کتب ورسائل پر تبصرہ
بعض لوگوں کو اس پر حیرت ہوتی ہے کہ پروفیسر طاہر القادری صاحب نے اس قدر تنظیمی، انتظامی، تحریکی اور دعوتی مصروفیات کے باوجود اتنی کتابیں کیسے لکھ ڈالیں؟ہمارے خیال میں جس نے بھی پروفیسر صاحب کی کتب کا بغور مطالعہ کیا ہو، اس کے لیے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ اکثر وبیشتر یہ کتب کی بجائے کتابچے ہیں،
مثلاً: ’قرآن اور فلسفہ تبلیغ‘ 20 صفحات اور ’مذہبی اور غیر مذہبی علوم کے اصلاحِ طلب پہلو‘ 24 صفحات اور ’ تحریکِ منہاج القرآن کا تصور دین‘ 28 صفحات اور ’ خدمتِ دین کی توفیق‘ 32 صفحات اور ’سیرتِ نبوی کی عصری وبین الاقوامی اہمیت‘ 32 صفحات اور ’اقبال اور پیغامِ عشق رسول‘ 39 صفحات اور ’ہمارا اصل وطن‘ 48 صفحات اور ’اقبال کا مرد مؤمن‘ 48 صفحات اور ’فلسفہ تسمیہ ‘ 44 صفحات اور ’معارف اسم اللہ ‘ 42 صفحات اور ’عمر رسید ہ اور معذور افراد کے حقوق‘ 48 صفحات پر مشتمل ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ کتابچے بھی دراصل پروفیسر صاحب کی تقاریر کو صفحاتِ قرطاس پر منتقل کیا گیا ہے۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب کے ہاں1987ء میں ہی ’منہاج القرآن رائٹرز پینل‘ کے نام سے ایک ادارہ بنایا گیا تھا جو اَب ’فریدِ ملّت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ کے نام سے معروف ہے جس کے ریسرچ اسکالرز پروفیسر صاحب کی تقاریر کی صفحۂ قرطاس پر منتقلی، ان کی کمپوزنگ، تقدیم وترتیب،تخریج وتحقیق اور نشرواشاعت کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔
تیسری اہم بات یہ بھی ہے کہ پروفیسر صاحب کی شائع شدہ کتب میں تکرار بہت ہے یعنی بعض اوقات یوں بھی دیکھنے میں آیا ہے، کہ ایک کتاب کے پورے پورے ابواب دوسری کتاب میں بھی موجود ہیں اور دو کتابوں کے ایک ہی جیسے مضامین اور مواد دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ایک کتاب مستقل ہے اور دوسری کتاب اس پہلی کتاب سے ہی تیار کی گئی ہے، مثلاًپروفیسر صاحب نے سیرتِ رسول ﷺ پر ایک کتاب لکھی اور ایک جلد میں ’مقدمہ سیرة الرسول‘ کے نام سے اس کتاب کا مقدمہ لکھا۔بعد ازاں اس کتاب کے متفرق ابواب کو مختلف کتابچوں، مثلاً: ’سیرت رسول کی دینی اہمیت‘ اور ’سیرتِ رسول کی علمی وسائنسی اہمیت‘ اور ’سیرتِ رسول کی انتظامی اہمیت‘ اور ’سیرتِ رسول کی ریاستی اہمیت‘ وغیرہ کے عناوین سے شائع کر دیا گیا۔ اسی طرح پروفیسر صاحب نے ’کتاب البدعۃ‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی اور بعد ازاں اس کتاب کے دسویں باب کو ایک مستقل کتابچہ ’البدعۃ عند الأئمۃ والمحدثین‘ کے نا م سے شائع کر دیا گیا۔ اسی طرح اگر ہم ’اسلام اور جدید سائنس‘ اور ’تخلیق کائنات‘ اور ’ربّ العالمین کی علمی وسائنسی تحقیق‘کا تقابلی مطالعہ کریں تو ان تینوں کتب کے مواد کا ایک بڑا حصہ ایک ہی جیسا ہے۔ اسی طرح معاشیات پر اگر پروفیسر صاحب کی کتاب’اسلام کا معاشی نظام‘ اور ’اقتصادیاتِ اسلام‘ کا مطالعہ کریں تو ان کے مواد کا ایک بڑا حصہ بھی ایک ہی جیسا ہے۔علاوہ ازیں ’فلسفہ تسمیہ‘ اور ’تسمیۃ القرآن‘ کے مواد کا ایک بڑا حصہ ایک جیسا ہی ہے۔
