محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
سلف نے کچھ بدعتیوں کے ساتھ سختی کی ۔ اس کے دو پہلو ہیں :اہل بدعت کے ساتھ سختی کرنا
۱۔اس کا اطلاق بدعت مکفرہ کے مرتکب گروہوں پر ہوتا ہے ۔
۲۔ اگربدعت غیر مکفرہ کا مرتکب ہے تو اُس سے مقصد اہل بدعت کو ڈرانا ، لوگوں کو ان کی بدعت سے روکنا ہے ۔جسے اہل علم نے بدعتی سے قطع تعلقی کے باب میں ذکر کیا ہے۔ پھر یہ اُسی صورت جائز ہے کہ جب اس سے شرعی مصلحت حاصل ہوتی ہو اور دین کے واجبات نہ چھوٹتے ہوں ۔شرعی مصلحت کا طے کرنا اپنے دل کی خواہشات اور مخالفین سے انتقام لینے پر موقوف نہیں ہے بلکہ یہ قرآن و سنت کے واضح دلائل اور شرعی قواعد وضوابط پر موقوف ہے ۔ ہر دور کے وہ علمائے حقہ جو اللہ کی توحید کے معاملے میں مداہنت نہیں کرتے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں وہی اس بارے میں رہنمائی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
ذیل میں قطع تعلقی کے بارے میں اصول و قواعدکا ذکر کیا جا رہا ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :قطع تعلقی کرنا
﴿ وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِہٖ۰ۭ وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰي مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِـمِيْنَ۶۸ ﴾(الانعام:۶۸)
'' جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں تو ان سے اعراض کیجیے تاآنکہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں اور اگر شیطان آپ کو بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیے ۔''
امام قرطبی فرماتے ہیں :
''یہ آیت مبارکہ ہر اس شخص پر رد کرتی ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ دین کے ائمہ اور انکی متبعین کو فاسقوں کے ساتھ گھلنا ملنا چاہیے
اس آیت کے ضمن میں محمد بن علی کہتے ہیں:(لا تجالسو أھل الخصومات ،فانھم الذین یخوضون في آیات اللہ) اہل بدعت کے ساتھ مت بیٹھو کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں ۔''
ابن العربی فرماتے ہیں :(وھذا دلیل علی أن مجالسۃ أھل الکبائر لا تحل ) ''یہ آیت اہل کبائر کی صحبت کے حرام ہونے کی دلیل ہے (جب وہ گناہ کے کام میں مشغول ہوں)۔''(تفسیر قرطبی :۷/۱۳،۱۲)