• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

”مالک اشتر“ کا اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف ”سب“ منسوب کرنا

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
857
ری ایکشن اسکور
228
پوائنٹ
111
”مالک اشتر“ کا اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف ”سب“ منسوب کرنا

از قلم : کفایت اللہ سنابلی

احادیث کے معروف مصادر میں ”مالک اشتر“ سے مروی صرف اور صرف تین روایات ملتی ہیں، ان میں سے ایک بھی بسند صحيح ثابت نہیں ہے۔ لیکن ان میں ایک روایت ایسی ہے جس کی سند میں ”مالک الاشتر“ کے علاوہ تمام کے تمام رواۃ ثقہ ہیں۔ ملاحظہ ہو:

امام نسائي رحمه الله (المتوفی 303) نے کہا:

« أخبرنا محمود بن غيلان، قال: أخبرنا أبو داود، عن شعبة، عن سلمة، قال: سمعت محمد بن عبد الرحمن بن يزيد يحدث عن أبيه، عن الأشتر، عن خالد بن الوليد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يعاد عمارا يعاده الله، ومن يسب عمارا يسبه الله.»

اشتر نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص عمار سے دشمنی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی رکھے گا اور جو شخص عمار کو برا بھلا کہے گا، اللہ اسے برا بھلا کہے گا۔“

[سنن النسائي الكبرى، ط التأصيل: 10/ 257 رقم 8409 ورجاله كلهم ثقات سوى الأشتر]

اس روایت میں ”سب“ کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے۔ اور سلف کے عقیدہ یا دیگر آیات و صحیح احادیث میں اللہ کی طرف ”سب“ کی نسبت قطعاً نہیں ملتی۔

◈ محمد ضياء الرحمن الأعظمي رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

«مع جودة إسناده في متنه نكارة، فإن السب لا ينسب إلى الله عز وجل فإن فيه ناقصا والله منزه من النقص»

اس کی سند عمدہ ہونے کے باوجود اس کے متن میں نکارت ہے۔ اس لیے کہ برا بھلا کہنے کی نسبت اللہ عزوجل کی طرف نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اس میں نقص پایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقص سے پاک ہے۔

[الجامع الكامل في الحديث الصحيح الشامل 9/ 249]

اس سند کے سارے رجال ثقہ ہیں سوائے ”مالک الاشتر“ کے۔ اس لیے یہ متن اسی کا گھڑا ہوا ہے۔

◈ بعض رواۃ نے اسی روایت کو بیان کرتے ہوئے سند سے ”اشتر“ نام ساقط کر دیا، لیکن درست بات یہ ہے کہ اس سند میں ”اشتر“ ہی موجود ہے، جیسا کہ امام ابوزرعہ اور امام ابوحاتم رحمہما اللہ نے کہا ہے۔
دیکھیں: [العلل لابن أبي حاتم 6/ 359 ت الحميد]

مالک اشتر پر امام احمد رحمہ اللہ کی جرح

امام احمد کے شاگرد مهنى بن يحيى کہتے ہیں:
«سألت أحمد عن مالك ‌الأشتر، يروى عنه الحديث؟ قال: لا»
میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے مالک الاشتر کے بارے میں پوچھا کہ اس سے حدیث روایت کی جاسکتی ہے تو فرمایا: نہیں۔
[السنة لأبي بكر بن الخلال (3/ 517) قال المحقق: إسناده صحيح وهو كذلك]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ یہ قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
«ولم يرد أحمد بذاك تضعيفه وإنما نفى أن تكون له رواية»
امام احمد رحمہ اللہ نے ان الفاظ سے تضعیف مراد نہیں لی ہے، بلکہ یہ بتانا چاہا ہے کہ ”مالک الاشتر“ سے کوئی حدیث ہی مروی نہیں ہے۔“ [تهذيب التهذيب لابن حجر، ط الهند: 10/ 12]

عرض ہے کہ اس قول کی یہ تفسیر کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ:

➊ مھنی نے ایک دوسری جگہ ”محمد بن الحسن المديني“ کی ایک روایت ذکر کرنے کے بعد یہ سوال و جواب نقل کیا ہے:

قلت: يُروى عنه الحديث؟ قال: لا، هو كذاب
میں نے کہا: اس سے حدیث روایت کی جاسکتی ہے؟ تو امام احمد نے جواب دیا: نہیں، وہ کذاب ہے۔

[المنتخب من كتاب العلل للخلال 311 ص: 140]

اس سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ اشتر سے متعلق اسی طرح سوال کرتے ہوئے مھنی کا مقصود کیا ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کے جواب کا مطلب کیا ہے۔