مثلاًپروفیسر صاحب ’تفسیر منہاج القرآن‘ کے نام سے اب ایک تفسیر مرتب کر رہے ہیں اور اس کی پہلی جلد سورہ فاتحہ کی پہلی چار آیات پر مشتمل ہے اور تقریباً800 صفحات میں ہے۔ شاید اس تفسیر میں پروفیسر صاحب اپنی تمام کتابوں کو جمع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ اس تفسیر کی پہلی جلد میں ہی اُنہوں نے اپنے کئی ایک کتابچوں مثلاً’فلسفہ تسمیہ‘اور ’ربّ العالمین کی علمی وسائنسی تحقیق‘ اور ’معارف اسم اللہ‘ اور ’تخلیق کائنات‘ اور ’تسمیۃ القرآن‘ وغیرہ کو جمع کر دیا ہے۔
چوتھی بات یہ بھی ہے کہ پروفیسر صاحب کی کتب میں موضوع سے غیر متعلق اور غیر معیاری مواد کا ایک بڑا حصہ موجود ہوتا ہے، مثلاً: ’سیرة الرسول کی علمی وسائنسی اہمیت‘ نامی کتابچے میں دو ابواب میں سے ایک باب کا عنوان ’قرآن حکیم اور علمی وسائنسی ترقی‘ ہے۔ پاکستان میں خود کش حملوں کے بارے ان کی کتاب ’دہشت گردی اور فتنہ خوارج ‘ کے 9 ابواب میں سے 3 ابواب غیر مسلم اور کفار کے حقوق اور جان ومال کے تحفظ کے بیان میں ہیں جبکہ پاکستان میں غیر مسلم نہ ہونے کے برابر ہیں اور اصل مسئلہ مسلمان شہریوں کے حقوق اور جان ومال کے تحفظ کا ہے۔
جہاں تک پروفیسر صاحب کی ضخیم کتب کی تیاری کا معاملہ ہے تو اس بارے ایک واقعہ نقل کیے دیتے ہیں ۔ کئی سال پہلے مولانا ڈاکٹرلقمان سلفی ﷾ ، انڈیا سے پاکستان میں’ مجلس التحقیق الاسلامی‘ لاہور میں تشریف لائے۔ وہ انڈیا میں غالباًمکتبہ ابن تیمیہ کے نام سے لائبریری بنانا چاہتے تھے لہٰذااُنہوں نے ادارہ کے بعض نوجوان ساتھیوں سے منہاج القرآن لائبریری کا وزٹ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہاں اُنہوں نے لائبریری کے ساتھ ان کے ریسرچ سنٹر کا بھی وزٹ کیا جس میں اس وقت تقریباً 40 ریسرچ اسکالرز اور متعلقہ معاونین موجود تھے۔ مولانا لقمان سلفی صاحب نے جب ان حضرات سے ان کے کام کے بارے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ پروفیسر طاہر القادری صاحب ہمیں خطۃ البحث (synopsis) دیتے ہیں اور اس کے مطابق ہم ایک مکمل کتاب تیار کر دیتے ہیں۔
جہاں تک پروفیسر طاہر القادری صاحب کی کتب کے علمی معیار کی بات ہے تو ان پر دو اشکالات وارد ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جن کتب کا موضوع مذہبی اور دینی افکار ہیں تو ان میں ضعیف وموضوع روایات کی بھرمار ہے۔ پروفیسر صاحب ایک موضوع پر کلام کرتے وقت صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع سب روایات جمع کر دیتے ہیں جس اس کی جو مکمل تصویر سامنے آتی ہے، اس میں رطب ویابس سب جمع ہوتا ہے، مثلاً پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب’الدرة البیضاء فی مناقب فاطمۃ الزہرا‘ میں یہ روایت بیان کی ہے: إنما سمیت بنتي فاطمة لأن الله فطمها وفطم محبـیها عن النار” میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے الگ تھلگ کردیا ہے۔“امام ابن جوزی ،امام ذہبی، ابن عراق الکنانی اور امام شوکانی نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔علاوہ ازیں مناقب و فضائل سے متعلق ایسی مبالغہ آمیز موضوع روایات اسلامی معاشروں میں بے عملی کو فروغ دینے کا بہت بڑا سبب ہیں کہ جن کے مطابق بعض شخصیات سے صرف محبت کرنا ہی اُخروی نجات کے لیے کافی ہے اور دین کے کسی تقاضے یا فریضے پر عمل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اسی طرح پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب ’وسائط شرعیہ‘ میں یہ روایت نقل کی ہے: لولاك لما خلقت الأفلاك ” اگر آپ ﷺ نے ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔“امام صنعانی، ملاعلی القاری، علامہ عجلونی اور علامہ البانینے اس روایت کو موضوع قراردیا ہے۔
