• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم سرایا اور غزوات

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سرایا اور غزوات

(اہل سیر کی اصطلاح میں غزوہ اس فوجی مہم کو کہتے ہیں جس میں نبی ﷺ بنفس نفیس تشریف لے گئے ہوں، خواہ جنگ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اور سریہ وہ فوجی مہم جس میں آپ ﷺ خود تشریف نہ لے گئے ہوں سرایا اسی سریہ کی جمع ہے)
جنگ کی اجازت نازل ہونے کے بعد ان دونوں منصوبوں کے نفاذ کے لیے مسلمانوں کی عسکری مہمات کا سلسلہ عملاً شروع ہو گیا۔ طلایہ گردی کی شکل میں فوجی دستے گشت کرنے لگے۔ اس کا مقصود وہی تھا جس کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے کہ مدینہ کے گرد و پیش کے راستوں پر عموماً اور مکے کے راستے پر خصوصاً نظر رکھی جائے اور اس کے احوال کا پتا لگایا جاتا رہے اور ساتھ ہی ان راستوں پر واقع قبائل سے معاہدے کیے جائیں اور یثرب کے مشرکین و یہود اور آس پاس کے بدؤوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ مسلمان طاقتور ہیں اور اب انہیں اپنی کمزوری سے نجات مل چکی ہے۔ نیز قریش کو ان کے بے جا طیش اور تہور کے خطرناک نتیجے سے ڈرایا جائے تاکہ جس حماقت کی دلدل میں وہ اب تک دھنستے چلے جا رہے ہیں اس سے نکل کر ہوش کے ناخن لیں اور اپنے اقتصاد اور اسبابِ معیشت کو خطرے میں دیکھ کر صلح کی طرف مائل ہو جائیں اور مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر ان کے خاتمے کے جو عزائم رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جو رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور مکے کے کمزور مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں ان سب سے باز آ جائیں اور مسلمان جزیرۃ العرب میں اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے آزاد ہو جائیں۔
ان سَرَایا اور غزوات کے مختصر احوال ذیل میں درج ہیں:
۱۔ سریہ سیف البحر: (رمضان ۱ھ مطابق مارچ ۶۲۳ء)
(سیف البحر، س کو زیر پڑھیں گے۔ بمعنی ساحل سمندر)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ کو اس سَریہ کا امیر بنایا اور تیس مہاجرین کو ان کے زیر کمان شام سے آنے والے ایک قریشی قافلے کا پتا لگانے کے لیے روانہ فرمایا۔ اس قافلے میں تین سو آدمی تھے جن میں ابو جہل بھی تھا۔ مسلمان عِیْص (عیْص۔ ع کو زیر پڑھیں گے۔ بحر احمر کے اطراف میں ینبع اور مَرْوَہ کے درمیان ایک مقام ہے) کے اطراف میں ساحل سمندر کے پاس پہنچے تو قافلے کا سامنا ہو گیا اور فریقین جنگ کے لیے صف آراء ہو گئے لیکن قبیلہ جہینہ کے سردار مجدی بن عَمرو نے جو فریقین کا حلیف تھا، دوڑ دھوپ کر کے جنگ نہ ہونے دی۔
حضرت حمزہؓ کا یہ جھنڈا پہلا جھنڈا تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے باندھا تھا۔ اس کا رنگ سفید تھا اور اس کے علمبردار حضرت ابو مرثد کناز بن حصین غنویؓ تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۲۔ سریہ رابغ: (شوال ۱ھ اپریل ۶۲۳ء)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبیدہؓ بن حارث بن عبد المطلب کو مہاجرین کے ساٹھ سواروں کا رسالہ دے کر روانہ فرمایا۔ رابغ کی وادی میں ابو سفیان سے سامنا ہوا۔ اس کے ساتھ دو سو آدمی تھے، فریقین نے ایک دوسرے پر تیر چلائے لیکن اس سے آگے کوئی جنگ نہ ہوئی۔
اس سریے میں مکی لشکر کے دو آدمی مسلمانوں سے آ ملے۔ ایک حضرت مقداد بن عمرو البہرانی اور دوسرے عتیبہ بن غزوان المازنی رضی اللہ عنہما۔ یہ دونوں مسلمان تھے اور کفار کے ساتھ نکلے ہی اس مقصد سے تھے کہ اس طرح مسلمانوں سے جا ملیں گے۔
حضرت ابو عبیدہؓ کا عَلَم سفید تھا اور علمبردار حضرت مسطح بن اثاثہ بن مطلب بن عبد مناف تھے۔
