lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436
تھذیب الاحکام --- محمد بن الحسن بن علی الطوسی ---
دوسری داستان : ہم ایک دفع امام خوئی کے ساتھ ان کے دفتر میں بیٹھے ہوے تھے ، اچانک دو جوان وہاں آے ان کا کسی مسلئہ میں اختلاف ہو گیا تھا - اور وہ امام خوئی سے جواب دریافت کرنے آئے تھے - ایک نے پوچھا! امام صاحب کیا متعہ حلال ہے یا حرام؟ امام نے جو ان کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ ان نے کہا کہ میں مؤصل سے تعلق رکھتا ہوں اور اب یہاں نجف میں دو ماہ سے قیام پذیر ہوں - امام نے کہا آپ تو پھر سنی ہوں گے؟ اس نے کہا: ہاں - امام نے کہا: ہمارے اہل تشیع کے ہاں متعہ حلال ہے اور تمہارے اہلسنت کے ہاں حرام ہے - نوجوان نے کہا کہ میں یہاں دو ماہ سے اس شہر میں مسافر ہوں آپ اپنی بیٹی کا نکاح کر دیں تاکہ میں اس سے متعہ کر سکوں ، جب تک کہ اپنے گھر کو واپس نہیں چلا جاتا - امام اس کی بات سن کر حیران رہ گیا اور لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد گویا ہوا کہ میں سید ہوں اور متعہ خاندان سادات میں حرام ہے - اور شیعہ عوام کے لئے جائز ہے - وہ نوجوان امام خوئی کو دیکھ کر مسکرانے لگا - میرا خیال یہ تھا کہ وہ یہ بات جان گیا تھا کہ امام صاحب تقیہ سے کام لے رہے ہیں - دونوں نوجوان کھڑے ہوے ، میں نے بھی امام سے اجازت چاہی اور نوجوانوں کو پیچھے سے جا لیا - میں اس نتیجے پر پہنچا کہ سائل سنی ہے اور اس کا دوست شیعہ - دونوں کا متعہ کے حلال یا حرام پر اختلاف ہو گیا تھا - اور دونوں نے متفقہ طور پر دینی پشوا امام خوئی کی طرف رجوع کیا - جب دونوں پر یہ مسلئہ کھل گیا تو شیعہ نوجوان یڑا کہ اے مجرمو! تم اپنے لئے ہماری بیٹیوں سے متعہ جائز قرار دیتے ہو اور اس کو حلال قرار دے کر الله کا قرب تلاش کرتے ہو ، جبکہ ہمارے لئے اپنی بیٹیوں سے متعہ حرام قرار دیتے ہو - نوجوان گالم گلوچ کر رہا تھا اور قسم کھا رہا تھا کہ وہ اہلسنت کا مذہب اختیار کرے گا - میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی رہنمائی کی کہ الله کی قسم متعہ حرام ہے - اس پر میں نے دلائل بھی دئیے کہ متعہ دور جاہلیت میں جائز ہوتا تھا - اور جب اسلام آیا تو اس نے متعہ کو ایک عرصے تک اپنے جواز کی صورت میں برقرار رکھا - بعد میں خیبر کے دن اس کو حرام کر دیا گیا - لیکن جمہور شیعہ علماء کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ اس کو عمر بن خطاب نے حرام قرار دیا تھا ہمارے بعض فقہاء اسی قول کو روایت کرتے ہیں - حلانکہ حق بات یہ ہے کہ اس کو خیبر کے دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حرام قرار دیا تھا - امیرالمومنین نے فرمایا تھا: "رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت کو اور نکاح متعہ کو حرام قرار دیا تھا " -
(تھذیب الاحکام ، ٧ / ٢٥١) - (کشف الاسرار ، السید حسین الموسوی ، صفحہ ٤١ ، ٤٢ ، عالم نجف - عراق)
ترجمہ : ابو عبدالله سے کسی نے سوال کیا کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دور میں لوگ گواہوں کے بغیر ہی نکاح کیا کرتے تھے؟ فرمایا: نہیں -
(تھذیب الاحکام ، ٧ / ٢٦١)
متعہ کی تحریم اور گدھے کی تحریم ایک ہی دن وارد ہوئی ہے - جب گدھے کا گوشت خیبر کے دن سے آج تک حرام چلا آ رہا ہے اور قیامت تک کے لئے حرام ہی رہے گا تو متعہ کا صرف خیبر کے دن ہی حرام ہونا فقط ایک دعوی ہے جس کی کوئی بھی دلیل نہیں ہے - اور یہ دعوی اس وقت بلکل ہی باطل ہو جاتا ہے جب اس کے ساتھ ایک قرینہ یہ بھی مل جاتا ہے کہ گھریلو گدھوں کے گوشت بھی خیبر ہی کے دن حرام کیا گیا تھا - اگر اس کی حرمت صرف خیبر کے دن تک ہی محدود ہوتی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے صراحت کے ساتھ اس کی حرمت کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے - علاوہ ازیں ہمیں متعہ کے جائز ہونے کی علت کا بھی علم ہونا چاہیے تھا کہ یہ سفر اور جنگ میں جائز ہوتا تھا کیونکہ انسان اس وقت اپنی بیوی اور لونڈی سے دور ہوتا ہے ، لہٰذا ان حالات میں متعہ کی زیادہ ضرورت پیش آتی تھی - لیکن خیبر کے دن جب حالت جنگ میں بلکہ میدان جنگ میں متعہ حرام کیا گیا ہے تو حالت امن میں کیونکر جائز ہو سکتا ہے؟ دراصل علی (رض) کے قول کا مطلب یہ ہے متعہ کے حرمت کی ابتداء خیبر کے دن سے ہوئی ہے - جہاں تک شیعہ کی حیلہ سازی اور تقیہ بازی کا مسلئہ ہے ، یہ حضرات قرآن و سنت کی اکثر و بیشتر نصوص کو بازیچئہ اطفال ہی سمجھتے ہیں -
حق بات یہ ہے کہ متعہ کی حرمت اور گدھے کی حرمت دونوں یکساں حکم رکھتے ہیں ، یعنی دونوں کی حرمت کا حکم خیبر کے دن نازل ہوا تھا جو قیامت تک باقی رہے گا - لہٰذا نفس پرستی ، شہوت رانی اور لذت اندوزی کی غرض سے دین کے نام پر حسین و جمیل عورتوں سے متعہ کے لئے علی (رض) کے قول کی تاویل کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے ، اور جہاں تک ابوعبدالله کے جواب کو تقیہ کہنے کا تعلق ہے تو یہ بات ذہین نشین رہنی چاہئے کہ سائل خود شیعہ تھا ، اس سے تقیہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی - اس پر مستزاد یہ ہے کہ ابوعبدالله کا فتویٰ علی (رض) کے قول سے سو فیصد مطابقت نہیں رکھتا ہے -
دراصل متعہ کو جائز قرار دے کر شیعہ نے ایک مرد کو یہ حق عنایت کر دیا ہے کہ وہ لاتعداد عورتوں سے تعلقات قائم رکھ سکتا ہے خواہ یہ عورتیں تعداد میں ہزار ہی تک کیوں نہ پہنچ جائیں - متعہ کرنے والے کتنے ہی حضرات ہیں جنہوں نے ایک ہی دفع ماں اور اس کی بیٹی سے ، عورت اور اس کی بہن سے ، بھانجی اور اس کی خالہ سے یا بھتیجی اور اس کی چچی سے منہ کالا کیا -
علی بہرام
آزاد
گواہوں کے بغیر نکاح درست نہیں / امام کی بیٹی کے ساتھ ایک شخص کی متعہ کی درخواست
دوسری داستان : ہم ایک دفع امام خوئی کے ساتھ ان کے دفتر میں بیٹھے ہوے تھے ، اچانک دو جوان وہاں آے ان کا کسی مسلئہ میں اختلاف ہو گیا تھا - اور وہ امام خوئی سے جواب دریافت کرنے آئے تھے - ایک نے پوچھا! امام صاحب کیا متعہ حلال ہے یا حرام؟ امام نے جو ان کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ ان نے کہا کہ میں مؤصل سے تعلق رکھتا ہوں اور اب یہاں نجف میں دو ماہ سے قیام پذیر ہوں - امام نے کہا آپ تو پھر سنی ہوں گے؟ اس نے کہا: ہاں - امام نے کہا: ہمارے اہل تشیع کے ہاں متعہ حلال ہے اور تمہارے اہلسنت کے ہاں حرام ہے - نوجوان نے کہا کہ میں یہاں دو ماہ سے اس شہر میں مسافر ہوں آپ اپنی بیٹی کا نکاح کر دیں تاکہ میں اس سے متعہ کر سکوں ، جب تک کہ اپنے گھر کو واپس نہیں چلا جاتا - امام اس کی بات سن کر حیران رہ گیا اور لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد گویا ہوا کہ میں سید ہوں اور متعہ خاندان سادات میں حرام ہے - اور شیعہ عوام کے لئے جائز ہے - وہ نوجوان امام خوئی کو دیکھ کر مسکرانے لگا - میرا خیال یہ تھا کہ وہ یہ بات جان گیا تھا کہ امام صاحب تقیہ سے کام لے رہے ہیں - دونوں نوجوان کھڑے ہوے ، میں نے بھی امام سے اجازت چاہی اور نوجوانوں کو پیچھے سے جا لیا - میں اس نتیجے پر پہنچا کہ سائل سنی ہے اور اس کا دوست شیعہ - دونوں کا متعہ کے حلال یا حرام پر اختلاف ہو گیا تھا - اور دونوں نے متفقہ طور پر دینی پشوا امام خوئی کی طرف رجوع کیا - جب دونوں پر یہ مسلئہ کھل گیا تو شیعہ نوجوان یڑا کہ اے مجرمو! تم اپنے لئے ہماری بیٹیوں سے متعہ جائز قرار دیتے ہو اور اس کو حلال قرار دے کر الله کا قرب تلاش کرتے ہو ، جبکہ ہمارے لئے اپنی بیٹیوں سے متعہ حرام قرار