اسی طرح پروفیسر صاحب نے بریلوی مکتب فکر کے عقائد ونظریات کے حق ہونے پر اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ علیکم بالسواد الأعظم ”تم پر لازم ہے کہ تم سواد اعظم کو پکڑو۔“امام ابن حزم، امام عراقی، ابن عبد الہادی اور علامہ البانینے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
اسی طرح پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب ’زیارتِ رسول‘ میں یہ روایت نقل کی ہے: من زار قبري وجبت له شفاعتي ” جس نے میری قبر کی زیارت کی تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔“ امام نووی، ابن القطان، دمیاطی،امام ابن تیمیہ،ابن عبد الہادی،امام ذہبی، ابن حجر عسقلانی، امام سیوطی،محمد بن محمد الغزی اور الوداعینے اسے ضعیف یا منکر قرار دیا ہے جبکہ علامہ البانی اور شیخ بن بازنے اسے موضوع قرار دیا ہے۔
اسی طرح پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب ’الفوز الجلی فی التوسل بالنبی ﷺ‘ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت آدم نے محمد ﷺ کے وسیلہ سے مغفرت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے سوال کیا کہ آپ کو محمد ﷺ کے بارے علم کہاں سے حاصل ہوا تو حضرت آدم نے کہا کہ میں نے آپ کے عرش پر کلمہ ’لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ لکھا ہوا دیکھا تھا۔ اس روایت کو امام بیہقی، امام ابن کثیر، امام شوکانی، امام صنعانی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے جبکہ ابن حجر عسقلانینے کہا ہے کہ اس روایت کے ضعف پر اتفاق ہے۔شیخ ابن باز اور علامہ البانینے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔اس طرح اور بھی بیسیوں مثالیں ہیں، لیکن ہم انہی پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان روایات کے ضعف ووضع کا اجمالی حکم
الدر ڈاٹ نیٹ نامی ویب سائٹ پر ملاحظہ کریں۔
جہاں تک غیر مذہبی عناوین پر کلام کی بات ہے تو ان کتب کا معیار بھی معاصر علمی معیار کے بالمقابل انتہائی سطحی ہے، مثلاً پروفیسر صاحب کی کتاب ’اسلام اورجدید سائنس‘ یا ’تخلیق کائنات‘ کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ اُردو ڈائجسٹ میں سائنسی معلومات سے متعلق کسی مضمون کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
پروفیسر صاحب میں تقریر وخطابت کی صلاحیت ہے اور اُنہیں ہزاروں کے مجمع کو متاثر کرنے کا فن آتا ہے لیکن ان کی تحریر کی صلاحیت بالکل بھی متاثر کن نہیں ہے اور ان کی تحریر تکرار، سطحی معلومات، غیر مستند و غیر معیاری مواد پر مشتمل، غیر مرتب اور معاصر تحقیقی اسالیب کے مطابق نہیں ہوتی ہے۔ جہاں خطابت کی بات ہے تو پروفیسر صاحب میں جوشِ خطابت بہت زیادہ ہے اور بعض اوقات اس جوش میں غیرمعقول باتیں بھی کر جاتے ہیں، مثلاً ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کی گلی کے کتوں کا گستاخ بھی کافر ہے۔(1)
(1) :
Dr. Tahir-ul-Qadri is against declaring Shia,Deobandies whole group as Kafir 7 - YouTube