➋ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے قبل حافظ مغلطائی نے بھی امام احمد کا قول نقل کیا ہے اور ایسی کوئی تفسیر نہیں کی ہے، دیکھیں: [إكمال تهذيب الكمال لمغلطاي 11/ 35]

➌ اور سب سے اہم بات یہ کہ دیگر محدثین نے ”مالک الاشتر“ کو حدیث روایت کرنے والا بتلایا ہے۔ بلکہ کتب احادیث میں اس کی روایت کردہ ایسی حدیث بھی موجود ہے جس کے رجال «اشتر» تک ثقہ ہیں۔ یہ وہی حدیث ہے جسے اوپر ہم نے پیش کیا ہے۔

لہٰذا جب یہ بنیاد ہی درست نہیں ہے تو پھر اس بنیاد پر کی گئی تفسیر بھی غیر مقبول ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر امام احمد کے کلام کا یہ مطلب مان لیں کہ اس سے حدیث ہی مروی نہیں تو پھر اسے ثقہ کہنے کی کوئی گنجائش نہیں بچتی، کیونکہ ”ثقہ“ فن رجال کی اصطلاح ہے اور یہ اس راویِ حدیث کے لیے بولا جاتا ہے جو عدالت اور ضبط دونوں میں قابل اعتماد ہو، اور ضبط کا پتہ تبھی چلے گا جب کوئی حدیث روایت کرے گا۔

مالک الاشتر کی کتب ستہ میں کوئی روایت موجود نہیں ہے۔
کتب ستہ میں اس کی کوئی روایت موجود نہیں ہے۔

سنن نسائی (رقم 4746) میں « عن أبي حسان الأعرج، عن الأشتر، أنه قال لعلي » والی جو روایت ہے، اس کے بارے میں شیخ زبیر علی زئی لکھتے ہیں:
«وقوله: عن الأشتر، لعله أن الأشتر قال لعلي۔۔۔ الخ والله أعلم »
”سند میں ”عن الأشتر“ یہ شاید ”أن الأشتر قال لعلي“ ہے۔۔۔ واللہ اعلم“ [سنن النسائي دار السلام رقم 4750]

عرض ہے کہ: یہی بات ان شاء اللہ درست ہے، جیسا کہ دیگر کئی طرق میں ایسے ہی یہ روایت مروی ہے، مثلاً دیکھیں: مسند أحمد ط الرسالة رقم 959۔

اس کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ امام ابن سعد رحمه الله (المتوفی 230) ایک جگہ عنوان قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
«…ولم يرو أحد منهم عن عمر وعلي وعبد الله شيئا»
(یعنی آگے ایسے لوگوں کا تذکرہ ہوگا) جن میں سے کسی نے بھی عمر بن الخطاب، علی بن ابی طالب اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے کچھ بھی روایت نہیں کیا ہے۔ [الطبقات الكبرى ط دار صادر 6/ 211]
اور پھر اسی زمرہ میں مالک الاشتر کا ذکر ہے، دیکھیں: [الطبقات الكبرى ط دار صادر 6/ 213]

یہی وجہ ہے کہ جب امام مزی رحمہ اللہ نے اشتر کو علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والا بتلایا تو اس پر گرفت کرتے ہوئے مغلطائی رحمہ اللہ نے لکھا:

وذكره ابن سعد في فصل من لم يرو عن علي بن أبي طالب وعمر و(هنا ”ابن“ والتصويب من طبقات ابن سعد) عبد الله شيئا، فينظر قول المزي: روى عن علي وعمر، وصحبة الشخص لا تلزم صحة الرواية عنه

اور ابن سعد نے ان کا ذکر اس فصل میں کیا ہے کہ جنہوں نے علی بن ابی طالب اور عمر رضی اللہ عنہما سے کچھ روایت نہیں کیا، لہٰذا امام مزی کا یہ قول محلِ نظر ہے کہ ”انہوں نے علی اور عمر سے روایت کی ہے“ کیونکہ کسی شخص کی محض صحبت پایا جانا، اس سے روایت کے صحیح ثابت ہونے کو لازم نہیں کرتا۔“ [إكمال تهذيب الكمال لمغلطاي 11/ 35]

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کتب ستہ میں اشتر کی کوئی روایت نہیں ہے۔ لہٰذا تہذیب میں ”س“ کی علامت درست نہیں ہے۔ اور ”مالک اشتر“ اس قابل نہیں کہ اس کی روایت لی جائے بلکہ پیش کردہ روایت کی روشنی میں یہ متہم ثابت ہوتا ہے۔ لعنت اللہ علیہ۔
 
Top