دیتے ہو - نوجوان گالم گلوچ کر رہا تھا اور قسم کھا رہا تھا کہ وہ اہلسنت کا مذہب اختیار کرے گا - میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی رہنمائی کی کہ الله کی قسم متعہ حرام ہے - اس پر میں نے دلائل بھی دئیے کہ متعہ دور جاہلیت میں جائز ہوتا تھا - اور جب اسلام آیا تو اس نے متعہ کو ایک عرصے تک اپنے جواز کی صورت میں برقرار رکھا - بعد میں خیبر کے دن اس کو حرام کر دیا گیا - لیکن جمہور شیعہ علماء کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ اس کو عمر بن خطاب نے حرام قرار دیا تھا ہمارے بعض فقہاء اسی قول کو روایت کرتے ہیں - حلانکہ حق بات یہ ہے کہ اس کو خیبر کے دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حرام قرار دیا تھا - امیرالمومنین نے فرمایا تھا: "رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت کو اور نکاح متعہ کو حرام قرار دیا تھا " -
(تھذیب الاحکام ، ٧ / ٢٥١) - (کشف الاسرار ، السید حسین الموسوی ، صفحہ ٤١ ، ٤٢ ، عالم نجف - عراق)
ترجمہ : ابو عبدالله سے کسی نے سوال کیا کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دور میں لوگ گواہوں کے بغیر ہی نکاح کیا کرتے تھے؟ فرمایا: نہیں -
(تھذیب الاحکام ، ٧ / ٢٦١)
متعہ کی تحریم اور گدھے کی تحریم ایک ہی دن وارد ہوئی ہے - جب گدھے کا گوشت خیبر کے دن سے آج تک حرام چلا آ رہا ہے اور قیامت تک کے لئے حرام ہی رہے گا تو متعہ کا صرف خیبر کے دن ہی حرام ہونا فقط ایک دعوی ہے جس کی کوئی بھی دلیل نہیں ہے - اور یہ دعوی اس وقت بلکل ہی باطل ہو جاتا ہے جب اس کے ساتھ ایک قرینہ یہ بھی مل جاتا ہے کہ گھریلو گدھوں کے گوشت بھی خیبر ہی کے دن حرام کیا گیا تھا - اگر اس کی حرمت صرف خیبر کے دن تک ہی محدود ہوتی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے صراحت کے ساتھ اس کی حرمت کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے - علاوہ ازیں ہمیں متعہ کے جائز ہونے کی علت کا بھی علم ہونا چاہیے تھا کہ یہ سفر اور جنگ میں جائز ہوتا تھا کیونکہ انسان اس وقت اپنی بیوی اور لونڈی سے دور ہوتا ہے ، لہٰذا ان حالات میں متعہ کی زیادہ ضرورت پیش آتی تھی - لیکن خیبر کے دن جب حالت جنگ میں بلکہ میدان جنگ میں متعہ حرام کیا گیا ہے تو حالت امن میں کیونکر جائز ہو سکتا ہے؟ دراصل علی (رض) کے قول کا مطلب یہ ہے متعہ کے حرمت کی ابتداء خیبر کے دن سے ہوئی ہے - جہاں تک شیعہ کی حیلہ سازی اور تقیہ بازی کا مسلئہ ہے ، یہ حضرات قرآن و سنت کی اکثر و بیشتر نصوص کو بازیچئہ اطفال ہی سمجھتے ہیں -
حق بات یہ ہے کہ متعہ کی حرمت اور گدھے کی حرمت دونوں یکساں حکم رکھتے ہیں ، یعنی دونوں کی حرمت کا حکم خیبر کے دن نازل ہوا تھا جو قیامت تک باقی رہے گا - لہٰذا نفس پرستی ، شہوت رانی اور لذت اندوزی کی غرض سے دین کے نام پر حسین و جمیل عورتوں سے متعہ کے لئے علی (رض) کے قول کی تاویل کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے ، اور جہاں تک ابوعبدالله کے جواب کو تقیہ کہنے کا تعلق ہے تو یہ بات ذہین نشین رہنی چاہئے کہ سائل خود شیعہ تھا ، اس سے تقیہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی - اس پر مستزاد یہ ہے کہ ابوعبدالله کا فتویٰ علی (رض) کے قول سے سو فیصد مطابقت نہیں رکھتا ہے -
دراصل متعہ کو جائز قرار دے کر شیعہ نے ایک مرد کو یہ حق عنایت کر دیا ہے کہ وہ لاتعداد عورتوں سے تعلقات قائم رکھ سکتا ہے خواہ یہ عورتیں تعداد میں ہزار ہی تک کیوں نہ پہنچ جائیں - متعہ کرنے والے کتنے ہی حضرات ہیں جنہوں نے ایک ہی دفع ماں اور اس کی بیٹی سے ، عورت اور اس کی بہن سے ، بھانجی اور اس کی خالہ سے یا بھتیجی اور اس کی چچی سے منہ کالا کیا -
علی بہرام
آزاد