۳۔ سریہ خرار: (ذی قعدہ ۱ھ مئی ۶۲۳ء)
(خرار، خ پر زبر اور ر پر تشدید، جحفہ کے قریب ایک مقام کا نام ہے)
رسول اللہ ﷺ نے اس سَرِیہ کا امیر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو مقرر فرمایا اور انہیں بیس آدمیوں کی کمان دے کر قریش کے ایک قافلے کا پتا لگانے کے لیے روانہ فرمایا اور یہ تاکید فرماد ی کہ خرار سے آگے نہ بڑھیں۔ یہ لوگ پیدل روانہ ہوئے رات کو سفر کرتے اور دن میں چھپے رہتے تھے۔ پانچویں روز صبح خرار پہنچے تو معلوم ہوا کہ قافلہ ایک دن پہلے جا چکا ہے۔
اس سریے کا عَلَم سفید تھا اور علمبردار حضرت مقداد بن عمروؓ تھے۔
۴۔ غزوہ ابواء یا ودان: (صفر ۲ھ اگست ۶۲۳ء)
(ودان، و پر زبر۔ د پر تشدید، مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔ یہ رابغ سے مدینہ جاتے ہوئے ۲۹ میل کے فاصلے پر پڑتا ہے، ابواء ودان کے قریب ہی ایک دوسرے مقام کا نام ہے)
اس مہم میں ستّر مہاجرین کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ بہ نفسِ نفیس تشریف لے گئے تھے اور مدینے میں حضرت سعدؓ بن عبادہ کو اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا۔ مہم کا مقصد قریش کے ایک قافلے کی راہ روکنا تھا۔ آپ ﷺ وَدَّان تک پہنچے لیکن کوئی معاملہ پیش نہ آیا۔
اسی غزوہ میں آپ ﷺ نے بنو ضمرہ کے سردار عمرو بن مخشی الضمری سے حلیفانہ معاہدہ کیا، معاہدے کی عبارت یہ تھی :
''یہ بنو ضمرہ کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کی تحریر ہے۔ یہ لوگ اپنے جان اور مال کے بارے میں مامون رہیں گے۔ اور جو ان پر یورش کرے گا اس کے خلاف ان کی مدد کی جائے گی، اِلاّ کہ یہ خود اللہ کے دین کے خلاف جنگ کریں۔ (یہ معاہدہ اس وقت تک کے لیے ہے) جب تک سمندر سِوار۔
(سوار: پانی کی تہہ میں اگنے والی ایک گھاس)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کو تر کرے (یعنی ہمیشہ کے لیے ہے) اور جب نبی ﷺ اپنی مدد کے لیے انہیں آواز دیں گے تو انہیں آنا ہو گا۔''
(المواہب اللدنیہ ۱/۷۵ شرح زرقانی)
یہ پہلی فوجی مہم تھی جس میں رسول اللہ ﷺ بذاتِ خود تشریف لے گئے تھے۔ اور پندرہ دن مدینے سے باہر گزار کر واپس آئے۔ اس مہم کے پرچم کا رنگ سفید تھا اور حضرت حمزہؓ علمبردار تھے۔
۵۔ غزوہ ٔبواط: (ربیع الاول ۲ھ ستمبر۶۲۳ء)
اس مہم میں رسول اللہ ﷺ دو سو صحابہ کو ہمراہ لے کر روانہ ہوئے۔ مقصود قریش کا ایک قافلہ تھا جس میں امیہ بن خلف سمیت قریش کے ایک سو آدمی اور ڈھائی ہزار اونٹ تھے۔ آپ ﷺ رضویٰ کے اطراف میں مقام بُواط (بواط، ب پر پیش اور رضویٰ کو ہستان جہینہ کے سلسلے کے دو پہاڑ ہیں جو درحقیقت ایک ہی پہاڑ کی دو شاخیں ہیں یہ مکہ سے شام جانے والی شاہراہ کے متصل ہے اور مدینہ سے ۴۸ میل کے فاصلے پر ہے) تک تشریف لے گئے لیکن کوئی معاملہ پیش نہ آیا۔
اس غزوہ کے دوران حضرت سعد بن معاذؓ کو مدینے کا امیر بنایا گیا تھا۔ پرچم سفید تھا علمبردار حضرت سعد بن ابی وقاصؓ تھے۔
۶۔ غزوہ سفوان: (ربیع الاول ۲ھ ، ستمبر ۶۲۳ء)
اس غزوہ کی وجہ یہ تھی کہ کرز بن جابر فہری نے مشرکین کی ایک مختصر سی فوج کے ساتھ مدینے کی چراگاہ پر چھاپہ مارا اور کچھ مویشی لوٹ لیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ستر صحابہ کے ہمراہ اس کا تعاقب کیا اور بدر کے اطراف میں واقع وادیٔ سفوان تک تشریف لے گئے۔ کرز اور اس کے ساتھیوں کو نہ پاس کے اور کسی ٹکراؤ کے بغیر واپس آ گئے۔ اس غزوہ کو بعض لوگ غزوہ بدر اولیٰ بھی کہتے ہیں۔
اِس غزوہ کے دوران مدینے کی امارت زید بن حارثہؓ کو سونپی گئی تھی۔ عَلَم سفید تھا اور علمبر دار حضرت علیؓ تھے۔
۷۔ غزوہ ذی العشیرہ: (جمادی الاولی و جمادی الآخرہ ۲ھ نومبر، دسمبر ۶۲۳ء)
