اخت ولید
سینئر رکن
- شمولیت
- اگست 26، 2013
- پیغامات
- 1,792
- ری ایکشن اسکور
- 1,297
- پوائنٹ
- 326
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
چند اشعار جو ۱۹۹۵ میں عید کے موقع پر نوید رزاق بٹ نے کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے لکھے۔ افسوس کہ اب ایسی 'اداس عیدیں' منانے والے مسلمانوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالٰیامت مسلمہ پر اپنا خاص رحم و کرم فرمائے۔آمین
میں اُن کو کیسے کہوںمبارک‘؟
وہ جن کے نورِ نظر گئے ہیں
وہ مائیں جن کے جگر کے ٹکڑے
گلوں کی صورت بکھر گئے ہیں
وہ جن کی دکھ سے بھری دعائیں
فلک پہ ہلچل مچا رہی ہیں
میرے ہی دِیں کی بہت سی نسلیں
اداس عیدیں منا رہی ہیں
وہ بچے عیدی کہاں سے لیں گے؟
تباہ گھر میں جو پل رہے ہیں
وہ جن کی مائیں ہیں نذرِ آتش
وہ جن کے آباء جل رہےہیں
وہ جن کی ننھی سی پیاری آنکھیں
ہزاروں آنسو بہا رہی ہیں
میرے ہی دِیں کی بہت سی نسلیں
اداس عیدیں منا رہی ہیں
بتاؤ اُن کو میں عمدہ تحفہ
کہاں سے کر کے تلاش بھیجوں؟
بہن کو بھائی کی نعش بھیجوں
یا ماں کو بیٹے کی لاش بھیجوں؟
جہاں پہ قومیں بہت سے تحفے
بموں کی صورت میں پا رہی ہیں
میرے ہی دِیں کی بہت سی نسلیں
اداس عیدیں منا رہی ہیں
وہاں سجانے کو کیا ہے باقی؟
جہاں پہ آنسو سجے ہوئے ہیں
جہاں کی مہندی ہے سرخ خوں کی
جنازے ہر سُو سجے ہوئے ہیں
جہاں پہ بہنیں شہیدِ حق پر
ردائے ابیض سجا رہی ہیں
میرے ہی دِیں کی بہت سی نسلیں
اداس عیدیں منا رہی ہیں