کرنا ) اور شرابی ہونے کا کہا؟ کیا ان میں شرم نہیں ہے؟ *[ العواصم من القواصم لابن العربی صفحہ 222 ]*

⓰ امام ابن کثیر ؒ بیان کرتے ہیں کہ امام ابن عساکر ؒ نے امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ کی مذمت میں کئی ایک روایات ذکر کی ہیں وہ سب کہ سب موضوع و من گھڑت ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ *[ البدایہ والنہایہ لابن کثیر 231/8 ]*

⓱ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سیدنا انس بن مالک ؓ سیدنا نعمان بن بشیر ؓ سیدنا زید بن ارقم ؓ سیدنا مسور بن مخرمہ ؓ سیدنا مروان ؓ سیدنا زید بن خالد الجہنی ؓ سیدنا عرباض بن ساریہ ؓ سیدنا سہل بن حنیف ؓ سیدنا سہل بن سعد الساعدی ؓ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سیدنا عامر بن واثلہ ؓ سیدنا ابوبرزہ اسلمی ؓ جیسے جید و محدث اصحاب رسول ﷺ نے امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ کی بیعت کی ہوئی تھی۔

⓲ اہل مدینہ کے شرپسند عناصر کو ایام حرہ میں صحیح مسلم 4796، 4798 کے تحت امیر المؤمنین سیدنا یزید ؒ نے واصل جہنم کیا۔

⓳ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلسل 12 خلفاء کے عہد تک یہ دین غالب اور محفوظ رہے گا۔ *[ صحیح مسلم 4705 --- 4710 ]* نبی کریم ﷺ ہی نے فرمایا کہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہا وہ بہت اختلاف دیکھے گا چنانچہ ان حالات میں میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو اپنائے رکھنا۔ *[ سنن ابوداؤد 4607 واسنادہُ صحیح ]* امام ابن تیمیه ؒ نے اسی حدیث کے تناظر میں سیدنا یزید بن معاویہؓ کو مسلمانوں کا چھٹا خلیفہ قرار دیا ہے۔ ( کیونکہ سیدنا حسنؓ پچھلی حکومت کا ہی ایک عہد تھے ) اسی حدیث کو جواز فراہم کرتے ہوئے امام ابن حجر العسقلانی ؒنے بھی امیر المؤمنین کو چھٹا خلیفہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح ملا علی قاری ؒنے بھی امیر المؤمنین سیدنا یزید بن معاویہؓ کو چھٹا خلیفہ قرار دیا ہے۔ *[ منہاج السنہ لابن التیمیه 238/8، فتح الباری تحت الحدیث للبخاری 7222، شرح فقہ الاکبر صفحہ 206 ]*

⓴ سیدنا یزید ؒ نے 51، 52، 53 ہجری میں امیر حج کے طور پر فرائض سر انجام دئیے اور صحابہ کی امامت کی۔ *[ البدایہ والنہایہ 229/8 ]*

*㉑* قسطنطنیہ کے بشارت یافتہ لشکر میں امیر یزید ؒ کی امامت میں سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن زبیر، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا حسین اور سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔ *[ ارشاد الساری تحت الحدیث للبخاری 2924، البدایہ والنہایہ لابن کثیر 151/8 ]* اور سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ نے وصیت کی تھی کہ ان کا جنازہ امیر یزید ؒ ہی پڑھائیں۔ *[ البدایہ والنہایہ لابن کثیر 58/8، طبقات الکبریٰ لابن سعد 484/3 ]*

️ *بندۂ احقر و خاکسار ابومعاویہ سلفی خادم کتاب و سنت و وکیل صحابہ کرام ؓ*

▪ *۸ شعبان المعظم ۱۴۴۶ ہجری ۷ فروری ۲۰۲۵ بروز جمعہ*

▪ *السلام علیکم ورحمة اللہ وبركاته*
 
Last edited:
Top