• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم خانہء نبوت

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خانہء نبوت

۱۔حضرت خدیجہؓ:
ہجرت سے قبل مکہ میں نبی ﷺ کا گھرانہ آپ ﷺ اور آپ کی بیوی حضرت خدیجہ ؓ پر مشتمل تھا۔ شادی کے وقت آپ ﷺ کی عمر پچیس سال تھی۔ اور حضرت خدیجہؓ کی عمر چالیس سال۔ حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ کی پہلی بیوی تھیں۔ اور ان کے جیتے جی آپ ﷺ نے کوئی اور شادی نہیں کی۔ آپ ﷺ کی اولاد میں حضرت ابراہیم کے ماسوا تمام صاحبزادے اور صاحبزادیاں ان ہی حضرت خدیجہؓ کے بطن سے تھیں۔ صاحبزادگان میں سے تو کوئی زندہ نہ بچا۔ البتہ صاحبزادیاں حیات رہیں۔ ان کے نام یہ ہیں : زینبؓ، رُقَیہّؓ، اُمِ کلثومؓ، اور فاطمہؓ - زینبؓ کی شادی ہجرت سے پہلے ان کے پھوپھی زاد بھائی حضرت ابو العاص بن ربیع سے ہوئی۔ رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کی شادی یکے بعد دیگرے حضرت عثمانؓ سے ہوئی۔ حضرت فاطمہؓ کی شادی جنگ بدر اور جنگ احد کے درمیانی عرصہ میں حضرت علی بن ابی طالبؓ سے ہوئی۔ اور ان کے بطن سے حسن، حسین رضی اللہ عنہما، زینب اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما پیدا ہوئیں۔
معلوم ہے کہ نبی ﷺ کو امت کے بالمقابل یہ امتیازی خصوصیت حاصل تھی کہ آپ ﷺ مختلف اغراض کے پیش نظر چار سے زیادہ شادیاں کر سکتے تھے۔ چنانچہ جن عورتوںسے آپ ﷺ نے عقد فرمایا ان کی تعداد گیارہ تھی۔ جن میں سے نو عورتیں آپ ﷺ کی رحلت کے وقت حیات تھیں۔ اور دوعورتیں آپ ﷺ کی زندگی ہی میں وفات پا چکی تھیں۔ (یعنی حضرت خدیجہؓ اور ام المساکین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما) ان کے علاوہ مزید دو عورتیں ہیں جن کے بارے میں اختلاف ہے کہ آپ ﷺ کا ان سے عقد ہوا تھا یا نہیں لیکن اس پر اتفاق ہے کہ انہیں آپ ﷺ کے پاس رخصت نہیں کیا گیا۔ ذیل میں ہم ازواج مطہرات کے نام اور ان کے مختصر حالات ترتیب وار پیش کر رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۲۔ حضرت سَوْدَہ بنت زَمْعَہ ؓ:
ان سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہؓ کی وفات کے تقریباً ایک مہینہ بعد نبوت کے دسویں سال ماہ شوال میں شادی کی۔ آپ ﷺ سے پہلے حضرت سَوْدَہؓ اپنے چچیرے بھائی سکران بن عَمرو کے عقد میں تھیں۔ اور وہ انہیں بیوہ چھوڑ کر انتقال کر چکے تھے۔ حضرت سودہ کی وفات شوال ۵۴ھ میں مدینہ کے اندر ہوئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۳۔ حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابی بکر صدیق ؓ:
ان سے رسول اللہ ﷺ نے نبوت کے گیارھوں برس ماہ شوال میں شادی کی، یعنی حضرت سودہؓ سے شادی کے ایک سال بعد۔ اور ہجرت سے دو برس پانچ ماہ پہلے۔ اس وقت ان کی عمر چھ برس تھی۔ پھر ہجرت کے سات ماہ بعد شوال ۱ھ میں انہیں رخصت کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر نو برس تھی۔ اور وہ باکرہ تھیں۔ ان کے علاوہ کسی اور باکرہ عورت سے آپ ﷺ نے شادی نہیں کی۔ حضرت عائشہؓ آپ ﷺ کی سب سے محبوب بیوی تھیں۔ اور امت کی عورتوں میں علی الاطلاق سب سے زیادہ فقیہ اور صاحب علم تھیں۔ عورتوں پر ان کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت۔ ۱۷ شعبان ۵۷ھ یا ۵۸ھ میں حضرت عائشہ ؓ نے وفات پائی۔ اور بقیع میں دفن کی گئیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۴۔ حضرت حفصہ بنت عمر بن خطاب ؓ:
ان کے پہلے شوہر خنیس بن حذافہ سہمیؓ تھے جو بدر اور احد کے درمیانی عرصہ میں رحلت کر گئے اور وہ بیوہ ہو گئیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کر لی، شادی کا یہ واقعہ ۳ھ کا ہے۔ شعبان ۴۵ھ میں ساٹھ سال کی عمر میں مدینہ کے اندر وفات پائی۔ اور بقیع میں دفن ہوئیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۵۔حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ:
یہ قبیلہ بنو ہلال بن عامر بن صَعْصَعہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ مسکینوں پر رحم و مروت اور رقّت و رأفت کے سبب ان کا لقب اُمّ المساکین پڑ گیا تھا۔ یہ حضرت عبد اللہ بن جحشؓ کے عقد میں تھیں۔ وہ جنگ اُحد میں شہید ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ۴ھ میں ان سے شادی کر لی۔ مگر صرف تین ماہ یا آٹھ ماہ رسول اللہ ﷺ کی زوجیت میں رہ کر ربیع الآخر یا ذی قعدہ ۴ھ میں وفات پا گئیں۔ نبی ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اور انہیں بقیع میں دفن کیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۶۔ اُمّ سَلَمہ ہند بنت ابی امیہ ؓ :
