رانا ابوبکر
تکنیکی ناظم
- شمولیت
- مارچ 24، 2011
- پیغامات
- 2,075
- ری ایکشن اسکور
- 3,043
- پوائنٹ
- 432
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آپ کا ایک رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں فتویٰ پڑھا اور دوست احباب کو بھی دکھایا۔ آپ نے حدیث« اِذَا کَانَ قَائِمًا فِی الصَّلوٰةِ قَبَضَ بِیَمِیْنِہٖ عَلٰی شِمَالِہٖ» (النسائی، کتاب الافتتاح، باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلوٰة) کے عموم میں تخصیص تو ثابت کردی، مگر دوست کہتے ہیں نماز میں ہاتھوں کی صرف چار حالتیں احادیث سے ثابت ہیں:
1۔قیام اول میں سینے پر ہاتھ باندھنا۔ 2۔رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پررکھنا یا پکڑنا۔ 3۔سجدہ میں ہاتھوں کو کندھوں یا چہرے کے برابر زمین پر رکھنا۔4۔جلسہ اور تشہد میں ہاتھوں کو گھٹنوں یا ران پر رکھنا۔
ان چاروں کے علاوہ اور کوئی حالت نہیں ملی، تو قیام ثانی میں ہاتھوں کو لٹکانے یا چھوڑنے کی کیا دلیل؟
محترم شیخ! اس مسئلہ میں جو عمل سنت سے قریب تر ہو، مع دلیل لکھ بھیجیں آپ کا شاکر ہوں گا۔