• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّ‌سُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ‌ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٢﴾
اے مسلمانو! جب تم رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو (١) یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزہ تر ہے، (۲) ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے۔
١٢۔١ ہر مسلمان نبی سے مناجات اور خلوت میں گفتگو کرنے کی خواہش رکھتا تھا، جس سے نبی ﷺ کو خاصی تکلیف ہوتی۔ بعض کہتے ہیں کہ منافقین یوں ہی بلا وجہ نبی ﷺ سے مناجات میں مصروف رہتے تھے، جس سے مسلمان تکلیف محسوس کرتے تھے، اس لیے اللہ نے یہ حکم نازل فرما دیا، تاکہ آپ ﷺ سے گفتگو کرنے کے رجحان عام کی حوصلہ شکنی ہو۔
۱۲۔۲ بہتر اس لیے کہ صدقے سے تمہارے ہی دوسرے غریب مسلمان بھائیوں کو فائدہ ہو گا اور پاکیزہ تر اس لیے کہ یہ ایک عمل صالح اور اطاعت الٰہی ہے جس سے نفوس انسانی کی تطہیر ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ امر بطور استحباب کے تھا، وجوب کے لیے نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّـهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ ۚ وَاللَّـهُ خَبِيرٌ‌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿١٣﴾
کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا (١) تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰۃ دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو۔ (٢) تم جو کچھ کرتے ہو اس (سب) سے اللہ (خوب) خبردار ہے۔
١٣۔١ یہ امر گو استحباباً تھا، پھر بھی مسلمانوں کے لیے شاق تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جلد ہی اسے منسوخ فرما دیا۔
١٣۔٢ یعنی فرائض و احکام کی پابندی، اس صدقے کا بدل بن جائے گی، جسے اللہ نے تمہاری تکلیف کے لیے معاف فرما دیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿١٤﴾
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ غضبناک ہو چکا ہے، (۱) نہ یہ (منافق) تمہارے ہی ہیں نہ ان کے ہیں (۲) باوجود علم کے پھر بھی جھوٹی قسمیں کھا رہے ہیں۔ (۳)
۱٤۔۱ جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا، وہ قرآن کریم کی صراحت کے مطابق یہود ہیں۔ اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین ہیں۔ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں، جب مدینے میں منافقین کا بھی زور تھا اور یہودیوں کی سازشیں بھی عروج پر تھیں۔ ابھی یہود کو جلا وطن نہیں کیا گیا تھا۔
١٤۔۲ یعنی یہ منافقین مسلمان ہیں اور نہ دین کے لحاظ سے یہودی ہی ہیں۔ پھر یہ کیوں یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ ان کے اور یہود کے درمیان نبی ﷺ اور اسلام کی عداوت قدر مشترک ہے۔
۱٤۔۳ یعنی قسمیں کھا کر مسلمانوں کو باور کراتے ہیں کہ ہم بھی تمہاری طرح مسلمان ہیں یا یہودیوں سے ان کے رابطے نہیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٥﴾
اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، (١) تحقیق جو کچھ یہ کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں۔
١٥۔١ یعنی یہودیوں سے دوستانہ تعلق رکھنے اور جھوٹی قسمیں کھانے کی وجہ سے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿١٦﴾
ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (١) اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (۲) ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
۱٦۔۱ أَيْمَانٌ، يَمِينٌ کی جمع ہے۔ بمعنی قسم۔ یعنی جس طرح ڈھال سے دشمن کے وار کو روک کر اپنا بچاؤ کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اپنی قسموں کو مسلمانوں کی تلواروں سے بچنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے۔
۱٦۔۲ یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر یہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ان کے بارے میں حقیقت واقعیہ کا علم نہیں ہوتا اور وہ ان کے غرے میں آکر قبول اسلام سے محروم رہتے ہیں۔ اور یوں یہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا جرم بھی کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّـهِ شَيْئًا ۚ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ‌ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿١٧﴾
ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ یہ تو جہنمی ہیں ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔

يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ ۖ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ ۚ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ ﴿١٨﴾
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کھڑا کرے گا تو یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اللہ تعالیٰ) کے سامنے بھی قسمیں کھانے لگیں گے (١) اور سمجھیں گے کہ وہ بھی کسی (دلیل) پر ہیں، (۲) یقین مانو کہ بیشک وہی جھوٹے ہیں۔
١٨۔١ یعنی ان کی بدبختی اور سنگ دلی کی انتہا ہے کہ قیامت والے دن، جہاں کوئی چیز مخفی نہیں رہے گی، وہاں بھی اللہ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے کی شوخ چشمانہ جسارت کریں گے۔
۱۸۔۲ یعنی جس طرح دنیا میں وہ وقتی طور پر جھوٹی قسمیں کھا کر کچھ فائدے اٹھا لیتے تھے، وہاں بھی سمجھیں گے کہ یہ جھوٹی قسمیں ان کے لیے مفید رہیں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ‌ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُ‌ونَ ﴿١٩﴾
ان پر شیطان نے غلبہ حاصل کر لیا ہے، (۱) اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے (۲) یہ شیطانی لشکر ہے۔ کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارے والا ہے۔ (۳)
۱۹۔۱ اسْتَحْوَذَ کے معنی ہیں گھیر لیا، احاطہ کر لیا، جمع کر لیا، اسی لیے اس کا ترجمہ غلبہ حاصل کرلیا، کیا جاتا ہے کہ غلبے میں یہ سارے مفہوم آجاتے ہیں۔
١٩۔۲ یعنی اس نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے، ان سے شیطان نے ان کو غافل کر دیا ہے اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے، ان کا وہ ان سے ارتکاب کرواتا ہے، انہیں خوب صورت دکھلا کر، یا مغالطوں میں ڈال کر یا تمناؤں اور آرزوؤں میں مبتلا کرکے۔
١٩۔۳ یعنی مکمل خسارہ انہی کے حصے میں آئے گا۔ گویا دوسرے ان کی بہ نسبت خسارے میں ہی نہیں ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے جنت کا سودا گمراہی لے کر کر لیا، اللہ پر جھوٹ بولا اور دنیا و آخرت میں جھوٹی قسمیں کھاتے رہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ أُولَـٰئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ ﴿٢٠﴾
بیشک اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں (۱) وہی لوگ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں۔ (۲)
۲۰۔۱ مُحَادَّةٌ، ایسی شدید مخالفت، عناد اور جھگڑے کو کہتے ہیں کہ فریقین کا باہم ملنا نہایت مشکل ہو، گویا دونوں دو کناروں (حد) پر ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ اسی سے یہ ممانعت کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور اسی لیے دربان اور پہرے دار کو بھی حداد کہا جاتا ہے (فتح القدیر)
۲۰۔۲ یعنی جس طرح گزشتہ امتوں میں سے اللہ اور رسول ﷺ کے مخالفوں کو ذلیل اور تباہ کیا گیا، ان کا شمار بھی انہیں اہل ذلت میں ہو گا اور ان کے حصے میں بھی دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُ‌سُلِي ۚ إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٢١﴾
اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے (۱) کہ بیشک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ زور آور اور غالب ہے۔ (۲)
۲۱۔۱ یعنی تقدیر اور لوح محفوظ میں، جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہ مضمون سورہ مومن: 51 -52 میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
٢١۔۲ جب یہ بات لکھنے والا، سب پر غالب اور نہایت زور آور ہے، تو پھر اور کون ہے جو اس فیصلے میں تبدیلی کر سکے؟ مطلب یہ ہوا کہ یہ فیصلہ قدر محکم اور امر مبرم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَ‌تَهُمْ ۚ أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُ‌وحٍ مِّنْهُ ۖ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ رَ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ ۚ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ اللَّـهِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٢٢﴾
اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے (۱) گو وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔ (۲) یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا (۳) ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی (٤) ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں، (۵) یہ خدائی لشکر ہے، آگاہ رہو بیشک اللہ کے گروہ والے ہی کامیاب لوگ ہیں۔ (٦)
۲۲۔۱ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی کہ جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت میں کامل ہوتے ہیں، وہ اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے محبت اور تعلق خاطر نہیں رکھتے۔ گویا ایمان اور اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں کی محبت و نصرت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے، مثلاً آل عمران: ۲۸، سورۂ توبہ: ۲۴ وغیرہ۔
۲۲۔۲ اس لیے کہ ان کا ایمان ان کو ان کی محبت سے روکتا ہے اور ایمان کی رعایت، ابوت، بنوت، اخوت اور خاندان و برادری کی محبت و رعایت سے زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی الله عنہم نے عملاً ایسا کر کے دکھایا۔ ایک مسلمان صحابی نے اپنے باپ، اپنے بیٹے، اپنے بھائی اور اپنے چچا، ماموں اور دیگر رشتے داروں کو قتل کرنے سے گریز نہیں کیا، اگر وہ کفر کی حمایت میں کافروں کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل ہوتے۔ سیر و تواریخ کی کتابوں میں یہ مثالیں درج ہیں۔ اسی ضمن میں جنگ بدر کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے، جب اسیران بدر کے بارے میں مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے۔ تو حضرت عمر رضی الله عنہ، نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر قیدی کو اس کے رشتے دار کے سپرد کر دیا جائے جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کو حضرت عمر رضی الله عنہ، کا یہی مشورہ پسند آیا تھا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ انفال آیت ۶۷ کا حاشیہ)
۲۲۔۳ یعنی راسخ اور مضبوط کر دیا ہے۔
۲۲۔٤ روح سے مراد اپنی نصرت خاص، یا نور ایمان ہے جو انہیں ان کی مذکورہ خوبی کی وجہ سے حاصل ہوا۔
۲۲۔۵ یعنی جب یہ اولین مسلمان، صحابہ کرام رضی الله عنہم، ایمان کی بنیاد پر اپنے عزیز و اقارب سے ناراض ہو گئے، حتیٰ کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل تک کرنے میں تامل نہیں کیا تو اس کے بدلے میں اللہ نے ان کو اپنی رضا مندی سے نواز دیا۔ اور ان پر اس طرح اپنے انعامات کی بارش فرمائی کہ وہ بھی اللہ سے راضی ہو گئے۔ اس لیے آیت میں بیان کردہ اعزاز۔ ”رضی الله عنہم ورضوا عنہ“ اگرچہ خاص صحابہ کرام کے بارے میں نازل نہیں ہوا ہے، تاہم وہ اس کا مصداق اولین اور مصداق اتم ہیں۔ اسی لیے اس کے لغوی مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ صفات سے متصف ہر مسلمان ”رضی الله عنہ“ کا مستحق بن سکتا ہے، جیسے لغوی معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان شخص پر علیہ الصلوٰۃ والسلام کا (دعائیہ جملے کے طور پر) اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اہل سنت نے ان کے مفہوم لغوی سے ہٹ کر، ان کو صحابہ کرام رضی الله عنہم اور انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی اور کے لیے بولنا، لکھنا جائز قرار نہیں دیا ہے۔ یہ گویا شعار ہیں۔ رضی الله عنہم، صحابہ کے لیے اور علیہم الصلوٰۃ والسلام، انبیائے کرام کے لیے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے رحمتہ اللہ علیہ (اللہ کی رحمت اس پر ہو، یا اللہ اس پر رحم فرمائے) کا اطلاق لغوی مفہوم کی رو سے زندہ اور مردہ دونوں پر ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے جس کے ضرورت مند زندہ اور مردہ دونوں ہی ہیں۔ لیکن ان کا استعمال مردوں کے لیے خاص ہو چکا ہے۔ اس لیے اسے زندہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔
۲۲۔٦ یعنی یہی گروہ مومنین فلاح سے ہمکنار ہو گا، دوسرے ان کی بہ نسبت ایسے ہی ہوں گے ، جیسے وہ فلاح سے بالکل محروم ہیں، جیسا کہ واقعی وہ آخرت میں محروم ہوں گے۔
 
Top