• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل بدعت کے ساتھ سختی کرنا

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
اہل بدعت کے ساتھ سختی کرنا
سلف نے کچھ بدعتیوں کے ساتھ سختی کی ۔ اس کے دو پہلو ہیں :

۱۔اس کا اطلاق بدعت مکفرہ کے مرتکب گروہوں پر ہوتا ہے ۔

۲۔ اگربدعت غیر مکفرہ کا مرتکب ہے تو اُس سے مقصد اہل بدعت کو ڈرانا ، لوگوں کو ان کی بدعت سے روکنا ہے ۔جسے اہل علم نے بدعتی سے قطع تعلقی کے باب میں ذکر کیا ہے۔ پھر یہ اُسی صورت جائز ہے کہ جب اس سے شرعی مصلحت حاصل ہوتی ہو اور دین کے واجبات نہ چھوٹتے ہوں ۔شرعی مصلحت کا طے کرنا اپنے دل کی خواہشات اور مخالفین سے انتقام لینے پر موقوف نہیں ہے بلکہ یہ قرآن و سنت کے واضح دلائل اور شرعی قواعد وضوابط پر موقوف ہے ۔ ہر دور کے وہ علمائے حقہ جو اللہ کی توحید کے معاملے میں مداہنت نہیں کرتے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں وہی اس بارے میں رہنمائی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

ذیل میں قطع تعلقی کے بارے میں اصول و قواعدکا ذکر کیا جا رہا ہے ۔


قطع تعلقی کرنا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِہٖ۝۰ۭ وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰي مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِـمِيْنَ۝۶۸ ﴾(الانعام:۶۸)
'' جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں تو ان سے اعراض کیجیے تاآنکہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں اور اگر شیطان آپ کو بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیے ۔''

امام قرطبی  فرماتے ہیں :
''یہ آیت مبارکہ ہر اس شخص پر رد کرتی ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ دین کے ائمہ اور انکی متبعین کو فاسقوں کے ساتھ گھلنا ملنا چاہیے

اس آیت کے ضمن میں محمد بن علی  کہتے ہیں:(لا تجالسو أھل الخصومات ،فانھم الذین یخوضون في آیات اللہ) اہل بدعت کے ساتھ مت بیٹھو کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں ۔''

ابن العربی  فرماتے ہیں :(وھذا دلیل علی أن مجالسۃ أھل الکبائر لا تحل ) ''یہ آیت اہل کبائر کی صحبت کے حرام ہونے کی دلیل ہے (جب وہ گناہ کے کام میں مشغول ہوں)۔''(تفسیر قرطبی :۷/۱۳،۱۲)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
احادیث نبوی اور صحابہ کرام کے بہت سے آثار اس مسئلہ پر دلالت کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں :
ام المومنین عائشہ؅ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
﴿ھُوَالَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْہُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ۝۰ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ زَيْـغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِہٖ۝۰ۚ۬ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَہٗٓ اِلَّا اللہُ۝۰ۘؔ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ۝۰ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا۝۰ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ۝۷﴾ (آل عمران :۷)
''وہی تو ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی جس کی کچھ آیات محکم ہیں اور یہی (محکمات) کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات ہیں اب جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ انگیزی کی خاطر متشابہات کے پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں اور انہیں حسب منشاء معنی پہناتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم ان متشابہات پر ایمان لاتے ہیں ساری آیات ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور سبق تو عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔''