اس مہم میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ڈیڑھ یا دو سو مہاجرین تھے لیکن آپ ﷺ نے کسی کو روانگی پر مجبور نہیں کیا تھا۔ سواری کے لیے صرف تیس اونٹ تھے۔ اس لیے لوگ باری باری سوار ہوتے تھے۔ مقصود قریش کا ایک قافلہ تھا جو ملک شام جا رہا تھا اور معلوم ہوا تھا کہ یہ مکے سے چل چکا ہے۔ اس قافلے میں خاصا مال تھا۔ آپ ﷺ اس کی طلب میں ذوالعُشَیْرہ (عشیرہ، ع کو پیش اور ش کو زبر، عشیراء اور عسیرہ بھی کہا جاتا ہے، ینبوع کے اطراف میں ایک مقام کا نام ہے) تک پہنچے لیکن آپ ﷺ کے پہنچنے سے کئی دن پہلے ہی قافلہ جا چکا تھا۔ یہ وہی قافلہ ہے جسے شام سے واپسی پر نبی ﷺ نے گرفتار کرنا چاہا تو یہ قافلہ تو بچ نکلا لیکن جنگ بدر پیش آ گئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اس مہم پر ابن اسحاق کے بقول رسول اللہ ﷺ جمادی الاولیٰ کے اواخر میں روانہ ہوئے - اور جمادی الآخرہ میں واپس آئے۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ اس غزوے کے مہینے کی تعیین میں اہل سیر کا اختلاف ہے۔
اس غزوہ میں رسول اللہ ﷺ نے بنو مدلج اور ان کے حلیف بنو ضمرہ سے عدمِ جنگ کا معاہدہ کیا۔
ایام سفر میں مدینہ کی سربراہی کا کام حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد مخزومیؓ نے انجام دیا۔ اس دفعہ بھی پر چم سفید تھا اور علمبردار حضرت حمزہؓ تھے۔
۸۔ سریۂ نخلہ: (رجب ۲ھ جنوری ۶۲۴ء)
اس مہم پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن جحشؓ کی سرکردگی میں بارہ مہاجرین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔ ہر دو آدمیوں کے لیے ایک اونٹ تھا جس پر باری باری دونوں سوار ہوتے تھے۔ دستے کے امیر کو رسول اللہ ﷺ نے ایک تحریر لکھ کر دی تھی اور ہدایت فرمائی تھی کہ دو دن سفر کر لینے کے بعد ہی اسے دیکھیں گے۔ چنانچہ دو دن کے بعد حضرت عبد اللہ نے تحریر دیکھی تو اس میں درج تھا :''جب تم میری یہ تحریر دیکھو تو آگے بڑھتے جاؤ یہاں تک کہ مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں اُترو اور وہاں قریش کے ایک قافلے کی گھات میں لگ جاؤ اور ہمارے لیے اس کی خبروں کا پتا لگاؤ۔'' انہوں نے سمع و طاعت کہا اور اپنے رفقاء کو اس کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا کہ میں کسی پر جبر نہیں کرتا، جسے شہادت محبوب ہو وہ اٹھ کھڑا ہو اور جسے موت ناگوار ہو وہ واپس چلا جائے۔ باقی رہا میں! تو، میں بہر حال آگے جاؤں گا۔ اس پر سارے ہی رُفقاء اٹھ کھڑے ہوئے اور منزل مقصود کے لیے چل پڑے۔ البتہ راستے میں سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما کا اونٹ غائب ہو گیا جس پر یہ دونوں بزرگ باری باری سفر کررہے تھے، اس لیے یہ دونوں پیچھے رہ گئے۔
حضرت عبد اللہ بن جحشؓ نے طویل مسافت طے کر کے نخلہ میں نزول فرمایا۔ وہاں سے قریش کا ایک قافلہ گزرا جو کشمش، چمڑے اور سامانِ تجارت لیے ہوئے تھا۔ قافلے میں عبد اللہ بن مغیرہ کے دو بیٹے عثمان اور نوفل اور عمرو بن حضرمی اور حکیم بن کیسان مولیٰ مغیرہ تھے۔ مسلمانوں نے باہم مشورہ کیا کہ آخر کیا کریں۔ آج حرام مہینے رجب کا آخری دن ہے اگر ہم لڑائی کرتے ہیں تو اس حرام مہینے کی بے حرمتی ہوتی ہے اور رات بھر رک جاتے ہیں تو یہ لوگ حدودِ حرم میں داخل ہو جائیں گے۔ اس بعد سب ہی کی یہی رائے ہوئی کہ حملہ کر دینا چاہیے چنانچہ ایک شخص نے عمرو بن حضرمی کو تیر مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ باقی لوگوں نے عثمان اور حکیم کو گرفتار کر لیا، البتہ نوفل بھاگ نکلا۔ اس کے بعد یہ لوگ دونوں قیدیوں اور سامانِ قافلہ کو لیے ہوئے مدینہ پہنچے۔ انہوں نے مالِ غنیمت سے خمس بھی نکال لیا تھا۔ (اہل سیر کا بیان یہی ہے مگر اس میں پیچیدگی یہ ہے کہ خمس نکالنے کا حکم جنگ بدر کے موقعے پر نازل ہوا تھا اور اس کے سبب کی جو تفصیلات کتب تفاسیر میں بیان کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے مسلمان خمس کے حکم سے نا آشنا تھے) اور یہ اسلامی تاریخ کا پہلا خمس پہلا مقتول اور پہلے قیدی تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس حرکت پر باز پرس کی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرام مہینے میں جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، اور سامان قافلہ اور قیدیوں کے سلسلے میں کسی بھی طرح کے تصرف سے ہاتھ روک لیا۔
ادھر اس حادثے سے مشرکین کو اس پروپیگنڈے کا موقع مل گیا کہ مسلمانوں نے اللہ کے حرام کیے مہینے کو حلال کر لیا، چنانچہ بڑی چہ میگوئیاں ہوئیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اس پروپیگنڈہ کی قلعی کھولی اور بتلایا کہ مشرکین جو کچھ کر رہے ہیں وہ مسلمانوں کی حرکت سے بدرجہا زیادہ بڑا جرم ہے۔ ارشاد ہوا:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ‌ الْحَرَ‌امِ قِتَالٍ فِيهِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ‌ ۖ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ‌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ وَإِخْرَ‌اجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ‌ عِندَ اللَّـهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ‌ مِنَ الْقَتْلِ ۗ (۲: ۲۱۷ )
''لوگ تم سے حرام مہینے میں قتال کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد حرام سے روکنا اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنا یہ سب اللہ کے نزدیک اور زیادہ بڑا جرم ہے اور فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے۔''
اس وحی نے صراحت کر دی کہ لڑنے والے مسلمانوں کی سیرت کے بارے میں مشرکین نے جو شور برپا کر رکھا ہے اس کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ قریش اسلام کے خلاف لڑائی میں مسلمانوں پر ظلم و ستم رانی میں ساری ہی حرمتیں پامال کر چکے ہیں۔ کیا جب ہجرت کرنے والے مسلمانوں کا مال چھینا گیا اور پیغمبر کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو یہ واقعہ شہرحرام (مکہ) سے باہر کہیں اور کا تھا؟ پھر کیا وجہ ہے کہ اب ان حرمات کا تقدس اچانک پلٹ آیا اور ان کا چاک کرنا باعث ننگ و عار ہو گیا۔ یقینا مشرکین نے پروپیگنڈے کا جو طوفان برپا کر رکھا ہے وہ کھلی ہوئی بے حیائی اور صریح بے شرمی پر مبنی ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دونوں قیدیوں کو آزاد کر دیا اور مقتول کے اولیاء کو اس کا خون بہا ادا کیا۔
(ان سرایا اور غزوات کی تفصیل ذیل سے لی گئی ہے۔ زاد المعاد ۲/۸۳-۸۵ ابن ہشام ۱/۵۹۱ - ۶۰۵ رحمۃ للعالمین ۱ / ۱۱۵، ۱۱۶، ۲/۲۱۵، ۲۱۶، ۴۶۸ - ۴۷۰۔ ان مآخذ میں ان سرایا و غزوات کی ترتیب اور ان میں شرکت کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔ ہم نے علامہ ابن قیم اور علامہ منصور پوری کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے)
یہ ہیں جنگِ بدر سے پہلے کے سریے اور غزوے۔ ان میں سے کسی میں بھی لوٹ مار اور قتل و غارت گری کی نوبت نہیں آئی جب تک کہ مشرکین نے کرز بن جابر فہری کی قیادت میں ایسا نہیں کیا، اس لیے اس کی ابتدا بھی مشرکین ہی کی جانب سے ہوئی جب کہ اس سے پہلے بھی وہ طرح طرح کی ستم رانیوں کا ارتکاب کر چکے تھے۔
ادھر سَریہ عبد اللہ بن جحش کے واقعات کے بعد مشرکین کا خوف حقیقت بن گیا اور ان کے سامنے ایک واقعی خطرۂ مجسم ہو کر آ گیا۔ انہیں جس پھندے میں پھنسنے کا اندیشہ تھا اس میں اب وہ واقعی پھنس چکے تھے۔ انہیں معلوم
