ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 838
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
یوم الوطنی و جشنِ آزادی کی بدعت پر شیخ ابن عثیمین کا رد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں :
والعيد اسم لما يعود ويتكرر لمناسبة من المناسبات، فكل ما يعود ويتكرر لمناسبة من المناسبات فإنه يسمى عيدًا، والأعياد الشرعية ثلاثة فقط وهي: عيد الفطر، وعيد الأضحى، وعيد الجمعة، ليس هناك عيد سواها، وعلى هذا فما يدعي من الأعياد في مناسبات أخرى كما يسمونه العيد الوطني، وعيد انتصاب الرئيس وما أشبه ذلك، كلها أعياد محدثة لا تجوز في الإسلام؛ لأنه كما قال شيخ الإسلام (رحمه الله): العيد من الأمور الشرعية التي تتلقى من الشرع، ولهذا لما قدم النبي (صلى الله عليه وسلم) المدينة ووجدهم يلعبون في يومين اتخذوهما عيدًا قال" "إن الله أبدلكم بخير منهما عيد الفطر، وعيد الأضحى"، وهذا مما يدل على أن الرسول (صلى الله عليه وسلم) لا يحب أن يبقى في الإسلام عيد الفطر، وعيد الأضحى.
عید اس دن کو کہتے ہیں جو کسی خاص موقع پر بار بار لوٹ کر آتا ہو۔ پس ہر وہ دن یا موقع جو کسی مخصوص وجہ یا موقع کی بنا پر بار بار آتا ہے، اسے عید کہا جاتا ہے۔ اور شرعی عیدیں صرف تین ہیں عید الفطر، عید الاضحی اور جمعہ کا دن ان کے علاوہ کوئی عید نہیں ہے۔ پس جو تہوار دوسری مناسبتوں پر منائے جاتے ہیں، جیسے کہ جسے وہ "عید الوطنی" کہتے ہیں، یا صدر کے منصب پر فائز ہونے کا دن، اور اسی طرح کے دیگر مواقع یہ سب کے سب نئے گھڑے ہوئے تہوار ہیں جو اسلام میں جائز نہیں۔ یہ سب نئی بنائی ہوئی عیدیں ہیں جو اسلام میں جائز نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے فرمایا: عید دین کے ان امور میں سے ہے جو شریعت سے ہی لیے جاتے ہیں۔ اسی لیے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ دو دن کھیل تماشے میں گزارتے ہیں جنہیں وہ عید کے طور پر مناتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ نے تمہیں ان دونوں سے بہتر دن عطا فرمائے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحی"۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام میں صرف عید الفطر اور عید الاضحی ہی کو باقی رکھا اور دیگر عیدوں کو ختم کر دیا۔
[فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، ج : ٣، ص : ٧٦٧]
واضح ہو کہ عید کا اطلاق اس دن پر ہوتا ہے جو کسی خاص مناسبت سے بار بار لوٹ کر آئے، جیسا کہ شیخ ابن عثیمین نے تصریح فرمائی کہ: "والعيد اسم لما يعود ويتكرر لمناسبة من المناسبات" اس کا مطلب یہ ہے کہ عید ایسا دن ہے جو مخصوص مقصد یا موقع کے ساتھ ہر سال یا مقررہ وقت پر آتا ہو۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام میں صرف وہ عید معتبر ہے جس کی بنیاد وحی اور شریعت نے رکھی ہو۔ اس تعریف کے تحت ہر سال منایا جانے والا "یوم الوطنی" یا "یوم آزادی" بھی عید کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ یہ ہر سال مقررہ دن لوٹ کر آتا ہے
پھر شیخ ابن عثیمین نے براہِ راست قومی دن یوم الوطنی کی مثال دی، یعنی موجودہ "جشنِ آزادی" اس میں داخل ہیں۔ یہ سب محدثہ (بعد میں گھڑی ہوئی) عیدیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بدعت ہیں۔
"وعلى هذا فما يدعي من الأعياد في مناسبات أخرى كما يسمونه العيد الوطني، وعيد انتصاب الرئيس وما أشبه ذلك، كلها أعياد محدثة لا تجوز في الإسلام" پس جو عیدیں دوسرے مواقع پر بنائی جاتی ہیں، جیسے وطنی عید، صدر کے عہدہ سنبھالنے کی عید اور اس جیسی دیگر، یہ سب نئی پیدا کردہ عیدیں ہیں اور اسلام میں جائز نہیں۔
یہاں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ وطن پرستی (Nationalism) ایک کفریہ تصور ہے، کیونکہ اسلام میں وفاداری اور محبت وطن کے لیے نہیں بلکہ اللہ، رسول اور دین کے لیے ہے۔ جو لوگ یوم آزادی پر آتشبازی، جھنڈا لہرانا، گانے بجانے، اور قومی ترانے میں مصروف ہوتے ہیں، وہ ایک غیر شرعی اور کفریہ فکر کی تشہیر کر رہے ہیں۔
پس عید شارع کا مقرر کردہ حکم ہے، اس میں کسی بندے یا حکومت کو تصرف کا اختیار نہیں، جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: "العيد من الأمور الشرعیة التی لا یؤخذ فیها إلا من الشرع"، یعنی عید ان امور میں سے ہے جو شریعت سے ہی لیے جاتے ہیں۔ عید دین کا حکم ہے، اور دین میں اضافہ گھڑنا بدعتِ مردودہ ہے، حدیث شریف میں: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد» (بخاری، مسلم)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس باب میں فیصلہ کن ہے۔ مدینہ طیبہ تشریف آوری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ شہر کو دو غیر شرعی ایام بطورِ عید مناتے دیکھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منسوخ فرما کر ارشاد فرمایا: "إن الله أبدلكم بخير منهما، عيد الفطر وعيد الأضحى"۔ پس یہاں نصّ سے واضح ہو گیا کہ ہر غیر مشروع عید، خواہ محض تفریح و کھیل کی ہو، اس کا بقاء اسلام میں ممنوع ہے۔
اب جو اشخاص "یوم الوطنی" یا "یوم آزادی" کا التزام کرتے ہیں، وہ عین اسی ممانعت کے تحت داخل ہیں، بلکہ ان میں جاہلیت کا رنگ اور کفار کی مشابہت زیادہ شدید ہے، کیونکہ یہ ایام محض کھیل نہ رہے بلکہ ان میں وطنی جھنڈے، شرکیہ ترانے، اور وطن پرستی کے نعرے شامل کر دیے گئے ہیں، اور وطن پرستی صریح شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ" (سورۃ النساء: 48)
بے شک اللہ یہ نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے علاوہ جو چاہے بخش دیتا ہے۔
پس جو شخص وطن یا قومیت کو دین سے مقدم کرے، یا وطن کے لیے جان دے، اس کا جینا مرنا، محبت و نفرت وطن کے لیے ہو، وہ اللہ کے نزدیک ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ مسلمانوں کی اصل وحدت ایمان و دین سے ہے، نہ کہ خاک و سرحد سے۔
عرض یہ ہے کہ یہ ایام محض عرفی یا تاریخی یادگار کے نام پر بھی منائے جائیں تو بھی "عید" ہی ہیں، اور جب شارع نے غیر مشروع عید کو منسوخ کر دیا، تو اس کے جواز کی کوئی سبیل باقی نہ رہی۔
پس ثابت ہوا کہ یوم الوطنی اور اس نوع کے دیگر تہوار، محدث ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "کل بدعة ضلالة" (مسلم)۔ لہذا ان کا انعقاد و اعانت دونوں شرعاً ناجائز اور ترک واجب ہے۔
واللہ أعلم بالصواب۔
Last edited: