ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 838
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
یومِ آزادی اور وطنی تہوار ایک بدعتی و شرکیہ رسم، شیخ صالح الفوزان کا پیغامِ حق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مسلمانوں میں کفار کی تقلید ایک بڑی بیماری بن چکی ہے۔ اس تقلید کی ایک شکل کفار کے بنائے ہوئے تہوار اور یادگار دن ہیں۔ ان میں شرکیہ اور بدعتی تہوار بھی شامل ہیں، جیسے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جشن، بادشاہوں یا صدور کی سالگرہ، قومی اور وطنی دن جیسے یومِ آزادی، یومِ جمہوریہ وغیرہ
شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں :
وسبب ذلك تقليد اليهود والنصارى، ومن ذلك تقليدهم في الأعياد الشركية والبدعية، كأعياد الموالد، وعيد مولد الرسول ﷺ ، وأعياد موالد الرؤساء والملوك، وقد تسمى هذه الأعياد البدعية أو الشركية بالأيام أو الأسابيع، كاليوم الوطني للبلاد، ويوم الأم، وأسبوع النظافة، ذلك من الأعياد اليومية والأسبوعية، وكلها وافدة على المسلمين من الكفار ، وإلا فليس في الإسلام إلا عيدان عيد الفطر وعيد الأضحى، وما عداهما فهو بدعة وتقليد للكفار .
اور اس (بدعات اور شرکیہ امور کے پھیلنے) کی وجہ یہود و نصاریٰ کی تقلید ہے، اور اس میں ان کی ان شرکیہ اور بدعتی عیدوں میں تقلید بھی شامل ہے، جیسے میلاد کی عیدیں، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کی عید، اور بادشاہوں اور رؤسا کی پیدائش کی عیدیں۔ اور کبھی یہ بدعی یا شرکیہ عیدیں ’’یوم‘‘ (دن) یا ’’أسبوع‘‘ (ہفتہ) کے نام سے موسوم کی جاتی ہیں، جیسے ملک کا ’’یوم الوطنی‘‘ (یومِ آزادی)، ’’یوم الأم‘‘ (مدر ڈے)، اور ’’أسبوع النظافة‘‘ (صفائی کا ہفتہ)۔ یہ سب روزانہ یا ہفتہ وار عیدوں میں سے ہیں، اور یہ سب مسلمانوں میں کفار سے آئی ہیں، ورنہ اسلام میں تو صرف دو ہی عیدیں ہیں: عید الفطر اور عید الاضحیٰ، اور ان دونوں کے علاوہ ہر عید بدعت اور کفار کی تقلید ہے۔
فيجب على المسلمين أن يتنبهوا لذلك، ولا يغتروا بكثرة من يفعله ممن ينتسب إلى الإسلام وهو يجهل حقيقة الإسلام، فيقع في هذه الأُمُورِ عن جهل ، أو لا يجهل حقيقة الإسلام ولكنه يتعمد هذه الأمور فالمصيبة حينئذ أشد.
پس مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس بات پر متنبہ رہیں، اور ان لوگوں کی کثرت سے دھوکا نہ کھائیں جو اسلام کی طرف نسبت رکھتے ہیں لیکن اسلام کی حقیقت سے جاہل ہیں، تو وہ جہالت کے سبب ان امور میں پڑ جاتے ہیں۔ یا پھر وہ اسلام کی حقیقت سے جاہل نہیں ہوتے لیکن دانستہ طور پر ان امور کا ارتکاب کرتے ہیں، تو اس وقت مصیبت اور بھی سخت ہو جاتی ہے۔
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم : ﴿ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ﴾ [الأحزاب: ٢١]
بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔
[الخطب المنبرية في المناسبات العصرية للفوزان، ج : ١، ص : ١٥٧]
یوم الوطنی محض ایک قومی یادگار نہیں، بلکہ حقیقت میں یہ ایک عید ہے، جو ہر سال ایک مقررہ دن پر لوٹ کر آتی ہے یہی عید کی تعریف ہے۔ اور جب اس عید میں "وطن" کو مرکزِ محبت، مرکزِ وفاداری اور مرکزِ قربانی کا مقام دیا جاتا ہے تو یہ "شرک فی المحبۃ" بن جاتا ہے، کیونکہ یہ مقام صرف اللہ اور دینِ اسلام کا ہے۔
شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں "وقد تسمى هذه الأعياد البدعية أو الشركية بالأيام أو الأسابيع، كاليوم الوطني للبلاد" یعنی ان بدعتی یا شرکیہ عیدوں کو کبھی "دن" یا "ہفتہ" کا نام دے دیا جاتا ہے، جیسے ملک کا یوم الوطنی۔
محض "دن" یا "ہفتہ" کہنے سے عید کی حقیقت نہیں بدلتی۔ اسلام میں کسی دن یا ہفتے کو مخصوص کر کے جشن منانا، جب وہ شریعت سے ثابت نہ ہو، بدعت ہے۔ اور جب وہ دن قوم، وطن یا علاقہ کے تقدس پر مبنی ہو، تو یہ شرک کی سیڑھی پر پہلا قدم ہے۔
شیخ الفوزان فرماتے ہیں "ذلك من الأعياد اليومية والأسبوعية، وكلها وافدة على المسلمين من الكفار" یعنی یہ سب روزانہ یا ہفتہ وار کی عیدوں میں سے ہیں، اور سب کی سب مسلمانوں میں کفار سے آئی ہیں۔
یوم الوطنی اور جشن آزادی اسلامی تاریخ کا حصہ نہیں، یہ براہِ راست کفریہ قوم پرست تحریکوں سے مستعار ہیں۔ جب کافروں کے بنائے ہوئے تہوار کو اپنایا جاتا ہے تو یہ اسلام کی اپنی تہذیبی بالادستی کو پامال کرنا ہے۔
شیخ الفوزان فرماتے ہیں "وإلا فليس في الإسلام إلا عيدان عيد الفطر وعيد الأضحى، وما عداهما فهو بدعة وتقليد للكفار" یعنی اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں عید الفطر اور عید الاضحی، ان کے سوا جو بھی ہے وہ بدعت اور کفار کی تقلید ہے۔
یہ فتویٰ ہر شک و شبہ کا خاتمہ کرتا ہے۔ جو مسلمان یوم الوطنی یا جشن آزادی کو "ثقافتی تقریب" یا "محبت وطن کا دن" کہہ کر جواز دیتے ہیں، وہ درحقیقت کفار کی تقلید کرتے ہیں۔
اور اکثر وہی لوگ یوم الوطنی مناتے ہیں جو اسلام کے اصل اصولوں سے غافل ہیں، اور اپنی جذباتی قوم پرستی کو دین کا حصہ بنا بیٹھے ہیں جیسا کہ شیخ صالح الفوزان نے فرمایا : "ولا يغتروا بكثرة من يفعله ممن ينتسب إلى الإسلام وهو يجهل حقيقة الإسلام"
اس کے علاوہ کچھ نام نہاد مولوی علم ہوتے ہوئے بھی اس شرکیہ بدعت کو جواز فراہم کرتے اور ان شرکیہ بدعتی عیدوں کو مناتے ہیں ہیں ان کے متعلق شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں "أو لا يجهل حقيقة الإسلام ولكنه يتعمد هذه الأمور فالمصيبة حينئذ أشد" یعنی حقیقتِ اسلام کو جانتے ہوئے بھی یہ کام کرے تو مصیبت اور بھی شدید ہے۔
کیونکہ یہ تو کھلی بغاوت ہے۔ علم رکھنے کے باوجود اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنا، اور کفار کی تقلید پر ڈٹے رہنا یہ جرم کو اور بھی سنگین بنا دیتا ہے۔
پس ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان خرافات سے اجتناب کرے، نہ خود اس میں شریک ہو، نہ اپنی اولاد کو اس میں ملوث کرے، بلکہ اس کا شرعی حکم لوگوں پر واضح کرے۔ جو شخص دینِ اسلام کو صحیح طور پر سمجھتا ہے وہ جانتا ہے کہ حقیقی آزادی صرف اللہ کی بندگی میں ہے، نہ کہ کسی قومیت یا وطنیت کے جھنڈے تلے۔
واللّٰہ الموفّق إلی سواء السبیل۔