رضا میاں
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 11، 2011
- پیغامات
- 1,557
- ری ایکشن اسکور
- 3,583
- پوائنٹ
- 384
اسلام علیکم
شیخ زبیر علی زئی کا ابن عیینہ کے عنعنہ کو ضعیف ٹہرانے کی ایک ہی وجہ ہے اور یہ کہ: ہو سکتا ہے جس ثقہ راوی سے انہوں نے تدلیس کی وہ خود مدلس ہو۔
لیکن اگر ایسا ہو کہ جس راوی سے ابن عیینہ عن سے روایت کر رہے ہیں، اس راوی سے ان کا کوئی بھی مدلس شیخ روایت نہیں کرتا، یا وہ راوی ان مدلس شیوخ کے شیوخ میں درج نہیں، جس کا صاف مطلب بنتا ہے کہ اگر ابن عیینہ نے تدلیس کی بھی ہے تو وہ کسی مدلس راوی سے نہیں کی۔ ایسی صورت میں ان کا عنعنۃ قبول ہو گا؟
اسی طرح اگر ابن عیینہ اپنے کسی معاصر شیخ سے روایت کرنے میں بہت مشہور ہوں جیسے عمر بن دینار وغیرہ، اور ان کے شیوخ کا اپنے شیوخ سے تدلیس کرنا تو بہت ہی مشکل ہے کیونکہ یہ سلسلۃ اس زمانے تک نہیں رہتا بلکہ بہت آگے نکل جاتا ہے۔ اس صورت میں کیا خیال ہے؟
جزاک اللہ خیرا۔
شیخ زبیر علی زئی کا ابن عیینہ کے عنعنہ کو ضعیف ٹہرانے کی ایک ہی وجہ ہے اور یہ کہ: ہو سکتا ہے جس ثقہ راوی سے انہوں نے تدلیس کی وہ خود مدلس ہو۔
لیکن اگر ایسا ہو کہ جس راوی سے ابن عیینہ عن سے روایت کر رہے ہیں، اس راوی سے ان کا کوئی بھی مدلس شیخ روایت نہیں کرتا، یا وہ راوی ان مدلس شیوخ کے شیوخ میں درج نہیں، جس کا صاف مطلب بنتا ہے کہ اگر ابن عیینہ نے تدلیس کی بھی ہے تو وہ کسی مدلس راوی سے نہیں کی۔ ایسی صورت میں ان کا عنعنۃ قبول ہو گا؟
اسی طرح اگر ابن عیینہ اپنے کسی معاصر شیخ سے روایت کرنے میں بہت مشہور ہوں جیسے عمر بن دینار وغیرہ، اور ان کے شیوخ کا اپنے شیوخ سے تدلیس کرنا تو بہت ہی مشکل ہے کیونکہ یہ سلسلۃ اس زمانے تک نہیں رہتا بلکہ بہت آگے نکل جاتا ہے۔ اس صورت میں کیا خیال ہے؟
جزاک اللہ خیرا۔