پھر آپ ﷺ نے فرمایا :جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو قرآن کے متشابہات کی پیروی کرتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے' پس ان سے بچو ۔'' (بخاری :۴۵۴۷، مسلم :۲۶۶۵)
سیدنا انس بن مالک؄ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ باہر نکلے تو آپ نے بلند گنبد دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا یہ کیا ہے؟آپ ﷺ کے صحابہ کرام نے عرض کیا فلاں انصاری صحابی کا ہے آپ ﷺ خاموش رہے اور دل میں یہ بات رکھی یہاں تک کہ اس گنبد کا مالک آپ ﷺ کے پاس آیااور آپﷺ کو لوگوں کے درمیان سلام کیا آپ نے اس سے منہ پھیر لیا اس طرح کئی بار کیا حتیٰ کہ انہیں پتا چل گیا کہ آپ ﷺ ناراض ہیں ۔ انہوں نے صحابہ سے اس کی شکایت کی اللہ کی قسم میں رسول اللہﷺ کو بدلا ہوا دیکھ رہا ہوں(صحابہ نے انہیں آپ ﷺ کی اس سے ناراضگی کا سبب بتلایا)پھر وہ صحابی واپس گئے اور اپنے گنبد کو گراکر بالکل زمین کے برابر کر دیا ۔رسول اللہ ﷺ ایک دن پھر اس گنبد کی طرف نکلے تو اسے نہ دیکھ کر صحابہ سے فرمایا کہ گنبد کے ساتھ کیا کیا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہم سے گنبد کے مالک نے آپکے اعراض کی شکایت کی تھی تو ہم نے اسے بتلا دیا تھا ' چنانچہ اس نے اسے منہدم کر دیا آپ ﷺ نے فرمایا: یاد رکھو ہر عمارت اپنے مالک کے لیے وبال ہے سوائے اس کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔ (ابوداود:۵۲۳۷)
عمار بن یاسر؄ فرماتے ہیں :میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے گھر والوں نے میرے ہاتھوں پر زعفران کا خلوق لگا دیا اگلی صبح کو جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ کو سلام کیا لیکن آپ ﷺ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایاجائو اسے دھو کر اپنے سے دور کر و ۔'' (بوداود:۴۶۰۱)
اسی طرح صحابہ کرام بھی گناہوں اور بدعات کے ارتکاب پر قطع تعلقی کرتے تھے ۔
عبداللہ بن مسعود؄ نے ایک آدمی کو جنازہ میں ہنستے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اللہ کی قسم میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گا۔'' (الزھد لأحمد بن حنبل :۱/۱۶۱)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
بدعت مکفرہ اورغیر مکفرہ کے مرتکبین کے ساتھ قطع تعلقی کے مابین فرق
۱۔اسلام سے خارج ہونے والے اصلاً دشمنی کے مستحق ہیں جبکہ غیر مکفرہ کے مرتکب اصلاً محبت اوردوستی کے مستحق ہیں ۔


۲۔اسلام میں داخل افراد سے قطع تعلقی اُسی صورت جائز ہے جب اس سے کوئی شرعی مصلحت حاصل ہو اور کوئی مفسدت پیدا نہ ہو جبکہ مرتدین سے کسی صورت محبت نہیں کی جاسکتی ۔
ہمارے ائمہ نے سلف کے ہر ایسے قول کی وضاحت کی ہے جس سے یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ تمام اہل بدعت کو قطع تعلقی میں برابرکی حیثیت حاصل ہے۔ملاحظہ فرمائیں:

قدریہ کی دو اصناف ہیں ۔

(۱) علم الٰہی کا انکار کرنے والے یہ اسلام سے خارج ہیں۔

(۲) جو علم الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں ۔

امام مالک'' قدریہ'' کی اس دوسری صنف کے بارے میں فرماتے ہیں :
( لایصلیٰ علیھم ،ولا یُسلم علی اھل القدر ،ولا علی اھل الاھواء جمیعھم،ولا یصلیٰ خلفھم ،ولا تقبل شھادتھم )
'' اُن کی نماز جنازہ نہ پڑھائی جائے ،انہیں سلام نہ کیا جائے ۔یہی حکم تمام اہل اھواء (بدعتیوں)کا ہے ۔قدریہ کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے اورنہ اُن کی گواہیوں کا اعتبار کیا جائے ''

