• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یکم محرم اور یوم شہادت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
178
ری ایکشن اسکور
21
پوائنٹ
71
یکم محرم کی روایات تو بالکل بھی معتبر نہیں ہیں۔۔ حضرت ابو بکر علیہ السلام کی شہادت سے کیلکولیٹ کریں۔۔ ان کا دور خلافت واضح ہے۔ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یکم محرم تو قطعی طور پر نہیں
 

Dr. Irfan

رکن
شمولیت
مئی 01، 2020
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
42
قتادہ کی روایت مرسل ہے کیونکہ قتادہ تابعی ہیں ان کا سن وفات ۱۱۷ ھجری ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ۲۳ ہجری کو فوت ہوے تب قتادہ پیدا بھی نہیں ہوۓ تھی
جبکہ ابن اثیر کے حوالے سے جو آپ نے نقل کیا وہ تضاد سے خالی نہیں ہے
۱- ابن اثیر فرماتے ہیں سیدنا عثمان کی بیعت پیر کو ہوئی جبکہ ایک رات باقی تھی مراد۲۹ ذوالحجہ تو پھر ۲۹ ذوالحج کو پیر ہونا چاہئے جبکہ اگر سیدنا عمر کی وفات ۲۶ ذوالحج جمعرات کو ہوئی تو ۲۹ ذوالحج کو پیر نہیں بنتا ۔
۲- یہ پیش کردہ عبارت اسد الغابہ کی اس مشہور روایت سے مختلف ہے جو ابن کثیر کے ہاں ملتی ہے جہاں وفات یکم محرم ہے ۔
۳- ابن عبدالبر کی الستعیاب کو دیکھتے ہیں جو ابن اثیر کا بنیادی ماخذ ہے
ابن عبدالبر حضرت عمرؓ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

وطعن يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، وتوفي يوم الخميس، ودفن يوم الأحد مستهل المحرم سنة أربع وعشرين، وبويع عثمان يوم الاثنين لليلة بقيت من ذي الحجة
اس عبارت میں بظاہر یہ باتیں جمع ہو گئی ہیں:

1. بدھ، چار راتیں باقی تھیں (26 ذوالحجہ) حضرت عمرؓ زخمی ہوئے۔
2. جمعرات کو حضرت عمرؓ کا انتقال ہوا۔
3. یکم محرم اتوار تدفین ہوئی۔
4. پیر، ایک رات باقی تھی (29 ذوالحجہ) حضرت عثمانؓ کی بیعت ہوئی۔
اس میں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے
26 ذوالحجہ = بدھ
27 ذوالحجہ = جمعرات
28 ذوالحجہ = جمعہ
29 ذوالحجہ = ہفتہ
30 ذوالحجہ = اتوار
1 محرم = پیر
تو یکم محرم اتوار نہیں بن سکتی۔
اور اگر:
یکم محرم اتوار ہو،
تو 29 ذوالحجہ ہفتہ ہوگی، پیر نہیں۔
یعنی ایک ہی عبارت میں ہفتے کے دن اور قمری تاریخیں آپس میں مطابقت نہیں رکھتیں
 

Dr. Irfan

رکن
شمولیت
مئی 01، 2020
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
42
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یوم شھادت و یوم تدفین یکم محرم ہی ہے۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پہ حملہ ہونے کے دن اور تاریخ پہ تمام مؤرخین کا اجماع ہے ، کہ حملہ بروز بدھ 27 ذی الحج کو نماز فجر میں کیا گیا ، اور اس پہ بھی مؤرخین کا اجماع ہے ، کہ حملہ کے تین دن بعد شھادت ہوئ۔
اب 27 ذی الحج کے تین دن بعد یکم محرم ہی بنتی ہے ، 27 ذی الحج ہی نہیں رہتی۔

اردو خواں طبقے میں ماضی قریب میں لکھی جانے والی علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ کی مشہورِ زمانہ کتاب " الفاروق " کا سب سے زیادہ حوالہ دیا جاتا ہے ، کہ علامہ شبلی نعمانی نے اپنی کتاب " الفاروق " کے صفحہ 166 پہ باقاعدہ عنوان باندھا ہے۔

