• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ دوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جو شخص خود کشی کرے اس کی سزا
(۶۸۳)۔ سیدنا ثابت بن ضحاکؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا : '' جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کی اپنے آپ کو جھوٹا جان کر قسم کھائے مثلاً یوں کہے کہ فلاں بات یوں ہوئی تو میں یہودی ہوں تو ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ہے اور جو شخص اپنے آپ کو کسی ہتھیار سے قتل کرے اس کو اسی ہتھیار سے جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔ ''

(۶۸۴)۔ سیدنا جندبؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا : '' ایک شخص کے کچھ زخم لگ گیا تھا، اس نے اپنے آپ کو مار ڈالا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا : '' میرے بندے نے مجھ سے سبقت کی (یعنی اپنی جان خود دے دی) لہٰذا میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔ ''

(۶۸۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا : '' جو شخص اپنی جان گلا گھونٹ کر دیتا ہے وہ اپنا گلا دوزخ میں برابر گھونٹا کرے گا اور جو شخص زخم لگا کر اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے وہ دوزخ میں برابر اپنے آپ کو زخم لگایا کرے گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ لوگوں کا میت کی تعریف کرنا کیسا ہے ؟
(۶۸۶)۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ لوگ ایک جنازہ سامنے سے لے کر گزرے، صحابہؓ نے اس کی تعریف کی تو نبیﷺ نے فرمایا : '' واجب ہو گئی۔ '' پھر لو گ دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو انہوں نے اس کی برائی بیان کی، نبیﷺ نے فرمایا : '' واجب ہو گئی۔ '' تو سیدنا عمر بن خطابؓ نے عرض کی کہ کیا چیز واجب ہو گئی تو آپﷺ نے فرمایا : '' جس کی تم نے تعریف کی اس کے لیے جنت اور جس کی تم لوگوں نے برائی بیان کی اس کے لیے دوزخ واجب ہو گئی اور تم لوگ زمین میں اللہ کی طرف سے گواہ ہو۔ ''

(۶۸۷)۔ امیر المومنین عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا : '' جس مسلمان کے نیک ہونے کی چار آدمی گواہی دیں تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ '' ہم نے عرض کی اور تین آدمی جس کے اچھا ہو نے کی گواہی دیں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا : '' اور تین آدمی جس کے نیک ہونے کی گواہی دیں، (اس کو بھی جنت ملے گی)۔ '' پھر ہم نے عرض کی اور دو آدمی جس کے اچھا ہو نے کی گواہی دیں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا : '' اور دو آدمی (جس کے اچھے ہو نے کی گواہی دیں اس کو بھی جنت ملے گی)۔ ''پھر ہم نے ایک کی گواہی کی بابت آپﷺ سے نہیں پوچھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ عذاب قبر کے بارے میں کیا وارد ہو ا ہے ؟
(۶۸۸)۔ سیدنا براء بن عازب نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا : '' جب مومن اپنی قبر میں اٹھا کر بٹھایا جاتا ہے اور اس کے فرشتے آتے ہیں پھر وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں پس اللہ تعالیٰ نے (سورۂ ابراہیم کی آیت :۲۷میں) جو فرمایا ہے کہ : ''اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں توحید پر مضبوط رکھتا ہے۔ ''کا یہی مطلب ہے۔ ''

(۶۸۹)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کنویں میں جھانکا جہاں بدر کے مشرکین مقتولین مرے پڑے تھے اور فرمایا : ''کیا جو کچھ تم سے تمہارے پروردگار نے جو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اسے تم نے پا لیا ؟ '' آپﷺ سے عرض کی گئی کہ کیا آپﷺ مردوں کو پکارتے ہیں ؟تو آپﷺ نے فرمایا: ''تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو،ہاں وہ لوگ جو اب نہیں دے سکتے۔ ''

