فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ ﴿٢١﴾
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں۔
أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ ﴿٢٢﴾
کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو۔
فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ ﴿٢٣﴾
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے۔ (١)
٢٣۔١ یعنی باغ کی طرف جانے کے لیے ایک تو صبح صبح نکلے۔ دوسرے آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے گئے تاکہ کسی کو ان کے جانے کا علم نہ ہو۔