حضرت عمر کی شھادت
( 26 ذی الحج سن 23 ھجری - 644 عیسوی )
( کل مدت خلافت دس برس چھ مہینے چار دن )
یہ عنوان لکھنے کے بعد علامہ موصوف واقعۂ شھادت لکھنا شروع کرتے ہیں ، صفحہ نمبر 169 پہ ان الفاظ سے واقعۂ شھادت کا اختتام کرتے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے تین دن بعد انتقال کیا ، اور محرم کی پہلی تاریخ ہفتہ کے دن مدفون ہوئے۔
علامہ موصوف کے عنوان کو مد نظر رکھیں ، عنوان میں 26 کو یوم شھادت قرار دے رہے ہیں ، اور تفصیل میں تین دن بعد کا تذکرہ کر کے یکم کو تدفین قرار دے رہے ہیں! یا للعجب
یہی معاملہ متقدمین و متاخرین کی چند کتب تواریخ میں بھی نظر آتا ہے ، کہ حملہ کی تاریخ 27 ذی الحج بھی لکھتے ہیں ، تین دن بعد شھادت کا تذکرہ بھی کرتے ہیں ، اور پھر یوم شھادت بھی 27 ذی الحج ہی رہتاہے! کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی !

مُعترضین تاریخِ شہادت پہ اعتراض کرتے ہوئے زیادہ تر دو کُتب کے حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ ان میں ایک اسد الغابة فی معرفة الصحابة ہے ، أسد الغابة في معرفة الصحابة صحابہ کرام کے احوال پر مشہور کتاب ہے۔ اس کتاب کے مصنف عز الدين بن الاثير ابو الحسن علی بن محمد الجزری المُتوفٰی 630ھ ہیں مختصراً اس کتاب کو اسد الغابة کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

دوسری کتاب الإصابة في تمييز الصحابة صحابہ کرام کے احوال پر علامہ ابن حجر عسقلانی کی کتاب ہے۔
علامہ عسقلانی رح کی تاریخِ وفات 852 ہجری ہے ، اور ان کی یہ کتاب مندرجہ بالا کتاب اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ اور الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب میں پیش کردہ روایات کا مجموعہ ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی رح کو مندرجہ بالا دونوں کتب میں جہاں جہاں اشتباہات تھے ، انہوں نے ان کا ازالہ کرکے “ الاصابة “ میں ضروری توضیحات و ترامیم کی ہیں۔ الاستيعاب في معرفة الأصحاب علامہ ابن عبد البر رح المُتوفٰی 463 ہجری کی تصنیف ہے۔

یومِ شھادتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنه 26 یا 27 ذی الحجہ ثابت کرنے والوں کی ساری عمارت مندرجہ بالا کُتب اور “ علامہ گوگل شریف “ پہ قائم ہے۔
ان میں سے ایک کتاب کے مؤلف پانچویں صدی ہجری ، دوسری کے مؤلف ساتویں صدی ہجری اور تیسری کے مؤلف نویں صدی ہجری کے ہیں۔
اپنے کمزور ترین مطالعہ 42 کُتُب کے حوالہ جات پیش کر رہا ہوں ، جن میں اکثر میں مندرجہ ذیل عبارت بڑی واضح اور صاف لکھی ہوئی ہے۔
إِنَّ وَفَاتَهُ كَانَتْ فِي غُرَّةِ الْمُحَرَّمِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين
سيدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت یکم محرم سن 24 ہجری کو ہوئی
اور آپ رضی اللہ عنہ کو یکم محرم 24 ہجری کو ہی دفن کیا گیا۔

آئیے دیکھتے ہیں کن کُتُب میں یکم محرم تاریخ شہادت سیدنا عمر رضی اللہ بیان کی گئی ہے۔

تیسری صدی ہجری کی دو کُتب۔
(1) الطبقات الكبري - ط العلميه (ابن سعد 230 هجرى) ، الجزء : 3 ، الصفحة : 278
(2) تاريخ المدينة (عمر بن شبه النميري البصري 262 هجرى) ، الجزء : 3 ، الصفحة : 944

چوتھی صدی ہجری کی 5 کُتُب
(3) تاريخ الطبري تاريخ الرسل والملوك وصله تاريخ الطبري (الطبري، ابن جرير 310 هجرى ) ، الجزء : 4 ، الصفحة : 193
(4) المنتخب من ذيل المذيل (الطبري، ابن جرير 310 هجرى) ، الجزء : 1 ، الصفحة : 11
(5) رجال صحيح البخاري الهدايه والارشاد في معرفه اهل الثقه والسداد (الكلاباذي، أبو نصر 323 هجرى) ، الجزء : 2 ، الصفحة : 507
(6) المستخرج من كتب الناس للتذكرة والمستطرف من أحوال الرجال للمعرفة ابن منده عبد الرحمن بن محمد 382 هجرى - الجزء : 2 ، الصفحة : 488
(7) إثارة التّرغيب والتّشويق إلى المساجد الثّلاثة والبيت العتيق (الخوارزمي، محمد بن إسحاق 383 هجرى) ، الجزء : 1 ، الصفحة : 320

