• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

۱۲ ربیع الاول کو سیرت النبی ﷺ کے پروگرام کے لیے خاص کرنا بھی بدعت ہے

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
870
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
۱۲ ربیع الاول کو سیرت النبی ﷺ کے پروگرام کے لیے خاص کرنا بھی بدعت ہے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔ اما بعد!

اہل علم کے لیے یہ بات محتاج بیان نہیں کہ عبادات میں اصل اتباع شریعت ہے، محض نیک نیتی کافی نہیں۔ جس عمل کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقرب سمجھ کر کیا جائے، اس کی مشروعیت کے لیے کتاب و سنت سے دلیل درکار ہے۔ اسی طرح کوئی مباح یا مشروع عمل اگر کسی خاص دن، خاص رات، خاص تاریخ یا خاص وقت کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے جیسے اس دن اس عمل کی کوئی شرعی خصوصیت ہو، تو اس تخصیص کے لیے بھی دلیل شرعی ضروری ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ» جس نے ہمارے دین اسلام میں کوئی نئی بات نکالی جو اس میں نہیں تھی تو وہ مردود ہے۔

10974.jpg

لہٰذا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ نیک کام ہے یا نہیں؟ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بیان، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی تعلیم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی تعلیمات کا درس اور لوگوں کو اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت نہایت عظیم نیکی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ۱۲ ربیع الاول کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے، جلسے یا کانفرنس کے لیے ہر سال خاص کرنے کی شرعی دلیل موجود ہے؟

اگر کوئی شخص کہے کہ ’’ہم تو صرف نیک کام کرتے ہیں‘‘ تو جواب یہ ہے کہ نیک کام کو ایک خاص تاریخ کے ساتھ بطور معمول اور شعیرہ دینی مخصوص کرنا بھی دلیل کا محتاج ہے۔ محض نیک عمل ہونا کافی نہیں، تخصیص بھی دلیل چاہتی ہے۔

یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے، فرض کریں صدقہ کرنا نیک عمل ہے۔ قرآن پڑھنا نیک عمل ہے۔ ذکر کرنا نیک عمل ہے۔ سیرت پڑھنا اور پڑھانا نیک عمل ہے۔ وعظ و نصیحت نیک عمل ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص کہے: ’’میں ہر سال فلاں مخصوص تاریخ کو صدقہ ہی کروں گا، کیونکہ اس تاریخ کو صدقہ کرنے کی خاص فضیلت ہے۔‘‘ تو اب سوال ہوگا کہ اس خاص تاریخ کی تخصیص کی دلیل کیا ہے؟

اسی طرح اگر کوئی شخص کہے: ’’میں ہر سال فلاں رات کو خاص طور پر ذکر و عبادت کروں گا‘‘ تو اس سے بھی دلیل طلب کی جائے گی۔ پس اصل عمل کا مشروع ہونا اور کسی خاص زمانے کے ساتھ اس کا شرعی تخصیص کے طور پر وابستہ ہونا دو الگ مسائل ہیں۔

اگر کوئی شخص ۱۰ محرم کو پانی کی سبیل لگائے اور اسے عام صدقہ سمجھ کر کرے تو پانی پلانا بذات خود نیکی ہے۔ لیکن اگر وہ ۱۰ محرم کو خصوصا پانی کی سبیل لگانے کو ایک شعار اور اس دن کا مخصوص عمل بنا لے تو اس تخصیص کی دلیل طلب کی جائے گی۔

اسی طرح ۱۵ شعبان کو روزے کے لیے خاص کرنا الگ مسئلہ ہے۔ روزہ اپنی اصل میں عظیم عبادت ہے، مگر کسی خاص دن کو بطور خاص شرعی فضیلت کے ساتھ مخصوص کرنے کے لیے دلیل چاہیے۔

اسی طرح ۲۷ رجب کو ’’شب معراج‘‘ قرار دے کر اس رات مخصوص قیام، شب بیداری اور اجتماعی عبادت کا اہتمام کرنا بھی اس وقت دلیل کا محتاج ہے جب اسے اس تاریخ کی مخصوص شرعی عبادت سمجھا جائے۔ واقعہ معراج اپنی جگہ حق اور عظیم معجزہ ہے، لیکن اس کی سالانہ یاد میں ایک مخصوص رات کو عبادت کے لیے مقرر کرنا الگ دعویٰ ہے۔

اسی طرح صفر کی آخری بدھ کو عبادت، نوافل یا کسی مخصوص عمل کے لیے خاص کرنا بھی شرعی دلیل کا محتاج ہے۔ تو اگر کسی عمل کو ایک مخصوص دن کے ساتھ خصوصیت سے وابستہ کرنے کے لیے دلیل چاہیے، تو ۱۲ ربیع الاول اس اصول سے مستثنیٰ کیسے ہوگیا؟

یہاں بعض حضرات یہ کہتے ہیں: ’’ہم میلاد نہیں مناتے، ہم تو صرف سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں۔‘‘ ہم کہتے ہیں: بہت خوب! سیرت بیان کیجیے، ضرور کیجیے، بکثرت کیجیے، ہر مسجد میں کیجیے، ہر مدرسے میں کیجیے، ہر جمعہ میں کیجیے، ہر موقع پر کیجیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ۱۲ ربیع الاول ہی کیوں؟

اگر جواب یہ ہو کہ ’’اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تھی‘‘ تو پھر یہی تو تخصیص زمانہ ہے۔ اور اگر جواب یہ ہو کہ ’’ہم اس دن کو عبادت نہیں سمجھتے، صرف سیرت کا پروگرام کرتے ہیں‘‘ تو پھر سوال ہوگا کہ ہر سال اسی تاریخ کو باقاعدگی کے ساتھ اجتماع منعقد کرنے کی خصوصیت کیوں؟