امام ابو عمر بن عبدالبر  اس قول کی وضاحت میں لکھتے ہیں :
امام مالک کا یہ کہنا کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی امامت کا حقدار وہ ہے جو دین میں کامل ہو ،قرآن کی تلاوت ،اُس کے معانی اور مفہوم کو سمجھنے والا ہو اور دین میں تفقہ رکھتا ہو ۔یہ تب ہے جب وہ امام راتب (جسے خلیفہ یا اس کے نائب نے مقرر کیا ہو یا وہ اہل خیر کا مستقل امام )ہو۔امام مالک کے اس قول کا مخاطب کہ اُن کی نماز جنازہ نہ پڑھائی جائے ،اہلسنت کی ممتاز اور اعلیٰ شخصیات ہیں جنہیں ائمۃ المسلمین کہا جاتا ہے ۔ائمہ اہل سنت کا ان کی نماز جنازہ نہ پڑھانا اس غرض سے ہے کہ لوگ متنبہ ہو جائیں (جو کہ ایک شرعی مصلحت ہے )امام مالک کے اس قول [لایصلی علیھم ]ان کی نماز جنازہ نہ پڑھائی جائے] سے یہ مراد نہیں کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی شخص ان کی نماز جنازہ نہ پڑھے کیونکہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس نے شہادتین کی گواہی دی ہوگی ،اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی خواہ وہ بدعتی ہو یا کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔فقہاء اسلام اور ائمہ عظام میں سے کسی ایک کا بھی مجھے یہ قول نہیں ملا کہ جو بظاہر امام مالک کے الفاظ سے نکلتا ہے۔(الاستذکار لابن عبدالبر :۲۶/۱۰۴،۱۰۳)

ائمہ سلف کے باقی تمام اقوال جو غیر مکفرہ بدعتیوں کے رد میں بیان ہوئے ہیں اُن کا یہی معنیٰ ومفہوم ہے جیسے امام ابن عبدالبر نے بیان فرمایا ہے ۔اسی لیے سلف اہل بدعت کو مسلمانوں والے حقوق دیا کرتے تھے ۔ملاحظہ فرمائیں :

امام نخعی  فرماتے ہیں:
لم یکونوا (یعنی اصحاب النبي )یحجبون الصلاۃ علی أحد من أھل القبلۃ (شرح أصول الاعتقاد أھل السنۃ :۳/۱۰۶۰)

امام حسن بصری  فرماتے ہیں :
اذا قال لا الہ الا اللہ صُلِّي علیہ (شرح أصول الاعتقاد أھل السنۃ :۳/۱۰۶۰)
''جب وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا ہو 'اس کی نمازجنازہ پڑھی جائے گی ۔''

امام مالک  بھی یہی فرماتے ہیں:
ان أصوب ذلک ،وأعدلہ عندي ،اذا قال لا الہ الا اللہ ثم ھلک أن یغسل ویصلی علیہ (شرح أصول الاعتقاد أھل السنۃ :۳/۱۰۶۰)
''میرے نزدیک صحیح اور عدل پر مبنی بات یہی ہے کہ جو لا الہ الا اللہ کے عقیدے پر فوت ہوا۔ اُس کو غسل دیا جائے گا اوراُ س پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔''
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
قطع تعلقی کے مقاصداور شرعی ضوابط
قطع تعلقی دیگر عبادات کی طرح ایک عبادت ہے 'جس طرح شریعت نے گناہوں کی مختلف شرعی سزائیں مقرر کی ہیں اسی طرح یہ بھی ایک شرعی سزا ہے ۔جس کا بنیادی مقصد گناہ کو معاشرے میں پھیلنے سے روکنا ہے ۔


