• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا يَسْتَثْنُونَ ﴿١٨﴾
اور ان شاء اللہ نہ کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّ‌بِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ ﴿١٩﴾
پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو رہے تھے۔ (١)
١٩۔١ بعض کہتے ہیں، راتوں رات اسے آگ لگ گئی، بعض کہتے ہیں، جبرائیل عليہ السلام نے آکر اسے تہس نہس کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِ‌يمِ ﴿٢٠﴾
پس وہ باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔ (١)
٢٠۔١ یعنی جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد خشک ہو جاتی ہے، اس طرح سارا باغ اجڑ گیا، بعض نے ترجمہ کیا ہے، سیاہ رات کی طرح ہو گیا، یعنی جل کر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ ﴿٢١﴾
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں۔

أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْ‌ثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِ‌مِينَ ﴿٢٢﴾
کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو۔

فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ ﴿٢٣﴾
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے۔ (١)
٢٣۔١ یعنی باغ کی طرف جانے کے لیے ایک تو صبح صبح نکلے۔ دوسرے آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے گئے تاکہ کسی کو ان کے جانے کا علم نہ ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ ﴿٢٤﴾
کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ (١)
٢٤۔١ یعنی وہ ایک دوسرے کو کہتے رہے کہ آج کوئی باغ میں آکر ہم سے کچھ نہ مانگے جس طرح ہمارے باپ کے زمانے میں آیا کرتے تھے اور وہ اپنا حصہ لے جاتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْ‌دٍ قَادِرِ‌ينَ ﴿٢٥﴾
اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پا گئے۔ (١)
٢٥۔١ حَرْ‌دٍ کے ایک معنی تو قوت و شدت، کیے گئے ہیں، جس کو مترجم مرحوم نے ”لپکے ہوئے“ سے تعبیر کیا ہے۔ بعض نے غصہ اور حسد کیے ہیں، یعنی مساکین پر غیظ وغضب کا اظہار یا حسد کرتے ہوئے قَادِرِ‌ينَ حال ہے یعنی اپنے معاملے کا انہوں نے اندازہ کر لیا، یا اپنے زعم میں انہوں نے باغ پر قدرت حاصل کر لی، یا مطلب ہے مساکین پر انہوں نے قابو پا لیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا رَ‌أَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ ﴿٢٦﴾
جب انہوں نے باغ دیکھا (١) تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے ہیں۔ (٢)
٢٦۔١ یعنی باغ والی جگہ کو راکھ کا ڈھیر یا اسے تباہ برباد دیکھا۔
٢٦۔٢ یعنی پہلے پہل تو ایک دوسرے کو کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ نَحْنُ مَحْرُ‌ومُونَ ﴿٢٧﴾
نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی۔ (١)
٢٧۔١ پھر جب غور کیا تو جان گئے کہ یہ آفت زدہ اور تباہ شدہ باغ ہمارا ہی ہے جسے اللہ نے ہمارے طرز عمل کی پاداش میں ایسا کر دیا ہے اور واقعی یہ ہماری حرماں نصیبی ہے۔ٍ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ ﴿٢٨﴾
ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟ (١)
۲۸۔۱ بعض نے تسبیح سے مراد یہاں ان شاء اللہ کہنا مراد لیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا سُبْحَانَ رَ‌بِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ﴿٢٩﴾
تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ظالم تھے۔ (۱)
۲۹۔۱ یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معصیت کا عزم اور اس کے لیے ابتدائی اقدامات بھی، ارتکاب معصیت کی طرح جرم ہے جس پر مؤاخذہ ہو سکتا ہے، صرف وہ ارادہ معاف ہے جو وسوسے کی حد تک رہتا ہے۔
 
Top