• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ‌ اللَّـهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ‌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ﴿١٦﴾
کیا اب تک ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ انکے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہو جائیں (۱) اور انکی طرح نہ ہو جائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی (۲) پھر جب ان پر زمانہ دراز گزر گیا تو انکے دل سخت ہو گئے (۳) اور ان میں بہت سے فاسق ہیں۔ (٤)
۱٦۔۱ خطاب اہل ایمان کو ہے۔ اور مطلب ان کو اللہ کی یاد کی طرف مزید متوجہ اور قرآن کریم سے کسب ہدایت کی تلقین کرنا ہے۔ خشوع کے معنی ہیں، دلوں کا نرم ہو کر اللہ کی طرف جھک جانا، حق سے مراد قرآن کریم ہے۔
١٦۔۲ جیسے یہود و نصاریٰ ہیں۔ یعنی تم ان کی طرح نہ ہو جانا۔
۱٦۔۳ چنانچہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف اور تبدیلی کر دی، اس کے عوض دنیا کا ثمن قلیل حاصل کرنے کو انہوں نے شعار بنا لیا، اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا، اللہ کے دین میں لوگوں کی تقلید اختیار کر لی اور ان کو اپنا رب بنا لیا، مسلمانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ تم یہ کام مت کرو ورنہ تمہارے دل بھی سخت ہو جائیں گے اور پھر یہی کام جو ان پر لعنت الٰہی کا سبب بنے، تمہیں اچھے لگیں گے۔
۱٦۔٤ یعنی ان کے دل فاسد اور اعمال باطل ہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا: ﴿فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ﴾ (المائدة: ۱۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ يُحْيِي الْأَرْ‌ضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿١٧﴾
یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کر دیں تاکہ تم سمجھو۔

إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَ‌ضُوا اللَّـهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ‌ كَرِ‌يمٌ ﴿١٨﴾
بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں۔ انکے لیے یہ بڑھایا جائے گا (۱) اور ان کے لیے پسندیدہ اجر و ثواب ہے۔ (۲)
۱۸۔۱ یعنی ایک کے بدلے میں کم از کم دس گنا اور اس سے زیادہ سات سو گناہ بلکہ اس سے بھی زیادہ تک۔ یہ زیادتی اخلاص نیت، حاجت و ضرورت اور مکان و زمان کی بنیاد پر ہو سکتی ہے۔ جیسے پہلے گزرا کہ جن لوگوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا، وہ اجر و ثواب میں ان سے زیادہ ہوں گے، جنہوں نے اس کے بعد خرچ کیا۔
۱۸۔۲ یعنی جنت اور اس کی نعمتیں، جن کو کبھی زوال اور فنا نہیں۔ آیت میں مُصَّدِّقِينَ اصل میں مُتَصَدِّقِينَ ہے۔ تا کو صاد میں مدغم کر دیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرُ‌سُلِهِ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ ۖ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَ‌بِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُ‌هُمْ وَنُورُ‌هُمْ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴿١٩﴾
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق (١) اور شہید ہیں ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے، اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔
١٩۔١ بعض مفسرین نے یہاں وقف کیا ہے۔ اور آگے وَالشُّهَدَاءُ کو الگ جملہ قرار دیا ہے صدیقیت کمال ایمان اور کمال صدق و صفا کا نام ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ (آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ ہی کی تلاش اور کوشش میں رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اللہ کے ہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے (متفق عليه، مشكاة، كتاب الآداب، باب حفظ اللسان) ایک اور حدیث میں صدیقین کا وہ مقام بیان کیا گیا ہے جو جنت میں انہیں حاصل ہو گا۔ فرمایا ”جنتی، اپنے سے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے، جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو، یعنی ان کے درمیان درجات کا اتنا فرق ہو گا“، صحابہ نے پوچھا: یہ انبیاء کے درجات ہوں گے جن کو دوسرے حاصل نہیں کر سکیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور پیغمبروں کی تصدیق کی“۔ (صحيح بخاری، كتاب بدء الخلق، باب ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة) یعنی ایمان اور تصدیقی کا حق ادا کیا۔ (فتح الباری)