امام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں :
الھجر الشرعي نوعان: أحدھما: بمعنیٰ الترک للمنکرات۔ والثاني:بمعنیٰ العقوبۃ علیھا۔
فالأول: یرادبہ أنہ لا یشھد المنکرات لغیر حاجۃ...... بخلاف من حضر عندھم للانکار علیھم أوحضر بغیر اختیارہ ...وھذا الھجر من جنس ھجر الانسان نفسہ عن فعل المنکرات ومن ھذا الباب الھجرۃ من دارلکفر والفسوق الیٰ دارالا سلام والایمان،فانہ ھجر للمقام بین الکافرین والنافقین الذین لایمکَّنونہ من فعل ما أمراللہ بہ۔
والنوع الثانیی:الھجر علیٰ وجہ التأدیب، وھوھجر من یظھر المنکرات یھجرحتیٰ یتوب منھا،کما ھجر النبيﷺ و المسلمین : الثلائۃ الذین خُلِّفوا حتیٰ أنزل اللہ توبتھم، حین ظھر منھم ترک الجھاد المتعین علیھم بغیر عذر، ولم یھجرمن أظھرالخیر وان کان منافقاً۔فھناالھجر بمنزلۃ التعزیر۔
والتعزیر یکون لمن ظھر منہ ترک الواجبات وفعل المحرمات، کتارک الصلوۃ والزکاۃ۔والتظاھر بالمظالم والفواحش،والداعي الیٰ البدع المخالفۃ للکتاب والسنۃ واجماع سلف الأمۃ التي ظھر أنھا بدع۔
وھذا حقیقۃ قول من قال من السلف والأئمۃ : أن الدعاۃ الیٰ البدع لاتقبل شھادتھم، ولا یصلیٰ خلفھم، ولا یؤخذ عنھم العلم، ولا یناکحون، فھذہ عقوبۃ لھم حتیٰ ینتھوا،ولھذایفرقون بین الداعیۃ وغیر الداعیۃ لأن الداعیۃ أظھر المنکرات فاستحق العقوبۃ،بخلاف الکاتم فانہ لیس شرًّا من المنافقین الذین کان النبیی ﷺ یقبل علانیتھم ویکل سرائرھم الی اللہ مع علمہ بحال کثیر منھم......فالمنکرات الظاھرۃ یجب انکارھا بخلاف الباطنۃ فان عقوبتھا علیٰ صاحبہا خاصۃ)(مجموع الفتاویٰ ، ج ۲۸ص ۲۰۳)

ہجر شرعی (کنارہ کشی اور دوری )دوطرح کی ہوتی ہے:
ایک وہ جو ترک منکرات کی صورت میں ہوتی ہو۔
اور دوسری وہ جو اس بناپر سزا یا عقاب کی صورت میں ہو۔

جہاں تک پہلی صورت کا تعلق ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ بلاضرورت مسلمان برائی یا منکرات کی جگہ نہ جائے ...سوائے اس شخص کے جو ان کے پاس ان کا رد کرنے کے لئے جاتا ہے۔

ہجر وکنارہ کشی کی دوسری قسم بطور سزا ہوتی ہے ۔اس کے تحت انسان ایک ایسے شخص سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے جس سے منکرات اوربرائیاں ظاہر ہوتی ہوں اور یہ اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ توبہ نہ کرلے ۔نبی اکرم ﷺاورمسلمانوں نے ان تین صحابیوں سے ہجر اختیار کیاتھا جو غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ کی آیات نازل فرمائیں ۔آپ نے ان سے یہ رویہ اس وقت اختیار کیا جب ان سے فرض عین جہاد سے کوتاہی سرزد ہوئی تھی،جبکہ جس شخص نے جہاد میں نہ جانے کا کوئی عذر بیان کیا وہ چاہے منافق ہی ہوتا آپ اس سے ہجر وکنارہ کشی کا رویہ اختیار نہ فرماتے تھے۔چنانچہ یہ ہجر بطور تعزیر ہے اور تعزیر کاحکم اسی شخص پرہوتا ہے جس سے ترک واجبات یا ارتکاب محرمات ظاہر ہوں مثلاًایسی بدعات کی دعوت دے جو کتاب وسنت اور اجماع سلف کے خلاف ہوں اور یہ بھی واضح اور ظاہر ہو کہ وہ بدعات ہیں ۔

