- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ﴿١٥﴾
اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو۔
ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ ﴿١٦﴾
پھر قیامت کے دن بلاشبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے۔
وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَ ﴿١٧﴾
ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں (١) اور ہم مخلوقات سے غافل نہیں ہیں۔ (٢)
١٧۔١ طَرَائِقَ، طَرِيقَةٌ کی جمع ہے مراد آسمان ہیں۔ عرب، اوپر تلے چیز کو بھی طریقہ کہتے ہیں۔ آسمان بھی اوپر تلے ہیں اس لئے انہیں طرائق کہا۔ یا طریقہ بمعنی راستہ ہے، آسمان ملائکہ کے آنے جانے یا ستاروں (کواکب) کی گزرگاہ ہے، اس لئے انہیں طرائق قرار دیا۔
١٧۔٢ خَلَق سے مراد مخلوق ہے۔ یعنی آسمانوں کو پیدا کر کے ہم اپنی زمینی مخلوق سے غافل نہیں ہو گئے بلکہ ہم نے آسمانوں کو زمین پر گرنے سے محفوظ رکھا ہے تاکہ مخلوق ہلاک نہ ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مخلوق کی مصالح اور ان کی ضروریات زندگی سے غافل نہیں ہو گئے بلکہ ہم اس کا انتظام کرتے ہیں، (فتح القدیر) اور بعض نے یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ زمین سے جو کچھ نکلتا یا داخل ہوتا، اسی طرح آسمان سے جو اترتا اور چڑھتا ہے، سب اس کے علم میں ہے اور ہر چیز پر وہ نظر رکھتا ہے اور ہر جگہ وہ اپنے علم کے لحاظ سے تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ (ابن کثیر)
اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو۔
ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ ﴿١٦﴾
پھر قیامت کے دن بلاشبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے۔
وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَ ﴿١٧﴾
ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں (١) اور ہم مخلوقات سے غافل نہیں ہیں۔ (٢)
١٧۔١ طَرَائِقَ، طَرِيقَةٌ کی جمع ہے مراد آسمان ہیں۔ عرب، اوپر تلے چیز کو بھی طریقہ کہتے ہیں۔ آسمان بھی اوپر تلے ہیں اس لئے انہیں طرائق کہا۔ یا طریقہ بمعنی راستہ ہے، آسمان ملائکہ کے آنے جانے یا ستاروں (کواکب) کی گزرگاہ ہے، اس لئے انہیں طرائق قرار دیا۔
١٧۔٢ خَلَق سے مراد مخلوق ہے۔ یعنی آسمانوں کو پیدا کر کے ہم اپنی زمینی مخلوق سے غافل نہیں ہو گئے بلکہ ہم نے آسمانوں کو زمین پر گرنے سے محفوظ رکھا ہے تاکہ مخلوق ہلاک نہ ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مخلوق کی مصالح اور ان کی ضروریات زندگی سے غافل نہیں ہو گئے بلکہ ہم اس کا انتظام کرتے ہیں، (فتح القدیر) اور بعض نے یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ زمین سے جو کچھ نکلتا یا داخل ہوتا، اسی طرح آسمان سے جو اترتا اور چڑھتا ہے، سب اس کے علم میں ہے اور ہر چیز پر وہ نظر رکھتا ہے اور ہر جگہ وہ اپنے علم کے لحاظ سے تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ (ابن کثیر)