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ہو گیا کہ مدینے کی قیادت انتہائی بیدار مغز ہے اور ان کی ایک ایک تجارتی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے۔ مسلمان چاہیں تو تین سو میل کا راستہ طے کر کے ان کے علاقے کے اندر انہیں مار کاٹ سکتے ہیں ، قید کر سکتے ہیں، مال لُوٹ سکتے ہیں اور ان سب کے بعد صحیح سالم واپس بھی جا سکتے ہیں۔ مشرکین کی سمجھ میں آ گیا کہ ان کی شامی تجارت اب مستقل خطرے کی زد میں ہے لیکن ان سب کے باوجود وہ اپنی حماقت سے باز آنے اور جُہَینہ اور بنو ضمرہ کی طرح صلح و صفائی کی راہ اختیار کرنے کے بجائے اپنے جذبۂ غیظ و غضب اور جوشِ بغض و عداوت میں کچھ اور آگے بڑھ گئے اور ان کے صنادید و اکابر نے اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کر لیا کہ مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر ان کا صفایا کر دیا جائے گا۔ چنانچہ یہی طیش تھا جو انہیں میدانِ بدر تک لے آیا۔
باقی رہے مسلمان تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن جحشؓ کے سریہ کے بعد شعبان ۲ھ میں ان پر جنگ فرض قرار دے دی اور اس سلسلے میں کئی واضح آیات نازل فرمائیں۔ ارشاد ہوا :
وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِ‌جُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَ‌جُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿١٩١﴾ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٩٢﴾ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ ﴿١٩٣﴾ (۲: ۱۹۰ تا ۱۹۳)
''اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو۔ یقینا اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اور انہیں جہاں پاؤ قتل کرو، اور جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے وہاں سے تم بھی انہیں نکال دو اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور ان سے مسجد حرام کے پاس قتال نہ کرو یہاں تک کہ وہ تم سے مسجد حرام میں قتال کریں۔ پس اگر وہ (وہاں) قتال کریں تو تم (وہاں بھی) انہیں قتل کرو۔ کافروں کی جزا ایسی ہی ہے۔ پس اگر وہ باز آ جائیں تو بے شک اللہ غفور رحیم ہے اور ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔ پس اگر وہ باز آ جائیں تو کوئی تَعدِّی نہیں ہے مگر ظالموں ہی پر۔''
اس کے جلد ہی بعد دوسری نوع کی آیات نازل ہوئیں جن میں جنگ کا طریقہ بتایا گیا اور اس کی ترغیب دی گئی ہے اور بعض احکامات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے :
فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا فَضَرْ‌بَ الرِّ‌قَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْ‌بُ أَوْزَارَ‌هَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ‌ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ ﴿٤﴾ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ ﴿٥﴾ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّ‌فَهَا لَهُمْ ﴿٦﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُ‌وا اللَّـهَ يَنصُرْ‌كُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ﴿٧﴾ (۴۷: ۴- ۷)
''پس جب تم لوگ کفر کرنے والوں سے ٹکراؤ تو گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب انہیں چھی طرح کچل لو تو جکڑ کر باندھو۔ اس کے بعد یا تو احسان کرو یا فدیہ لو، یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے۔ یہ ہے (تمہارا کام) اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا لیکن (وہ چاہتاہے کہ) تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں اللہ ان کے اعمال کو ہرگز رائیگاں نہ کرے گا۔ اللہ ان کی رہنمائی کرے گا اور ان کا حال درست کرے گا اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس سے ان کو واقف کرچکا ہے۔ اے اہل ایمان! اگر تم نے اللہ کی مدد کی تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم ثابت رکھے گا۔''