(۶۹۰)۔ ام المو منین عائشہؓ کہتی ہیں کہ (بدر کے مقتولین کی نسبت) نبیﷺ نے صرف یہ فرمایا تھا : ''وہ اس وقت جانتے ہیں کہ جو کچھ میں ان سے کہتا تھا ٹھیک تھا۔ ''اور بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ''اے نبی!آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ '' (سورۂ نمل :۸۰)۔

(۶۹۱)۔ اسماء بن ابی بکر صدیقؓ کہتی ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا تو آپﷺ نے فتنہ قبر کا ذکر کیا جس سے آدمی کی آزمائش کی جائے گی تو اس کو سن کر مسلمان چیخیں مار مار کر روئے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ عذاب قبر سے پناہ مانگنا
(۶۹۲)۔ سیدنا ابو ایوبؓ کہتے ہیں کہ ایک دن غروب آفتاب کے بعد نبیﷺ باہر تشریف لائے تو آپﷺ نے (ہولناک) آواز سنی اور فرمایا : ''یہودیوں پران کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ ''

(۶۹۳)۔ سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کی نبیﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے : ''اے اللہ !میں عذاب قبر سے اور عذاب دوزخ سے اور زندگی اور موت کی خرابی سے اور مسیح دجال کے فساد سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مردوں کو صبح و شام ان کا (جنت و دوزخ والا) مقام دکھا یا جاتا ہے
(۶۹۴)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ''جب کوئی شخص تم میں سے مر جاتا ہے تو ہر صبح و شام اسے اس کا مقام دکھا یا جاتا ہے، اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو جنت کے مقامات میں سے اور اگر اہل دوزخ میں سے ہے تو دوزخ کے مقامات میں سے۔ اس کے بعد اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جب تجھے اٹھائے گا تو یہی تیرا مقام ہو گا (جس میں تو داخل ہو گا)۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مسلمانوں کی چھوٹی اولاد کے متعلق، جو فوت ہو جائے،کیا کہا گیا ہے
(۶۹۵)۔ سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابراہیمؑ (فرزند رسول مقبو لﷺ) کی وفات ہوئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ''جنت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی (مقرر کی گئی) ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مشرکوں کے بچوں کی بابت (جو قبل بلو غ کے مر جائیں) کیا کہا گیا ہے ؟
(۶۹۶)۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے مشرکوں کے بچوں کی بابت پوچھا گیا (کہ اگر وہ بلو غ سے پہلے مر جائیں تو جنت میں جائیں گے یا دوزخ میں ؟) تو آپﷺ نے فرمایا : ''اللہ تعالیٰ نے جس وقت ان کو پیدا کیا ہے اسی وقت سے خوب جانتا ہے کہ یہ (بچے زندہ رہتے تو) کیسے عمل کرتے۔ (جنت کے لائق ہیں یا دوزخ کے)

