محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ''رفع الملام عن الائمۃ الاعلام ''میں ان وجوہات کا ذکر کیا ہے جس کی بنا پر ہمارے ائمہ کرام نے فقہی امور میں اختلاف کیا۔جس کا مطالعہ انتہائی مفید ہے :ائمہ کے مابین اختلافات کے اسباب
اگر کسی امام کا قول صحیح حدیث کے خلاف ہو تو اس کی درج ذیل وجوہات میں سے کوئی وجہ ہو سکتی ہے ۔
(۱) امام تک حدیث کا نہ پہنچنا
رسول اللہ ﷺ جب کوئی بات فرماتے یا کوئی عمل کرتے تو اس محفل میں موجود صحابہ کرام اس بات کو یاد رکھتے اور جہاں تک ممکن ہوتا اس بات کو دوسروں تک پہنچاتے اور بعض اوقات ایک مجلس میں موجود صحابہ کرام؇ کو جن باتوں کا علم ہوتا دوسری مجلس والے ان سے محروم رہتے۔ لہذا کوئی عالم بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے تمام احادیث رسول کا احاطہ کر لیا ہے اور جب کسی عالم کو حدیث نہ ملے تو وہ اس پر کیسے عمل کر سکتا ہے ؟ شرعاً بھی وہ اس حدیث پر عمل کرنے کا مکلف نہیں ۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں
(1)سیدنا ابو بکر صدیق (جو سفر و حضر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے تھے) سے پوچھا گیا کہ کیا میراث میں دادی کا حصہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ '' اللہ کی کتاب میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں اور میرے علم کے مطابق سنت رسول میں بھی ا س کا کوئی ذکر نہیں البتہ میں لوگوں سے پوچھوں گا۔پھر مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہ؆ نے بتایا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے دادی کو چھٹا حصہ میراث دلوائی''۔ (ترمذی:۲۱۰۰)
(2)سیدنا عمر فاروق کو رسول اللہ ﷺ کا فرمان معلوم نہ تھا کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت مانگے اور اس کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے ۔ ابو سعید خدری اور ابو موسی اشعری؆ نے عمر فاروق کو اس حدیث کی خبر دی (بخاری: ۶۲۴۵ مسلم :۲۱۵۳) حالانکہ عمر فاروق کا علمی مقام دیگر صحابہ سے بہت بلند ہے۔
(3)سیدناعمر فاروق شام جا رہے تھے راستہ میں انہیں معلوم ہوا کہ شام میں طاعون پھیلا ہوا ہے ۔آپ نے صحابہ کرام؇ سے مشورہ کیا ۔ کسی کو بھی حدیث رسول معلوم نہ تھی یہاں تک کہ عبدالرحمن بن عوف آئے اور انہوں نے رسول اللہﷺ کی حدیث بیان کی کہ'' جب کسی علاقہ میں طاعون پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو اور جب تمہیں پتہ چلے کہ کسی علاقہ میں طاعون پھیل چکا ہے تو وہاں مت جائو۔(بخاری : ۵۷۲۹.)
صحابہ کرام ؇ اس امت کے سب سے بڑے عالم ،فقیہ اور صاحب تقویٰ تھے وہ بھی بعض دینی احکام و مسائل سے آگاہ نہ تھے اس طرح ہر امام کو تمام صحیح احادیث معلوم نہ تھیں کیونکہ کتب احادیث اس وقت لکھی گئیں جب ان ائمہ کا دور ختم ہو چکا تھا اور مجتہد کے لیے ضروری نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے تمام اقوال و اعمال کا علم رکھتا ہو ۔ اس کے لیے اکثر دینی احکام و مسائل سے آگاہ ہونا کافی ہے ۔