بزرگان سلف اور ائمہ کے اس قول کی بھی یہی حقیقت ومطلب ہے کہ داعیان بدعت کی شہادت قابل قبول نہیں ،ان کے پیچھے نہ نماز پڑھنی چاہیے نہ ان سے علم لینا چاہیے اور نہ بیاہ شادی کرنی چاہیے کیونکہ یہ ان کی سزا ہے تاآنکہ وہ اس سے باز آجائیں ۔اسی بناپر یہ بزرگ بدعت کے داعی ومبلغ اورغیر داعی میں فرق کرتے ہیں کیونکہ داعی ومبلغ منکرات کا ظاہر وبرسرعام ارتکاب کرتا ہے اس لئے سزا کا مستوجب ہے ۔بخلاف ایسے شخص کے جو چھپ کے کرتا ہے ،اب یہ شخص بہرحال ان منافقین سے بدترنہیں ہے جن کے ظاہر کو رسول اکرم ﷺقبول کرلیا کرتے تھے اور ان کے پوشیدہ امور کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیتے تھے، حالانکہ آپ کو ان کے بیشتر لوگوں کے حال کی خبر بھی تھی ...چنانچہ منکرات باطنہ (چھپی ہوئی) کے برعکس منکرات ظاہرہ کا رد وانکار فرض ہے کیونکہ چھپی بدعت اس کے حاملین تک محدود رہتی ہے]
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
دیگر عبادات کی طرح ہجر شرعی کی قبولیت کی بھی دو شرائط ہیں :
۱۔اخلاص :۔
یہ تمام اعمال کی قبولیت کا باطنی ترازو ہے۔ضروری ہے کہ قطع تعلقی کرنے والے کی نیت خالص ہو وہ اللہ کی رضا کے سوا اس عمل سے کچھ اور نہ چاہتاہو ۔اس کا مقصد بدعت کو پھیلنے سے روکنا اور بدعتی کی اصلاح کرنا ہو ۔تب اس کا عمل اللہ کے ہاں شرف قبولیت پائے گا ۔ ارشاد ربانی ہے :

﴿وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِــيَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝۰ۥۙ حُنَفَاۗءَ﴾(البینۃ :۵)
'' اور انہیں حکم تو یہی دیا گیا تھا کہ خالص اللہ کی عبادت کریں پوری طرح یکسو ہو کر۔''

امام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں:
''یہ سب کچھ نصح وخیرخواہی اور رضائے الٰہی کی خاطر ہونا چاہیے ۔انسان کی کسی شخص کے ساتھ ذاتی پرخاش نہیں ہونی چاہیے مثلاً دونوں کے درمیان کوئی دنیوی عداوت ہو، باہمی حسد وبغض ہو یا قیادت کا جھگڑا ہواور انسان اس بناپر اس کی برائیاں بظاہر نصح وخیرخواہی کے لئے بیان کرتا پھرے جبکہ دل میں مقصد انتقام یا بدلہ چکانا ہوتویہ شیطانی حرکت ہے ۔

رسول اکرم ﷺنے فرمایا:
انما الاعمال بالنیات وانما لکل امریٔ ما نوی''اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوئی ہوتی ہے'' نصیحت کرنے والے کا اولین مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی اصلاح کردے اور مسلمانوں کو دین ودنیا میں اس کے ضرر سے بچائے اور کفایت کرے ۔اس کایہ بھی فرض ہے کہ اس نیک مقصد کو سرانجام دینے کے لئے آسان اور ممکنہ طریق اختیار کرے ۔''(مجموع الفتاویٰ ،ج۲۸ص۲۲۱)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
۲۔شرعی اصولوں کی پیروی:
شریعت میں قطع تعلقی کے کچھ اصول و ضوابط طے کئے گئے ہیں جن کی پیروی کرنے سے ہی یہ عمل اللہ کے ہاں شرف قبولیت پاتا ہے ۔ جس سے قطع تعلقی کی جارہی ہو اس کی بابت ان شروط کا پورا ہوناضروری ہے ۔ذیل میں ان قواعد کو ذکر کیا جاتا ہے۔

