Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
باب۔ بازاروں کی نسبت کیا کہا گیا ہے؟
(۱۰۰۹)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کے ارادہ سے آئے گا پھر جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو سب لوگ زمین پر دھنس جائیں گے۔ ''(ام المومنین) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ ! سب لوگ کیوں کر دھنس جائیں گے حالانکہ ان میں ان کے بازار بھی ہو نگے اور بعض لوگ ایسے ہوں گے جو ان میں سے نہ ہوں گے تو آپﷺ نے فرمایا :'' سب لوگ دھنس جائیں گے مگر ان کا حشر ان کی نیت کے موافق ہو گا۔ ''
(۱۰۱۰)۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ (ایک دن) بازار میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص نے کہا اے ابو لقاسم ! نبیﷺ اس کی طرف دیکھنے لگے، اس نے عرض کی کہ میں نے فلاں شخص کو پکارا ہے (نبیﷺ کو آواز نہیں دی) تو نبیﷺ نے فرمایا :'' میرا نام رکھ لو مگر میری کنیت نہ رکھو۔ ''
(۱۰۱۱)۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ دن کے وقت نکلے نہ آپﷺ مجھ سے باتیں کر رہے تھے اور نہ میں آپﷺ سے باتیں کر رہا تھا، یہاں تک کہ آپﷺ بنی قینقاع کے بازار میں تشریف لے گئے۔ پھر سیدنا فاطمہ الزہرہؓ کے مکان کے صحن میں تشریف فرما ہو گئے اور فرمایا:'' بچہ کہاں ہے، بچہ کہاں ہے؟ '' مگر سیدنا فاطمہؓ نے سیدنا حسنؓ کو تھوڑی دیر روکے رکھا۔ میں نے سمجھا کہ وہ انھیں کچھ پہنا رہی ہیں یا غسل کروا رہی ہیں۔ اس کے بعد وہ دوڑتے ہوئے آئے تو نبیﷺ نے انھیں لپٹا لیا اوربوسہ دیا اور دعا فرمائی :'' اے اللہ ! تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کر ے اس سے بھی محبت فرما۔ ''
(۱۰۱۲)۔ سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے دو رمیں لوگ اہل قافلہ سے غلہ خرید لیتے تھے پھر نبیﷺ ایک آدمی کو ان کے پاس روانہ کرتے جو ان کو اسی جگہ وہ غلہ فروخت کرنے سے منع کرتا جب تک اس کو جہاں اناج بکتا ہے (یعنی منڈی میں) اٹھا نہ لائیں۔ اور ابن عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ نبیﷺ نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ اناج یا غلہ جس وقت خریدا جائے اسی وقت فروخت کر دیا جائے، اس پر قبضہ (اور جگہ تبدیل) کیے بغیر۔
(۱۰۰۹)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کے ارادہ سے آئے گا پھر جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو سب لوگ زمین پر دھنس جائیں گے۔ ''(ام المومنین) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ ! سب لوگ کیوں کر دھنس جائیں گے حالانکہ ان میں ان کے بازار بھی ہو نگے اور بعض لوگ ایسے ہوں گے جو ان میں سے نہ ہوں گے تو آپﷺ نے فرمایا :'' سب لوگ دھنس جائیں گے مگر ان کا حشر ان کی نیت کے موافق ہو گا۔ ''
(۱۰۱۰)۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ (ایک دن) بازار میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص نے کہا اے ابو لقاسم ! نبیﷺ اس کی طرف دیکھنے لگے، اس نے عرض کی کہ میں نے فلاں شخص کو پکارا ہے (نبیﷺ کو آواز نہیں دی) تو نبیﷺ نے فرمایا :'' میرا نام رکھ لو مگر میری کنیت نہ رکھو۔ ''
(۱۰۱۱)۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ دن کے وقت نکلے نہ آپﷺ مجھ سے باتیں کر رہے تھے اور نہ میں آپﷺ سے باتیں کر رہا تھا، یہاں تک کہ آپﷺ بنی قینقاع کے بازار میں تشریف لے گئے۔ پھر سیدنا فاطمہ الزہرہؓ کے مکان کے صحن میں تشریف فرما ہو گئے اور فرمایا:'' بچہ کہاں ہے، بچہ کہاں ہے؟ '' مگر سیدنا فاطمہؓ نے سیدنا حسنؓ کو تھوڑی دیر روکے رکھا۔ میں نے سمجھا کہ وہ انھیں کچھ پہنا رہی ہیں یا غسل کروا رہی ہیں۔ اس کے بعد وہ دوڑتے ہوئے آئے تو نبیﷺ نے انھیں لپٹا لیا اوربوسہ دیا اور دعا فرمائی :'' اے اللہ ! تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کر ے اس سے بھی محبت فرما۔ ''
(۱۰۱۲)۔ سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے دو رمیں لوگ اہل قافلہ سے غلہ خرید لیتے تھے پھر نبیﷺ ایک آدمی کو ان کے پاس روانہ کرتے جو ان کو اسی جگہ وہ غلہ فروخت کرنے سے منع کرتا جب تک اس کو جہاں اناج بکتا ہے (یعنی منڈی میں) اٹھا نہ لائیں۔ اور ابن عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ نبیﷺ نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ اناج یا غلہ جس وقت خریدا جائے اسی وقت فروخت کر دیا جائے، اس پر قبضہ (اور جگہ تبدیل) کیے بغیر۔