(۶۹۷)۔ سیدنا سمرہ بن جندبؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو ہماری طرف منہ کر کے فرماتے :''تم میں سے کسی نے اگر آج شب کو کوئی خواب دیکھا ہے تو بیان کرے۔ ''سیدنا سمرہؓ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہو تا تو وہ اسے بیان کر دیتا پھر جو کچھ اللہ چاہتا، آپﷺ اس کی تعبیر بیان فرماتے پس اسی دستور کے موافق ایک دن آپﷺ نے ہم سے دریافت فرمایا :''تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ''ہم نے عرض کی کہ نہیں تو آپﷺ نے فرمایا :''مگر میں نے آج شب دو اشخاص کو خواب میں دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے اور میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور مجھے ایک مقدس زمین میں لے گئے۔ یکایک میں وہاں پہنچ کر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی بیٹھا ہے اور دوسرا آدمی ہاتھ میں لوہے کا ایک آنکڑا لیے کھڑا ہے وہ اسے اس بیٹھے ہوئے آدمی کے منہ میں داخل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کی گدی تک پہنچ جاتا ہے تو اس سے ایک طرف کا جبڑا پھاڑا دیتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے جبڑے کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتا ہے اور اس دوران اس کا پہلا جبڑا مندمل ہو جاتا ہے۔ پھر دوبارہ وہ ایسا ہی کرتا کہے تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے تو ان دونوں نے مجھے جواب دیا کہ آگے چلئیے۔ یہاں تک کہ ہم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے کہ وہ چت لیٹا ہوا تھا اور ایک شخص اس کے سرہانے ایک چھوٹا یا بڑا پتھر لیے ہوئے کھڑا تھا پس وہ اس پتھر سے اس لیٹے ہوئے آدمی کا سر کچل دیتا تھا۔ جب اسے مارتا اور پتھر لڑھک جاتا تو جا کر اس کو اٹھا لیتا اور جب تک اس لیٹے ہوئے آدمی کے پاس واپس آتا اس وقت تک اس کا سر ٹھیک ہو جاتا تھا اور جو حالت اس کی پہلے تھی وہی ہو جاتی تھی پس وہ دوبارہ اسے مارتا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ آگے چلئیے چنانچہ ہم چلے تو ایک گڑھے کے پاس سے ہمارا گزر ہوا، وہ مثل تنور کی طرح تھا، منہ اس کا تنگ تھا اور پیندا اس کا چوڑا تھا۔ اس گڑھے میں آگ جل رہی تھی اس کے اندر کچھ برہنہ مرد اور عورتیں تھیں جب آگ بہت بھڑک اٹھتی تو وہ لوگ بھی اوپر کو اٹھ جاتے یہاں تک کہ نکلنے کے قریب ہو جاتے تو میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ آگے چلئیے چنانچہ ہم چلے یہاں تک کہ خون کی ایک نہر پر پہنچے جس کے درمیان ایک آدمی تھا اور نہر کے کنارے پر بھی ایک آدمی تھا جس کے سامنے کچھ پتھر تھے اور وہ نہر والے شخص کے سامنے کھڑا ہوا تھا پس جب وہ اس نہر سے باہر نکلنا چاہتا تو یہ شخص ایک پتھر اس کے منہ پر کھنچ کر مارتا تو وہ جہاں تھا وہیں واپس ہو جاتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ آگے چلئیے چنانچہ ہم چلے یہاں تک کہ ایک نہایت شاداب اور سر سبز باغ میں پہنچے اس میں ایک بڑا سا درخت لگا ہوا تھا اس کی جڑ کے پاس ایک بوڑھا آدمی اور کچھ بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ یکایک میں کیا دیکھتا ہوں کہ درخت کے قریب ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے کچھ آگ ہے اور اسے روشن کر رہا ہے۔ پھر وہ دونوں مجھے اس درخت پر چڑھا لے گئے۔ اس درخت کے اندر ایک گھر تھا،اس میں مجھے داخل کیا۔ میں نے کبھی اس سے عمدہ اور شاندار مکان نہیں دیکھا، اس گھر میں کچھ بوڑھے، کچھ جوان کچھ عورتیں اور کچھ بچے تھے پھر وہ دونوں آدمی مجھے اس گھر سے نکال لائے اور درخت کی دوسری شاخ پر مجھے چڑھایا۔ اس میں بھی ایک گھر تھا،اس میں مجھے داخل کیا گیا یہ گھر بھی نہایت عمدہ اور شاندار تھا۔ اس میں بھی کچھ بوڑھے اور جوان مرد تھے۔ جب میں یہ سب کچھ دیکھ چکا تو میں نے ان دونوں سے پوچھا کہ تم نے مجھے رات بھر گشت کرایا، اب بتاؤ کہ میں نے جو کچھ دیکھا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ہم بتاتے ہیں۔ وہ شخص جس کو آپﷺ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا پھاڑا جا رہا ہے تو وہ جھوٹ بولنے والا ہے، دنیا میں جھوٹی باتیں کیا کرتا تھا اور وہ اس سے آگے نقل کی جاتی تھیں یہاں تک کی تمام اطراف عالم میں پہنچ جاتی تھیں۔ لہٰذا روز قیامت تک ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا اور وہ شخص جس کو آپﷺ نے دیکھا کہ اس کا سر کچلا جا رہا ہے۔ تو یہ وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا تھا مگر وہ رات کو بھی اس سے غافل ہو کر سو جاتا اور دن میں بھی اس پر عمل نہ کرتا۔ لہٰذا روز قیامت تک اس کے سا تھ اسی طرح کیا جائے گا اور وہ لوگ جنہیں آپﷺ نے گڑھے میں دیکھا تو وہ زنا کار لوگ ہیں اور وہ شخص جس کو آپﷺ نے نہر میں دیکھا سود خور ہے اور وہ بوڑھے صاحب جو درخت کی جڑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ابراہیمؑ تھے اور چھوٹے بچے جوان کے گرد تھے، وہ لوگوں کے وہ بچے ہیں جو قبل از بلوغت فوت ہو گئے تھے اور وہ شخص جو آگ روشن کر رہا تھا،مالک فرشتہ تھا جو دوزخ کا داروغہ ہے اور وہ پہلا مکان جس میں آپﷺ تشریف لے گئے تھے عام مسلمان کا گھر ہے اور دوسرا گھر شہیدوں کا ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہے۔ اب آپ اپناسراٹھایئے۔ میں نے سر اٹھا یا تو یکایک کیا دیکھا ہوں کہ میرے اوپر بادل کی مانند کوئی چیز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ آپﷺ کا مقام ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اپنے مقام میں داخل ہونے دو تو ان دونوں نے کہا کہ ابھی کچھ عمر آپﷺ کی باقی ہے جسے آپﷺ نے پورا نہیں کیا۔ اگر آپﷺ اسے پورا کر چکے ہو تے تو اپنے مقام میں جاسکتے تھے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ یکا یک ناگہانی موت (نیک آدمی کے لیے بری نہیں)
(۶۹۸)۔ ام المومنین عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص(سعد بن عبادہؓ)نے نبیﷺ سے عرض کی کہ میری والدہ اچانک انتقال کر گئی ہیں اور میں ان کی نسبت ایسا خیال کرتا ہوں کہ اگر وہ بول سکتیں تو ضرور صدقہ کرنے کا حکم دیتیں۔ پس کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ دوں تو ان کو کچھ ثواب ملے گا آپﷺ نے فرمایا :''ہاں ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ اور سیدنا ابو بکرؓ و عمرؓ کی قبروں کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟
(۶۹۹)۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ اپنے مرض وفات میں بار بار دریافت کرتے تھے کہ میں آج کہاں رہوں گا، میں کل کہاں رہوں گا یعنی ام المومنین عائشہؓ کی باری کا انتظار کرتے تھے۔ پھر جب میری باری کا دن آیا تو اللہ نے آپﷺ کو میرے پہلو اور سینہ کے درمیان میں قبض فرمایا اور میرے ہی گھر میں دفن کیے گئے۔

(۷۰۰)۔ امیر المومنین عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ یہ چھ لوگ جن سے رسول اللہﷺ وفات تک راضی رہے (ان سے زیادہ خلافت کا حقدار اور کوئی نہیں تو ان میں سے کسی ایک خلیفہ کو چن لینا) پس ان چھ لوگوں کے نام یہ بتائے عثمان، علی، طلحہ، زبیر،عبداللہ بن عوف اور سعد بن ابی وقاص(رضی اللہ عنہ)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ (مسلمان) مردوں کو برا کہنے کی ممانعت ہے
(۷۰۱)۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :''(مسلمان) مردوں کو برا نہ کہو کیوں کہ وہ جو کچھ کر چکے ہیں اس سے ہمکنار و ہم آغوش بھی ہو چکے ہیں۔ ''
 
Top