۱۔اس کے بارے میں انسان کو یقین ہو کہ اس میں بدعت پائی جاتی ہے ۔ لوگوں کی سنی سنائی باتوں کی وجہ سے کسی سے قطع تعلقی کرنا جائز نہیں ۔جب تک کہ انسان کسی کی زبان ، تحریر یا کسی اور باوثوق ذریعے سے اس بات کا یقین نہ کر لے کہ یہ بدعت اس میں پائی جاتی ہے تب تک اس سے قطع تعلقی درست نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ۝۶ ﴾(الحجرات:۶)
''اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم نادانستہ کسی قوم کا نقصان کر بیٹھو پھر اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔''

۲۔اُس عمل کے بدعت ہونے پر ائمہ کے مابین اتفاق ہو ۔ایسے مسائل میں بدعتی سے قطع تعلقی نہیں کی جائے گی جنکے بدعت ہونے میں علماء کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے ۔

۳۔بدعتی پر اس مسئلہ میں حجت تمام کی جاچکی ہو ،اُس کے شبہات کا ازالہ کیا گیا ہو اور اُسکے سامنے درست موقف پیش کیا گیا ہو ۔دیکھیے :(البدعۃ واحکامھا لشیخ سعید الغامدی :۲/۳۴۰)

قطع تعلقی کیے جانے والے شخص میں اگر یہ تین باتیں پائی جائیں تو وہ شرعی طور پر قطع تعلقی کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔لیکن قطع تعلقی کی کچھ شرائط اور اصول و ضوابط ہیں جن کے پورا کیے جانے پر یہ عبادت موقوف ہے ۔

۱۔مصلحت و مفسدت کا قاعدہ ۲۔ جتنا جرم ہو اُس قدر سزا دینا
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
1۔قطع تعلقی تب کی جائے گی جب اس سے شرعی مصلحت حاصل ہوتی ہو۔
اگرقطع تعلقی سے مقاصد حاصل ہوتے ہوں تو قطع تعلقی کرنی چاہئے وگرنہ نہیں ۔اسی طرح اگر قطع تعلقی کرنے سے جس شر کو ہٹایا جا رہا ہے اس سے کوئی بڑا شر لازم آتا ہو تب بھی یہ عبادت ساقط ہوجائے گی ۔مصلحت و مفسدت کے حوالے سے درج ذیل عوامل نہایت اہمیت رکھتے ہیں :

۱۔قطع تعلقی کرنے والے کا طاقتور یا کمزور ہونا :۔اگر وہ طاقتور ہے تو اس عمل میں مصلحت ہے وگرنہ نہیں ۔

۲۔جس سے قطع تعلقی کی جارہی ہے اس پر مرتب ہونے والے اثرات :۔ اگر اُس میں بہتری آتی ہے یا اس کو سزا دینے سے دوسروں کو عبرت ہوتی ہے تو یہ عمل درست ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو تب تالیف قلوب کرنا بہتر ہے ۔

۳۔جس علاقے میں سنت غالب ہے وہاں اہل بدعت کو دبایا جائے گا اوران کے ساتھ سختی کی جائے گی جیسے صحابہ نے اہل بدعت کے ساتھ سختی کی جب بدعات نئی نئی اسلامی معاشرے میں داخل ہو رہی تھیں ۔

مجاہد بن جبر ابو الحجاج ثقہ تابعی فرماتے ہیں: '' میں عبداللہ بن عمر؄ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا ' ہم اس مسجد میں نماز پڑھنا چاہتے تھے تو مؤذن نے اذان میں تثویب (الصلوٰۃ خیر من النوم ) کہہ دیا(جب کہ وہ اذان ظہر یا عصر تھی) ابن عمر؄ نے فرمایا:'' أخرج بنا من عند ھذہ المبتدع ''ہمیں اس بدعتی کے پاس سے نکال لے جائو' ' اور آپ نے وہاں نماذ ادا نہ کی۔'' (ترمذی،ابوداود:۵۳۸)

