ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 847
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
یزید رحمہ اللہ نے قاتلِ حسین کو سزا دی: شیعہ کی اپنی کتاب سے ناقابل تردید ثبوت!
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
یہ ایک مسلم الثبوت حقیقت ہے کہ واقعۂ کربلا کے تناظر میں جہاں اہلِ سنّت والجماعت نے نہایت معتدل، منصفانہ اور متوازن موقف اختیار کیا، وہیں اہلِ رفض و ضلال روافض نے اس عظیم سانحہ کو اہلِ اسلام سے بدظنی پھیلانے کا ذریعہ بنایا۔
مگر تعجب ہے! کہ وہ گروہ جو اپنے زعمِ باطل میں اہلِ بیتِ اطہار کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے، وہی درپردہ اصل قاتلانِ حسین یعنی کوفہ کے غدار، جھوٹے، مکار، اور اہلِ بیت فروش شیعہ کی پردہ پوشی کرتا ہے، اور الزام سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ پر ڈال دیتا ہے۔
جبکہ اگر علم و انصاف کی میزان میں تول کر، اور تاریخی کتب اور شیعہ کی مآخذ کو پیشِ نظر رکھا جائے، تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ یزید رحمہ اللہ نہ تو قاتلِ حسین تھے، نہ انہوں نے اس کا حکم دیا، بلکہ قاتل پر غضبناک ہوئے اور اس کی گردن اڑوا دی۔
شیعہ روافض کا نامور و معتبر عالم رافضی ملا باقر مجلسی لکھتا ہے :
قاتل نے سر مبارک اٹھا کر یہ رجز پڑھا کہ میری سپر کو طلاونقرہ سے بھر دے اس لئے کہ میں نے بادشاہ بزرگ کو قتل کیا اور میں نے اس شخص کو قتل کیا جو سب سے افضل ہے یزید نے کہا جبکہ تو جانتا تھا کہ وہ ایسے بزرگ ہیں پھر کیوں ان کو قتل کیا ۔ بعد اس کے اس ملعون کے قتل کا حکم دیا۔
[جلاء العیون، ج ۲، ص ۲۹۸]
روافض کے اپنے امام باقر مجلسی کی زبان سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یزید رحمہ اللہ نے قاتلِ حسین کو قتل کروایا، تو اے رافضیو! اب تم کس منہ سے سیدنا یزید رحمہ اللہ کو "قاتلِ حسین" کہتے ہو؟ کیا اپنی کتابوں کو بھی تم جھٹلا دو گے؟
شیعہ روافض کا سیدنا یزید رحمہ اللہ کو قاتلِ حسین کہنا سراسر افتراء، تحریفِ تاریخ، اور بغضِ آل صحابہ کا مظہر ہے۔ شیعوں کا مذہب اصل میں محبتِ اہلِ بیت کی آڑ میں نفاق، سبّ صحابہ، اور تلبیسِ باطل کا مجموعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں جھوٹے فتنوں، باطل فرقوں، اور روافض کے افکارِ خبیثہ سے محفوظ فرمائے، اور صحابۂ کرام و اہلِ بیت علیہم الرضوان کے ساتھ محبت، وفاداری، اور ان کے سچے مقام کا اعتراف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وصلی اللہ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ وصحبہ أجمعین۔