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ‌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ‌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ‌ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَ‌اهُ مُصْفَرًّ‌ا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَ‌ةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَ‌ةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِ‌ضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُ‌ورِ‌ ﴿٢٠﴾
خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے اپنے آپ کو زیادہ بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں (۱) کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وہ خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وہ بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے (٢) اور آخرت میں سخت عذاب (۳) اور اللہ کی مغفرت اور رضا مندی ہے (٤) اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔
٢٠۔١ كُفَّارٌ، کسانوں کو کہا گیا ہے، اس لیے کہ اس کے لغوی معنی ہیں چھپانے والے۔ کافروں کے دلوں میں اللہ کا اور آخرت کا انکار چھپا ہوتا ہے، اس لیے انہیں کافر کہا جاتا ہے۔ اور کاشت کاروں کے لیے یہ لفظ بولا گیا ہے کہ وہ بھی زمین میں بیج بوتے یعنی انہیں چھپا دیتے ہیں۔
٢٠۔٢ یہاں دنیا کی زندگی کو سرعت زوال میں کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح کھیتی جب شاداب ہوتی ہے تو بڑی بھلی لگتی ہے، کاشتکار اسے دیکھ کر بڑے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن وہ بہت ہی جلد خشک اور زرد رو ہو کر چورا چورا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح دنیا کی زیب و زینت ، مال اور اولاد دیگر چیزیں انسان کا دل لبھاتی ہیں۔ لیکن یہ زندگی چند روزہ ہی ہے۔ اس کو بھی ثبات و قرار نہیں۔
٢٠۔۳ یعنی اہل کفر و عصیان کے لیے، جو دنیا کے کھیل کود میں ہی مصروف رہے اور اسی کو انہوں نے حاصل زندگی سمجھا۔
٢٠۔٤ لیکن اس کے لیے جو اس کے دھوکے میں مبتلا رہا اور آخرت کے لیے کچھ نہیں کیا۔ لیکن جس نے اس حیات دنیا کو طلب آخرت کے لیے استعمال کیا تو اس لیے یہی دنیا، اس سے بہتر زندگی حاصل کرنے کا ذریعہ ثابت ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَ‌ةٍ مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْ‌ضُهَا كَعَرْ‌ضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْ‌ضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرُ‌سُلِهِ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿٢١﴾
(آؤ) دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف (۱) اور اس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسماں و زمین کی وسعت کے برابر ہے (۲) یہ ان کے لیے بنائی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے (۳) اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (٤)
۲۱۔۱ یعنی اعمال صالحہ اور توبۃ النصوح کی طرف کیونکہ یہی چیزیں مغفرت رب کا ذریعہ ہیں۔
٢١۔۲ اور جس کا عرض اتنا ہو، اس کا طول کتنا ہو گا؟ کیونکہ طول، عرض سے زیادہ ہی ہوتا ہے۔
۲۱۔۳ ظاہر ہے اس کی چاہت اسی کے لیے ہوتی ہے جو کفر و معصیت سے توبہ کر کے ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کر لیتا ہے، اسی لیے وہ ایسے لوگوں کو ایمان اور اعمال صالحہ کی توفیق سے بھی نوازتا دیتا ہے۔
۲۱۔٤ وہ جس پر چاہتا ہے، اپنا فضل فرماتا ہے، جس کو وہ کچھ دے، کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لے، اسے کوئی نہیں دے سکتا، تمام خیر اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی کریم مطلق اور جواد حقیقی ہے جس کے ہاں بخل کا تصور نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَ‌أَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ‌ ﴿٢٢﴾
نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے (١) نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، (٢) مگر اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے۔ (۳)
٢٢۔١ مثلاً قحط، سیلاب اور دیگر آفات ارضی و سماوی۔
٢٢۔٢ مثلاً بیماریاں، تعب و تکان اور تنگ دستی وغیرہ۔
۲۲۔۳ یعنی اللہ نے اپنے علم کے مطابق تمام مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی سب باتیں لکھ دیں ہیں۔ جیسے حدیث میں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: [قَدَّرَ اللهُ الْمَقَادِيرَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالأرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنةٍ] (صحيح مسلم، كتاب القدر، باب حجاج آدم وموسى عليهما السلام) ”اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل ہی ساری تقدیریں لکھ دی تھیں“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَ‌حُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ‌ ﴿٢٣﴾
تاکہ تم اپنے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر اترا جاؤ، (۱) اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔
۲۳۔۱ یہاں جس حزن اور فرح سے روکا گیا ہے، وہ وہ غم اور خوشی ہے جو انسان کو ناجائز کاموں تک پہنچا دیتی ہے، ورنہ تکلیف پر رنجیدہ اور راحت پر خوش ہونا، یہ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن مومن تکلیف پر صبر کرتا ہے کہ اللہ کی مشیت اور تقدیر ہے۔ جزع فزع کرنے سے اس میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔ اور راحت پر، اتراتا نہیں ہے، اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ یہ صرف اس کی اپنی سعی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اللہ کا فضل و کرم اور اس کا احسان ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُ‌ونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ﴿٢٤﴾
جو (خود بھی) بخل کریں اور دوسروں کو (بھی) بخل کی تعلیم دیں۔ سنو! جو بھی منہ پھیرے (١) اللہ بے نیاز اور سزاوار حمد و ثنا ہے۔
٢٤۔١ یعنی انفاق فی سبیل اللہ سے، کیونکہ اصل بخل یہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا رُ‌سُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَنصُرُ‌هُ وَرُ‌سُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٢٥﴾
یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا (١) تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا (٢) جس میں سخت ہیبت و قوت ہے (۳) اور لوگوں کے لیے اور بھی )بہت سے) فائدے ہیں (٤) اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بے دیکھے کون کرتا ہے، (۵) بیشک اللہ قوت والا اور زبردست ہے۔ (٦)
٢٥۔١ میزان سے مرد انصاف ہے اور مطلب ہے کہ ہم نے لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ بعض نے اس کا ترجمہ ترازو کیا ہے، ترازو کے اتارنے کا مطلب ہے، ہم نے ترازو کی طرف لوگوں کی رہنمائی کی کہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو تول کر پورا پورا حق دو۔
٢٥۔٢ یہاں بھی اتارا، پیدا کرنے اور اس کی صنعت سکھانے کے معنی میں ہے۔ لوہے سے بے شمار چیزیں بنتی ہیں، یہ سب اللہ کے اس الہام اور ارشاد کا نتیجہ ہے جو اس نے انسان کو کیا ہے۔
۲۵۔۳ یعنی لوہے سے جنگی ہتھیار بنتے ہیں۔ جیسے تلوار، نیزہ، بندوق اور اب ایٹم، توپیں، جنگی جہاز، آبدوزیں، گنیں، راکٹ اور ٹینک وغیرہ بیشمار چیزیں۔ جن سے دشمن پر وار بھی کیا جاتا ہے اور اپنا دفاع بھی۔
۲۵۔٤ یعنی جنگی ہتھیاروں کے علاوہ لوہے سے اور بھی بہت سی چیزیں بنتی ہیں، جو گھروں میں اور مختلف صنعتوں میں کام میں آتی ہیں، جیسے چھریاں، چاقو، قینچی، ہتھوڑا، سوئی، زراعت، نجارت (بڑھئی) اور عمارت وغیرہ کا سامان اور چھوٹی بڑی بے شمار مشینیں اورساز و سامان۔
۲۵۔۵ یہ ليِقَوُمَ پر عطف ہے۔ یعنی رسولوں کواس لیے بھی بھیجا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون اس کے رسولوں پر اللہ کو دیکھے بغیر، ایمان لاتا اور ان کی مدد کرتا ہے۔
۲۵۔٦ اس کو اس بات کی حاجت نہیں ہے کہ لوگ اس کے دین کی اور اس کے رسولوں کی مدد کریں، بلکہ وہ چاہے تو اس کے بغیر ہی ان کو غالب فرما دے۔ لوگوں کو تو ان کی مدد کرنے کا حکم ان کی اپنی ہی بھلائی کے لیے دیا گیا ہے، تاکہ اس طرح وہ اپنے اللہ کو راضی کرکے اس کی مغفرت و رحمت کے مستحق بن جائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَ‌اهِيمَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّ‌يَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ ۖ فَمِنْهُم مُّهْتَدٍ ۖ وَكَثِيرٌ‌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ﴿٢٦﴾
بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور ہم نے دونوں کو اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی تو ان میں کچھ تو راہ یافتہ ہوئے اور ان میں سے اکثر نافرمان رہے۔

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِ‌هِم بِرُ‌سُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْ‌يَمَ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَ‌أْفَةً وَرَ‌حْمَةً وَرَ‌هْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِ‌ضْوَانِ اللَّـهِ فَمَا رَ‌عَوْهَا حَقَّ رِ‌عَايَتِهَا ۖ فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَ‌هُمْ ۖ وَكَثِيرٌ‌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ﴿٢٧﴾