مگر جب بعض علاقوں میں بدعات عام ہو گئیں تو پھر اُن سے تالیف قلوب کا طرز عمل اپنایا گیا ۔

امام ابو داؤد کہتے ہیں:
قلت لأحمد لنا أقارب بخراسان یرون الارجاء فنکتب الی خراسان نقرئھم السلام قال :سبحان اللہ لم لا تقرئھم(مسائل الامام احمد تالیف أبي داود السجستاني:۲۷۶)
''میں نے امام احمد بن حنبل کو کہا :ہمارے رشتہ دار ارض خراسان میں رہتے ہیں اور فتنہ'' ارجاء ''میں مبتلاء ہیں ،ہم ان سے مراسلت کر تے ہوئے انہیں السلام علیکم کہتے ہیں (آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ) امام احمد بن حنبل  فرماتے ہیں :
سبحان اللہ :آخر انہیں'' السلام علیکم'' نہ کہنے کی کیا وجہ ہے ؟''
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
۴۔قطع تعلقی سے اگر واجبات دین چھوٹتی ہوں
جیسے جہاد ،امر بالمعروف نہی عن المنکر تب یہ عمل درست نہیں ۔سلف میں ایسی کئی مثالیں ہیں جب انہوں نے بدعتی حکمرانوں کی اطاعت میں جہاد کیا جیسے احمد بن حنبل کا اپنے وقت کے جہمی حکمرانوں کے ساتھ طرز عمل۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ہجرالمبتدع لشیخ بکر ابی زید )

ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

''اہل بدعت و فسق سے ولاء و براء کے حوالے سے شیخ الاسلام  اپنے فتاویٰ میں یہ بھی فرماتے ہیں:'' یہ ہجر و ترک اہل سنت کی قوت و ضعف اور قلت و کثرت کے لحاظ سے مختلف ہے کیونکہ مقصد تو مہجورین کی تأدیب (بدعتیوں کو سزادینا)ہے اور عوام الناس کو اس (بدعت وفسق) سے بچانا ہے ۔لہٰذا اگر مصلحت اس میں ہے کہ ہجر و ترک شروفساد کے ضعف کا باعث ہے تو وہاں ہجر مشروع ہے ۔لیکن اگرہاجر کمزور ہے اور ہجر و ترک شر کے اضافے کا باعث ہے تو مصلحت یہی ہے کہ وہاں ہجر مشروع نہیں۔ بلکہ بعض لوگوں کے لیے تالیف، ہجر سے زیادہ سود مند ثابت ہوتی ہے اور بعض کیلیے ہجر،تألیف سے زیادہ نفع بخش ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کبھی دشمن سے قتال بہتر ہوتاہے اور کبھی جزیہ لینا بہتر ہوتا ہے ، یہ سب مختلف احوال اور مصالح کے اعتبار سے ہے ۔'' (مجموع الفتاویٰ:ج۲۸ص۲۰۶)

اسی لیے اہل بدعت یا اہل فسق سے ولاء و براء کا معاملہ انہی دینی مصالح کے اعتبارسے ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ انکار منکر میں کوئی اور منکر یا فتنہ و فساد کھڑا ہوجائے۔ ہمارا یہ مقصد بھی قطعاً نہیں کہ ولاء و براء کے اصول میں سرد مہری کا مظاہرہ کیا جائے ۔ بلکہ عامۃ الناس جو اس کی نزاکت سے بے خبر ہیں انہیں بہر نوع اس سے خبر دار کرنا چاہیے کہ وہ بدعتیوں کی مجلس کی زینت نہ بنیں تاکہ'' من کثر سواد قوم فھو منھم'' کا مصداق نہ بن جائیں۔ '' (مقالات تربیت ،ص:۲۰۱)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
2۔قطع تعلقی میں ظلم و عدوان کا ارتکاب نہ کرے
جس کا جتنا جرم ہو اسی قدر اسے سزا دینی چاہیے۔ارشاد ربانی ہے :

