• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا ہم ٹڈی کو کھا سکتے ہے؟

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
کیا ہمیں صرف مردہ ٹڈی کھانا جائز ہے یا ہم اس کا زندہ شکار کرکے بھی کھا سکتے ہے؟

السلام علیکم علوی بھائی جان،
پچھلی بار میں سوال کیا تھا کی کیا ہم ٹددی کھا سکتے ہے؟ تو آپ نے جواب دیا تھا کی :

یادہانی کے لیے شکریہ !
جی ہاں کھا سکتے ہیں: ایک روایت کے الفاظ ہیں:
روى أحمد (5690) وابن ماجه (3314) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ ، وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ ) والحديث صححه الألباني في صحيح ابن ماجه .
ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال ہیں۔ مرداروں میں مچھلی اور ٹڈی داخل ہے جبکہ خونوں میں جگر اور تلی شامل ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔مزید اس بارے تفصیلات یہاں موجود ہے؛
مسألة: الجزء السادس التحليل الموضوعي
1043 - مسألة : والجراد حلال إذا أخذ ميتا أو حيا سواء بعد ذلك مات في الظروف أو لم يمت روينا من طريق البخاري نا أبو الوليد الطيالسي نا شعبة عن أبي يعفور [ قال ] سمعت عبد الله بن أبي أوفى قال : { غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع غزوات أو ستا نأكل معه الجراد } وروينا عن عمر لا بأس بالجراد ، وعن ابن عمر الجراد ذكاة كله ، وعن ابن عباس في الجراد لا بأس بأكله - وهو قول جابر بن زيد وغيره ، فلم يستثنوا فيه حالا من حال - وهو قول أبي حنيفة ، والشافعي . وقالت طائفة : لا يحل وإن أخذ حيا إلا حتى يقتل - وهو قول مالك ولا نعلم له حجة لأن الذكاة لا تمكن فيه ، وذهب قوم إلى أنه لا يحل إن وجد ميتا فإن أخذ حيا حل كيف مات بعد ذلك ، روينا من طريق ابن وهب عن ابن أبي ذئب عن عبيد بن سلمان أنه سمع سعيد بن المسيب يقول في الجراد : ما أخذ وهو حي ثم مات فلا بأس بأكله . ومن طريق عطاء أخذ الجراد ذكاته - وهو قول الليث . قال أبو محمد : احتج هؤلاء بقول الله تعالى : { حرمت عليكم الميتة } . فما وجد ميتا فهو حرام ، وقال تعالى : { ليبلونكم الله بشيء من الصيد تناله أيديكم ورماحكم } . وصح أكل الجراد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وصح بالحس أن الذكاة لا تمكن فيه فسقطت ، فصح أن أخذه ذكاته لأنه صيد نالته أيدينا . قال علي : ولا حجة لهم في هذه الآية لأنه ليس فيها إباحة ما نالته أيدينا حيا دون ما نالته ميتا ، وصح في كل مقدور على تذكيته أنه لا يحل إلا بالذكاة والذكاة الشق وهي غير مقدور عليها في الجراد فارتفع حكمها عنه رحمه الله تعالى : { لا يكلف الله نفسا إلا وسعها } وقد صح تحليله بالنص فهو حلال كيفما وجد حيا أو ميتا بنص القرآن والسنة - وبالله تعالى التوفيق .
ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال ہیں۔ مرداروں میں مچھلی اور ٹڈی داخل ہے جبکہ خونوں میں جگر اور تلی شامل ہے۔
تو اب میرا سوال یہ ہے کی کیا ہمیں صرف مردہ ٹڈی کھانا جائز ہے یا ہم اس کا زندہ شکار کرکے بھی کھا سکتے ہے؟ اور اگر اس کا شکار کر سکتے ہے تو کیا اسے ذبح بھی کرنا ہوگا؟
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
السلام علیکم علوی بھائی جان،

معافی چاہونگا کی میں نے ادھورا سوال کیا تھا اور میں اپنی پوسٹ میں ترمیم کر ہی رہا تھا کی آپ نے یہ جواب دے دیا.

جی ہاں! ایک دوسری پوسٹ میں یہاں اس کا جواب بیان ہو چکا ہے۔
براے مہربانی سوال میں ترمیم کرنے کے بعد سوال بدل گیا ہے اگر آپ چاہے تو جواب میں اضافہ کردے.
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
ہم اس کا زندہ شکار کرکے بھی کھا سکتے ہے؟ اور اگر اس کا شکار کر سکتے ہے تو کیا اسے ذبح بھی کرنا ہوگا؟
اس عربی عبارت میں اس کے بارے تفصیل موجود ہے جو اوپر نقل کی گئی ہے۔امام ابن حزم رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا ذبح کرنا ممکن ہے لہذا اس کو پکڑنا ہی اس کے ذبح کرنے کے مترادف ہے، یہی رائے لیث بن سعد رحمہ اللہ کی بھی ہے ۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک اس کو پکڑنے کے بعد مارنا اس کو ذبح کرنے کے مترادف ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ کے نزدیک اسے ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہی قول امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ کا ہے۔
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا کہنا یہ ہے کہ اگر پکڑنے کے بعد مر جائے تو پھر کھائی جا سکتی ہے۔
آپ اسے زندہ پکڑ سکتے ہیں اور پکڑ کر ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ امام مالک رحمہ اللہ کے قول کےمطابق اس کو قتل کر کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ذبح تو ان جانوروں کو کیا جاتا ہے جن میں بہتا ہوا خون ہو اور ٹذی میں بہتا ہوا خون موجود نہیں ہوتا ہے لہذا اس میں ذبح ممکن نہیں ہے۔ پس اسے کسی بھی طرح سے مار کر کھایا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
 
Top