یہ ابو سلمہؓ کے عقد میں تھیں۔ جمادی الآخر ۴ھ میں حضرت ابو سلمہؓ کا انتقال ہو گیا تو ان کے بعد شوال ۴ھ میں رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کر لی۔ فقیہ ترین اور نہایت عقلمند خاتون تھیں۔ چوراسی سال کی عمر میں ۵۹ھ میں اور کہا جاتا ہے کہ ۶۲ھ میں وفات پائی۔ اور بقیع میں دفن کی گئیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۷۔ زینب بنت جحش بن ریاب ؓ :
یہ قبیلہ بنو اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی کی صاحبزادی تھیں۔ ان کی شادی پہلے حضرت زید بن حارثہ سے ہوئی تھی۔ جنہیں رسول اللہ ﷺ کا بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ لیکن حضرت زیدؓ سے نباہ نہ ہو سکا اور انہوں نے طلاق دیدی۔ خاتمہ ٔ عدت کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی: فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرً‌ا زَوَّجْنَاكَهَا (۳۳: ۳۷)''جب زید نے ان سے اپنی ضرورت ختم کر لی تو ہم نے انہیں آپ کی زوجیت میں دے دیا۔''
انہیں کے تعلق سے سورۂ احزاب کی مزید کئی آیات نازل ہوئیں جن میں مُتَبنّیٰ (لے پالک) کے قضیے کا دوٹوک فیصلہ کر دیا گیا - تفصیل آگے آںرہی ہے - حضرت زینبؓ سے رسول اللہ ﷺ کی شادی ذی قعدہ ۵ھ میں اور کہا جاتا ہے کہ ۴ھ میں ہوئی۔ یہ سب عورتوں سے بڑھ کر عبادت گزار اور صدقہ کرنے والی خاتون تھیں۔ ۲۰ھ میں وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر ۵۳ سال تھی۔ اور یہ رسول اللہ ﷺ کے بعد امہات المؤمنین میں پہلی بیوی ہیں جن کا انتقال ہوا۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں بقیع میں دفن کیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۸۔ جُویریہ بنت حارث ؓ :
ان کے والد قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو المصطلق کے سردار تھے۔ حضرت جویریہ بنو المصطلق کے قیدیوں میں لائی گئی تھیں۔ اور حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ کے حصے میں پڑی تھیں۔ انہوں نے حضرت جویریہؓ سے مکاتبت کر لی۔ یعنی ایک مقررہ رقم کے عوض آزاد کر دینے کا معاملہ طے کر لیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف سے مقررہ رقم ادا فرما دی اور ان سے شادی کر لی۔ یہ شعبان ۵ھ یا ۶ھ کا واقعہ ہے۔ اس شادی کے نتیجے میں مسلمانوں نے بنو المصطلق کے سو گھرانے آزاد کر دیے اور کہا کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے سسرالی ہیں۔ چنانچہ یہ اپنی قوم کے لیے ساری عورتوں سے بڑھ کر بابرکت ثابت ہوئیں۔ ربیع الاول ۵۶ھ یا ۵۵ھ میں وفات پائی۔ عمر ۶۵ برس تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۹۔ اُمِ حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان ؓ :
یہ عبید اللہ بن جحش کے عقد میں تھیں۔ اور اس کے ساتھ ہجرت کر کے حبشہ بھی گئیں تھیں۔ لیکن عبید اللہ نے وہاں جانے کے بعد مرتد ہوکر عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اور پھر وہیں انتقال کر گیا۔ مگر اُم حبیبہؓ اپنے دین اور اپنی ہجرت پر قائم رہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے محرم ۷ھ میں عَمرو بن اُمیہ ضمریؓ کو اپنا خط دے کر نجاشی کے پاس بھیجا تو نجاشی کو یہ پیغام بھی دیا کہ اُم حبیبہؓ سے آپ ﷺ کا نکاح کر دے۔ اس نے امِ حبیبہؓ کی منظوری کے بعد ان سے آپ ﷺ کا نکاح کر دیا۔ اور شُرحبیل بن حسنہ کے ساتھ انہیں آپ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔ نبی ﷺ نے خیبر سے واپسی کے بعد ان کی رخصتی کرائی۔ ۴۳ھ یا ۴۴ھ یا ۵۰ھ میں وفات پائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۱۰۔ حضرت صَفِیہ بنت حیی بن اَخطب ؓ :
یہ بنی اسرائیل سے تھیں۔ اور خیبر میں قید کی گئیں۔ لیکن رسول اللہﷺ نے انہیں اپنے لیے منتخب فرمالیا۔ اور آزاد کرکے شادی کرلی۔ یہ فتح خیبر ۷ ھ کے بعد کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد خیبر سے بارہ میل کی دوری پر مدینہ کے راستہ میں سد صہباء کے پاس انہیں رخصت کرایا۔ ۵۰ ھ میں اور کہا جاتا ہے کہ ۵۲ ھ میں ، اور کہا جاتا ہے کہ ۳۶ھ میں وفات پائی۔ اور بقیع میں مدفون ہوئیں۔
 
Top