اگر ۱۲ ربیع الاول کی کوئی شرعی خصوصیت نہیں تو پھر محرم، سفر یا کسی اور مہینے یا دن سیرت کانفرنس کرنے میں کیا قباحت ہے؟ اور اگر اس دن کو اس لیے منتخب کیا جاتا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے متعلق مشہور تاریخ ہے، تو پھر یہ محض ایک اتفاقی تاریخ نہیں رہی، بلکہ سیرت کے پروگرام کو اس تاریخ کے ساتھ مخصوص کرنے کا ایک دینی سبب مانا جا رہا ہے۔ یہی محل نزاع ہے۔

ہم ان حضرات سے نہایت ادب کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ آپ ۱۲ ربیع الاول کو ہر سال سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کے لیے کیوں خاص کرتے ہیں؟ اگر فرماتے ہیں: ’’یہ نیک عمل ہے۔‘‘ تو ہم کہتے ہیں کہ بے شک سیرت کا بیان نیک عمل ہے، مگر کسی نیک عمل کو کسی مخصوص تاریخ کے ساتھ دینی اہتمام کے طور پر خاص کرنا بھی دلیل چاہتا ہے۔

اگر فرماتے ہیں ’’یہ عبادت نہیں، صرف سیرت کانفرنس ہے۔‘‘ تو پھر سوال ہے کہ جب یہ عبادت نہیں تو اسے ہر سال ایک ہی تاریخ کے ساتھ کیوں باندھا گیا؟ اور اگر اسے نہ عبادت سمجھتے ہیں، نہ اس دن کی کوئی شرعی خصوصیت مانتے ہیں، تو پھر ۱۲ ربیع الاول کی تخصیص کا شرعی یا دینی معنی کیا باقی رہ جاتا ہے؟

یہی وہ مقام ہے جہاں دعویٰ اور عمل باہم ٹکرا جاتے ہیں۔ اہل حدیث کے لیے تو معاملہ اور بھی واضح ہونا چاہیے کیونکہ اہل حدیث کا امتیاز ہی یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں دلیل لاؤ! وہ رسم و رواج کو دین نہیں بناتے، آباؤ اجداد کے معمول کو حجت نہیں سمجھتے، محض اچھی نیت کو شرعی دلیل قرار نہیں دیتے، بلکہ کتاب و سنت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

پھر جب یہی اصول ۱۲ ربیع الاول کے معاملے میں سامنے آئے تو اسے بدل کیوں دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے دن سیرت نبوی کے سالانہ پروگرام و کانفرنس مقرر کر لیں؛ بلکہ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو سال کے بارہ مہینے زندہ رکھا جائے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت صرف ربیع الاول کے چند دنوں کے لیے نہیں، بلکہ پوری امت کے لیے ہر دن کا دستور زندگی ہے۔ سیرت کا حق ایک دن نہیں، پوری زندگی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید کو اختیار کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مضبوطی سے تھاما جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اپنائے جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر عمل کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے طریقے کی پیروی کی جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو بدعات اور رسوم سے پاک رکھا جائے۔

اگر کوئی شخص ۱۲ ربیع الاول کو ایک شاندار کانفرنس منعقد کرے، ہزاروں روپے خرچ کرے، بڑے بڑے مقرر بلائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے واقعات بیان کرے، لیکن باقی سال سنت کی پابندی سے غافل رہے، تو اسے سوچنا چاہیے کہ سیرت کا مقصد صرف سیرت سننا تھا یا سیرت پر چلنا بھی تھا؟

بدعت کی بہت سی صورتیں اسی طرح وجود میں آتی ہیں۔ پہلے ایک عمل ہوتا ہے، پھر اس کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہوتا ہے، پھر ہر سال اس کا اہتمام ہوتا ہے، پھر اس تاریخ کی آمد کا انتظار کیا جاتا ہے، پھر اسے دینی شعار کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے، اور بالآخر لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اگر یہ مخصوص دن نہ منایا جائے تو گویا سیرت سے بے وفائی ہوگئی۔

یہی وجہ ہے کہ عبادات اور دینی شعائر میں زمان و مکان کی تخصیص کو معمولی مسئلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ شریعت نے جن عبادات کے لیے کسی خاص وقت کی تخصیص نہیں کی، انہیں اپنی طرف سے کسی خاص وقت کے ساتھ لازم اور مخصوص کرنا مشروع طریقہ نہیں۔

پس مسئلہ سیرت کے بیان کی مخالفت نہیں؛ مسئلہ اس سیرت کے بیان کو ایک غیر ثابت تاریخ کے ساتھ دینی التزام کے طور پر باندھنے کا ہے۔ لہٰذا صاف اور دو ٹوک بات یہ ہے سیرت النبی صلی اللہ علیہ پڑھنا اور پڑھانا نیکی ہے؛ لیکن ۱۲ ربیع الاول کو ہر سال سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے، جلسے یا کانفرنس کے لیے بطور خاص مقرر کرنا ایک بدعتی عمل ہے۔

لہٰذا آپ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پروگرام ضرور کریں، مگر کسی ثابت شدہ شرعی دلیل کے بغیر ایک مخصوص تاریخ کو دینی تخصیص نہ دیں۔ سیرت کا چراغ ربیع الاول کے ایک دن میں نہیں بلکہ سال کے ہر دن میں روشن ہونا چاہیے۔

واللہ أعلم بالصواب، وإليہ المرجع والمآب۔
 
Last edited:
Top