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت فرمائی جن کے دل جنگ کا حکم سن کر کانپنے اور دھڑکنے لگے تھے۔ فرمایا:
فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَ‌ةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ‌ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَ‌أَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ يَنظُرُ‌ونَ إِلَيْكَ نَظَرَ‌ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ (۴۷: ۲۰)
''تو جب کوئی محکم سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر ہوتا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو۔''
حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی فرضیت و ترغیب اور اس کی تیاری کا حکم حالات کے تقاضے کے عین مطابق تھا حتی کہ اگر حالات پر گہری نظر رکھنے والا کوئی کمانڈر ہوتا تو وہ بھی اپنی فوج کو ہر طرح کے ہنگامی حالات کا فوری مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیتا۔ لہٰذا وہ پروردگارِ برتر کیوں نہ ایسا حکم دیتا جو ہر کھلی اور ڈھکی بات سے واقف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات حق و باطل کے درمیان ایک خون ریز اور فیصلہ کن معرکے کا تقاضا کر رہے تھے، خصوصاً سریہ عبد اللہ بن جحشؓ کے بعد جو کہ مشرکین کی غیرت و حمیت پر ایک سنگین ضرب تھی اور جس نے انہیں کبابِ سیخ بنا رکھا تھا۔
احکام جنگ کی آیات کے سیاق و سباق سے اندازہ ہوتا ہے کہ خون ریز معرکے کا وقت قریب ہی ہے اور اس میں آخری فتح و نصرت مسلمانوں ہی کو نصیب ہو گی۔ آپ اس بات پر نظر ڈالیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جہاں سے مشرکین نے تمہیں نکالا ہے اب تم بھی وہاں سے انہیں نکال دو۔ پھر کس طرح اس نے قیدیوں کے باندھنے اور مخالفین کو کچل کر سلسلہ جنگ کو خاتمے تک پہنچانے کی ہدایت دی ہے جو ایک غالب اور فاتح فوج سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ اشارہ تھا کہ آخری غلبہ مسلمانوں ہی کو نصیب ہو گا۔ لیکن یہ بات پردوں اور اشاروں میں بتائی گئی تاکہ جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے لیے جتنی گرمجوشی رکھتا ہے اس کا عملی مظاہرہ بھی کر سکے۔
پھر انہی دنوں - شعبان ۲ھ فروری ۶۲۴ء میں - اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ قبلہ، بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو بنایا جائے اور نماز میں اسی طرف رخ پھیرا جائے۔ اس کا فائدہ ہوا کہ کمزور اور منافق یہود جو مسلمانوں کی صف میں محض اضطراب و انتشار پھیلانے کے لیے داخل ہو گئے تھے کھل کر سامنے آ گئے اور مسلمانوں سے علیحدہ ہو کر اپنی اصل حالت پر واپس چلے گئے اور اس طرح مسلمانوں کی صفیں بہت سے غداروں اور خیانت کوشوں سے پاک ہو گئیں۔
تحویل قبلہ میں اس طرف بھی ایک لطیف اشارہ تھا کہ اب ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے جو اس قبلے پر مسلمانوں کے قبضے سے پہلے ختم نہ ہو گا، کیونکہ یہ بڑی عجیب بات ہو گی کہ کسی قوم کا قبلہ اس کے دشمنوں کے قبضے میں ہو اور اگر ہے تو پھر ضروری ہے کہ کسی نہ کسی دن اسے آزاد کرایا جائے۔
ان احکام اور اشارو ں کے بعد مسلمانوں کی نشاط میں مزید اضافہ ہو گیا اور ان کے جہاد فی سبیل اللہ کے جذبات اوردشمن سے فیصلہ کن ٹکر لینے کی آرزو کچھ اور بڑھ گئی۔

****​
 
Top