پانچویں صدی ہجری کی 1 کتاب
(8) التعديل والتجريح , لمن خرج له البخاري في الجامع الصحيح أبو الوليد الباجي 403 هجرى - الجزء : 3 ، الصفحة : 935

چھٹی صدی ہجری کی تین کُتب
(9) تاريخ مدينة دمشق (ابن عساكر571 هجرى) ، الجزء : 44 ، الصفحة : 464
(10) تلقيح فهوم أهل الأثر في عيون التاريخ والسير (ابن الجوزي 597هجرى) ، الجزء : 1 ، الصفحة : 77
(11) علامہ ابن جوزی رح اپنی کتاب مناقب عمر بن خطاب میں محمد بن سعد سے روایت کرتے ہیں ، 27 ذی الحج بروز بدھ حملہ ہوا ، ہفتہ یکم محرم الحرام رات کے وقت انتقال ہوا ، اور رات ہی میں تدفین ہوئی۔

ساتویں صدی ہجری کی 8 کُتُب
(12) اسد الغابه - ط العلميه (ابن الأثير، عزالدین 637 هجرى) ، الجزء : 3 ، الصفحة : 578
(13) الكامل في التاريخ - ط دار صادر (ابن الأثير، عزالدین 630 هجرى) ، الجزء : 3 ، الصفحة : 52
(14) الاكتفاء بما تضمنه من مغازي رسول الله(ص) و الثلاثة الخلفاء (أبو الربيع الحميري الكلاعي 634 هجرى) ، الجزء : 2 ، الصفحة : 605
(15) كتاب رياض الأفهام في شرح عمدة الأحكام تاج الدين الفاكهاني 654 هجرى - الجزء :1 ، الصفحة : 14
(16) نهاية الأرب في فنون الأدب [النويري 667 هجرى - الجزء : 19 صفحة : 404
(17) اسم الکتاب : المختصر في اخبار البشر (أبو الفداء 672 هجرى) ، الجزء : 1 ، الصفحة : 165
(18) كتاب العبر في خبر من غبر الذهبي، شمس الدين 673 هجرى - الجزء : 1 ، الصفحة : 20
(19) تاريخ ابن الوردي 691 هجرى . الجزء : 1 صفحة 142

آٹھویں صدی ہجری کی 5 کُتُب
(20) شرح التبصرة والتذكرة ألفية العراقي [العراقي، زين الدين 725 هجرى - الجزء : 2 ، الصفحة : 303
واتفقوا على أنَّهُ دُفِنَ مُسْتَهَلِّ المُحَرَّمِ سنةَ أربعٍ وعشرينَ
(21) تهذيب الاسماء واللغات (النووي، أبو زكريا 767 هجرى) ، الجزء : 2 ، الصفحة : 13
(22) البداية والنهاية للإمام ابن كثير 774 هجرى . الجزء : 7 صفحة 154 - دار إحياء التراث العربي
(23) تاريخ الإسلام، ووفيات المشاهير والأعلام قال الإمام الذهبي784 هجرى . الجزء : 2 صفحة 158
(24) تخريج الدلالات السمعية (الخزاعي‌، علي بن محمد 789 هجرى) ، الجزء : 1 ، الصفحة : 56

نویں صدی ہجری کی 6 کُتُب
(25) الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح [برهان الدين الأبناسي 802 هجرى - الجزء : 2 ، الصفحة : 725
(26) كتاب مآثر الإنافة في معالم الخلافة القلقشندي 821 هجرى - الجزء : 1 ، الصفحة : 94
(27) كتاب فتح المغيث بشرح ألفية الحديث السخاوي، شمس الدين 831 هجرى - الجزء : 4 ، الصفحة : 321
(28) إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال و الأموال و الحفدة و المتاع (المقريزي، تقي الدين 845 هجرى) ، الجزء : 1 ، الصفحة : 382
(29) تفسير الثعالبي (الجواهر الحسان في تفسير القران) (الثعالبي، أبو زيد 875 هجرى) ، الجزء : 1 ، الصفحة : 130
(30) شرح ألفية العراقي لابن العيني [ابن العيني 893 هجرى الجزء : 1 صفحة : 365
واتفقوا على أنه دُفِنَ في مُسْتَهَل المحرم سنة أربع وعشرين