ان کے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں کو پے در پے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کر دیا (۱) ہاں رہبانیت (ترک دنیا) تو ان لوگوں نے از خود ایجاد کر لی تھی (۲) ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا (۳) تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے۔ (٤) سو انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی، (٥) پھر بھی ہم نے ان میں سے جو ایمان لائے تھے انہیں ان کا اجر دیا (٦) اور ان میں زیادہ تر لوگ نافرمان ہیں۔
٢٧۔١ رَأْفَةٌ کے معنی نرمی اور رحمت کے معنی شفقت کے ہیں۔ پیروکاروں سے مراد حضرت عیسیٰ عليہ السلام کے حواری ہیں۔ یعنی ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیار اور محبت کے جذبات پیدا کر دیئے۔ جیسے صحابہ کرام رضی الله عنہم ایک دوسرے کے لیے رحیم و شفیق تھے۔ ﴿رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾ - یہود، آپس میں اس طرح ایک دوسرے کے ہمدرد اور غم خوار نہیں، جیسے حضرت عیسیٰ عليہ السلام کے پیروکار تھے۔
٢٧۔٢ رَهْبَانِيَّةٌ، رَهْبٌ (خوف) سے ہے یا رُهْبَانٌ (درویش) کی طرف منسوب ہے اس صورت میں ”رے“ پر پیش رہے گا، یا اسے رہبنہ کی طرف منسوب مانا جائے تو اس صورت میں ”رے“ پر زبر ہو گا۔ رہبانیت کا مفہوم ترک دنیا ہے یعنی دنیا اور علائق دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل، صحراء میں جا کر اللہ کی عبادت کرنا، اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ عليہ السلام کے بعد ایسے بادشاہ ہوئے جنہوں نے تورات اور انجیل میں تبدیلی کر دی، جسے ایک جماعت نے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے بادشاہوں کے ڈر سے پہاڑوں اور غاروں میں پناہ حاصل کر لی۔ یہ اس کا آغاز تھا، جس کی بنیاد اضطرار پر تھی۔ لیکن ان کے بعد آنے والے بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کو اندھی تقلید میں اس شہر بدری کو عبادت کا ایک طریقہ بنا لیا اور اپنے آپ کو گر جاؤں اور معبدوں میں محبوس کر لیا اور اس کے لیے علائق دنیا سے انقطاع کو ضروری قراردے لیا۔ اسی کو اللہ نے ابتداع (خود گھڑنے) سے تعبیر فرمایا ہے۔
٢٧۔۳ یہ پچھلی بات ہی کی تاکید ہے کہ یہ رہبانیت ان کی اپنی ایجاد تھی، اللہ نے اس کا حکم نہیں دیا تھا۔
٢٧۔٤ یعنی ہم نے تو ان پر صرف رضا جوئی فرض کی تھی۔ دوسرا ترجمہ اس کا ہے کہ انہوں نے یہ کام اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لیے کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی کہ اللہ کی رضا، دین میں اپنی طرف سے بدعات ایجاد کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتی، چاہے وہ کتنی ہی خوش نما ہو۔ اللہ کی رضا تو اس کی اطاعت سے ہی حاصل ہو گی۔
٢٧۔٥ یعنی گو انہوں نے مقصد اللہ کی رضا جوئی بتلایا، لیکن اس کی انہوں نے پوری رعایت نہیں کی، ورنہ وہ ابتداع (بدعت ایجاد کرنے) کے بجائے اتباع کا راستہ اختیار کرتے۔
٢٧۔٦ یہ وہ لوگ ہیں جو دین عیسیٰ پر قائم رہے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَ‌سُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّ‌حْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورً‌ا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ‌ لَكُمْ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٢٨﴾
اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا (١) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
٢٨۔١ یہ دگنا اجر ان اہل ایمان کو ملے گا جو نبی ﷺ سے قبل پہلے کسی رسول پر ایمان رکھتے تھے پھر نبی ﷺ پر بھی ایمان لے آئے جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ (صحيح البخاری، كتاب العلم، باب تعليم الرجل أمته وأهله وصحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب وجوب الإيمان برسالة نبينا) ایک دوسری تفسیر کے مطابق جب اہل کتاب نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ انہیں دو گنا اجر ملے گا، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے، تفسیر ابن کثیر)۔

لِّئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُ‌ونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّن فَضْلِ اللَّـهِ ۙ وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿٢٩﴾
یہ اس لیے کہ اہل کتاب (١) جان لیں کہ اللہ کے فضل کے حصے پر بھی انہیں اختیار نہیں اور یہ کہ (سارا) فضل اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ جسے چاہے دے، اور اللہ ہے ہی بڑے فضل والا۔
٢٩۔١ لِئَلا میں لا زائد ہے اور معنی ہیں (لِيَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُمْ لا يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يَنَالُوا شَيْئًا مِنْ فَضْلِ اللهِ) (فتح القدير)
 
Top