• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ارسال اور سماع کی تصریح

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
اسلام علیکم
پہلے ایک سوال میں آپ نے فرمایا تھا کہ ارسال کرنے والے کا عن سے روایت کرنا جبکہ اس کے شیخ سے اس کی معاصرت ثابت ہو تو سماع پر محمول ہوتی ہے۔
لیکن اگر کوئی راوی ارسال کرتا ہو اور اپنے کسی خاص شیخ سے اس نے سماع کی تصریح تو کیا کبھی عن سے بھی روایت نہ کیا ہو مثلا کہے: قال فلان، یا یردہ الی فلان وغیرہ۔ لیکن ایک بھی روایت میں اس نے نہ تو سماع کی تصریح کی اور نہ ہی کبھی عن سے روایت کیا، جبکہ صرف اس کی معاصرت ثابت ہے۔ اس حالت میں اس کو سماع پر محمول کیا جائے گا؟
اور "یردہ الی فلان" کہنے میں کوئی خاص فرق تو نہیں؟ مثلا یہ لفظ اس سند میں یوں استعمال ہوا ہے:
ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ، يَرُدُّهُ إِلَى ابْنِ عَائِذٍ , يَرُدُّهُ ابْنُ عَائِذٍ إِلَى جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ۔۔۔
اور آخر میں یہ بھی بتا دیں کہ یہی حکم ارسال نہ کرنے والے کے بارے میں کیا ہو گا؟
جزاک اللہ خیرا
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
اگرمدلس کے علاوہ کوئی بھی راوی (مثلا ارسال کرنے والا) اپنے شیخ سے عن یا اس کے ہم معنی کسی بھی لفظ مثلا قال وغیرہ سے روایت کرے تو یہ سماع ہی پرمحمول ہوگا۔ گرچہ اس نے اپنے شیخ سےپوری زندگی میں کبھی بھی سماع کی صراحت نہ کی ہے ۔

کیونکہ معاصرت ثابت ہونے کے بعد عدم تصریح سماع عدم لقاء کی دلیل نہیں ہے۔



اور اگر یہ ثابت ہوجائے کہ کسی ارسال کرنے والے نے اپنے ایسے معاصر شخص سے بذریعہ عن یا اس کے ہم معنی صیغہ قال وغیرہ سے روایت کیا ہے لیکن اس معاصر سے اس کی ملاقات نہیں ہے تو اسی کوارسال خفی کہتے ہیں۔

اوراگر معاصر سے ملاقات ثابت ہو پھر بھی اس سے وہ روایت عن سے نقل کرے جسے اس نے اپنے اس معاصر شیخ سے نہیں سنا تو یہی چیز تدلیس ہے۔
 
Top