دسویں صدی ہجری کی 4 کُتُب
(31) محض الصواب في فضائل امير المؤمنين عمر بن الخطاب (ابن المِبْرَد 909 هجرى) ، الجزء : 3 ، الصفحة : 840
(32) تاريخ الخلفاء للسيوطي 911 هجرى - مطبعة السعادة (ص: 120
(33) سبل الهدى والرشاد (الصالحي الشامي 942 هجرى) ، الجزء : 11 ، الصفحة : 275
(34) تاريخ الخميس في أحوال أنفس النفيس (الشيخ حسين ديار البكري 966 هجرى) ، الجزء : 2 ، الصفحة : 250

گیارہویں صدی ہجری کی 1 کتاب
(35) كتاب سلم الوصول إلى طبقات الفحول حاجي خليفة 1068 هجرى - الجزء :2، الصفحة : 413 رقم الترجمه 3333

بارہویں صدی ہجری کی 1 کتاب
(36) كتاب البدر التمام شرح بلوغ المرام الحسين بن محمد المَغرِبي1119 هجرى - الجزء : 1 ، الصفحة : 248

چودھویں صدی ہجری کی 1 کتاب
(37) منتهي السؤل علي وسائل الوصول الي شمائل الرسول ص (عبد الله عبادى اللحجى 1343 هجرى) ، الجزء : 1 ، الصفحة : 493

پندرہویں صدی ہجری کی 1 کتاب
(38) تاريخ الخلفاء الراشدين الفتوحات والانجازات السياسيه المؤلف : طقوش، محمد سهيل الجزء : 1 صفحة : 359

شیعہ حضرات کی 4کتب

چوتھی صدی ہجری کی 1 کتاب
(39) ذيل مسار الشيعة المؤلف : الشيخ المفيد الجزء : 1 صفحة : 42

پانچویں صدی ہجری کی 1 کتاب
(40) النعيم المقيم لعترة النبأ العظيم (الموصلي، شرف الدين) ، الجزء : 1 ، الصفحة : 96 (اس شخص کو بعض انجان لوگ سُنی اور شافعی المسلک بھی کہتے ہیں لیکن اس کی مندرجہ بالا کتاب پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شیعہ ہے--)

چودہویں صدی ہجری کی 2 کُتُب
(41) اصول الحديث وأحكامه في علم الدّراية المؤلف : السبحاني، الشيخ جعفر الجزء : 1 صفحة : 197
(42) ذيل معالم المدرستين المؤلف : العسكري، السيد مرتضى الجزء : 1 صفحة : 146

ان متقدمین و متاخرین کے علاوہ چند غیر معروف مؤرخین ایک روایت 8 محرم کی اور ایک روایت 10 محرم کی بھی بیان کرتےہیں ۔

متقدمین و متاخرین میں سے زیادہ مؤرخین کی رائے یکم محرم سن 24 ھجری ہی کی ہے ، اس لئے ہم یکم محرم ہی کو ترجیح دیتے ہیں ، تاریخ شھادت میں اختلاف سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مقام نہ کم ہوگا نہ زیادہ!

اللہ نے ان کو جو عظمتیں اور رفعتیں دی ہیں ، وہ اسی طرح رہیں گی۔
وہ اگر 26 یا 27 ذی الحج کو بھی فوت ہوئے ہوں ، تو ذی الحج بھی تو حُرمت والے مہینوں میں سے ہے۔ بلکہ بوجوہ اس کا مقام تو مُحرم سے بھی بڑھ کے ہے ، ویسے بھی اللہ کے ہاں موت کے دن یا مہینہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، وہاں تو فیصلے اعمال پہ ہونے ہیں ، اور ان کے اعمال ہی کی بناء پہ اللہ نے ان کو زندگی ہی میں معیارِ ایمان ، رضاء کا سرٹیفیکیٹ اور کنفرم جنتی ہونے کا تمغہ عطاء فرما دیا تھا۔

✍؛ صاحبزادہ ضیاءالرحمٰن ناصر
 
Top