﴿ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ۝۰ۚ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَيْتُمْ۝۰ۭ ﴾ (الماۗئدۃ:۱۰۵)
''اے ایمان والو ! تمہیں اپنی فکر کرنا لازم ہے جب تم خود ہدایت پر ہو گے تو کسی دوسرے کی گمراہی تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔''

اس آیت کے ضمن میں امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :

''شریعت نے گنہگاروں کے ساتھ قطع تعلقی 'مذمت 'بغض اور سزا دینے کو جس قدر مشروع کیا ہے اُس میں زیادتی نہیں کرنی چاہیے ۔جو کوئی سزا دینے میں شدت کرے اُسے کہنا چاہیے کہ تم اپنے آپ کے ذمہ دار ہو' اگر تم ہدایت پر ہو تودوسروں کی گمراہی تمہیں کچھ نقصان نہیں دے گی ۔

ارشاد ربانی ہے :
﴿ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡ﴾(الماۗئدۃ:۸)
''کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر مشتعل نہ کر دے کہ تم عدل چھوڑ دو ۔عدل کیا کرو یہی بات تقویٰ کے قریب تر ہے ۔''

﴿ وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۝۱۹۰ ﴾ (البقرۃ:۱۹۰)
'' اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں مگر زیادتی نہ کرنا اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔''

﴿فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ۝۰۠ وَاتَّقُوا اللہَ﴾ (البقرۃ:۱۹۴)
''اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کر سکتے ہو جتنی اس نے تم پر کی ہے اور اللہ سے ڈرتے ہو۔''(فتاویٰ ابن تیمیہ :۱۴/۴۸۱،۴۸۲)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
شیخ الاسلام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں :
وھذا لأن الھجر من(باب العقو بات الشرعیۃ)فھو من جنس الجھاد في سبیل اللہ۔ وھذا یفعل لأن تکون کلمۃ اللہ ھي العلیا ویکون الدین کلہ للہ۔ والمؤمن علیہ أن یعادي في اللہ ویواليفي اللہ ، فان کان ھناک مؤمن فعلیہ أن یوالیہ وان ظلمہ،فان الظلم لا یقطع الموالاۃ الایمانیۃ۔ قال تعالیٰ : ﴿ وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَہُمَا۝۰ۚ......﴾الی قولہ:﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ ﴾ (الحجرات: ۹،۱۰) فجعلھم اخوۃ مع وجود القتال والبغي والأمر بالاء صلاح بینھم۔
فلیتدبر المؤمن الفرق بین ھذین النوعین۔ فماأکثر ما یلتبس أحدھما بالآخر
ولیعلم أن المؤمن تجب موالاتہ وان ظلمک واعتدیٰ علیک، والکافر تجب معاداتہ وان أعطاک وأحسن الیک ،فان اللہ سبحانہ وتعالیٰ بعث الرسل وأنزل الکتب لیکون الدین کلہ للہ۔ فیکون الحب لأولیائہ والبغض لأعدائہ ۔والاکرام لأولیائہ والاھانۃ لاعدائہ ۔ والثواب لأولیائہ والعقاب لأ عدائہ۔
[ ہجر ،عقوبات شرعیہ کے باب میں سے ہے اوراس لئے وہ جہاد فی سبیل اللہ کی جنس سے ہے۔ یہ اس لئے روا رکھاجانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ سربلند ہو اور دین سارے کا سارا اللہ رب العزت کے لئے ہوجائے ،بنابریں مومن کا فرض ہے کہ اللہ کے لئے دشمنی کرے اور اللہ ہی کے لئے دوستی ۔اس لئے اگر کہیں ایک بھی مومن ہو تو اس کا فرض بنتا ہے کہ ا س کے ساتھ دوستی اور وفاداری کا رشتہ قائم رکھے چاہے وہ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کرتا ہوکیونکہ ظلم و زیادتی سے ایمانی دوستی ،ہمدردی اورموالات کے رشتے نہیں کٹ جاتے۔
 
Top